Fiqh - فقہ - اسلامی فقہ - Tazkia.org - Urdu

میراث

میراث کا لیکچر
  • پیش لفظ
      بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الْحَمْدُﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنِ ۔اَلصَّلوٰۃُ وَ السَّلَامُ عَلیٰ خَیْرِ الْبَرِیَّۃِ مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ آلہِ وَ صَحْبِہِ اَجْمَعِیْنِ۔ قَالَ رَسُولُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ وَسَلَّم تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَ عَلِّمُوھَا النَّاسَ فَاِنَّھَا نِصْفُ الْعِلْم ِ۔
      (علم میراث سیکھو اور اس کو لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ یہ نصف علم ہے) علم ا لمیراث کتنا اہم ہے اس کو جاننے کے لئے قرآن اور یہ حدیث شریف کافی ہے جس علم کے بارے میں فرمایا جائے کہ اس سے محروم عالم کی مثال بغیر چہرے کے سر کی طرح ہے۔ اس کے بعد سوچنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ بات صرف عمل کی ہے اور اس علم کے سیکھنے کی ہے۔ عمل تو اس پر کرنا ہی ہے کہ اس پر عمل نہ کرنے میں دونوں جہاں کا خسارہ ہے ۔
      ایک صحیح حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ بعض لوگ تمام عمر اطاعت خداوندی میں مشغول رہتے ہیں لیکن موت کے وقت میراث میں وارثوں کو ضرر پہنچاتے ہیں ( یعنی بلا وجہ کسی حیلے سے اپنے وارث کو میراث سے محروم کردیتے ہیں یا ان کا حصہ کم کردیتے ہیں) ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ سیدھا دوزخ میں پہنچا دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہم سب کو بچائے ۔
      آمین ۔
      جہاں تک میراث کے علم کا تعلق ہے وہ آسان ہے لیکن مشکل بن گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بزرگوں کے الفاظ کو تو محفوظ رکھا لیکن ان کی منشاء کو نہیں پاسکے ۔ ان بزرگوں نے اپنے وقت میں بہترین الفاظ میں اس علم کو سمجھایا تھا اور ان کی یہ کوششیں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ان ہی الفاظ میں آج کل کے طلباء کو بھی اس علم کے پڑھانے پر زور دیں۔ کیونکہ نہ تو وہ ماحول ہے نہ وہ ریاضی آجکل موجود ہے اور نہ ہی وہ سریع الانتقال ذہن جس سے مسئلہ تشبیب میں بلاغت کے کمال کے ساتھ فن سیکھنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ نہ علوم کو حاصل کرنے کا وہ شوق ہے ، اور نہ دین کی خدمت کا وہ جذبہ ۔ اب تو امت کے حال پر رحم کا تقاضا یہ ہے کہ علوم کو تر نوالہ بنایا جائے جس کو نگلنے کی دیر ہو۔ ورنہ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ ایک طرف دینی مدارس میں اس علم کے حامل حضرات کی تعداد میں تیزی سے کمی ہورہی ہے تو دوسری طرف کالج اور سکولوں میں اس کا کہیں وجود ہی نہیں ۔ طلباء سے بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں یہ صرف ذہین طلبا ءہی سیکھ سکتے ہیں ہم نے تو صرف اس کو پاس کیا ہے ۔ اساتذہ سے بات کی جائے تو طلباءکے شوق کی کمی اور کم استعداد کا رونا روتے ہیں ۔ بات دونوں کی صحیح ہے۔ استعداد بھی کم ہے اور موجودہ صورت میں اساتذہ اس علم کو جس مشکل طریقے سے پڑھانے پر مجبور ہیں تو اس کا سمجھنا واقعی ذہین لوگوں ہی کاکام ہے ۔ اس صورت حال کے پیش نظر ضرورت یہ ہے کہ سراجی کی شرحوں کی مزید شرحیں کرنے کی بجائے ان کا لب لباب اور مفہوم آسان ترین انداز میں آج کل کی زبان اور ریاضی میں لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ نہ طلباءکو شکایت ہو نہ اساتذہ پریشان ہوں ۔ بفضلہ تعالیٰ علمائے کرام کی دعاؤں اور کوششوں سے بندہ نے اس فن کو اس مختصر کتاب میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ الحمد للہ اہل سنت کے چاروں فقہوں کے نزدیک میراث کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اس کتاب کو انشاء اللہ کافی سمجھا جائے گا ۔ اللہ کرے کہ اس سے امت کو فائدہ ہو اور بندہ کے لیئے یہ صدقہ جاریہ بنے ۔ اس مختصر سے کتابچے میں جو مقامی علمائے کرام کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے ، یہ خیال رکھا گیا ہے کہ اس کا طلباء کو پڑھانا آسان ہو اور علمائے کرام کو میراث کے مسائل دیکھنے کے لیئے ضخیم کتابیں دیکھنے کی کم سے کم ضرورت پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ یہ کتاب علم المیراث کو پھر سے موجودہ ماحول میں ایک زندہ علم کے طور پر پیش کرنے میں معاون ثابت ہوگی ۔
      بندہ کی ایک اور کتاب ’’فہم المیراث مدلل ‘‘ میں قرآن پاک کی مستند تفاسیر ، احادیث شریفہ کی شرحوں اور فقہائے کرام کی آراء کے ذریعے اس فن کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ نیز اس میں اہل سنت کے ہر فقہ کے دلائل بھی دیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بندہ نے اس علم کو کمپیوٹرائزبھی کیا ہے ۔ اگر کسی کے پاس کمپیوٹر ہو تو وہ اپنی فقہ کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے دو منٹ میں میراث کا مشکل سے مشکل مسئلہ حل کرسکتا ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کوششوں کو قبول فرما کر اس مفید علم کے احیاء کا ذریعہ بنائے۔ جن حضرات نے اس سلسلے میں تعاون فرمایا ہے اور مختلف مراحل میں رہنمائی فرمائی ہے ان کے لیئے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس کا بدلہ عطا فرمائے ۔ نام لکھنے سے قصداً اجتناب کررہا ہوں کیونکہ بعض حضرات اس پر سخت ناراض ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص کی برکت سے مجھے بھی اخلاص نصیب فرمائے ۔
      آمین ۔
      چونکہ اس کتاب کے لکھنے کا منشا ء علمِ میراث کو آسان بنانا تھا اس لیئے وہ کوشش جاری رہی اور الحمدللہ اب سراجی اور اس کتاب میں بنیادی فرق فقط توافق تماثل تداخل اور تباین کی جگہ ذو اضعاف اقل کا دخول ہے ۔ ذو اضعاف اقل ایک ایسا ریاضی کا طریقہ ہے جس میں مذکورہ بالا چاروں ریاضی کے قاعدوں کا مجموعہ ایسے طریقے سے موجود ہے کہ اس کے نکالنے میں ان چاروں کا ذکر تو کہیں نہیں آتا لیکن اس کے استعمال کے بعد ان چاروں کی کہیں بھی ضرورت نہیں رہتی ۔یہ اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے فالحمدﷲ علیٰ ذالک ۔اس نعمت کو شکر کے ساتھ استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ اس کی ناقدری سے میراث سمجھنے میں بہت دقت ہوگی ۔ اس کا اثر دیکھیئے کہ جو حضرات سالوں سراجی کو بار بار پڑھنے سے سراجی کو نہیں سمجھے وہ الحمد للہ صرف دو تین گھنٹے میں اس طریقے کی برکت سے میراث کے مشکل مسائل کو بھی حل کرنا سیکھ گئے ۔ جو حضرات پرانے طریقے کو اچھی طرح سیکھ چکے ہیں اور اس پر ہر طرح کے سوالات حل کرنے کی مشق کرچکے ہیں ان کو اس طریقے سے کوئی دلچسپی اس لئے نہیں ہوسکتی کہ بلا وجہ ایک اور طریقہ کیوں سیکھیں ۔لیکن ان سے عاجزانہ عرض ہے کہ یہ طریقہ ان کے لئے نہیں بلکہ نئے سیکھنے والوں کے لئے ہے ۔اس کے آسان ہونے کا اگر کوئی تجربہ کرنا چاہے تو دو برابر کے علم و ذھانت کے طلباء کو دونوں طریقوں سے میراث پڑھائے اور دیکھے کہ کس طریقے سے طالبعلم نے یہ علم جلدی سیکھا ؟اب اگر اس طریقے سے نئے سیکھنے والے جلدی سیکھ سکتے ہیں تو اس کو پھر کیوں نہ استعمال کیا جائے ۔پرانے پڑھانے والے حضرات سے بھی یہ گزارش ہے کہ وہ دوسروں کے فائدے کی خاطر اپنی مصروف زندگی سے صرف دو گھنٹے نکال کر اس کو سیکھیں ان شاء اﷲ تعالیٰ ، اﷲ تعالیٰ ان کو بڑا اجر دیں گے کیونکہ دین تو سراسر خیرخواہی ہے ۔
      ایک عالم جو مردان میں میراث کا دورہ ہر سال کراتے ہیں ان کی مسجد میں وہاں کے مفتیان کرام اور علماء کرام نے میراث کا جوڑ رکھ لیا چونکہ وہ عالم صاحب خود استاد تھے اس لئے ظاہر ہے ہمارے طریقے سے مستغنی تھے لیکن ایک دن ایک مہمان عالم جو اس کورس میں شامل تھے ان کے اکرام کے لئے درس میں تشریف لے آئے ۔ اس وقت بندہ رد کا طریقہ سمجھا رہا تھا جس میں صرف’’ ک‘‘اور’’ ن ‘‘کو فرض کرکے رد کا سوال کیا جاتا ہے ۔ حضرت کا ذہن کافی تیز ہے نہایت ہی تیزی کے ساتھ اس طریقے کو سمجھ کر بے ساختہ پکار اٹھے ’’ماشاء اللہ’’ ک‘‘ اور’’ ن‘‘ کن فیکون یہ طریقہ تو بہت آسان ہے اور پھر الحمدللہ کورس کے اختتام تک بندہ کے ساتھ شریک رہے اور ہم دونوں ملکر پڑھا تے رہے جس سے بندے کو بہت تقویت ہوئی ۔ حال ہی میں موصوف سے جدید ایڈیشن کے بارے میں دریافت کیا گیاکہ اس میں اور سراجی میں کوئی فرق نظر آرہا ہے ؟توموصوف نے فرمایا کہ طریقہ تو وہی ہے قواعد میں آسانی اور اختصار نے اس کو زیادہ آسان بنایا ہے۔
      دوسرے ایڈیشن میں حسب وعدہ ذو ی الارحام کے باب کو بھی مکمل کیا گیا تھا یعنی پہلے ایڈیشن میں تو صنف سوم میں دو درجے تک اور صنف چہارم میں صرف پہلے درجے کے ورثاء تک کا حساب ہوسکتا تھا۔ اس کی وجہ سے ان دونوں اصناف میں بھی چار درجے تک کے ورثاء کا حساب ہوسکتا ہے۔اختلافیات کے باب کو بھی مکمل کیا گیا تھا الحمد ﷲعلیٰ ذالک۔
      الحمدللہ یہ اس کتاب کاتیسرا ایڈیشن ہے ۔ اس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ اس میں وہ غلطیاں نہ ہوں جو دوسرے ایڈیشن میں ہوچکی تھیں ۔یہ ایک فنی کتاب ہے اس قسم کی کتاب میں غلطیاں ہوسکتی ہیں اس لئے اب بھی کتاب میں کوئی غلطی پائی جائے یا اس میں مزید بہتر ی کی یا تکمیل کی کوئی صورت علمائے کرام کے سامنے آئے تو ازراہ کرم اس سے مؤلف کو آ گاہ کیاجائے تاکہ اس کا چوتھا ایڈیشن مزید مفید ثابت ہو۔

      ربناتقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ۔انک انت الوھّاب۔

      آمین
      سید شبیر احمد کاکا خیل
      15جمادی الثانی1427 ھ

  • اساتذہ کی خدمت میں گزارش

      جیسا کہ پیش لفظ میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کے لکھنے میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اساتذہ کے لئے اس کا پڑھانا آسان ہو اور میراث جیسا اہم علم طلباء کی سمجھ میں آسانی سے آجائے اور اس مقصد کا حصول اس وقت ممکن ہے جب اس کتاب کے پڑھانے میں مندرجہ ذیل ترتیب کا خیال رکھا جائے

    • سب سے پہلے علم میراث کی اصطلاحات طلباء کو ذہن نشین کرائی جائیں۔ اس میں طلباء کی استعداد اور ماحول کو پیش نظر رکھا جائے ۔ کیونکہ کتاب میں ہر ایک کے حالات کا خیال رکھنا ممکن نہیں ۔ اس لئے جہاں ضرورت سمجھی جائے بہتر مثالوں سے میراث کی اصطلاحات طلباء کو ذہن نشین کرائی جائیں ۔ نیز طلباء کو سمجھایا جائے کہ جب بھی اس کتاب کے مطالعے میں کسی اصطلاح کی سمجھ نہ آئے تو کتاب کے پہلے حصے میں جو اصطلاحات کا باب ہے اس سے استفادہ کیا جائے ۔
    • میراث میں مستعمل حساب بہت آسان ہے اور کیلکو لیٹر سے اس کو مزید آسان کیا جاسکتا ہے ۔اس لئے دوسرے مرحلے میں طلباء کو کیلکولیٹر کا استعمال سکھایا جائے اور اس مقصد کے لئے وہ کیلکولیٹر جس میں جمع تفریق ضرب اور تقسیم کا حساب کیا جاسکے وہ کافی ہے ۔
    • سکول کی کتابوں سے یا کسی بھی ترکیب سے طلباء کو کسور اور ذو اضعاف اقل وغیرہ کے ساتھ اچھی طرح متعارف کرایا جائے ۔ اس کتاب کے طریقوں میں صرف کسور کی ضرب استعمال ہوتی ہے ۔ اس لئے اس کو خصوصی طور پر کھول کر بیان کیا جائے اور اس کی خوب مشق کرائی جائے ۔
    • ہر باب میں یا اس کے خاتمہ پر جو مثالیں دی گئی ہیں وہ طلباء کو ان کی زبان میں اچھی طرح سمجھائی جائیں اور مشقی سوالات حل کرنے میں طلباء سے خوب مشق کرائی جائے ۔ ضرورت پڑنے پر مزید سوالات حل کرائے جاسکتے ہیں ۔
    • جتنے جدول دئیے گئے ہیں ان کو اصولوں پر منطبق کرکے دکھایا جائے کہ کونسا قانون کہاں سے آیا ہے ۔ اور پھر ان کو یاداشت سے لکھنے کی مشق کرائی جائے۔ آخر میں ذوی الارحام کے سوالات میں ہر طریقے کو مثالوں سے سمجھانے کی جو کوشش کی گئی ہے ، اس سے مدد لیتے ہوئے مزید مثالیں بنائی جائیں۔ اس میں طائفہ(group) بنانے اور ان کی کسر معلوم کرنے پرزیادہ زور دیا جائے کیونکہ یہ ذوی الارحام کے حساب کی جان ہے ۔
    • پڑھاتے ہوئے اس علم کی قدر اور توجہ الیٰ اللہ ہو اور طلباء سے بھی مکرّراس عظیم علم سے محرومی سے بچنے کی دعا کرائی جائے ۔ نیز طلباء پر اس علم کی اہمیت کو خوب واضح کیا جائے ۔
  • ضروری اصطلاحات کی تشریح
    • ترکہ
      • میت نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ اس کا ترکہ ہے یہ پھر الگ بحث ہے کہ وہ کونسا ترکہ ہے جو میراث میں تقسیم ہوگا اس کے لئے ‘’بنیادی قوانین میراث “کا مطالعہ کریں۔
    • حقیقی بھائی
      • جن کے ماں اورباپ دونوں شریک ہوں ۔
    • علاتی بھائی
      • باپ شریک بھائی ۔
    • اخیافی بھائی
      • ماں شریک بھائی ۔
    • اخوہ
      • دو یا دو سے زیادہ بھائی/ بہنیں ، چاہے سب حقیقی ہوں ، علاتی یا اخیافی ہوں یا ملے جلے ہوں ۔
    • جد صحیح
      • ذوی الفروض میں صرف جد صحیح حصہ لے سکتا ہے ۔ اور یہ وہ جد ہے جس کے میت کے ساتھ رشتے کے درمیان کوئی عورت نہ آئے مثلاً دادا پردادا سکڑ دادا وغیرہ سارے اجداد صحیح ہیں ۔
    • جد رحمی (جد فاس)
      • وہ جد ہے جس کے میت کے ساتھ رشتے میں عورت آتی ہو مثلاً نانا وغیرہ ۔ اس جد کو جد فاسد کہنے کی بجائے جد رحمی کہا جائے کیونکہ اس سے کئی مقدس رشتوں کی توہین ہوتی ہے۔
    • جد ہ صحیحہ
      • عربی میں جدہ صرف دادی کو نہیں کہتے بلکہ ہر وہ عورت جس کی کسی قسم کی اولاد میں بھی میت کے ماں باپ آسکتے ہوں جدہ ہوتی ہے پس نانی بھی جدہ کہلائے گی۔ البتہ جدہ صحیحہ صرف وہ جدہ ہے جس کے میت کے ساتھ رشتے کے درمیان جد رحمی نہ آئے ۔ مثلاً دادا کی ماں ، باپ کے باپ کی ماں ہوتی ہے وہ جدہ صحیحہ ہے کیونکہ اس میں جد رحمی کا واسطہ نہیں لیکن دادی کی دادی یعنی باپ کے نانا کی ماں جدہ صحیحہ نہیں کیونکہ نانا جد رحمی ہے ۔ جو جدہ، جدہ صحیحہ نہیں وہ جد ہ رحمی ہے ۔ نقشہ” شجر ہ برائے عصبات “پر ان کا تین پُشتوں تک کا نقشہ موجود ہے۔
    • ذوی الفروض
      • یہ وہ لوگ ہیں جن کی میراث میں حصےّ کتاب و سنت یا اجماع سے ثابت ہیں ۔ مثلاً میت کی بیٹی کیونکہ اس کا حصہ اگر اکیلی ہو اور میت کا بیٹا نہ ہو تو نصف قرآن سے ثابت ہے اور جدہ صحیحہ کا حصّہ سدس حدیث پاک سے ثابت ہے ۔
    • ذوی الفروض نسبی و سببی
      • وہ لوگ جن کے حصے کسی سبب کی بنیاد پر کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہوں ، ذوی الفروض سببی کہلاتے ہیں ۔ مثلاً خاوند کا حصہ میت کی اولاد کی موجودگی میں زوجیت کے رشتہ کی بنیاد پر ایک چوتھائی ہوتا ہے ۔ اگر یہ رشتہ ختم ہوجائے تو اس کا حصہ بھی ختم ہوجاتاہے اور وہ لوگ جن کا حصہ نسب کی بنیاد پر ثابت ہو مثلاً بیٹی کا حصہ ، یہ کبھی ختم نہیں ہوتا ۔ ہاں اگر اس کی موت میت کی موت سے پہلے ہوجائے یا کوئی اور وجہ اس کو وراثت سے محروم کردے مثلاً کوئی نعوذ باللہ من ذالک میت کے قتل کا مرتکب قرار پائے ، چاہے قتل خطا ہو یا مرتد ہوجائے ۔
    • اولاد کی تشریح
      • صرف وہ اولاد ذوی الفروض اور عصبات میں حصّہ لے سکتی ہے اور دوسرے ذوی الفروض کے حصّوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے جس کے میت کے ساتھ رشتے میں عورت کا واسطہ نہ آئے مثلاً بیٹا ، بیٹی ، پوتا ، پوتی، پڑپوتا ، پڑپوتی ، سکڑ پوتا ، سکڑ پوتی وغیرہ اس اولاد میں سے کوئی موجود ہو تو بھائی بہنیں سب محروم قرار پائیں گے اور ماں کا حصّہ 1 6 ہوگا۔ اس کے مقابلے میں وہ اولاد جس کے میت کے ساتھ رشتے میں کوئی عورت آئے وہ ذوی الارحام اولاد ہے ان کی موجودگی میں دوسرے ذوی الفروض مثل بہن بھائی محروم نہیں ہوتے اور نہ ہی ذوی الفروض کے حصّوں پر فرق پڑتا ہے اس لئے سکڑپوتی اگرچہ خود تو عورت ہے لیکن چونکہ اس کے اور میت کے درمیان سارے واسطے مرد کے ہیں یعنی وہ میت کے بیٹے کے بیٹے کے بیٹے کی بیٹی ہے ۔ اس لئے یہ وہ اولاد ہے جو ذوی الفروض میں حصہ لے سکتی ہے ۔ اور نواسا گو کہ مرد ہے لیکن اس کے اور میت کے درمیان چونکہ واسطہ عورت (بیٹی)ہے اس لئے یہ ذوی الفروض اور عصبات میں حصہ لینے کاکبھی اہل نہیں بن سکتا البتہ ذوی الارحام میں ان کو اول درجے کی ترجیح حاصل ہوتی ہے۔
    • حاجب اور محجوب
      • بعض ورثاء کی موجودگی میں دوسرے ورثاء کو حصہ نہیں ملتا۔ پس ان میں جن کو حصہ نہیں ملا محجوب کہلائے گا ، اور جن کی وجہ سے ان کو حصہ نہیں ملا وہ حاجب ہیں مثلاً بیٹے کی موجودگی میں پوتے کو کچھ بھی نہیں ملتا تو اس صورت میں بیٹا پوتے کے لئے حاجب اور پوتا محجوب ہوا۔
    • محروم
      • بعض اوقات کسی وجہ سے کوئی وارث اپنے حصے سے محروم ہوجاتا ہے مثلاً مورث کا قاتل اس کی میراث سے محروم ہے ۔
    • عول (تنگی)
      • اگر ذوی الفروض کے کسروں میں حصّوں کا مجموعہ 1سے بڑھ جائے تو سارے ذوی الفروض کے حصوں میں ایک ایسی تناسب سے کمی کرنا کہ کمی کرنے کے بعد ان کی کسروں میں حصّوں کا مجموعہ 1بن جائے عول کہلاتا ہے ۔ اس میں ذوی الفروض میں ہر ایک کا حصّہ اس کے اصل حصّہ سے کم ہوجاتا ہے مثلاً ماں کا حصّہ اولاد کی موجودگی میں 1 6 ہوتاہے لیکن میت کی ماں کے ساتھ میت کی بیٹیاں باپ اور بیوی موجود ہو تو ما ں باپ میں ہر ایک کا حصّہ 4 27 رہ جاتا ہے جو کہ اس کے عام حالات میں حصّے یعنی 1 6 سے کم ہے۔
    • عصبات
      • یہ میت کے وہ رشتہ دار ہیں جن کے حصے شریعت میں ایسے ثابت ہیں کہ جب ذوی الفروض اپنے اپنے حصے لے لیں تو اس کے بعد جو مال ترکے میں سے بچ جائے اس کے یہ حقدار بن جائیں ۔ اس میں کافی تفصیل ہے جو عصبات کے باب میں دی گئی ہے۔
    • لِلذَّ کَرِ مِثْلُ حَظِّ الاُنْثَیَیْنِ
      • اس قرآنی قانون کے مطابق جب مرد اور عورتیں آپس میں بطور عصبہ یا بطور ذوی الارحام شریک بن جائیں تو ان میں ہر مرد کو عورت کے حصے کا دگنا دیا جاتا ہے۔
    • مولیٰ عتاقہ
      • جس شخص نے کسی کو غلامی سے آزاد کیا ہو وہ اس کا مولیٰ عتاقہ ہے۔ اگر کسی میت کے ذوی ا لفروض نسبی نہ ہوں تو بقیہ مال مولیٰ عتاقہ یا اس مولیٰ عتاقہ کے مرد عصبات کو دیا جائے گا ۔
    • ردّ (لوٹانا)
      • یہ عول کی ضد ہے یعنی ذوی لفروض کو اپنا اپنا حصّہ دینے کے بعد بھی اگر کچھ ترکہ بچ جائے اور میت کے عصبات میں کوئی موجود نہ ہوں تو اس باقی ترکہ کو ذوی الفروض نسبی پر ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کرنے کو رد کہتے ہیں ۔ اس سے ذوی الفروض کے حصّے معمول کے حصّوں سے بڑھ جاتے ہیں ۔
    • سہام (اکائیاں )
      • ورثا ء کے آپس میں حصوں کی جو نسبت ہوتی ہے اس کو سہام سے ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً بیوی ماں اور باپ وارث ہوں تو ان کے حصّوں میں 1 : 1 : 2 ہوتا ہے اس لئے یہ کہا جائے گا کہ بیوی کو 1 سہام ، ماں کو بھی 1 سہام اور باپ کو 2 سہام دیئے جائیں گے ۔ چونکہ سہام اور اکائی ایک ہی چیز ہے اس لئے اگر کسی وارث کے سہام کا پتہ ہو تو کل ترکہ میں اس کا حصّہ معلوم کرنے کے لئے اس کے سہام کو کل سہام پر تقسیم کرکے کل ترکہ سے ضرب دی جائے گی تو اس کا حصّہ کل ترکہ میں معلوم ہوجائے گا مثلاً اس مثال میں بیوی کا 1سہام ہے جبکہ کل سہام 4 بنتے ہیں اس لئے اگر کل ترکہ 2000روپے ہو تو اس میں بیوی کا حصّہ 1×2000 4 =500 روپے ہوا ۔ اس کو اکائی کا قاعدہ بھی کہتے ہیں۔
    • ذوی الارحام
      • یہ میت کے وہ رشتہ دار ہیں جو نہ تو ذوی الفروض ہیں اور نہ ہی عصبات ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان میں اور میت کے درمیان عورت کا واسطہ آتا ہے ۔ حالانکہ پھوپھی ذوی الارحام میں ہے لیکن اس میں اور میت میں میت کے باپ کا واسطہ ہے جو کہ مرد ہے ۔
    • مَوْلَی الْمَوالاۃ
      • اگرمیت نے اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہو کہ ’’میں اگر کوئی قصور کر آؤں توتاوان تجھے بھرناپڑے گا اور میری موت کے بعد تم میرے مال کے وارث ہو‘‘ تو اس شخص کو اس میت کا مَوْلَی الْمَوالاۃکہیں گے۔ ذوی الارحام نہ ہوں تو بقیہ مال اس کا ہے ۔
    • مُقِرْلَہ بِالنَّسَبْ عَلَی الْغَیْر
      • ایک شخص کسی صاحب کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ میرا بھائی ہے اور اس پر کوئی گواہ پیش نہیں کرسکتا ۔ دوسری طرف اس کا والد اس کو اپنا بیٹا نہیں کہہ رہا ، اس وقت یہ شخص مُقِرْلَہ بِالنَّسَبْ عَلَی الْغَیْر کہا جائے گا ۔ اگر کسی میت کا کوئی مَوْلَی الْمَوالاۃ بھی نہ ہو تو بقیہ مال مقر لہ بالنسب علی الغیر کو مل جائے گا۔
    • مو صیٰ لہ‘
      • یہ وہ شخص ہے جس کے لئے میت نے کل مال کی وصیت کی ہو۔ ان کے حق میں وصیت تب پوری کی جاسکتی ہے جبکہ میت کامُقِرْلَہ بِالنَّسَبْ عَلَی الْغَیْر بھی نہ ہو۔
    • اصل اور فرع
      • اگر زید عمر کی اولاد میں ہے تو عمر زید کا اصل ہے اور زید عمر کا فرع ۔
    • روؤس
      • ہر وارث کی تعداد کو روؤس سے ظاہر کیا جاتا ہے ۔عام فہمی کے لیئے اس کتاب میں اس کی جگہ تعداد ہی کہا جائے گا۔اس کی تشریح اس لئے کی گئی کہ قدیم کتابوں سے استفادہ میں مشکل نہ ہو۔اس کے لیئے بعض دفعہ ابدان کا لفظ بھی آتا ہے لیکن اس سے بھی مراد ورثاءکی تعداد ہی ہے۔
    • توافق
      • اگر کئی اعداد کسی ایک عدد پر تقسیم ہوتے ہوں تو ان میں باہم توافق بتایا جاتا ہے مثلاً 4 ،4،6اور 8تینوں 2پر تقسیم ہوسکتے ہیں اس لئے ان میں باہم توافق ہے اور ان کا وفق2ہے۔پھران میں اگر وہ اعداد آپس میں برابر بھی ہوں تو کہا جائے گا کہ ان میں باہم تماثل ہے مثلاً 4،4 میں تماثل ہے اور اگر ان میں کوئی عدد دوسرے پر پورا پورا تقسیم ہوتا ہو تو کہا جائے گا کہ ان دو میں تداخل ہے جیسے 8,4میں تداخل ہے۔ان سب میں توافق اصل ہے اور تماثل اور تداخل اسی توافق کی قسمیں ہیں۔
    • تباین
      • کوئی دو یا دو سے زیادہ اعداد جو باہم کسی مشترکہ عدد پر تقسیم نہ ہوسکیں تو ان میں تباین بتایا جاتا ہے مثلاً 5اور9میں تباین ہے۔جن اعداد میں توافق نہیں ہوگا ان میں تباین پایا جاتا ہے۔
    • تصحیح
      • اگر کسی وارث کے سہام اس کی تعداد پر پورے پورے تقسیم نہ ہوتے ہوں تو سہام کے مجموعہ کو ایسا بڑھانا کہ ورثاء کے حصّوں میں جو نسبت ہو وہ تو متاثر نہ ہو لیکن تمام ورثا ء کے سہام ان کی اپنی اپنی تعدادوں پر تقسیم ہوجائیں اس عمل کو عمل تصحیح کہتے ہیں۔اس کے بعد جو سہام کا مجموعہ بنتا ہے تو کہتے ہیں کہ تصحیح اس سے ہے ۔
  • حساب کا تعارف
    • میراث کا فن سیکھنے کے لئے متعلقہ حساب اور اصطلاحات کا جاننا ضروری ہے ۔ بندہ کو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ دینی مدارس کے درجہ اعدادیہ میں ضروری درجے کا حساب پڑھایا جاتا ہے۔ جس میں سکولوں کے آٹھویں جماعت تک کے ریاضی کا کورس شامل ہوتا ہے ۔ اگر کوئی اعدادیہ کے اس نصاب کو پڑھ چکا ہو تو اس کے لئے تو اس کتاب میں مستعمل حساب کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں لیکن اگر کوئی پرانی ریاضی کو جانتا ہو مگرس کو جدید ریاضی کا تعارف نہ ہو تو وہ ان دو صفحات سے یہ اندازہ لگا سکے گا کہ اس کو ریاضی کے کون کون سے ابواب پڑھنے پڑیں گے ۔ پھر اس کی مرضی ہے کہ اعدادیہ کے نصاب میں اس کی مشق کرلے یا کسی اور طریقے سے اس کمی کو پورا کرلے ۔سکولوں اور کالجوں کے طلبہ کو ان دو صفحات کے مطالعے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
      اس کتاب میں مستعمل ہندسے وہ ہیں جو الیکٹرانک گھڑیوں اور کیلکولیٹر میں استعمال ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ان کو انگریزی ہندسے سمجھ کر ان سے محروم ہیں تو ان کو جان لینا چاہیے کہ یہ ہندسے فی الحقیقت عربی ہندسے ہیں اور یورپ اور امریکا میں ابھی تک انہیں عربی ہندسے کہا جاتا ہے ۔ موجودہ عربی ہندسے فی الحقیقت ہندی ہندسے ہیں ۔ کسور کے لئے جدید طریقہ مخرج شمار کنندہ استعمال کیا کیا گیا ہے پس 1 2 میں شمار کنندہ 1 اور مخرج 2 ہے،اس کو 1 بٹا 2 پڑھیں گے ۔ 1 2 کا مطلب یہ ہے کہ 1 کو 2 پر تقسیم کیا گیا ہے ۔ اس طریقے میں حسابی سوالات میں ہندسے جگہ کم گھیرتے ہیں نیز کیلکولیٹر میں تقسیم کے لئے اکثر(-)کا نشان استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کیلکولیٹر کے استعمال میں بھی ان شاء اللہ اس سے آسانی ہوگی ۔ جس کا شمار کنندہ مخرج کے برابر یا اس سے بڑ ا ہو اس کو غیر واجب کسر کہتے ہیں مثلاً 20 3 اورجس کسر کا شمار کنندہ مخرج سے کم ہو اس کو واجب کسر کہتے ہیں ۔ اس غیر واجب کسر کو بعض اوقات 6 2 3 چھ صحیح دو بٹا تین بھی لکھتے ہیں ۔ اس میں 6 کا عدد تو پورا ہےاور 2 3 کسر ہے۔مگر اس سے حساب بلاوجہ لمبا ہوجاتا ہے اور میراث میں ہم آخری نتیجے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس میں اس کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔اس لئے اس کتاب میں اس کو 20 3 ہی لکھا جائے گا ۔ یہاں یہ فرض کیا جارہا ہے کہ سادہ جمع تفریق کرنا قاری کو آتا ہے ۔ اگر نہیں بھی آتا تو فکر کی کوئی بات نہیں کیلکولیٹر کی موجودگی میں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بس کیلکولیٹر کا استعمال آنا چاہیے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر 2 کو 3 کے ساتھ جمع کرنا ہو تو اس کو 2+3 لکھتے ہیں۔بس کیلکولیٹر میں پہلے 2 کے بٹن کودبائیں پھر + کے بٹن کو پھر 3 کے بٹن کو اور آخر میں = کے بٹن کو ۔ اس کے بعد سکرین پر جواب پڑھیں ۔ اس طرح تفریق ، ضرب اور تقسیم کے متعلقہ بٹنوں کے استعمال سے آپ سادہ جمع، تفریق ،ضرب اورتقسیم کرسکتے ہیں ۔
      عام میراث میں صرف کسروں کی ضرب استعمال ہوتی ہے ۔ پس اس ضرب کوسیکھ کر آپ میراث سے متعلقہ ریاضی سیکھ جائیں گی۔ اور یہ بہت آسان ہے۔مثلاً 2 5 کو 3 4 سے ضرب دینی ہو تو اس میں پہلے ان کسروں کے شمار کنندوں کو ضرب دیں پھر ان دو کسروں کے مخرجوں کو ۔ لیجئے کسروں کی ضرب مکمل ہوگئی۔ پس موجودہ مثال میں 2 کو 3 سے ضرب دیں تو جواب 6 آئے گا ۔ پس حاصل ضرب کسر کا شمار کنندہ 6 ہوگا ۔ اور 5 کو 4 سے ضرب دیں تو جواب 20 آئے گا۔ پس حاصل ضرب کسر کا مخرج 20 ہوگا۔ چونکہ حاصل ضرب کا شمار کنندہ 6 اور مخرج 20 ہے اس لئیے حاصل ضرب کو اب 6 20 لکھیں گے۔ یاد رکھیئے کہ اگر کسی کسر کے شمار کنندہ اور مخرج دونوںکو کسی ایک عدد کے ساتھ ضرب دی جائے یا کسی ایک عدد پر تقسیم کیا جائے تو اس سے کسر میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ اس کی مترادف کسر کہلاتی ہے ۔پس 6 20 آئے گا پس اس کے کے شمار کنندہ اور مخرج دونوں کو اگر ہم 2 سے ضرب دیں تو اس کا جواب 12 40 آئے گا اور اگر 6 20 کے شمار کنندہ اور مخرج دونوں کو2 پر تقسیم کریں تو جواب 3 10 آئے گا یہ بھی اس کی مترادف کسر ہی ہوگی۔ اس سے اصل کسر پر تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن کسر مختصر ترین صورت میں حاصل ہوگئی ۔مناسخہ میں البتہ کسروں کی جمع تفریق بھی استعمال ہوتی ہے جس کے لئے پہلے متعلقہ کسور کا ذو اضعاف اقل معلوم کرتے ہیں اور اس سے ان تمام کسور کو ضرب دے کر حاصل کو جمع تفریق کے عمل سے گزارنے کے بعد جواب کو اس ذو اضعاف اقل پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
  • (LCM) ذو اضعاف اقل
    • جب کئی کسور سے واسطہ ہو تو پھر ان کے ذو اضعاف اقل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ وہ چھوٹے سے چھوٹا عدد ہوتا ہے جو متعلقہ سارے اعداد پر تقسیم ہوسکتا ہے ۔ سکولوںمیں تو اس کے معلوم کرنے کا طریقہ بہت آسان ہے لیکن یہاں پرانے میراث کے اساتذہ کو ان کی اصطلاح میں اس کا طریقہ اس لیئے سمجھایا جارہا ہے تاکہ ان پر یہ بات کھل جائے کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ ان ہی کی ریاضی کی ایک ترقی یافتہ صورت ہے۔
      اس کے لئے تمام اعداد کے و اسطے ایسا عدد ڈھونڈیں کہ وہ ان میں زیادہ سے زیادہ اعداد کا وفق ہو یعنی اس پر زیادہ سے زیادہ اعداد تقسیم ہوسکیں ، اس پر سارے قابل تقسیم اعداد کو تقسیم کرکے ان کا جواب لکھیں اور ان میں جن اعداد کے ساتھ اس عدد کو تباین ہو ان اعداد کو دوبارہ ویسے ہی لکھیں۔ اسی طرح کرتے جائیں حتیٰ کہ سب باقی رہنے والوں میں فقط تباین ہوجائے یعنی ان میں توافق نہ رہے ۔ تماثل اور تداخل چونکہ توافق ہی کی دو صورتیں ہیں اس لئے ان کا علیحدہ حساب ضروری نہیں مثلاً 8,6,4,3,2کا ذو اضعاف اقل معلوم کرنے کیلئے پہلے دیکھا کہ سوائے عدد 3 کے باقی سارے اعداد کا وفق 2 ہے اس لیئے سارے اعداد کو 2پرتقسیم کیا تو جواب 1، 3 , 2، 3، 4آیا۔پھر 2 اور 4 کا وفق 2 ہے جبکہ 3 اور 3میں تماثل ہے اس لیئے پہلے 2 پر سب کو تقسیم کیا تو جواب 1، 3 , 1، 3،2 ۔ان میں 3اور 2میں چونکہ تباین ہے اس لیئے ان کوویسے ہی لکھا ۔حاصل اعداد کو پھر 3پر تقسیم کیا جس سے3اور 3کے نیچے تو 1آیا لیکن 2اور 3میں تباین ہونے کی وجہ سے 2 باقی رہا ۔ اس طرح آخر میں 1، 1 , 1، 1، 2 اس 2سے تمام تقسیم کنندگان یعنی 2 ، 2 اور 3 کو ضرب دی تو جواب 24آیا کیونکہ 1 سے چاہے کتنی ہی بار کسی عدد ضرب دی جائے عدد وہی رہتا ہے۔یہی حاصل ضرب ذو اضعاف اقل ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو 2، 3،4،6اور 8تو وہی اعداد ہیں جو ذوی الفروض کے سہام ہیں پس اگرگر کوئی چاہے تو ہر مسئلہ24 سے بنا سکتاہے
  • بنیادی قوانین میراث
    • میت کے متروکہ مال کے ساتھ چار قسم کے حقوق
      • بغیر اسراف کے تجہیز و تکفین
        • تجہیز و تکفین میں رسومات کی ادایئگی نہیں بلکہ شرعی کفن اور دفن کے اخراجات شامل ہیں ۔رواجی کھانا کھلانا ، جائے نمازوں اور فروٹ وغیرہ کے اخراجات ہر گز شامل نہیں ہیں۔
      • میت کے قرض کی ادائیگی
        • علمائے کرام قرض کی تین قسمیں بتاتے ہیں ۔
          پہلی قسم کا وہ قرض ہے جو مرض الموت سے پہلے میت کے اقرار اور گواہوں کی شہادت سے یا عام مشاہدے سے ثابت ہو ۔
          دوسری قسم کا وہ قرض ہے جو مرض الموت میں میت کے اقرار سے ثابت ہو لیکن گواہوں کی شہادت یا عام مشاہدے سے ثابت نہ ہو ۔
          تیسری قسم کا قرض خدا تعالیٰ کا قرض ہے مثلاً زکوٰۃ و کفارہ جات وغیرہ۔
          سب سے پہلے پہلی قسم کے قرض کی ادائیگی کی جائے گی اگر ترکہ میں کچھ بچ گیا تو دوسری قسم کی پھر بھی کچھ بچ گیا تو تیسری قسم کی قرض کے ادائیگی صرف اس وقت ہوگی جب میت نے اس کی وصیت کی ہو ورنہ ورثاء کی مرضی پر موقوف ہے اور اس میں نابالغوں کی مرضی کا کوئی اعتبار نہیں صرف بالغ اپنے اپنے حصّے سے اس کا یہ قرض چکا سکتے ہیں جس پر ان کو ان شاء اللہ بہت اجر ملے گا ۔
          اگر میت نے کچھ مال چھوڑا ہے لیکن کسی قسم کے قرض کی ادائیگی کے لئے پورا نہیں ہورہا تو ان قرض خواہوں کو ان کے قرضوں کے تناسب سے ادائیگی کی جائے گی ۔ اس طرح اگر وصیت بھی تین ثلث سے زیادہ ہواور موصیٰ لہم کی تعداد ایک سے زیادہ ہو تو ان میں وہ ثلث ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔ اگر مسجد کی تعمیر وغیرہ یا حج وغیرہ کے لئے رقم یا جنس وغیرہ چھوڑی ہے تو وہ ترکہ ہے البتہ میت کے پاس اگر کوئی چیز رہن تھی اور مقروض نے اس کا قرض واپس نہ کیا ہو تو میت کے ورثاء بھی اس چیز کو اس وقت تک روک سکتے ہیں جب تک میت کا قرض ادا نہ کیا جائے ۔ زوجہ کا مہر بھی میت پر قرض ہے اس کو ترکہ سے مہر دلوایا جائے گا
      • میت کی وصیت کا تہائی مال میں اجراء کرنا
        • تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرض کی ادایئگی کے بعد جو مال بچتا ہے اس کی ایک تہائی میں وصیت کی اجراء کی جاسکتی ہے۔اگر وصیت اس سے زیادہ میں کی ہے تو تمام وصیتوں کو ایک تہائی کے اندر ان کے تناسب سے پورا کیا جائے گا ۔مثلاً کسی نے ارشد کو دس ہزار سلیم کو پانچ ہزار اور اکرم کو پندرہ ہزارروپے دینے کی وصیت کی ہے جبکہ تجہی ز و تکفین کے اخراجات اور قرض کی ادایئگی کے بعد جو مال بچتا ہے وہ بہتر ہزار روپے ہے ۔ان میں ہر ایک کو جو ادایئگی کی جائے گی اس کے لئے پہلے بہتر ہزار روپے میں تہائی کا حساب کیا جائے گا جو کہ اس صورت میں چو بیس ہزار بنتا ہے۔ تینوں کو جتنے جتنے کی وصیت کی گئی ہے اس کا مجموعہ تیس ہزار بنتا ہے اس لئے ان کے تناسب سے ادایئگی ہوگی ۔ارشد کا حصہ کل کا تیسرا،سلیم کا حصہ کل کا چھٹا ، اور اکرم کا کل آدھا بنتا ہے ۔پس چو بیس ہزار روپے میں ارشد کا حصہ آٹھ ہزار ، سلیم کا چار ہزار اور اکرم کا بارہ ہزار بنا ۔اس طرح وصیت کی شرط بھی پوری ہوئی اور کسی کے ساتھ ظلم بھی نہیں ہوا۔
      • جو باقی بچے اس کو شریعت مطہرہ کے قوانین کے مطابق تقسیم کرنا
        • میت کی نقدی ، بینک بیلنس ، قابل وصول قرضہ جات بشمول جی پی ایف وغیرہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے میت کا واجب الادا قرضہ اور بغیر اسراف کے تجہیز و تدفین کا خرچہ نکا لنے کے بعد اور اگر میت نے کوئی وصیت کی ہے تو باقی ماندہ مال کے تہائی کے اندر اندر اس وصیت کا اجراء کرنے کے بعد جتنا مال بچتا ہے وہ ترکہ ہے ۔
          صاحبِ مفید الوارثین کے نزدیک پنشن اور اس کے متعلقہ جات مثل گریجویٹی وغیر ہ ترکہ میں شامل نہیں بلکہ یہ گورنمنٹ نے جس کو دلوائے اس کے ہیں ۔جو چیز میت کی ملکیت نہیں تھی مثلاً کسی کی امانت یا غصب شدہ مال وہ ترکہ میں شامل نہیں ۔اسی طرح وہ چیز جو میت نے خریدی تھی لیکن اس کی قیمت ادا نہیں کی تھی اور نہ ہی اس پر اس کا قبضہ ہوا تھا وہ بھی ترکہ نہیں البتہ اگر اس نے اس چیز پر قبضہ کیا تھا تو وہ ترکہ ہے اور اس کی قیمت میت پر قرض ہے۔اگر میت نے اپنی کوئی چیز کسی کے پاس قرض کے عوض رہن رکھوائی تھی تو اگر اس کے پاس اتنا مال ہے کہ اس سے اس قرض کی ادائیگی ہوسکے تو ٹھیک ورنہ جس کے پاس مال مرہونہ ہے وہ اس کوبیچ کر اس سے قرض وصول کرکے باقی مال ترکہ میں ڈال سکتا ہے ۔
    • ترتیب تقسیم
      • میت کے ورثاء میں ذوی الفروض کے حصے کتاب اللہ ، سنت رسول ﷺِ اور اجماع سے ثابت ہیں۔ ان میں کمی بیشی ممکن نہیں جن کا جتنا حصہ مقرر ہے ان کو اتنا دیا جائے گا نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ ۔ ذوی الفروض کو اپنا اپنا حصہ دینے کے بعد جو مال بچے وہ مستحق عصبات کو دیا جائے گا ۔ اگر ان میں کوئی بھی نہ ہو تو مولیٰ عتاقہ کو اور یہ وہ شخص ہوتا ہے جس نے میت کو آزاد کیا ہو اگر وہ نہ ہو تو مولیٰ عتاقہ کے مرد عصبات کو مال ملے گا ۔ وہ بھی نہ ہوں یا میت کبھی غلام رہا ہی نہ ہو تو بقیہ مال کو بھی ذوی الفروض نسبیہ پر رد کیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بقیہ مال کو موجودہ ذوی الفروض نسبی کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔ اگر ذوی الفروض نسبی نہ ہو تو باقی مال ذوی الارحام کو ملے گا۔وہ بھی نہ ہوںتوپھر مولیٰ الموالاۃ کو دیا جائے گا ورنہ مقرلہ بالنسب علی الغیر اور وہ نہ ہو تو اس شخص کو دیا جائے گا جس کے لئے میت نے سارے مال کی وصیت کی ہے ۔ اگر مندرجہ بالا میں سے کوئی بھی نہ ملے تو باقی مال بیت المال کا ہوگا ۔
    • میراث کے موانع

        جن اسباب کی وجہ سے کوئی شخص اپنی میراث سے محروم ہوتا ہے وہ چار ہیں

      • غلامی
        • کیونکہ غلام اپنے مال کا مالک نہیں ہوتا اس کا مال اس کے مالک کو ملتا ہے جو وارث نہیں اس لئے غلام کسی سے میراث نہیں لے سکتا
      • قتل
        • احناف کے نزدیک ایسا قتل جس سے قصاص،دیت یا کفارہ واجب ہوجائے مثلاً قتل عمد قتل شبہ عمد اور قتل خطاء سے میراث سے محرومی ہوجاتی ہے۔ مالکیہ کے نزدیک صرف قتل عمد سے ، شوافع کے نزدیک ہر قسم کے قتل سے اور حنابلہ کے نزدیک ہر وہ قتل جس سے کفارہ یا قصاص واجب ہو مانع میراث ہے
      • دین کا اختلاف
        • یعنی مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا
      • وطن کا اختلاف
        • عام طور پر مسلمانوں پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا لیکن جو مسلمان کسی دارلحرب میں کافر تھے بعد میں مسلمان ہوگئے اور ان میں ایک دار السلام میں آ گیا دوسرا نہیں تو دونوں ایک دوسرے کےوارث نہیں ہوں گے جب تک وہ دوسرا بھی دارالسلام میں نہ آئے۔ یاایک رشتہ دار پہلے سے دارلسلام میں ہے
          اور دوسرا دار الحرب میں ۔ اب یہ دونوں اگر مسلمان ہوگئے ہیں تو آپس میں وطن کے اختلاف سے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔ جن ممالک میں آپس میں امن مفقود ہو ان میں بسنے والے کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے (جس ملک میں اسلامی قانون رائج ہو ، وہاں کے کفار کے لئے قانون بناتے وقت اس کی ضرورت پڑتی ہے)
    • فرائض کا مفہوم
      • چھ قسم کے حصے کتاب اللہ سے ثابت ہیں آدھا ، تہائی ، چوتھائی ، چھٹا ، آٹھواں اور دو تہائی ۔ ان بتائے گئے حصوں کے مستحقین بارہ اشخاص ہیں ۔ان میں چار مرد ہیں یعنی باپ ، قریب ترین جد صحیح ، اخیافی بھائی اور خاوند ۔ اور آٹھ عورتیں ہیں یعنی بیوی ، بیٹی ، پوتی (جتنی بھی نچلی ہو جیسے پڑوتی سکڑوتی وغیرہ )حقیقی بہن، علاتی بہن اوراخیافی بہن ۔ جدات صحیحہ کا حصّہ البتہ سنت سے ثابت ہے اور اس میں بیک وقت کئی جدات صحیحہ بھی شریک ہوسکتی ہیں جسکی تفصیل ’’شجرہ عصبات “کے نیچے دی ہوئی ہے تاہم سب کا حصّہ ملکر 1 6 یعنی24میں 4سہام سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔
        جدید ریاضی میں ان تمام حصوں کا ذواضعاف اقل چونکہ 24ہے اس لئے اگر میت کا کل ترکہ کو 24 سہام میں تقسیم کیا جائے گو یا مسئلہ 24سے نکالا جائے تو اس کا آدھا 12، تہائی8، چوتھائی 6، آٹھواں 3اور دو تہائی 16اکائیاں بنیں گی۔
        اگر ہم ان کسرات کی جگہ یہ سہام استعمال کریں تو عام میراث کے حساب کو سمجھنا بہت آسان ہوجائے گا کیونکہ مسئلہ ہر صورت میں 24سے فرض کرکے سوال حل کیا جائے تواس سے عول اور رد کے سوالات کو حل کرنے میں وہ مشکلات پیش پیش نہیں آتیں جن کا سراجی میں تفصیل سے ذکر موجود ہے۔ نیز ہر سوال کے لئے الگ مسئلہ سوچنے سے بھی نجات مل جاتی ہے۔ رد اور عول کے سوالات ذہن پر مزید قواعد کو یاد رکھنے کا بوجھ ڈالے بغیر آسانی کے ساتھ حل ہو جاتے ہیں ۔ للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے میں بھی ذو اضعاف اقل کے استعمال سے تصحیحِ مسئلہ کا عمل بہت آسان ہوجاتا ہے۔ ان تمام فوائد کا مشاہدہ انشاء اللہ متعلقہ مثالوں میں ہوجائے گا ۔ ہمارے اکابر نے بھی جدید طریقہ حساب سے سوال حل کرنے کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے جس کی ایک جھلک سید تقویم الحق کاکا خیل کے حضرت میاں صاحب اصغر حسین صاحب ؒ کے بارے میں صفحہ نمبر پر موجود خط میں دیکھی جاسکتی ہے
        بعض حضرات اس آسانی کی اجازت نہیں دیتے اور اپنے خیال میں وہ قرآنی حصص کو باقی رکھنے کے لئے ایسا کررہے ہیں لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ ہمارے نزدیک بھی قرآنی حصص سے ہی حساب کیا جاتا ہے اس لئے جس کو نصف ملتا ہے اس کو نصف ہی ملتا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مسئلہ ایسا بنایا جاتا تھا کہ سہام مختصر سے مختصر ہوں مثلاً4 کا نصف 2ہے تو24 کا نصف12ہے۔ اب اگر کوئی کہہ دے کہ بیٹی کو 4میں2 حصے ملیں گے تو جیسا کہ یہ جواب ٹھیک ہے اسی طرح ان کا کہنا بھی ٹھیک ہے جو24میں بیٹی کے12حصّے بتاتے ہیں اس لئے حصہ تو بیٹی کو وہی قرآنی ہی ملا ۔ اس طریقے کی برکت یہ ہے کہ ایک نو وارد کو سراجی کے معروف طریقے سے جتنا علم مہینے میں دیا جاسکتا ہے اتنا علم اس کو ایک دن میں دیا جاسکتا ہے ۔ نہ صرف اس وقت وہ یہ سمجھ لیتا ہے بلکہ اس کو مستقبل میں یاد رکھنے کا اہل بھی بنتا ہے ۔ اب اگر اتنے بڑے فائدے کے لئے اتنی چھوٹی سی تبدیلی گواراکی جائے تو اس پر شریعت نے کہاں پابندی لگائی ہے؟ کاش ذرائع پر اتنی توجہ نہ ہو کہ مقاصد فوت ہونے لگیں۔ اکابر نے تو ہمیشہ مقاصد کو سامنے رکھا ہے اس لئے شاہ عبدالقادر ؒ کے الہامی ترجمہ کی موجودگی کے باوجود حضرت شیخ الہند ؒ نے قرآن کا ترجمہ کیا کیونکہ مقصد حضرت شاہ عبد القادر ؒ کے ترجمے کی بقا کانہیں بلکہ قرآن کے صحیح مفہوم کا عوام تک پہنچانا تھا جو کہ شاہ صاحب ؒ کے ترجمے سے زبان کی تبدیلی کی وجہ سے پورا نہیں ہورہا تھا ۔ اس طرح صاحب سراجی کی عظمت و جلالت کے باوجود چونکہ اس کتاب میں مستعمل ریاضی ماحول میں نہیں رہی اس لئے یہ علم سراجی کے ذریعے پڑھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا حتیٰ کہ اس علم کو ہی لوگوں نے مشکل مشہور کردیا ۔ اس کتاب کے پڑھنے سے الحمد للہ کئی علماء کرام کو یہ احساس ہوا کہ علم میراث مشکل نہیں بلکہ سراجی مشکل ہوگئی ہے۔ اگر اس کا مزید احساس حاصل کرنا ہو تو مفید الوارثین دیکھا جائے جس میں حضرت ؒ نے اس علم کو آسان کرنے کی انتہائی کوشش کرنے کے باوجود اقرار کیا ہے ’’ اب بھی مجھے یہ نظر آتا ہے کہ لوگ اس کو نہیں سمجھ سکیں گے‘‘ لیکن ان کی کوششوں کی برکت سے احقر کو الحمد للہ اس کتاب کے لکھنے کی سعادت ہوئی اس لئے جیسا کہ حضرت ؒ نے اظہار کیا تھا کہ’’ اس سے آسان اگر کوئی لکھ سکے تو میں اس کے کام کو اس کے نام سے شامل کروں گا‘‘ تو گویا یہ کام حضرت کی اس خواہش کی تکمیل ہے۔ اب لوگوں کو اس کی مخالفت ترک کردینی چاہیے ورنہ دین کے کام کی مخالفت کا بوجھ شاید اپنی گردنوں پر لے لیں گے ۔
    • ذوی الفروض میں میراث کی تقسیم
      • طلباء کو اگر میراث کے علم کی ابتدا ہی سے اختلافات کے مباحث میں الجھا یا جائے تو اس علم کا حاصل کرنا بعض کے لئے بہت دشوار ہوجاتا ہے ۔ اگر کسی ایک فقہ کے مطابق ذوی الفروض کے حصص معلوم کرنے کی مشق کی جائے اور اس کے بعد تمام فقہوں کے مطابق حصص معلوم کرنا بتایا جائے تو اس سے سیکھنے میں کافی آسانی ہوجاتی ہے ۔ اس کتاب میں اس لئے پہلے فقہ حنفی کے مطابق حصص معلوم کرنے کا طریقہ بتایا جائے گا اور بعد میں اختلافیات کے باب میں باقی تمام فقہوں کے مطابق ذوی الفروض کے حصص معلوم کرنا سکھایا جائے گا ۔ ذوی الفروض کا جدول اس مقصد کے لئے ذوی الفروض کا جدول بہت محنت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اس جدول میں حنفی ،شافعی اور مالکی فقہ کے مطابق حصص معلوم کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ فقہ حنبلی کے لیئے ایک معمولی ترمیم کے ساتھ اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ جدات صحیحہ کے شرائط میں خط کشیدہ شرط کو ختم کیا جائے۔ اس میں ہر وارث کے سامنے اس کے لئے مطلوبہ شرائط کے ساتھ قرآنی حصہ مثل تہائی، نصف وغیرہ کے ساتھ مسئلہ کو 24 سے فرض کرتے ہوئے اس کا جتنا حصہ بنتا ہے وہ بھی دیا ہوا ہے اور ’’1 سے زیاد ہ ‘‘کے سامنے 2 3 اور 16لکھا ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میت کا بیٹا نہ ہو اور میت کی بیٹیوں کی تعداد1سے زیادہ ہو تو سب کو مشترکہ طور پر دو تہائی دیا جائے گایعنی ان کو 24 میں 16سہام ملیں گے اور اگر میت کی ایک بیٹی ہو تو اس کو میت کا بیٹا نہ ہونے کی صورت میں 1 2 یعنی24 میں سے 12سہام ملیں گے۔
        جدات صحیحہ کا نقشہ اس مقصد کے لئے ذوی الفروض کا جدول بہت محنت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اس جدول میں حنفی ،شافعی اور مالکی فقہ کے مطابق حصص معلوم کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ فقہ حنبلی کے لیئے ایک معمولی ترمیم کے ساتھ اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ جدات صحیحہ کے شرائط میں خط کشیدہ شرط کو ختم کیا جائے۔ اس میں ہر وارث کے سامنے اس کے لئے مطلوبہ شرائط کے ساتھ قرآنی حصہ مثل تہائی، نصف وغیرہ کے ساتھ مسئلہ کو 24 سے فرض کرتے ہوئے اس کا جتنا حصہ بنتا ہے وہ بھی دیا ہوا ہے اور ’’1 سے زیاد ہ ‘‘کے سامنے 2 3 اور 16لکھا ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میت کا بیٹا نہ ہو اور میت کی بیٹیوں کی تعداد1سے زیادہ ہو تو سب کو مشترکہ طور پر دو تہائی دیا جائے گایعنی ان کو 24 میں 16سہام ملیں گے اور اگر میت کی ایک بیٹی ہو تو اس کو میت کا بیٹا نہ ہونے کی صورت میں 1 2 یعنی24 میں سے 12سہام ملیں گے۔
        جدات صحیحہ کی آسان تعریف تو اصطلاحات کے باب میں دیکھیں اس جدول میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جتنی بھی ہوں ان سب کو مشترکہ طور پر سدس (چھٹا)یعنی 4سہام ملیں گے اور وہ جدات حصہ پانے والوں میں نہیں ہوں گی جو کسی وجہ سے محروم ہوں ۔ اوپر جدات صحیحہ کا نقشہ دیا ہوا ہے ۔ اس میں کالم نمبر 3 اور کالم نمبر 4 امام مالک ؒ کے نزدیک جدات صحیحہ ہیں ۔کالم نمبر 2، کالم نمبر 3 اور کالم نمبر 4کے جدات امام احمد ؒ کے نزدیک جدات صحیحہ ہیں جبکہ چاروں کالموں میں جتنی جدات بنتی ہیں وہ شوافع اور احناف کے نزدیک جدات صحیحہ ہیں۔ ذوی الفروض کی جدول کے مطابق ماں موجود ہو تو ساری جدات صحیحہ میراث سے محروم ہوجاتی ہیں اور باپ اور جد صرف پدری جدات کو محروم کرتے ہیں البتہ وہ جد ان جدات صحیحہ کو محروم نہیں کرتا جو ان کے اور میت کے رشتے میں واسطہ نہ بنتا ہو مثلاً دادا دادی کو محروم نہیں کرتا کیونکہ وہ اسکی بیوی ہے لیکن پردادی کو محروم کردیتا ہے کیونکہ وہ پردادی کے لئے واسطہ ہے نیز صرف ایک پشت کی جدات کو حصہ مل سکتا ہے اور وہ پشت سب سے قریبی پشت ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قریب والی جدات دور والی جدات کو محروم کردیتی ہیں چاہے وہ خود بھی کسی وجہ سے محروم ہوں مثلاً باپ ، دادی اور ماں کی نانی جمع ہوں تو دادی ، گو کہ باپ کی موجودگی میں خود محروم ہے ، لیکن وہ ماں کی نانی کومحروم کردے گی حالانکہ ماں کی نانی دادی کی غیر موجودگی میں باپ کی وجہ سے محروم نہ تھی ۔ اگر کوئی جدہ میت کے لئے ایک سے زیادہ قسم کی جدہ بنتی ہو مثلاً وہ میت کی نانی بھی ہو اور دادی بھی تو اس کو صرف ایک ہی جدہ کا حصہ ملے گا ۔
  • سوال حل کرنے کا طریقہ
    • جب ذوی الفروض کے جدول سے موجود ذوی الفروض ورثاء کے سہام معلوم ہوجائیں تو اس کے بعد ان کا مجموعہ معلوم کریں ۔
    • قاعدہ نمبر 1
      • قاعدہ نمبر (1الف)

          اگر سب ذوی الفروض کے سہام کامجموعہ 24 یا اس سے زیادہ ہو اور ہر وارث کی تعداد ایک ہو یا کسی وارث کی تعداد ایک سے زیادہ ہو لیکن اس کے سہام اس کی تعداد پر پورے پورے تقسیم ہورہے ہوں تو یہی ہر وارث کے سہام ہیں ان میں اب کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔

        • مثال نمبر1

            رشید نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں ، ماں ، باپ اور دادی چھوڑی ۔ ہر ایک کا حصہ بتائیے؟

            ذوی الفروض کے جدول کے مطابق رشید کی ماں کو 4 سہام ملیں گے کیونکہ میت کی اولاد موجود ہے ۔ رشید کے باپ کو بھی 4 سہام ملیں گے کیونکہ میت کی اولاد موجود ہے۔ رشید کی دادی اس کے ماں باپ کی موجودگی میں محروم ہے۔ اس کی 2 بیٹیوں کو مشترکہ طور پر16 سہام ملیں گے کیونکہ رشید کا کوئی بیٹا نہیں ۔ 16چونکہ 2 پر تقسیم ہوسکتا ہے اس لئے ہر بیٹی کے حصے میں8 سہام آئے۔ باقی سب کے وہی سہام ہوں گے جوان کے لئے جدول میں بتائے گئے ہیں۔

      • قاعدہ نمبر 1(ب)(تصحیح)

          کسی بھی وارث کی تعداد اگر ایک سے زیادہ ہو اور فی کس سہام معلوم کرنے کے لئے اس کے سہام اس کی تعداد پر برابر برابر تقسیم نہ ہوتے ہوں ۔اس صورت میں
          جن ورثاء کی تعداد ایک سے زیادہ ہے ان کی تعدادوں کا ذو اضعاف اقل معلوم کریں اور اس سے سارے ورثاء کے سہام کوضر ب دے کر ان کی اپنی اپنی تعداد پر تقسیم کیجیئے ۔اس کے ساتھ سہام کی مجموعے کو بھی اس ذو اضعاف اقل سے ضرب دیجیئے تو یہ تصحیح ہوجائے گی۔

        • مثال نمبر 2

            مثال نمبر 1 میں بیٹیوں کی تعداد تین کیجیئے ۔
            مثال نمبر 1میں بیٹیوں کے لیئے 16 سہام ہیں اتنی ہی تین بیٹیوں کے لئے بھی ہوں گی جبکہ باقی ورثاء کے سہام بھی وہی ہوں گے البتہ اب 16کو 3پر تقسیم نہیں کیا جاسکے گا ۔ اس لئے حسب قاعدہ نمبر 1ب سب کے سہام کو 3سے ضرب دے کر ان کی تعدادوں پر تقسیم کیا کیونکہ 3اور 1کا ذو اضعاف اقل 3ہے پس ماں کے 12، باپ کے بھی 12 ، اور ہر بیٹی کے حصّے میں 16سہام آیئں گے ۔

        • مثال نمبر 3

            عبدالسمیع نے اپنے پیچھے 3 بیٹیاں ، ماں ، باپ اور دو بیویاں چھوڑیں ۔ اس میں سب کا حصہ معلو م کریں ۔ “ ذوی الفروض کے جدول “سے معلوم ہوا کہ :
            عبدالسمیع کی بیویوں کو مشترکہ طور پر 3 سہام ملیں گے کیونکہ میت کی اولاد موجود ہے ۔ اس کی بیٹیوں کو مشترکہ طور پر 16سہام ملیں گے کیونکہ میت کا کوئی بیٹا نہیں نیز بیٹیوں کی تعداد 1 سے زیادہ ہے ۔
            عبدالسمیع کے باپ کو 4سہام حاصل ہوں گے کیونکہ میت کی اولاد موجود ہے ۔
            عبدالسمیع کی ماں کو بھی 4 سہام دیے جائیں گے کیونکہ میت کی اولاد موجود ہے۔
            ان سب کے سہام کا مجموعہ 3+16+4+4=27ہے جو کہ 24 سے زیادہ ہے اس لئے قاعدہ نمبر1کے مطابق یہی ان کے حصے بنے لیکن بیٹیوںاور بیویوں کی تعداد چونکہ ایک سے زیادہ ہے اس لئے پہلے ان کی تعداد کا ذواضعاف اقل معلوم کریں گے ۔ 3اور 2کا ذو اضعاف اقل 6ہے ۔اس لئے سارے ورثاء کے سہام کو 6سے ضرب دے کر ان کی اپنی اپنی تعداد پر تقسیم کیا تو ہربیوی کے 6×3 2 ، ہر بیٹی کے 16×6 2 =32 سہام ماں کے=24
            اور باپ کے بھی =24
            سہام معلوم ہوئے۔ نوٹ: جب مجموعہ الف 24 سے زیادہ ہو تو سب کے حصّے معمول سے کم ہوجاتے ہیں کیونکہ پہلے ان کے حصّے 24میں تھے اور اب 24سے زیادہ میں ہیں اس صورت کو مسئلہ عول کہتے ہیں ۔ اس صورت میں اگر کسی نے مندرجہ بالا قاعدے پر عمل کرلیا تو اس کو جواب درست ہوگا بیشک وہ عول کا لفظ بھی نہیں جانتا ہو۔

    • قاعدہ نمبر 2

        ا گر ذوی الفروض کے سہام کامجموعہ 24سے کم ہو تو 24 سے اس مجموعہ کو تفریق کرکے جو باقی بچے وہ ان عصبات کو دیں جو میت سے رشتے میں سب سے قریب ہوں ۔اس کے لئے صفحہ نمبر 25پر شجرہ عصبات کا مطالعہ کریں ۔اگر عصبات میں صرف عورتیں یا صرف مرد ہوں تو ان میں سب سہام برابر برابر تقسیم کیئے جائیں ورنہ ہر مرد کو ہر عورت کے حصّے کا دگنا ملے گا۔ اس کے لئے مردوں سے بھی عورتیں بناکر ان میں اصل عورتوں کی تعداد جمع کریں تو گویا عصبات میں کل عورتوں کی تعداد آجائے گی اس کے بعد ان میں عصبات کے سہام برابر تقسیم کرکے جب عصبہ عورت کا حصّہ معلوم ہوجائے تو اس کا دگنا حصٍہ مرد کو دے دیں ۔باقی سوال طریقہ نمبر 1کے مطابق حل کریں ۔

  • شجرہ عصبات کی تشریح
    • اس شجرہ میں )شجرہ برائےعصبات (میت کے ان ورثاء کی ترتیب دکھائی گئی ہے جو ذوی الفروض سے بچے ہوئے مال کے مستحق ہیں۔ اس میں 78 کوڈ نمبر ہیں۔ موجودہ ورثاء کو غور سے دیکھا جائے کہ ان پر کن کن کوڈ نمبروں کا اطلاق ہوتا ہے ۔ پھر دیکھا جائے کہ ان میں کن کا کوڈ نمبر سب سے کم ہے پس جن کا کوڈ نمبر سب سے کم ہو اس کوڈ نمبر میں شامل ورثاء باقی تمام مال کے وارث ہیں اور باقی جملہ محروم ہیں۔
      اصل میں یہ طریقہ اس قاعدہ پر جس کو الاقرب فاالاقرب کہتے ہیں، مبنی ہے اس لئے اس شجرہ میں جس کا کوڈ نمبر سب سے کم ہے وہ میت کے سب سے زیادہ قریب ہے اور جو میت کے زیادہ قریب ہے وہ زیادہ مستحق ہے ۔ جو ورثاء کسی ایک کوڈ میں جمع ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فقہا کے نزدیک میت کے ساتھ ایک ہی قرب رکھتے ہیں ۔
      اس میں میت اور اس کے آباء و اجداد کو دائیں طرف ان کے حقیقی بھائیوں کے ساتھ اور بائیں طرف ان کے علاتی بھائیوں کے ساتھ افقی زنجیر دار خطوط کے ذریعے ملایا گیا ہے ۔ اس طرح ہر کوڈ کو اپنے سے نیچے کوڈ کے ساتھ جو اس کی اولاد ہے عمودی زنجیر دار خط کے ذریعے ملایا گیا ہے ۔ پس کوڈ نمبر31 میت کے دادا کا حقیقی بھائی ہے ۔ 35 کوڈ نمبر31 کا پوتا ہے اس طرح 52 میت کے پردادا کے علاتی بھائی کا پوتا ہے۔
    • 1سے 4تک کے کوڈ نمبر کے ورثاء

        ان میں مرد ورثاء کے ساتھ ان کے برابر کی عورتیں بھی ہیں ۔ ان میں عورتیں صرف اس وقت حصہ پاسکتی ہیں جب ان کے ساتھ اسی پشت کا یا ان سے نیچے پشت کا کوئی مرد موجود ہو ۔ مثلاً پوتی کے ساتھ اگر پوتا نہ ہو تو وہ عصبات میں حصہ نہیں پاسکتی لیکن اسی پوتی کے ساتھ پڑپوتا ، سکڑ پوتا یا اس سے بھی کوئی نیچے نرینہ اولاد موجود ہو تو ان کے ساتھ یہ بھی عصبات میں حصہ پالے گی۔ پس میت کی نرینہ اولاد پہلی دفعہ جس پشت کی بھی ملے وہ اپنی پشت کی میت کی زنانہ اولاد اور اپنے سے اوپر درجے کی میت کی ذوی الفروض میں محروم زنانہ اولاد کو عصبات میں شامل کردے گی۔
        اس قانون کو مسئلہ تشبیب بھی کہتے ہیں
        جس کو بہت مشکل سمجھا جاتا تھا ۔ اگر مرد اور عورتیں عصبات میں باہم شریک ہوجائیں تو ہر مرد کو ہر عورت سے دگنا حصہ ملے گا ۔ اس قانون کو للذکر مثل حظ الانثیین کہتے ہیں ۔

  • للذ کر مثل حظ الانثیین کا آسان طریقہ

      اس کی ضرورت عصبات اور ذوی الارحام میں آتی ہے اس کے لئے آسان طریقہ بتایا جاتا ہے اس آسان طریقے پر عمل سے تصحیح مسئلہ بہت آسان ہوجاتا ہے ۔
      اس قرآنی قاعدے کے مطابق عصبات اور ذوی الارحام میں مرد اور عورتیں جمع ہونے کی صورت میں مرد کو عورت کے حصہ سے دگنا مال دیا جاتا ہے ۔ اس میں عورت کاحصّہ 1فرض کیا جائے تو مرد کا 2بن جائے گا ۔ اب جتنی تعداد مردوں کی ہے اس کو 2 سے ضرب دی جائے اس میں عورتوں کی تعداد کو جمع کریں ۔ دوسرے لفظوں میں مردوں سے بھی عورتیں بنائیں گویا کہ کل اتنی عورتیں موجود ہیں جن میں عصبات کے لئے موجود سہام تقسیم کرنے ہوں گے پس اگر وہ سہام اس مجموعہ پر قابل تقسیم ہو تو ہر عورت کے حصّے میں جتنے سہام آئیں گے وہ ہر عورت کا حصّہ اور اس کے دگنے سہام ہر مرد کا حصّہ قرار پائے گا ۔ اگر وہ سہام ان مفروضہ عورتوں کی تعداد پر ناقابل تقسیم ہو تو حسب قاعدہ نمبر 1 ذوی الفروض ورثاء کے ساتھ ان مفروضہ عورتوں کی تعداد کا ذو اضعاف اقل معلوم کرکے سارے ورثاء کے سہام کواس سے ضرب دے کر ان کی اپنی اپنی تعداد پر تقسیم کریں تو ہر وارث بشمول ان مفروضہ عورتوں کے فی کس سہام معلوم ہوجائیں گے۔ یاد رہے کہ اب کل سہام 24نہیں بلکہ 24اور اس ذو اضعاف اقل کا حاصل ضرب ہوگا ۔ جتنے سہام 24 میں عصبات کے مفروضہ عورتوں کے لئے فی کس آئے ہیں وہ تو عورتوں کے ہوں گے اور ان سے دگنے ہر عصبہ مرد کے لئے ہوں گے ۔

    • مثال نمبر 4

        عبدالباسط نے اپنے پیچھے ایک بیوی ، 3 بیٹیاں ، ایک پوتی ، ایک پڑپوتا ، 2 پڑپوتیاں ، 2سکڑپوتے اور 3 سکڑپوتیاں چھوڑیں ۔ ان میں کس کس کو کتنا حصہ ملے گا ؟
        “ ذوی الفروض کے جدول “کے مطابق
        عبدالباسط کی بیوی کو 3 سہام ، 3 بیٹیوں کو 16 سہام ذوی الفروض میں مل جائیں گے کیونکہ میت کا بیٹا نہیں ۔
        باقی 5 اکائیوں کے لئے عصبات میں پوتی کے ساتھ کوئی پوتا نہیں اس لئے وہ عصبات میں محروم ہے ۔ البتہ میت کی نرینہ اولاد میں پڑپوتا اور سکڑ پوتے موجود ہیں جن میں پڑپوتے کا کوڈ نمبر 3 اور سکڑ پوتے کا 4 ہے اس لئے سکڑ پوتے محروم ہیں اور ان کے ساتھ سکڑپوتیاں بھی۔
        پڑپوتے کے ساتھ پڑپوتیاں کوڈ نمبر 3 میں شریک ہوں گی اور مسئلہ تشبیب کے مطابق ان کے ساتھ پوتی کو بھی شریک کردیں گے ۔
        پس اب بقیہ 5 سہام میت کے پڑپوتے ، 2 پڑپوتیوں اور ایک پوتی میں اس طرح تقسیم ہوں گے ایسا کہ ہر مرد کو ہر عورت کا دگنا حصہ ملے یعنی پڑپوتا چونکہ مرد ہے اس لئے ان کو دو عورتوں کا حصّہ دیا جائے گا باقی تین عورتیں ہیں ۔
        ان کے ساتھ ملا کر گویا کہ کل پانچ عورتیں ہوگںیپ ۔
        اب یہ باقی پانچ سہام ان پانچ عورتوں میں تقسیم کی جائیں تو ہر عورت کے حصّے میں ایک سہام آجاتا ہے ۔
        پڑپوتا چونکہ مرد ہے اس کو ان میں سے ہر ایک دگنا یعنی دو سہام دیے جائیں گے ۔پس پڑپوتے کو 2 سہام ، ہر پڑپوتی کو 1 اور پوتی کو بھی 1 سہام دیاجائے ۔
        چونکہ عبدالباسط کی تین بیٹیاں ہیں اور 16تین پر پورا پورا تقسیم نہیں ہوتا جبکہ عصبات کی مفروضہ عورتوں کی کل تعداد 5ہے
        لیکن ان کے لئے بھی 5سہام باقی ہیں اس لئے ہر عورت کو 1سہام ملے گا اس لئے 3اور 1کا ذو اضعاف اقل معلوم کیا جائے گا جو کہ 3ہے ۔
        قاعدہ نمبر 1)ج( کے مطابق
        ہر وارث کے سہام کو اس ذو اضعاف اقل سے ضرب دے کر ان کی اپنی اپنی تعداد پر تقسیم کیا تو اس طرح ہر بیٹی کا حصہ 3×16 3 =16 سہام ، بیوی کے =9
        سہام، عصبات میں ہر عورت کے 1×3 1 =3 سہام آئے ۔پس ہر پڑپوتی اور پوتی کو تو 3سہام ملیں گے جبکہ پڑپوتے کو اس کا دگنا یعنی 6 سہام ملیں گے۔

      • کوڈ نمبر5سے لے کر کوڈ نمبر 8 تک کے ورثاء

        یہ سب ایک ہی فرد پر مشتمل ہوتے ہیں ۔
        یہ ورثاء میت کے آباء اجداد ہیں ۔
        اگر میت کی نرینہ اولاد کوئی نہ ہو تو کوڈ نمبر5 سے لے کر 8 تک کے موجود ورثاء میں جس کا کو ڈ نمبر سب سے کم ہو تو سارا باقی مال اس کو ملے گا ۔
    • مثال نمبر5

        عبدالجلیل نے ماں ، ایک بیوی ،دادا اور پردادا چھوڑے ۔ ان میں کس کو کتنا حصہ ملے گا ؟
        عبدالجلیل کی ماں کو اولاد اخوہ اور باپ نہ ہونے کی وجہ سے 8سہام اور بیوی کو 6 سہام ملے جبکہ دادا ذوی الفروض میں محروم رہا کیونکہ میت کی کوئی اولاد موجود نہیں تھی۔
        ذوی الفروض کے سہام کا مجموعہ 14 ہے اس لئے باقی 10سہام عصبات کو ملیں گے۔
        عصبات میں دادا کا کوڈ نمبر 6 اور پردادا کا کوڈ نمبر 7 ہے۔
        چونکہ دادا کا کوڈ نمبر کم ہے اس لئے 10 کے 10سہام مرحوم کے دادا کو مل گئے۔

    • کوڈ نمبر9کے ورثاء

        یہ کوڈ نمبر میت کے حقیقی بہن بھائیوں پر مشتمل ہے ۔ کوڈ نمبر 8 تک کے ورثاء کی عدم موجودگی میں کوڈ نمبر9 مستحق کوڈ بن جاتا ہے ۔ اس کوڈ میں اگر صرف مرد ہوں یا صرف عورتیں ہوں تو باقی مال ان میں برابربرابر تقسیم کیا جائے اور اگر مرد اور عورتیں اکٹھی آجائیں پھر ان میں مردوں کو عورتوں کا دگنا حصہ دیا جائے گا ۔
        بالفاظ دیگر حقیقی بہن بھائیوں کا معاملہ میت کی پوتیوں ،پڑپوتیوں اور سکڑپوتیوں کی طرح نہیں کہ ان کو عصبات میں حصّہ لینے کے لئے کسی برابر کے مرد یا اپنے سے کم درجے کی مرد کی ضرورت ہواکیلی حقیقی بہنیں بھی عصبات میں حصّہ لے سکتی ہیں۔

    • کوڈ نمبر10 کے ورثاء

        یہ کوڈ نمبرمیت کے علاتی بہن بھائیوں پر مشتمل ہے ۔ کوڈ نمبر9 تک کے ورثاء کی عدم موجودگی میں کوڈ نمبر10 مستحق کوڈ بن جاتا ہے۔ اگر ذوی الفروض میں حقیقی بہنوں کی تعداد ایک سے زیادہ نہ ہو تو ا س میں اگر صرف مرد ہو ں یا صروف عورتیں ہوں تو باقی مال ان میں برابر برابر تقسیم کیا جائے اور اگر مرد اور عورتیں اکٹھی آجائیں توپھر ان میں مردوں کو عورتوں کا دگنا دیا جائے گا۔اگر ذوی الفروض میں حقیقی بہنوں کی تعداد ایک سے زائد ہو تو اس کوڈ میں علاتی بہنیں صرف اس وقت حصہ پاسکتی ہیں جب میت کا کوئی علاتی بھائی بھی موجود ہو ۔ بصورت دیگر علاتی بہنیں اس کوڈ میں محروم ہوجائیں گی اور کوڈ نمبر 11کا استحاق شروع ہوجائے گا۔اس صورت میں علاتی بہنوں کا معاملہ پوتیوں ،پوتیوں اور سکڑپوتیوں کی طرح ہوجاتا ہے۔

    • کوڈ نمبر 11 کے ورثاء

        یہ میت کے حقیقی بھتیجوں پر مشتمل ہے ۔ یہ اور اس سے اوپر کے تمام کوڈ مردوں کے ہیں اس لئے ان میں اگر ایک فرد ہو تو باقی سارا مال اس کا ورنہ سب میں باقی مال برابر برابر تقسیم کیا جائے گا ۔

    • باقی ورثاء کی تفصیل

        کوڈ نمبر 10کے بعد شجرہ عصبات میں ہر وارث کے دائیں طرف اس کےحقیقی بھائی کا اور اس کے بائیں طرف اس کے علاتی بھائی کا کوڈ ہوتا ہے جبکہ اس کے نیچے کی طرف اس کے بیٹے کا کوڈ ہوتا ہے ۔ مثلاًکوڈ نمبر 19کوڈ نمبر 5کا حقیقی بھائی اور کوڈ نمبر 20کوڈ نمبر 5کا علاتی بھائی ہے جبکہ کوڈ نمبر 21کوڈ نمبر 19کا بیٹا ہے۔اس شجرہ میں صرف چار پُشتوں تک کے ورثاء کو دکھایا گیا ہے لیکن اس کو حسب ضرورت مزید بڑھایا جاسکتا ہے ۔
        اس کا طریقہ یہ ہے کہ سکڑ دادا سے اوپر جہاں تک اجداد کا سلسلہ بڑھانا ہو تو بڑھائیں۔
        اس کے بعد ہر جد سے دونوں طرف افقی زنجیر دار خطوط کے ذریعے ان کے بھائیوں کے ساتھ شجرہ کے طریقے پر بڑھالیں پھر ان کے بھائیوں سے ان کی اولاد کی لڑیاں شجرہ کے طریقے پر بنائیں اور ترتیب وار جیسا کہ باقی شجرہ میں نمبر لگائے گئے ہیں لگاتے جائیں اس سے شجرہ جہاں تک کوئی بڑھانا چاہے تو بڑھاسکتا ہے ۔
        ترتیب کو بہتر رکھنے کے لئے یہ مفید ہوگا کہ شجرہ کے موجودہ نمبروں کو نئے نمبروں کی ترتیب کے مطابق رکھ لیں۔

      • مثال نمبر6

          عبدالحمید نے اپنے پیچھے ایک بیوی ، ماں، ایک حقیقی چچا اور دو علاتی بھتیجے چھوڑے۔ اس کی میراث میں ہر ایک کا کتنا حصہ بنے گا ؟

          بیوی کو 6 سہام ، ماں کو 8 سہام (کیونکہ میت کی اولاد اور اخوہ موجود نہیں نہ ہی اس کا باپ موجود ہے)دینے کے بعد 10سہام بچے۔ شجرہ عصبات میں حقیقی چچا کا کوڈ 31اور علاتی بھتیجے کا کوڈ 12 ہے پس علاتی بھتیجا مستحق کوڈ ہے اس لئے باقی 10سہام دو علاتی بھتیجوں میں برابر برابر تقسیم کیے جائیں گے یعنی ہر ایک کو 5 سہام ملیں گے۔ .

      • مثال نمبر7

          عبد الجبار نے اپنے پیچھے دو بیویاں، ماں ، 2 بیٹیاں اور 3 بیٹے چھوڑے ان میں اس کا ترکہ تقسیم کریں؟

          بیویوں کو 3 سہام اور ماں کو 4 سہام دینے کے بعد 17سہام بچتے ہیں ۔ بیٹیاں ذوی الفروض میں محروم تھیں کیونکہ بیٹے موجود ہیں ۔ اب ان باقی سہام کو ان بیٹیوں پر للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم کریں گے ان میں بیٹی کا حصّہ اگر 1 مانا گیا تو بٹے کے لئے 2فرض کرنا پڑے گا پس 3بیٹے 6بیٹیوں کے برابر مان کران میں 2بیٹیاں جب جمع کیں تو جواب 8آیا جو کہ ہمارے لئے یہاں مجموعہ ‘‘ب ’’کہلائے گا ۔ اب چونکہ 17آٹھ پر تقسیم نہیں ہوسکتا اس لئے ہر بیٹی کا حصّہ 17سہام مان کر ہر بیٹے کو اس کا دگنا یعنی 34دیا اور حسب قاعدہ بیویوں کو 24دیا کیونکہ ان کے گزشتہ سہام 3تھے ان کو 8سے ضرب دی ، ماں کے سہام 4تھے ان کو 8سے ضرب دی تو اس کا حصّہ 32آیا اور سب کے حصّوں کا مجموعہ پہلے 24 تھا اس کو بھی 8سے ضرب دی تو جواب 192آیا ۔ اب بیویاں 2ہیں اور ان دونوں کے لئے کل 24 حصّے ہیں چونکہ 24 دو پر قابل تقسیم ہے اسلئے ہر ایک کا حصّہ 12آیا ۔ پس 192میں ہر بیوی کے 12سہام ، ماں کے 32 ، ہر بیٹی کے 17اور ہر بیٹے کے 34سہام ہوئے ۔

  • قاعدہ نمبر 3(مسئلہ رد)

      اگر ذوی الفروض کے سہام کا مجموعہ 24 سے تو کم ہو لیکن ان باقی سہام کے لئے عصبات موجود نہ ہوں تو اس صورت میں ذوی الفروض نسبی پر ان باقی سہام کو ان کے موجودہ حصوں کے تناسب سے دیا جائے گا ۔
      اس کا آسان طریقہ درج ذیل ہے ۔
      الف ۔ اگر ذوی الفروض سببی موجود نہ ہوں تو ذوی الفروض نسبی کے سہام کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے مجموعے کو کل سہام مانتے ہوئے تمام ذوی الفروض میں ترکہ تقسیم کریں۔
      ب ۔ اگر ذوی الفروض سببی بھی موجود ہوں تو :
      -1ذوی الفروض نسبی کے سہام کا مجموعہ معلوم کرکے اس کو ’’ ن ‘‘ کہہ دیں ۔
      2 -ذوی الفروض سببی کے سہام کے مجموعے کو 24سے تفریق کرکے اس کے جواب کو ’’س‘‘ کہہ دیں۔
      -3 اب ’’ن ‘‘ کو ذوی الفروض سببی کے سہام سے اور ’’س ‘‘ کو سارے ذوی الفروض نسبی کے سہام سے ضرب دیں تو سب کے سہام ’’رد ‘‘ کے مطابق آجائیں گے ۔
      -4کل سہام کو 24سمجھ کر اس کو ’’ن‘‘سے ضرب دیں تو رد کے بعد کل سہام معلوم ہوجائیں گے۔

    • دوسرا طریقہ

        اگر ذوی الفروض سببی موجود ہوں تو :
        1۔ذوی الفروض نسبی کے حصص کی کسروں میں نسبت معلوم کریں اور ان کا نسبتی مجموعہ معلوم کریں۔
        -2اس نسبت مجموعے کو ذوی الفروض سببی کے کسر کے مخرج سے ضرب دیں اور حاصل ضرب میں ذوی الفروض سببی کا حصّہ معلوم کرکے اس سے اس کو تفریق کریں۔
        -3حاصل تفریق میں ذوی الفروض نسبی کے حصّوں میں نسبت کے مطابق تقسیم کریں۔

    • مثال نمبر8

        محمد زبیر نے ایک بیوی ، ماں او ر ایک بیٹی وارث چھوڑے ۔ اس کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ معلوم کریں ؟

        بیوی کو 3 ، ماں کو 4 اور بیٹی کو 12 سہام ملے ۔ مجموعہ 12+4+3= 19 سہام بنا جو 24سے کم ہے ۔ باقی 5 اکائیوں کے لئے عصبات موجود نہیں اس لئے ذوی الفروض نسبی یعنی ماں اور بیٹی پر انکار رد کرنا پڑے گا ۔ذوی الفروض نسبی کی اکائیوں کا مجموعہ 12+4=16ہے اور یہ ’’ن‘‘ ہے ۔ 24 سے بیوی کے 3سہام تفریق کئے تو جواب 21 آیا اور یہ ’’س ‘‘ ہے ۔ اب ذوی الفروض سببی کے سہام یعنی بیوی کے سہام کو تو’’ن‘‘ یعنی 16سے ضرب دی تو بیوی کے 48 سہام بنے۔ ماں اور بیٹی کے سہام کو ’’س‘‘ یعنی 21سے ضرب دی تو ماں کے 84 سہام اوربیٹی کے252 سہام بنے

    • دوسرا طریقہ

        ماں کو 1 6 ،بیٹی کو 1 2 اور بیوی کو 1 8 ملے گا۔ماں بیٹی ذوی الفروض نسبی ہیں اور ان کے حصّوں میں تناسب 1 2 : 1 6 ہے جو کہ 1:3کے مترادف ہے (کیونکہ دونوں کی کسروں کو ان کی ذو اضعاف اقل6سے ضرب دی) نسبتی مجموعہ (1+3=4)ہے۔اس کو بیوی (ذوی الفرض سببی)کی کسر 1 8 کی مخرج8سے ضرب دی تو جواب=32آیا۔یہ کل سہام بنے ۔ان میں بیوی کا حصّہ 32×1 8 =4 بنتا ہے ۔اس کو 32سے تفریق کیا تو جواب28آیا۔یہ ذوی الفروض نسبی کے کل سہام بنے ۔ان میں یعنی 28میں(1:3)کے مطابق ماں کو 28×1 4 =7 سہام ملے اور بیٹی کو 28×3 4 =21 سہام ملے۔

  • اختصار کا طریقہ

      اگر ورثاء کے سہام اگر ایسے ہوں کہ وہ کسی مشترک عدد پر تقسیم ہوسکتے ہوں یعنی اس کو مزید مختصر کرنا ممکن ہو یہ زیادہ مفید ہوگا ۔
      اس کو حاصل کرنے کے لئے تمام ورثاء کے سہام کو کسی ایسے چھوٹے سے چھوٹے عدد پر تقسیم کریں جس پر سب تقسیم ہوسکیں۔
      اور یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک سب بیک وقت اس تقسیم کنندہ عدد پر تقسیم ہوسکتے ہوں ۔
      مثال نمبر8 میں بیوی کے48 ، بیٹی کے252 اور ماں کے84 سہام بنتے ہیں جبکہ کل سہام 384 بنےجو کہ مکمل جواب ہے لیکن جیسا کہ اختصار کے طریقے میں بتایا گیا کہ اگر سارے سہام کسی عدد پر تقسیم ہوتا ہو تو سب کو اس پر تقسیم کرکے جواب کو مختصر کیا جاسکتا ہے۔جیسا کہ نیچے دیئے ہوئے عمل اختصار کے جدول سے پتہ چل رہا ہے سب کو پہلے2 پر تقسیم کیا ۔پھر حاصل قسمت کو2 پر تقسیم کیا پھر ان کے حاصل قسمت کو 3پر تقسیم کیا ۔پھر سب کے سب کسی عدد پر تقسیم کے قابل نہ رہے اس لئے مختصر جواب یہ آیا کہ بیوی ماں اور بیٹی کو سہام ملے جبکہ سب کا مجموعہ 32سہام بنا۔یہی مختصر ترین جواب ہے اور دوسرے طریقے کی جواب کی طرح ہے۔

  • اکائی کاقاعدہ
    • جب ہر وارث کے سہام معلوم ہوجائیں تو اب کل مال قابل تقسیم ترکہ میں ہر ایک کا حصہ مشکل نہیں ۔ اس کے لئے اکائی کا قاعدہ استعمال کیا جاسکتا ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر وارث کے جتنے سہام بنتے ہیں اس کو کل سہام کے مجموعے پر تقسیم کرکے کل قابل تقسیم ترکہ سے ضرب دیں۔
      مثلاً مثال نمبر 7 میں محمد زبیر کی ماں کے 7 سہام ، بیٹی کے 21 سہام اور بیوی کے4سہام بنتے ہیں ۔ ان سب کا مجموعہ 32ہے پس اگر محمد زبیر کا کل سرمایہ 64000 روپے ہو اور کل سہام 32ہوں تو فی سہام 2000 روپے آتے ہیں پس اس کی ماں کے 7سہام کے 14000 ، بیٹی کے 21سہام کے 42000 ، اور بیوی کے4سہام کے 8000روپے ہوں گے۔ معروف طریقہ یہ ہے کہ ماں کے لئے اس کے 7سہام کو 32سہام پر تقسیم کرکے 64000سے ضرب دیں تو بیوی کا حصّہ رقم میں نکل آئے گا ۔اسی طرح باقی ورثاء کے لئے بھی کریں ۔
  • سوال کو حل کرنے کا مختصر طریقہ

      پہلی سطر میں کل سہام 24لکھیں ۔ ساتھ ہی اگر معلوم ہو تو ترکہ کی مقدار بھی لکھیں۔
      دوسری سطر میں ورثاء کے نام لکھیں۔
      تیسری سطر میں ہر وارث کی تعداد لکھیں ۔
      چوتھے سطر میں 24سہام میں ہر ایک وارث کے جتنے سہام جدول نمبر ۱ کے مطابق بنتے ہیں لکھیں۔
      جو ورثاء اس جدول کے مطابق بالکل محروم ہوتے ہیں ان کے نام کے نیچے چوتھی سطر میں ’’م‘‘ لکھیں
      اور جو ورثاء ذوی الفروض میں حصہ لینے سے تو محروم ہوتے ہیں لیکن عصبات میں وہ مستحق بن سکتے ہیں ان کے ناموں کے نیچے ’’ ع ‘‘ لکھیں ۔ اب جو “ ذوی الفروض کے جدول “سے حصّہ پاچکے ہیں ان کے حاصل کردہ سہام کا مجموعہ لکھیں ۔
      ۰۰ اگر یہ مجموعہ الف 24ہے یا 24سے زیادہ ہے توقاعدہ نمبر1کے مطابق سوال حل کریں ۔
      ۰۰۰ اگر یہ مجموعہ الف 24سے کم ہے اور ورثاء میں کوئی یا کئی ایسے ہیں جن کے نیچے ’’ ع‘‘ لکھا ہوا ہے توقاعدہ نمبر 2کا استعمال کریں۔
      ۔۔۔۔ اگر اعصبات میں کوئی بھی نہ ہو تو مولیٰ عتاقہ کو اور یہ وہ شخص ہوتا ہے جس نے میت کو آزاد کیا ہو اگر وہ نہ ہو تو مولیٰ عتاقہ کے مرد عصبات کو باقی مال ملے گا ۔
      ۔۔۔۔۔ وہ بھی نہ ہوں یا میت کبھی غلام رہا ہی نہ ہو تو بقیہ مال کو بھی ذوی الفروض نسبیہ پر رد کیا جائے گا جس کے لئے رد کا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔امام احمد بن حنبل ؒ کے نزدیک رد کے طریقہ کے لئے اختلافیات کا باب دیکھیں۔
      ۔۔۔۔۔۔ اگر ذوی الفروض نسبی نہ ہو تو باقی مال ذوی الارحام کو ملے گا۔وہ بھی نہ ہوں توپھر مولیٰ الموالاۃ کو دیا جائے گا ورنہ مقرلہ بالنسب علی الغیر کواور وہ نہ ہو تو اس شخص کو دیا جائے گا جس کے لئے میت نے سارے مال کی وصیت کی ہے ۔ اگر مندرجہ بالا میں سے کوئی بھی نہ ملے تو باقی مال بیت المال کا ہوگا ۔
      ۰۰۰۰ ۰ ا گر ترکہ معلوم ہو تو اکائی کے قاعدے سے ہر وارث کا حصّہ کل ترکہ میں ایسا معلوم کیاجاسکتا ہے کہ اس کے سہام کو کل سہام پر تقسیم کرکے کل ترکہ سے ضرب دیں ۔ اس کے لئے کیلکولیٹر کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

  • فتویٰ لکھنے کا طریقہ

      ورثاء میں شریعت کے مطابق ترکہ تقسیم کرنے کے بعد فتویٰ ایسا لکھا جائے کہ اس میں کوئی ابہام نہ رہے جس کے لئے ترکے کا تعین ضروری ہے اس لئے اس سے پہلے یہ لکھا جائے کہ میت کے کل ترکہ سے ٍبغیر اسراف کے تجہیز و تکفین کا خرچ اور اس پر واجب الادا قرض کو ادا کرنے کے بعد جو باقی بچے اس سے اس کے تہائی میں میت کی وصیت اگر اس نے کی ہے کا اجراء کیا جائے
      اس کے بعد جو باقی بچے اس کے ( کل سہام )حصّے کیئے جائیں ان میں ہر وارث کے جتنے جتنے سہام بنتے ہیں وہ لکھا جائے ۔ اوپر دیئے ہوئے بریکٹ میں کل سہام لکھے جائیں ۔

  • استفتاء

      کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ نظام الدین نے ایک بیوی ، دو بیٹیاں اور پانچ بھائی چھوڑے ہیں ان میں ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ۔
      ایک بیوی کو 3، دو بیٹیوں کو 16 دینے کے بعد 5سہام باقی بچے جو کہ پانچ بھائیوں میں بطور عصبہ تقسیم کئے جائیں گے۔
      فتویٰ یوں لکھا جائے گا ۔ ’’میت کے کل ترکہ سے ٍبغیر اسراف کے تجہیز و تکفین کا خرچ اور اس پر واجب الادا قرض کو ادا کرنے کے بعد جو باقی بچے اس سے اس کے تہائی میں میت کی وصیت اگر اس نے کی ہے کا اجراء کیا جائے اس کے بعد جو باقی بچے اس کے24 حصّے کیئے جائیں ان میں بیوی کو 3، ہر بیٹی کو 8 اور ہر بھائی کو 1حصّہ دیا جائے ۔‘‘
      دستخط مفتی

  • ضروری گزارش

      جیسا کہ فتویٰ میں ذکر آگیا مفتی کا کام صرف ورثاء کے سہام معلوم کرنا نہیں بلکہ ترکہ کا تعین بھی کرنا ہے ۔ اس لئے مفتی کو نہ صرف وصیت ، قرض ،تجہیز و تکفین کے مسائل کا جاننا ضروری ہے بلکہ اس کو معاملات کے مسائل کا استحضار لازم ہے ورنہ عین ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز ورثاء میں تقسیم کروادے جو میت کا ترکہ نہ ہو بلکہ کسی اور کا ہو اس لئے بعض حضرات جو صرف میراث کا حساب چند گھنٹوں میں سمجھا کر مفتی میراث کی سند دیتے ہیں ،مستحسن نہیں ۔
      مفتی میراث بننے کے لئے معاملات کے مسائل سے واقف ہونا از حد ضروری ہے ۔وکلاء سے بھی اس کی درخواست کی جاتی ہے کہ وہ میراث کے معاملے میں مستند مفتیان کرام سے رابطہ رکھیں تاکہ ان سے کوئی غلطی نہ ہوجائے ۔
      میراث کے حساب کے بارے میں البتہ یہ تاثر دور کرنا کہ یہ ایک مشکل فن ہے ، مستحسن ہے اس کی قدر کرنی چاہیئے اللہ تعالی ٰایسا کرنے والوں کو اس سعی کا اجر عظیم نصیب فرمائے ۔

  • کمپیوٹر کے ذریعے میراث کے حصص نکالنا

      اللہ تعالیٰ کے فضل سے بندہ نے ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام تیار کیا ہے جس کے ذریعے دو منٹ میں ہر قسم کے میراث کے مسئلے میں حصص نکالے جا سکتے ہیں۔
      اس کا طریقہ بہت آسان ہے اور ایک میٹرک پاس طالبعلم بھی اس کو صرف پانچ دس منٹ میں سیکھ سکتا ہے ۔ پروگرام چلانے کے بعد سکرین پر آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ کس امام کے طریقے میراث کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ آپ کتنی رقم تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
      پھر آپ New Problemکا جب checkکریں گے تو ذوی الفروض کا چارٹ آجاتا ہے جس میں تمام ممکن ذوی الفروض کے ورثاء دیئے ہوتے ہیں ۔جن کی تعداد ایک سے زیادہ ہوسکتی ہے اس میں ان کے سامنے تعداد کی ڈبّہ میں تعداد لکھنی ہوتی ہے ۔اور جن کی تعداد ایک سے زیادہ ممکن نہ ہو ان کو صرف Check کرنا ہوتا ہے ۔اس کے بعد Enterدبائیں ۔اگر سوال دیئے ہوئے معلومات کے مطابق حل ہوسکتا ہو تو جواب آجائے گا۔نہیں تو عصبات کا چارٹ سامنے آجائے گا ۔اس صورت میں موجود عصبات میں جس کا کوڈ نمبر کم سے کم ہی اس کا کوڈ نمبر دے دیں اور اگر عصبات موجود ہی نہیں تو پھر عصبات موجود نہیں کو Click کریں۔اس کے بعد اگر سوال حل ہوا تو فبھا ورنہ ذوی الارحام کی سکرین آجائے گی۔اس میں بھی آپ سے پہلے یہ پوچھا جائے گا کہ مسٔلہ کس امام کے طریقے پر حل کرنا ہے ۔امام ابو یوسف ؒ کے طریقے پر یا امام محمد ؒ کے طریقے پر۔اس کا جواب دے دیں۔ اس کے بعد جس طرح آپ سے پوچھا جائے گا اس طرح جواب دیتے جائیں ۔انشاءاللہ آپ کو صحیح جواب مل جائے گا۔ اس پروگرام کے ذریعے مناسخے کے سوال بھی حل کئے جاسکتے ہیں۔اس کے لئے پہلے سے مناسخہ کا طریقہ منتخب کریں گے ۔

  • تصحیح کا طریقہ

      اس کا طریقہ یہ ہے کہ جن جن ورثاء کو جتنے جتنے سہام ملے ہیں وہ ان کی اپنی اپنی تعداد پر تقسیم کرتے جائیں تاکہ فی کس سہام معلوم ہوں ۔ اس میں دو صورتیں ہوسکتی ہیں
      الف۔اگرسارے ورثاء کے سہام ان کی اپنی اپنی تعداد پر پورے پورے تقسیم ہوسکتے ہیں اس صورت میں تو ہر وارث کے سہام اس کی تعداد پر تقسیم کرلیں مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ۔
      ب۔اگرکسی وارث کے سہام اس کی تعداد پر پورے پورے تقسیم نہیں ہو سکتے توجن جن ورثاء کا فی کس حصّہ کسر میں آرہا ہے ان کسور کا ذو اضعاف اقل معلوم کریں ۔پھر ہر وارث کے سہام اور کل مجموعے کو اس ذو اضعاف اقل سے ضرب دیں ۔ہر وارث کے لیئے نئے سہام اور ان کا نیا مجموعہ حاصل ہو جائے گا ۔ کیلکولیٹر کی موجودگی میں گو کہ مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کیلکولیٹر کے لئے بڑا عدد اور چھوٹا عد د یکساں ہے لیکن بعض حضرات کی نازک طبع پر یہ گراںگزرتا ہے ا س لیئے مختصرکرنے کے لیئے ان کو چاہیئے کہ ورثاء کے سہام کوعمل اختصار کے ذریعے مختصر کریں اور وہ یوں کہ ان کو کسی چھوٹے سے چھوٹے عدد جس پر سب سہام تقسیم ہوسکیں تقسیم کریں اور ایسا اس وقت تک کرتے جائیں جب مزید ان کو بیک وقت کسی عدد پر تقسیم نہ کیا جاسکتا ہو۔
      سراجی کے تصحیح کے باب کے نو مسئلوں کو اب اس طریقے سے حل کیا جاتا ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ تصحیح کے لئےعلیحدہ علیحدہ قاعدے ذہن نشین کرنے کی بجائے یہی ایک مذکورہ قاعدہ ہی سب کے لئے کافی ہے ۔

    • مثال نمبر 1

        پہلی شکل میں بیٹیوں کے سہام 2پر پورے پورے تقسیم ہورہے ہیں اسلئے مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں تاہم اختصار کے کے لئے تمام سہام کو دو دفعہ 2پرتقسیم کیا اس کے بعد کسی عدد پرتمام سہام تقسیم نہیں ہو سکے اس لئے یہی جواب ہے۔کل سہام بھی 2دفعہ 2پر تقسیم ہونے سے 6رہ گئے۔

    • مثال نمبر 2

        دوسری شکل میں چونکہ 16 10 کسر ہے اس لئے اس کے ذو اضعاف اقل 10سے سب کے سہام کو ضرب دی اور 24کو بھی 10 سے ضرب دی پس 240سہام میں ہر بیٹی کا حصّہ 16،ماں کا 40 ، اور باپ کا40سہام حصّہ آیا۔ اختصار کیلئے سب کے سہام کو 8پر تقسیم کیااور 240 کو بھی 8پر تقسیم کیا پس 30سہام میں فی کس سہام معلوم ہوئے ۔

    • مثال نمبر 3

        اس میں مجموعہ 30ہے جو 24سے زیادہ ہے اور بیٹیوں کے فی کس حصّے میں کسر آرہا ہے ۔ اس کو بھی حل کرنے کے لئے مسئلہ 2کا طریقہ کافی ہے ۔ جب مجموعہ 24سے زیادہ ہو تو اس کو عول کہتے ہیں ۔ ثابت ہوا کہ عول کی صورت میں بھی تصحیح کا طریقہ تبدیل نہیں ہوتا۔

    • مثال نمبر 4

        ماں باپ کے ساتھ 5بیٹیاں ہیں ۔
        اس کا حل بھی مثال نمبر 2کی طرح ہے بس یہاں بیٹیوں کی تعداد 10کی بجائے 5ہے پس ماں باپ کے لئے چار چار سہام رکھ کر بیٹیوں کو 16سہام جب دے دیئے تو مجموعہ 24ہی آیا اس لئے جواب یہی ہے البتہ ہر بیٹی کا فی کس حصّہ 16 5 کسر میں آتا ہے جو کہ واحد کسر ہے اس لئے اس کا ذو اضعاف اقل معلوم کیا تو وہ 5ہی ہے اس سے سب کے سہام کو ضرب دے کر ان کی اپنی اپنی تعدادوں پر تقسیم کیا تو والدین میں ہر ایک کے 20 اور ہر بیٹی کے 16سہام ہوئے۔آگے صرف عمل اختصار ہے ۔

    • مثال نمبر 5

        اس میں خاوند کے ساتھ 5حقیقی بہنیں ہیں ۔ میت کی اولاد نہیں اس لئے خاوند کو 12سہام دیئے اور حقیقی بہنوں کو 16سہام۔اب چونکہ ہر حقیقی بہن کا حصّہ 16 5 کسر میں آرہا ہے اس لئے اس کی ذواضعاف اقل 5سے خاوند اور حقیقی بہنوں کے سہام نیز مجموعہ 28 کو ضرب دی تو کل 140سہام میں خاوند کے 60 اور ہر حقیقی بہن کے 16سہام ہوگئے۔ عمل اختصار سے خاوند کے 15اور ہر حقیقی بہن کے 4سہام ہوگئے جبکہ کل سہام 35رہ گئے۔

    • مثال نمبر 6

        ہر کسی کے سہام میں کسر آرہا ہے۔ان کسور کا ذو اضعا ف اقل 6ہے ۔اس سے ان سارے کسور کو ضرب دی تو ان کا فی کس حصّہ معلوم ہوا پس ہر بیٹی کے 16، ہر جدہ کے 8اور ہر چچا کے 8سہام آئے ۔ اختصار کے بعد 18سہام میں ہر بیٹی کے 2، ہر جدہ کے 1اور ہر چچا کے 1سہام آیا۔

    • مثال نمبر 7

        ہر وارث کا فی کس حصّہ کسر میں آرہا ہے اور ان کسور کا ذواضعاف اقل 12ہے ۔ہر وارث کے فی کس حصّے کو اور مجموعہ 24کو اس ذو اضعاف اقل سے ضرب دی تو 288سہام میں ہر بیوی کا حصّہ 18، ہرجدہ کا حصّہ 16اور ہر چچا کا حصّہ 14سہام آیا ۔ اختصار کے بعد 144سہام میں ہر بیوی کو 9، ہر جدہ کو 8 اور ہر چچا کو 7سہام ملے۔

    • مثال نمبر 8

        کسور کا ذو اضعاف اقل 180ہے ۔ ہر وارث کے فی کس سہام اور کل مجموعہ 24کو ان کسور کے ذو اضعاف اقل سے ضرب دی تو4320سہام میں ہر بیوی کا حصّہ 135سہام ، ہر بیٹی کا 160 سہام ، ہر جدہ کا 48 سہام اور چچا کا 30سہام آیا جو ان کے حصّوں کی تصحیح ہے۔

    • مثال نمبر 9

        کسورکا ذو اضعاف اقل 210ہے ۔ ان کسور اور کل مجموعہ 24کو اس سے ضرب دی تو 5040سہام میں ہر بیوی کا حصّہ 315سہام ، ہر جدہ کا حصّہ 140سہام ، ہر بیٹی کا حصّہ 336سہام اور چچا کا حصّہ 30 سہام آیا ۔

    • مثال نمبر 10

        عصبات کے لئے 13سہام باقی بچے ۔عصبات میں 3بیٹے اور 4بیٹیاں ہیں ۔ 3بیٹے 6بیٹیوں کے برابر ہیں اس لئے کل 10بیٹیاں ہوگئیں اور ان کے لئے 13سہام ہیں تو یہ مسئلہ نمبر 1 کی طرح ہوگیا پس واحد کسر 13 10 کے ذو اضعاف اقل 10سے مجموعے اور سب کے فی کس حصّے کو ضرب دی تو سب کا 240 میں فی کس حصّہ معلوم ہوا ۔

    • پرانے اور جدید طریقے کا تقابل

        پرانے قاعدے اور جدید طریقے میں تقابل سے یہ سمجھ میں آیا کہ جدید طریقے میں توافق،تباین ، تماثل اور تداخل کا متبادل ذو اضعاف اقل ہے یہی قدیم طریقے کا مضروب مسئلہ ہے جبکہ روؤس کو تعداد کہا گیا ہے تاکہ عام لوگ اس کو سمجھ سکیں ۔ ذو اضعاف اقل کا سمجھنا بہت آسان ہے اس لئے اس کی مشق کرکے توافق تماثل تباین تداخل کی پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے جو ایک نووارد طالبعلم کے لئے ایک سنگ گراں سے کم نہیں اور غالباً یہی وہ مقام ہے جہاں میراث کا طالبعلم اپنے آپ کو اس علم کے قابل نہ پاکر اس کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
        جدید طریقے میں چونکہ ہر مسئلہ 24(تمام قرآنی مسئلوں کا ذو اضعاف اقل)سے بنایا جاتا ہے ہے اس لئے اگر مسئلہ 24سے کم ہو اور ہم اس کو 24سے بنائیں تو اس کا جواب لازماً اتنے گنا بڑا ہونا چاہیئے جتنے گنا 24اس مسئلہ سے بڑا ہے جس کی تلافی عمل اختصار سے ہوجاتی ہے۔ سوال اب یہ کیا جاسکتا ہے کہ آخر 24سے مسئلہ بنانے کا پھر تکلف کیوں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ 24سے مسئلہ بنانے میں یہ آسانی ہے کہ ہر سوال کے لئے الگ مسئلہ نہیں بنانا پڑتا بلکہ ہر مسئلہ پہلے سے 24سے فرض کرلیا جاتا ہے اس لئے اختصار کے ساتھ جو مزید مشقت ہے اس کی جگہ مسئلہ بنانے کی مشقت سے بچت ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے جو عول اور رد میں سہولت ہے وہ اس پر مستزاد ہے۔ اصل میں جس فن میں قوانین جتنے کم ہوں اتنا ہی وہ فن آسان ہوتا ہے۔اس لئے اس میں بھی کوشش یہ کی گئی ہے کہ قوانین کم سے کم ہوں تاکہ ایک نئے طالبعلم کو اس فن کے سمجھنے میں دقت نہ ہو۔
        اگر کوئی مسئلہ 24سے نہیں بنانا چاہتا بلکہ پرانے طریقے سے مسئلہ بنانا چاہتا ہے تو وہ بھی ٹھیک ہے اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے جو جو ذوی الفروض ہیں ان کے حصوّ ں کا کسر معلوم کریں ۔پھر ان کسروں کے لیئے ذواضعاف اقل معلوم کریں وہی مسئلہ ہوگا ۔ اب ہر ذوی الفروض کے کسر کے مطابق اصل مسئلہ سے سہام نکالیں ۔ اگر تمام ذوی الفروض کے سہام کا مجموعہ اصل مسئلہ کے برابر یا اس سے زیادہ ہوا تو اگر سب کی تعداد ایک ایک ہے تو جواب یہی ٹھیک ہے ورنہ پھر کسور کا ذو اضعاف اقل معلوم کرکے اس کے ساتھ سب کے فی کس سہام کو ضرب دیں تو یہی تصحیح ہوگی اور اگر مجموعہ اصل مسئلہ سے کم ہے لیکن عصبات موجود ہیں تو مابقی سہام عصبات کو عصبات کے طریقہ پر دے دیں ۔للذکر مثل حظ الانثیین کی صورت میں سب کو نساء بنا کر ان کے ساتھ ذوی الفروض والا معاملہ کرکے ایک عورت کا حصّہ معلوم کریں جس کا دگنا مرد کو دے دیں۔مثلاً ورثاء میں ماں باپ اور بیوی ہوں تو ماں کاحصّہ 1 6 ، باپ کا 1 6 اور بیوی کا 1 4 ہے ۔ ان کسور کا ذواضعاف اقل 12ہے اس لئے مسئلہ 12سے ہے۔پس ماں کو اس کا 1 6 یعنی 2 سہام ، باپ کو بھی 2سہام اور بیوی کا 1 4
        یعنی 3سہام ہے پس ان کا مجموعہ 7سہام ہوا ۔باقی5 سہام رہ گئے وہ پانچوں باپ کو بطور عصبہ دے دیئے پس اس کے کل 7سہام ہوگئے۔اس طرح ماں باپ اور دو بیٹیاں ہوں توماں کا
        1 6 ،باپ کا 1 6 اور بیٹیوں کا 2 3 ہے ۔ ان کسور کا ذو اضعاف اقل 6ہے اس لئے باپ کو اس کا 1 6 یعنی 1 ،ماں کو بھی1اور بیٹیوں کو اس کا 2 3 یعنی 4سہام دیئے گئے ۔ان کا مجموعہ 6 اصل مسئلہ کے برابر ہے پس یہی جواب ہے نیز ہر بیٹی کو 4 2 =2 سہام ملیں گے ۔

    • مثال نمبر 11

        ماں باپ اور 10بیٹیوں میں ماں باپ کو, 1 6 1 6 اور10بیٹیوں کو 2 3
        حصّہ ملے گا۔ ان کا ذو اضعاف اقل 6 ہی ہے ۔اس میں ماں کو 1،باپ کو 1اور بیٹیوں کو 4 سہام ملے لیکن فی کس حصّہ میں ہر بیٹی کے
        4 10
        سہام آئے اس لیئے تصحیح کرنی پڑے گی ۔تصحیح کے لئے فی کس حصّہ کوکسورکے ذو اضعاف اقل یعنی 10 سے ضرب دی تو ماں کے 10،باپ کے 10اور ہر بیٹی کے 4سہام ہوگئے ۔مجموعہ بھی اب 6x10=60ہوگیا۔

    • مثال نمبر 12

        خاوند اور 5حقیقی بہنوں میں خاوند کا حصّہ 1 1 2 اور5حقیقی بہنوں کا 2 2 3
        ہوگا۔ ان کا ذو اضعاف اقل چونکہ 6ہے اس لئے یہی اصل مسئلہ ہے جس میں خاوند کو 3اور حقیقی بہنوں کو 4سہام ملے ۔ان کا مجموعہ 7ہے جو کہ اصل مسئلہ 6سے زیادہ ہے اسلیئے عول ہے اور یہی جواب ہے لیکن ہر بہن کا حصّہ
        4 5
        چونکہ کسر ہے اس لئے تصحیح کرنی پڑے گی ۔فی کس حصّے کو اس کسر کے ذو اضعاف اقل 5 سے ضرب دی تو خاوند کو 15 اور ہر حقیقی بہن کو 4سہام مل جائیں گے ۔

    • مثال نمبر 13

        ماں، باپ، 4 بیٹوں اور 3 بیٹیوں میں ماں، باپ کو 1 6 , 1 6 حصّہ ملااور بیٹے بیٹیاں عصبات ہیں ۔ اصل مسئلہ 6 سے ہوا جس میں ماں، باپ کو 1، 1سہام ملا جن کا مجموعہ 2ہے جو کہ اصل مسئلہ 6سے کم ہے اس لئے باقی عصبات کو دیں گے۔ 4بیٹے اور 3بیٹیاں 11بیٹیوں کے برابر ہیں اس لئے باقی 4 سہام ان میں برابر برابرتقسیم کریں گے۔ پس ہر بیٹی کا حصّہ 4 11 ہو ا جو کہ کسر ہے اس لئے تصحیح کرنی پڑے گی پس فی کس حصّے کو اس کسر کے ذو اضعاف اقل 11سے ضرب دی تو ماں ،باپ کو 11، 11اور ہر بیٹی کو 4سہام ملے ۔ ہر بیٹے کو اس کا دگنا یعنی 8 سہام ملے۔

    • مثال نمبر 14

        بیوی، حقیقی بہن اور ماں میں بیوی کو 1 4 ، حقیقی بہن کو 1 2 اور ماں کو 1 6 حصّہ ملا۔ ان کسور کا ذو اضعاف اقل 12ہے جو کہ اصل مسئلہ ہے جس میں بیوی کو 3، حقیقی بہن کو 6اور ماں کو 2 سہام ملے ۔ چونکہ ان کا مجموعہ 11ہے جو کہ 12سے کم ہے اس لئے باقی 1 سہام حقیقی بہن اور ماں پر رد کرنا پڑے گا۔اس میں
        ’’ن‘‘ =6+2=8سہام اور ’’س‘‘=12-3=9سہام ۔پس ماں کا حصّہ=’’س‘‘x2=9x2=18سہام ،
        حقیقی بہن کاحصّہ=’’س‘‘x6=9x6=54سہام اور بیوی کا حصّہ =’’ن‘‘x3=8x3=24سہام ۔
        کل سہام=12x8=96۔ پتہ چلا کہ ذو اضعاف اقل سے جدید و قدیم دونوں طریقے آسان ہوجاتے ہیں )اس کا تعارف کیلئے “حساب کا تعارف” دیکھئے ۔

      • دوسرا طریقہ

          حقیقی بہن اور ماں جو ذوی الفروض نسبی ہیں ان کی حصّوں میں نسبت
          1 2 : 1 6 = 1 3 ہے۔نسبتی مجموعہ اس لئے (1+3=4) ہوگیا۔اس کو بیوی کے حصّے 1 4 کے مخرج 4کو نسبتی مجموعے 4سے ضرب دی تو یہ 16ہوگیا۔16سے بیوی کا حصّہ 16کا 1 4 یعنی 4تفریق کیا تو باقی12رہ گیا۔12 کو 1:3کے ساتھ تقسیم کیا تو ماں کا حصّہ3اور حقیقی بہن کا حصّہ9آگیا ۔اس لئے 16میں بیوی کا حصّہ4،ماں کا 3اور حقیقی بہن کا 9ہوگیا اور یہی رد ہے۔

  • اصولی مشقی سوالات

      ان سوالات کو حل کرنے سے انشاء اللہ اصولوں کی مشق ہوجائے گی

    • سوال نمبر 1

        ماں باپ اور بیٹا

        عصبات میں نرینہ اولاد کا نمبر باپ سے پہلے ہے اس لئے نرینہ اولاد موجود ہو تو باپ کو صرف ذوی الفروض میں حصّہ مل سکتا ہے ۔

    • سوال نمبر 2

        باپ ،بیٹیاں اور بیوی

        اگر میت کی صرف زنانہ اولاد موجود ہو تو باپ کو نہ صرف ذوی الفروض میں حصّہ ملتا ہے بلکہ عصبات میں بھی بچے ہوئے سہام کو حاصل کرتا ہے ۔

    • سوال نمبر 3

        باپ ، ماں اور بیوی

        اگر میت کی صرف والدین اور بیوی ہوں تو باپ صرف عصبہ کے طور پر ہی حصّہ پاسکتا ہے کیونکہ ذوی الفروض میں حصّہ لینے کے لئے میت کا صاحب اولاد ہونا ضروری ہے ۔ والدین کی موجودگی میں اور اولاد و اخوہ کی عدم موجودگی میں ماں کوچوتھائی ملتا ہے۔

    • سوال نمبر 4

        جد باپ کا قائمقام ہے ۔ نرینہ اولاد کی موجودگی میں جد کو صرف ذوی الفروض میں حصّہ مل سکتا ہے جبکہ نرینہ اولاد نہ ہو تو پھر جد کو عصبہ کے طور پر بھی حصّہ مل سکتا ہے۔بیوی کے ساتھ ماں اور جد ہوںتو جد کو باپ کی طرح حصّہ تو عصبہ کے طور پر ہی ملے گا کیونکہ میت کی اولاد نہیں لیکن ماں کا حصّہ جد کی موجودگی کی وجہ سے متاثر نہیں ہوگا بلکہ وہ ثلث ہی رہے گا ۔ اس طرح میت کے خاوند کے ساتھ بھی جد کی موجودگی ماں کے حصّے پر اثر انداز نہیں ہوگی یعنی ماں کو 1 3 ملے گا یعنی ماں کے حصّے پر اثر انداز ہونے میں جد باپ کی طرح نہیں ہے۔ (ماں،جد اور بیٹا)
        (بیوی،جد اوردو بیٹیاں)
        (بیوی،جد اور ماں )

    • سوال نمبر 5

        زنانہ اولاد کی موجود گی میں باپ اور جد ذوی الفروض اور عصبات دونوں میں حصّہ پاسکتے ہیں ۔دادی باپ کی موجودگی میں محروم ہوتی ہے کیونکہ باپ دادی کے لئے واسطہ ہے لیکن جد دادی کے لئے واسطہ نہیں اس لئے جد کی موجودگی دادی کو محروم نہیں کررہی ہے

    • سوال نمبر 6

        تینوں عصبات ہیں لیکن جد حقیقی اور علاتی بھائیوں کے مقابلے میں میت کے زیادہ قریب ہے یعنی اس کا کوڈ نمبر کم ہے اس لئیے واحد وارث ہے۔

    • سوال نمبر 7

        بیٹیاں چونکہ ذوی الفروض میں حصّہ لے چکی ہیں اس لئے وہ عصبات میں محروم ہیں ۔ پوتی ذوی الفروض میں محروم ہے اس لئے عصبات میں حصّہ لینے کی اہل تھی لیکن مسئلہ تشبیب نے اس کو نا اہل بنادیا کیونکہ اس کے رو سے اس کے ساتھ کوئی ایک پوتا ، پڑپوتا سکڑپوتا وغیرہ بھی ہونا چاہیئے جو کہ نہیں ہے ۔بعد اذاں حقیقی بہنوں نے کوڈ نمبر10 کے مطابق بطور عصبہ حصّہ پالیا ۔

    • سوال نمبر 8

        پڑپوتیوں کو تکملہ للثلیین کے طورپر 24میں 4سہام مل گئے ۔ سب کا مجموعہ 20آیا جو کہ24سے کم ہے لیکن باقی سہام لینے کے لیئے عصبات موجود نہیں۔سکڑپوتیوں کو مسئلہ تشبیب نے کچھ لینے نہیں دیا پس پوتی پڑپوتیوں اور ماں پر باقی 4کو بھی رد کریں گے ۔ چونکہ ذوی الفروض سببی موجود نہیں اس لئے قاعدہ نمبر -3الف کے مطابق موجود ذوی الفروض کے سہام 20 کو کل سہام فرض کرکے پوتی کو 12 ، پڑپوتیوں کو 4اور ماں کو 4 سہام دے کر ان کی تصحیح کی جس سے60میں پوتی کو 36، ہر پڑپوتی کو 4اور ماں کو 12سہام دیئے گئے جس سے اختصار کے بعد 15میں پوتی کو 9، ماں کو 3اور ہر پڑپوتی کو 1سہام دیئے گئے ۔

    • سوال نمبر 9

        حقیقی بہنیں دو ہیں اس لئے ان کو ذوی الفروض میں 16سہام ملے اور اخیافی بہن کو 1ہونے کی وجہ سے 4ملے جبکہ علاتی بہن کو حقیقی بہنیں دو ہونے کی وجہ سے کچھ نہ ملا کیونکہ اس کے ساتھ کوئی علاتی بھائی نہیں تھا جو اس صورت میں اس کو اپنے ساتھ عصبہ مع الغیر بناتے ۔ ذوی الفروض کے کل سہام اگر چہ 24نہ ہو سکے لیکن عصبات موجود نہ ہونے کی وجہ سے لامحالہ حقیقی بہنوں اور اخیافی بہن پر باقی 4سہام رد کرنے پڑے ۔چونکہ ذوی الفروض سببی موجود نہیں اس لئے قاعدہ نمبر -3الف کے مطابق ان 20سہام کو ہی کل سہام قرار دینا پڑا جس میں حقیقی بہنوں کے 16اور اخیافی بہن کے4سہام بنے ۔ اختصار کے بعد 5سہام میں حقیقی بہنوں کو 4اور اخیافی بہن کو 1سہام دے دیاجس میں ہر حقیقی بہن کے حصّہ میں 2سہام آئے ۔

    • سوال نمبر 10

        احناف کے نزدیک دادا کی ماں دادا کی موجودگی کی وجہ سے محروم ہے کیونکہ دادا اس کے لئے واسطہ ہے ۔ نانی کی نانی اور دادا کی نانی دادا کی ماں کی موجودگی میں محروم ہیں کیونکہ دادا کی ماں دوسری پشت کی جدہ ہے جبکہ دادا کی نانی اور نانی کی نانی تیسری پشت کی جدات ہیں اور الاقرب فالاقرب کے قاعدے سے اقرب جدات ابعد جدات کو محروم کرتی ہیں گو وہ خود کسی اور وجہ سے محروم ہوں پس احناف کے نزدیک 24کے 24سہام دادا کے حصّے میں آئے 4بطور صاحب فرض اور 20 بطور عصبہ ۔ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک چونکہ دور کی مادری جدات قریبی پدری جدات کی وجہ سے محروم نہیں ہوتی ہیں اس لئے نانی کی نانی کوگو کہ دا دا کی ماں کی بانسبت دور ہے کو جدات کے 4سہام ملے ۔ حنابلہ کے نزدیک دادا کی ماں دادا کی وجہ سے محروم نہیں ہے اس لئے اس کو جدات کے 4سہام ملے ۔

    • سوال نمبر 11

        نانی اور دادی دونوں ما ں کی موجودگی میں محروم ہیں اس لئے دوسرے ذوی الفروض پر ترکے کو تقسیم کیا گیا۔ ذوی الفروض سے بچے ہوئے 4سہام بھائی کو ملے۔

    • سوال نمبر 12

        بیوی ذوی الفروض سببی ہے باقی سب ذوی الفروض نسبی ہیں اس لئے :
        س = 16+2+2= 20سہام
        اور
        ن= 24-3=21سہام
        ذوی الفروض نسبی کے سہام کو: ’’
        س ‘‘ سے ضرب دی تو ذوی الفروض نسبی کے نئے سہام معلوم ہوگئے۔ ذوی الفروض سببی اور کل سہام 24 کے سہام کو ’’ن‘‘ سے ضرب دی تو ذوی الفروض سببی کے نئے سہام معلوم ہوئے اور سہام کا نیا مجموعہ 480 حاصل ہوا۔

    • سوال نمبر 13

        اس سوال میں جدات کے چار سہام دادی اور نانی نے آپس میں برابر تقسیم کئے ۔ ذوی الفروض کا مجموعہ 27آتا ہے اس لئے قاعدہ نمبر 1کے مطابق جواب یہی ہے ۔ چونکہ مجموعہ 24سے زیادہ ہے اس لئے کل ترکہ میں ہر وارث کاحصّہ اپنے معمول کے حصّے سے کم ہوگیا اسی صورت کو عول کہتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ عول کی صورت میں بھی جدید طریقے پرعمل کیا جاسکتا ہے۔

    • سوال نمبر14

        میت کی نانی کی ماں اس کی دادا کی ماں بھی ہے یعنی میت کے ساتھ اس کا دوہرا رشتہ ہے ۔ امام ابویوسف ؒ تو اس کو ایک ہی عورت ہونے کی وجہ سے ایک ہی جدہ سمجھتے ہیں اس لئے اس کو دادی کی ماں کے برابر حصّہ ملے گا پس جدات کے 4سہام ان دونوں میں برابر برابر تقسیم ہوئے جبکہ امام محمد ؒ ان کے رشتوں پر نظر رکھتے ہوئے اس جدہ کو دونوں رشتوں کے حساب سے حصّہ دیتے ہیں اس لئے جدات کے 4سہام کو ان تین رشتوں میں تقسیم کرتے ہیں اس لئے دادی کی ماں کو اپنے 4 3 سہام ملے جبکہ نانی کی ماں جو کہ دادا کی ماں بھی ہے اس کو دونوں رشتوں کے 8 3 سہام ملے۔احناف کے ہاں عمومی فتویٰ امام ابویوسف ؒ کے قول پر ہے ۔

    • سوال نمبر 15

      • امام ابویوسف ؒ چونکہ دو جہت والی جدہ کو ایک ہی جدہ کا حصّہ دیتے ہیں اس لئے دادا کی ماں جو کہ نانی کی ماں بھی ہے ایک حصّہ پا رہی ہے اس کے مطابق 24سہام میں بیٹی کو 12،ہر بیوی کو 1، نانی کی ماں جو کہ دادا کی ماں بھی ہے کو 2اور چچا زاد بھائی کو 5سہام ملے ۔ امام محمد ؒ کے نزدیک چونکہ وہ دو حصّے پارہی ہے ایک بطور دادا کی ماں اور دوسرا بطور نانی کی ماں اس لئے دادی کی ماں کو جدات کے کل 4سہام میں سے 4 3 سہام دیئے گئے اور نانی کی ماں اور داد کی ماں کو کل 8 3 سہام دیئے گئے گویا کہ کل 3جدات ہیں پس کل 72سہام میں بیٹی کو 36 ہر بیوی کو 3 دادی کی ماں کو 4اور نانی کی ماں جو کہ دادا کی ماں بھی ہے کو 8سہام اور چچا زاد بھائی کو 15سہام ملیں گے ۔

    • سوال نمبر 16

        14جدات میں سب کو حصّہ ملنے کے لئے ان سب کا ایک ہی پشت کا ہونا نیز ان سے اقرب کسی اور پشت کے کسی اور جدہ کا موجود نہ ہونابھی ضروری ہے ۔ان حالات کے ساتھ تیرویں پشت میں چودہ جدات ہو سکتی ہیں چونکہ تیرویں پشت کی سب جدات کا زندہ رہنا محال ہے اس لئے یہ سمجھا جائے گا کہ سوال میں چاروں پشتوں کے کل ممکن جدات جن کی تعداد 14ہو سکتی ہے مراد ہیں ۔ اس صورت میں پہلی پشت کی 2، دوسری پشت کی 3، تیسری پشت کی 4اور چوتھی پشت کی 5جدات ہوں گی جس میں حصّہ صرف پہلی پشت کی دو جدات کو ملے گا اسلئے ہر جدہ کا حصّہ 6سہام آیا ۔

    • سوال نمبر 17

        بیویوںکو 6سہام دینے کے بعد باقی 18دو چچاؤں کو بطور عصبہ دے دیئے ۔ 6چونکہ 4پرپوراپورا تقسیم نہیں ہوتا اس لئے 6 4 کے ذو اضعاف اقل 4کو سب کے فی کس سہام ضرب دی تو بیوی کے 6سہام اور ہر چچا کے 36 سہام آئے ۔

    • سوال نمبر 18

        سہام کا مجموعہ 22 آیا جو کہ 24سے کم ہے۔ باقی سہام کے لئے عصبات موجود نہیں پس اخیافی بہن اور ماں پر رد کرنا پڑا۔ بیوی کے سہام کو اور کل سہام 24 کو ’’ س‘‘سے ضرب دی اورنانی اور اخیافی بہن کے سہام کو ’’ن‘‘سے ضرب دی۔ اعداد 24پر پورے پورے تقسیم ہوتے ہیں اس لئے بیوی کو 4، اخیافی بہن کو 9اور ماں کو 3سہام ملے ۔ سہام کا مجموعہ 22 آیا جو کہ 24سے کم ہے۔ باقی سہام کے لئے عصبات موجود نہیں پس اخیافی بہن اور ماں پر رد کرنا پڑا۔ بیوی کے سہام کو اور کل سہام 24 کو ’’ س‘‘سے ضرب دی اورنانی اور اخیافی بہن کے سہام کو ’’ن‘‘سے ضرب دی۔ اعداد 24پر پورے پورے تقسیم ہوتے ہیں اس لئے بیوی کو 4، اخیافی بہن کو 9اور ماں کو 3سہام ملے ۔

  • ذوی الارحام

      احناف کے نزدیک ذوی الارحام میں بھی عصبات کے طرز پر حاجب محجوب کا سلسلہ ہوتا ہے ۔ آسانی کے لئے جدول نمبر2اور جدول نمبر 3میں اس کی مکمل تفصیل موجود ہے ۔ اس میں غور کرنے سے الحمد للہ امام ابویوسف ؒ اور امام محمد ؒ کے طریقوں کے مطابق ذوی الارحام کے ہر قسم کے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ جدول نمبر 2میں ورثاء کے صنف نمبر ،کوڈ اور گروپ نمبر دیئے ہوئے ہیں ، اس کی مدد سے پہلے موجود ورثا ء کے لئے ان کا صنف نمبر ، کوڈ نمبر اور گروپ نمبر معلوم کیجئے ۔اسی جدول میں اگر اولاد نمبر1، اولاد نمبر 2یا اولاد نمبر 3 کا استعمال ہوا ہے تو اس کے بارے میں معلومات آپ کو جدول نمبر 3 سے ملیں گی وہیں سے حاصل کریں ۔ جدول نمبر 3میں ہر ایک کوڈ نمبر کا درجہ بھی دیا ہوا ہوگا اس کو بھی نوٹ کیجیئے ۔ اب چند قوانین ملاحظہ فرمایئے ۔
      ذ-ا-ق سے مراد ذوی الارحام کا قانون ہے ۔
      ذ -ا-ق نمبر 1۔ جن جن کا صنف نمبر سب سے کم ہو صرف وہی حصّہ پائیں گے باقی محروم ہوں گے۔
      ذ-ا-ق نمبر 2۔ جن جن کا درجہ سب سے کم ہوگا صرف وہی حصّہ پائیں گے اس سے زیادہ درجے والے ورثاء محروم قرار پائیں گے ۔

    • امام ابویوسف ؒ کا طریقہ

        ذ-ا-ق نمبر 1اورذ-ا-ق نمبر 2پر عمل کرنے کے بعد منتخب ورثاء اگر صنف نمبر 1، 2 یا 3کے ہیں تو ان میں کم سے کم نمبر والے گروپ میں اگر سارے مرد ہیں یا ساری عورتیں ہیں تو ان میں باقی ترکہ برابر برابرتقسیم کریں نہیں تو ان میں ایسا تقسیم کیجئے کہ ہر مرد کو ہر عورت کے حصّے سے دگنا ملے (للذکر مثل حظ الانثیین ) اگر منتخب ورثا ءصنف چہارم کے ہیں تو ان میں اگر ماں کی طرف کے ورثاء اور باپ کی طرف کے ورثاء دونوں طرف کے موجود ہیں تو ماں کے طرف کے ورثاءکو باقی ترکہ کا تہائی 1 3
        (اور باپ کے طرف کے ورثاء کو باقی ترکہ کا دو تہائی)
        2 3 ﴾ دیجئے ۔ اگر صرف ماں کے طرف کے یا باپ کے طرف کے ورثاء ہوں تو پھر سارا ہی باقی ترکہ موجود فریق میں تقسیم ہوگا ۔ اس کے بعد ہر دو فریقوں میں الگ الگ صنف نمبر 1,2یا 3کے طریقے پر تقسیم کیجئے ۔

    • امام محمد ؒ کا طریقہ

        حسب سابق ذ-ا-ق نمبر 1اور ذ-ا-ق نمبر 2پر عمل کرکے مستحق ورثاء گروپ نمبروں پر نگاہ ڈالیے اور دیکھیئے کہ کم سے کم گروپ نمبر کونسا ہے اس کے مطابق جدول نمبر 4سے اس کے لئے طریقے کا نمبر معلوم کیجئے اور اس طریقے پر عمل کیجئے ۔ اب ان طریقوں کی تفصیل بتائی جاتی ہے ۔

    • طریقہ نمبر 1

        اس کے مطابق کم سے کم نمبر والے گروپ کے ورثاء ہی مستحق ورثاء ہیں باقی سب نغیر مستحق ہیں ان کو کاٹ دیجئے اور مستحق ورثاء میں اگر صرف مرد یا صرف عورتیں ہوں تو ان میں سارا باقی ترکہ برابر تقسیم کیجئے نہیں تو ایسا تقسیم کیجئے کہ ہر مرد کو ہر عورت کے حصّے کا دگنا ملے ۔ وضاحت کیلئے سوال نمبر1ملاحظہ فرمایئے ۔

    • طریقہ نمبر 2

        الف۔ اس کے مطابق کم سے کم نمبر والے گروپ کے ورثاء ہی مستحق ورثاءہیں باقی سب غیر مستحق ہیں ان کو کاٹ دیجئے اور مستحق ورثاء کے نام ان کے کوڈ نمبروں کے حساب سے ترتیب سے لکھ دیجئے یعنی پہلے سب سے کم نمبر کا کوڈ اس کے بعد اس سے زیادہ اور پھراس سے زیادہ وغیرہ وغیرہ۔ ان کے سامنے ان کی تعداد بھی لکھیئے ۔
        ب۔ ان ورثاءکے رشتوں کو کھول کر ان کے سامنے لکھیئے جیسا کہ مثال نمبر 1میں نواسے کے نواسے کے لئے بیٹی بیٹا بیٹی بیٹا لکھا ہوا ہے۔ اب سب سے اوپر کے یعنی میت کی سب سے قریبی پشت میں جو عورتیں ہیں ان کو الگ اور جو مرد ہیں ان کو الگ کیجئے اور ان کے اوپر الگ الگ لکیریں کھینچ دیجئے ۔ ہر ایک کو الگ طائفہ کہئے اور ان کو اپنا اپنا نمبر بھی دیجئے ۔
        ج۔ اگلی پشت میں اس سے پہلی پشت کے ہر طائفے میں مردوں اور عورتوں کے الگ الگ طائفے بنا کر ان کو نمبر دیجئے اوراس طرح ساری پشتوں کے ساتھ کرتے جایئے یہ خیال رکھتے ہوئے کہ اگر کسی طائفے کی اگلی پشت میں مرد اور عورتیں دونوں موجود ہوں تو ان میں تودو طائفے بنیں گے اور ہر دو کو الگ الگ نمبر دیا جائے گا جیسا کہ مذکورہ مثال میں طائفہ نمبر 1کی اولاد میں دو طائفے، طائفہ نمبر 2اور طائفہ نمبر 3بنے اور اگر ان کی اولاد میں صرف مرد یا صرف عورتیں ہو تو ان کا ایک ہی طائفہ بنے اور اس کو بھی نمبر دیا جائے گا جیسا کہ مذکورہ مثال میں طائفہ نمبر 1بنا ہے ۔
        د۔ اگر کسی طائفے کی اولاد میں کوئی طائفہ ایسی بنے کہ وہ صرف ایک قسم کے وارث کے ساتھ متعلق ہو اس کی اولاد میں مزید طائفے نہیں بنیں گے چاہے اس کی اگلی پشتوں میں اس کے ساتھ اختلاف جنس بھی ہو جیسا کہ مذکورہ مثال میں طائفہ نمبر 1کی اولا میں طائفہ نمبر 2ایسا بنا ہے کہ وہ صرف نواسے کے نواسے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے اس کی اولاد میں مزید طائفے نہیں بنے ۔
        ہ۔ اگر میت کی یا کسی طائفے کی اولاد میں صرف مرد ہیں یا صرف عورتیں ہوں تو اان کا ایک ہی طائفہ ہوگا اور اس کی کسر 1ہوگی اور اگردو طائفے بنتے ہوں تو مردوں کی طائفے میں جتنی تعداد ہے اس کو 2سے ضرب دے کر اس کا وزن معلوم کریں ۔اس طرح عورتوں کی طائفے میں عورتوں کی جتنی تعداد ہے وہی اس کا وزن ہے ۔دونوں طائفوں کے وزنوں کو جمع کریں تو یہ مجموعی وزن ہوجائے گا۔اب ہر طائفے کی وزن کو مجموعی وزن پر تقسیم کریں تو یہ اس طائفے کا کسر ہوجائے گا۔مذکورہ مثال میں طائفہ نمبر 2میں دو مرد ہیں کیونکہ اس میں جو بیٹا لکھا ہوا ہے یہ دو نواسوں کے نواسوں کی نمائندگی کررہا ہے اس لئے ان کی تعداد دو فرض کی جائے گی۔2کو 2سے ضرب دی تو جواب 4آیا اس لئے طائفہ نمبر2کا وزن 4ہوگیا۔طائفہ نمبر 3میں 3عورتیں ہیں کیونکہ اس میں نواسی کے پوتے کے لئے پشت نمبر 2پر جو بیٹی لکھی ہوئی ہے یہ نواسی کے پوتے کی نمائندگی کررہی ہے جس کی تعداد 1ہے اس لئے اس بیٹی کو ایک عورت تسلیم کریں لیکن نواسی کے نواسے کے لئے جو پشت نمبر 2پر بیٹی لکھا ہوا یہ نواسی کے نواسے کی نمائندگی کررہی ہے جن کی تعداد 2ہے اس لئے ان کو دوعورتیں تسلیم کریں گے ۔اس طرح اس طائفے میں 3عورتیں ہوگئیں اور چونکہ ان کی تعداد 3ہے اس لئے یہی اس طائفے کا وزن ہوگیا۔اب طائفہ نمبر 2اور طائفہ نمبر 3کا مجموعی وزن 4+3=7ہوگیا اس لئے یہی ان کا مجموعی وزن ہے۔طائفہ نمبر 2کا وزن جو کہ 4ہے اس کو 7پر تقسیم کیا تو اس طائفے کی کسر 7 4 ہوگئی۔اور طائفہ نمبر 3کا وزن جو کہ 3ہے کو 7پر تقسیم کیا تو اس کی کسر 7 3 معلوم ہوگئی۔
        و۔ جب سارے طائفے پورے ہوجائیں تو ایک چھوٹا سا جدول بنا کر اس میں ہر نمبر کے طائفے کے سامنے اس کی کسر لکھ دیجئے ۔اور ہر وارث کا حصّہ معلوم کرنے کے لئے اس کو جن طائفوں کے واسطے سے حصّہ ملتا ہے ان سب کی کسور کا حاصل ضرب معلوم کیجئے یہی اس کا حصّہ ہوگا۔

    • مثال نمبر 1-

        دو نواسے کے نواسوں ، ایک نواسی کے پوتے ، دو نواسی کی نواسوں اور ایک حقیقی بھانجی میں ترکہ تقسیم کیجئے۔ جواب ۔ چاروں ذوی الارحام ہیں ۔ جدول نمبر 2سے اس کی تفصیل یہ معلوم ہوئی کہ نواسے کا نواسا نواسی کا پوتااور نواسی کی نواسے تو صنف نمبر 1 میں ہیں اور حقیقی بھانجی تیسرے صنف میں ہیں پس ذ-ا-ق نمبر 1کے مطابق صرف پہلے تین قسم کے ورثاء منتخب ہوگئے اور حقیقی بھانجی محروم ہے کیونکہ اول الذکر کا صنف نمبر کم ہے ۔ سارے منتخب ورثاء کا درجہ 3 اور گروپ 5ہے اس لئے یہ سب آپس میں شریک ہیں ۔ان میں کوئی محروم نہیں ۔
        جدول نمبر 4سے معلوم ہوا کہ طریقہ نمبر 2استعمال کیا جائے گا اس کے مطابق ان کو کوڈ نمبروں کی ترتیب سے لکھتے ہیں ۔ کوڈ نمبر بھی جدول نمبر 2سے معلوم ہوئے ۔ اب ان ورثاءکے رشتوں کو شکل کے مطابق کھول کر لکھ دیا ۔ اور ساتھ ہی ہر وارث کی تعداد بھی لکھ دی ۔ پہلی پشت پر ساری بیٹیاں ہیں اس لئے ایک ہی طائفہ بنا اور اس کا نمبر 1ہی رکھا ۔ اگلی پشت پر طائفہ نمبر 1کی اولاد میںدو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اس میں بیٹوں کی تعداد اس لئے 2ہے کہ نواسے کی نواسوں کی تعداد 2 ہے جن کی وہ دوسری پشت میں نمائندگی کر رہا ہے پس یہ کلیہ سمجھ میں اب آنا چاہیئے کہ جس قسم کے وارث کی جتنی تعداد ہو ہر پشت میں اس کی نمائندگی اتنے ہی مردوں اور عورتوں سے کرائی جائے گی جیسے نواسی کے نواسوں کی تعداد بھی 2 ہے اس لئے پشت نمبر 2 پر بیٹیوں کی تعداد بھی 2 ہی سمجھنی چاہیئے ۔ اس تفصیل کے بعد طائفہ نمبر 1 کے بچوں کے دو طائفوں میں طائفہ نمبر 2 میں دو بیٹے ہیں ان کاوزن 4 ہوگا اور طائفہ نمبر 3 میں 3 بیٹیاں ہیں ان کا وزن 3ہوگا ۔ ان دونوں کا مجموعی وزن 7ہوا پس طائفہ نمبر 2 کی کسر 4 7 ﴿ طائفہ نمبر 2 کے وزن کو مجموعی وزن پر تقسیم کرنے سے ﴾ ہوئی ۔ اس طرح طائفہ نمبر 3 کی کسر 3 7 ہوئی ۔ طائفہ نمبر2 چونکہ ایک ہی وارث سے متعلق ہے اس لئے اب اس کی اولاد میں مزید طائفے نہیں بنیں گے البتہ طائفہ نمبر 3میں ایک سے زیادہ ورثاءکی نمائندگی ہے اس لئے ان کی اولاد میں مزید طائفے بن سکتے ہیں ۔ ان میں جنس کی تبدیلی کی وجہ سے دو طائفے نمبر 4 اور نمبر 5بنیں گے ۔ اب طائفہ نمبر 4 میں ایک بیٹا ہے اس لئے 1کو 2سے ضرب دینے سے اس کا وزن 2معلوم ہواجبکہ طائفہ نمبر 5 میں دو بیٹیاں ہیں اس لئے اس کا وزن 2 ہوگا ۔پس ان دونوں طائفوں کا مجموعی وزن 4 ہوا جس میں طائفہ نمبر 4 کی کسر 2 4 معلوم ہوئی اور طائفہ نمبر 5کی کسر بھی 2 4 ہو جائے گی ۔ اب آسانی کے لئے ہر طائفے کی کسور ان کے نمبر کے سامنے لکھ لیتے ہیں تاکہ حساب کرنے میں آسانی رہے ۔ اب ہر وارث کے بارے میں یہ دیکھا جائے کہ اس کو کس کس طائفہ کے ذریعے حصّہ مل رہا ہے اور پھر ان ان طائفوں کی کسور کا حاصل ضرب معلوم کیا جائے تو اس وارث کا حصّہ معلوم ہوجائے گا ۔ پس دو نواسے کے نواسوں کو حصّہ طائفہ نمبر 1، طائفہ نمبر 2 اور طائفہ نمبر 4 کے ذریعے مل رہا ہے اور ان کی کسور بالترتیب1، 4 7 اور 1 ہیں اس لئے اس میں دونوں کا حصّہ 4 7 ہیں اور ایک نواسے کے نواسے کا حصّہ 2 7 ہوا ۔ نواسی کے پوتے کو طائفہ نمبر 1، طائفہ نمبر 3 اور طائفہ نمبر 5 کے ذریعے مل رہا ہے جن کی کسور بالترتیب 1 ، 3 7 اور 2 4 ہے پس ان کسور کا حاصل ضرب چونکہ 6 28 ہے اس لئے اس اکیلے وارث کو اتنا ہی حصّہ ملے گا ۔ 2 نواسی کے نواسوں کو طائفہ نمبر 1، طائفہ نمبر 3 اور طائفہ نمبر 6کے ذریعے حصّہ مل رہا ہے جن کی کسور بالترتیب1، 3 7 اور 2 4 ہیں جنکا حاصل ضرب بھی 6 28 بن رہا ہے اس لئے ان میں ایک کا حصّہ 3 28 ہوگا۔

    • طریقہ نمبر 3

        اس میں مال کا حق دار صرف ایک فرد نانا ہوتا ہے اس لئے سارا مال اس کو مل جاتا ہے ۔

    • طریقہ نمبر 4

        اس میں اور طریقہ نمبر 2میں صرف ایک فرق ہے کہ طریقہ نمبر 2میں مردوں سے مراد بیٹے اور عورتوں سے مراد بیٹیاں ہوتی ہیں لیکن طریقہ نمبر 4 میں مردوں سے مراد باپ اور عورتوں سے مراد مائیں ہیں مثلاً نانا کو ’’ ماں باپ ‘‘ لکھا جائے گا یعنی میت کی ماں کا باپ پس جو طائفے بنیں گے وہ ماؤں اور باپوں کے بنیں گے لیکن آسانی اس میں یہ ہے کہ ہر طائفے کی کسر معلوم نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ پہلے سے طے ہے کہ ماں کے طائفے کی کسر 1 3 اورباپ کے طائفے کی کسر 2 3 ہوگی ۔ اس میں ہر وارث کی تعداد ایک ہی ہوتی ہے۔

    • مثال نمبر 2

        دادی کے باپ ، نانا کے ماں باپ، نانی کے باپ اور نانی کے نانا میں میت کا ترکہ تقسیم کریں ۔ جدول نمبر 2کے مطابق چونکہ یہ چاروں صنف نمبر 3 میں ہیں اس لئے صنف کے لحاظ سے سب مستحق ہیں لیکن ان میں اول الذکر چاروں کا گروپ نمبر 7 ہے جبکہ نانی کا نانا گروپ نمبر 8 ہے اس لئے نانی کا نانا الاقرب فالاقرب کے قاعدے سے باقیوں کی موجودگی میں محروم ہے ۔ ان سب کو ان کے کوڈ نمبر وں کی ترتیب سے لکھا جاتا ہے جیسا کہ مثال نمبر 1 میں کیا گیا تھا تاہم اس میں سب کی تعداد ایک ہی ہوتی ہے اس لئے تعداد کا خانہ موجود نہیں ہے ۔ طریقہ نمبر 4 کے مطابق عورتوں اور مردوں کے الگ الگ طائفے بنائے ۔ طائفہ نمبر 1 ، طائفہ نمبر 3 اور طائفہ نمبر 6 کی کسر 2 3 ہے کیونکہ یہ باپوں کے طائفے ہیں اور طائفہ نمبر 2 ، طائفہ نمبر 4 اور طائفہ نمبر 6 کی کسر 1 3 ہے کیونکہ یہ ماؤں کے طائفے ہیں ۔ اب دادی کے باپ کو طائفہ نمبر 1 سے حصّہ مل رہا ہے جسکی کسر 2 3 ہے پس یہی اس کا حصّہ ہے اور نانا کے باپ کو طائفہ نمبر 2، طائفہ نمبر 3 اور طائفہ نمبر 5 سے حصّہ مل رہا ہے ان میں طائفہ نمبر 2 کی کسر تو 1 3 ہے باقی دونوں طائفے 2 3 کسر کی ہیں اور ان کا حاصل ضرب 4 27 ہے اس لئے یہی اس کا حصّہ ہے ۔ نانا کی ماں کو طائفہ نمبر 2 ، طائفہ نمبر 3 اور طائفہ نمبر 6 سے حصّہ مل رہا ہے ان میں طائفہ نمبر 3 کی کسر 2 3 ہے باقی دونوں کی کسر 1 3 ہے جن کا حاصل ضرب 2 27 بنتا ہے اور یہی اس کا حصّہ ہے اب نانی کے باپ کوطائفہ نمبر 2 اور طائفہ نمبر 4 سے حصّہ مل رہا ہے اور ان دونوں کی کسر 1 3 ہے جن کا حاصل ضرب 1 9 بنتا ہے اور یہی اس کا حصّہ ہے ۔

    • طریقہ نمبر 5

        اس طریقہ میں جتنے شریک گروپ ہیں ان کے ورثاءکو پہلے وہی فرض کیا جائے گا جن کی وہ اولاد ہیں چونکہ وہ میت کے مختلف قسم کے بہن بھائی ہوں گے ان میں تقسیم ذوی الفروض اور عصبات کے قاعدوں کے مطابق کرنے کے بعد ہر بھائی اور بہن کے حصّے میں جو آئے گا وہ اس کی اولاد میں حسب موقعہ طریقہ نمبر1یا طریقہ نمبر 2کے مطابق کیا جائے گا ۔

    • مثال نمبر 3 ۔

        حقیقی بھائی کے تین نواسوں اور دو نواسیوں،حقیقی بہن کے دو پوتوں اور ایک نواسی ، علاتی بہن کے ایک پوتے اور اخیافی بھا ئی کے ایک پوتے میں اس کی میراًث تقسیم کیجئے ۔ زیر نظر سوال میں حقیقی بھائی کی پانچ اولاد ، حقیقی بہن کی تین اولاد، علاتی بہن کی ایک اولاد اور اخیافی بہن کی ایک اولاد میں میراث کی تقسیم ہونی ہے ۔ طریقہ نمبر 5 کے مطابق ہم یہ سمجھیں گے کہ میت کے پانچ حقیقی بھائی ، تین حقیقی بہنیں ، ایک علاتی بہن اور ایک اخیافی بھائی ہے ۔ پہلے ان میں ترکہ تقسیم کرتے ہیں ۔ حقیقی بھائیوں کی موجودگی میں تو علاتی بہن محروم ہے البتہ اخیافی بہن اپنا حصّہ 24 میں 4 سہام وصول کرے گی ۔ باقی 20 سہام پانچ حقیقی بھائیوں اور تین حقیقی بہنوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق بطور عصبہ تقسیم ہوں گے۔ پانچ حقیقی بھائی دس حقیقی بہنوں کے برابر ہے ان کے ساتھ تین اور بہنیں ملکر کل 13 بہنیں بن جاتی ہیں اس لئے باقی سہام ان 13 بہنوں میں برابر برابر تقسیم ہوں گے چونکہ20 سہام 13 پر تقسیم نہیں ہورہے ہیں اس لئے ہر بہن کے لئے 20سہام مان کر بھائیوں کو ان کا دگنا یعنی 40سہام دیں گے ۔ قاعدہ کے مطابق اخیافی بہن کو اب 4 سہام کی بجائے 52 سہام ملیں اور کل 24 کے بجائے ﴿24x13=312 سہام ﴾ ہوجائیں گے پس اخیافی بہن کو 312 سہام میں 52 ، ہر حقیقی بھائی کو 40 اور ہر حقیقی بہن کو 20 سہام ملیں گے ۔ اب حقیقی بھائی کے حصّے کو اس کی اولاد میں تقسیم کریں گے چونکہ حقیقی بھائی کے تین نواسے اور دو نواسیاں ہیں ۔ جدول نمبر 2 میں نواسے اور نواسیاں دونوں گروپ نمبر 1 میں ہیں جن کے لئے جدول نمبر 3 میں طریقہ نمبر 1 بتایا گیا ہے اس کے مطابق ان میں للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ اب تین نواسے 6 نواسیوں کے برابر اور ان کے ساتھ دو نواسیاں ملکر کل 8 نواسیاں بن جاتی ہیں پس حقیقی بھائی کے 40 کو جب ان پر تقسیم کیا تو ہر نواسی کے حصّے میں 5 سہام آئے اور ہر نواسے کے حصّے میں 10 سہام ۔ اب حقیقی بہن کا حصّہ اس کے دو پوتوں اور ایک نواسے میں تقسیم کرنا ہے تو اس کے لئے طریقہ نمبر 2 استعمال کریں گے ۔ اس کے مطابق سامنے والی شکل بنے گی ۔ پہلی پشت پر ہی جنس کی تبدیلی ہے اس لئے دو طائفے بنیں گے ، طائفہ نمبر 1 بیٹوں کا اور طائفہ نمبر 2 بیٹیوں کا ۔ بیٹوں کے طائفے میں دو بیٹے ہیں اس لئے اس طائفے کا وزن 2x2=4 ہے جبکہ طائفہ نمبر 2 میں ایک بیٹی ہے پس اس کا وزن 1 ہواور ان کامجموعی وزن 5 ہوا پس طائفہ نمبر 1 کی کسر 4 5
        اور طائفہ نمبر 2 کی کسر
        1 5
        ہوگی ۔ کسی طائفہ کا ایک ہی وارث کے ساتھ تعلق ہو تواس کی اگلی پشت میں پھر مزید تقسیم ممکن نہیں ہوتی اس لئے وہ بعد میں آخر تک ایک ہی طائفہ رہتا ہے اس لئے طائفہ نمبر 1اورطائفہ نمبر2 سے مزید طائفے نہیں بن سکے ۔ اب حقیقی بہن کے پوتوں کو چونکہ صرف طائفہ نمبر 1 سے حصّہ مل رہا ہے اس لئے ان دونوں کا حصّہ مجموعی طور پر
        4 5
        نکلا اور اکیلے ایک کا
        1 5
        جبکہ حقیقی بہن کی نواسی کو طائفہ نمبر 2 کے ذریعے
        1 5
        ہی ملا ۔ پس بہن کے 20 سہام میں ایک حقیقی بہن کے پوتے کو
        2×20 5 =8
        سہام ملیں گے جبکہ ایک حقیقی بہن کی نواسی کو
        1×20 5 =4
        سہام ملیں گے اخیافی بہن کے پوتے کو اس کی دادی کا حصّہ 52 سہام پورے کا پورا مل جائے گا ۔

    • طریقہ نمبر 6

        اس میں چونکہ ورثاء صرف اخیافی بہن بھائیوں کی اولاد ہوتی ہے اس لئے ان ہی کے طریقے کے مطابق سب میں باقی ترکہ برابر برابر تقسیم کیا جائے گا ۔

    • طریقہ نمبر 7۔

        -1 اس طریقے کے مطابق اگر ماں باپ ہر دو طرف کے رشتہ دار موجود ہوں تو باقی ترکے کا 2 3 باپ کی طرف کے رشتہ داروں کا ہوگا اور 1 3 ماں کی طرف کے رشتہ داروں کاہوگا اور اگر صرف ایک طرف کے رشتہ دار ہوں تو سارا باقی ترکہ ان ہی میں تقسیم ہوگا۔ -2 ہر دو قسم کے ورثاء میں جن کا گروپ نمبر کم سے کم ہو ان میں اس قسم کے ورثاء کا حصّہ تقسیم ہوگا ۔اگر اس گروپ میں صرف مرد یا صرف عورتیں ہیں تو ان میں ہر ایک کا حصّہ برابر ہوگا اور اگر ان میں مرد اور عورتیں دونوں ہیں تو ان میں للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے کے مطابق تقسیم ہوگا ۔

    • مثال نمبر 4۔

        دو حقیقی پھوپھیاں ، ایک علاتی پھوپھی ،چار اخیافی چچا ، دو اخیافی پھوپھیاں دو حقیقی ماموں اور تین حقیقی خالاؤں میں میت کا ترکہ تقسیم کیجئے ۔ یہ سب صنف چہارم میں ہیں اس لئے سب مستحق ہوسکتے ہیں ۔ ان کے گروپ نمبر اور کوڈ نمبر جاننے کے لئے جب جدول نمبر 2کو دیکھا تو پتہ چلا کہ حقیقی پھوپھی کا گروپ نمبر 19، علاتی پھوپھی کا 20، اخیافی چچا کا 21ہے جبکہ حقیقی ماموں اور خالہ کا گروپ نمبر 22ہے پس 19نمبر کم سے کم نمبر والا گروپ ہے اس کے لئے جدول نمبر 3میں جب دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ سوال طریقہ نمبر7سے حل ہوگا ۔ طریقہ نمبر7کے مطابق با پ کی طرف اور ماں کی طرف کے ورثاء کو الگ کرنا پڑا ۔ باپ کی طرف کے ورثاء میں حقیقی علاتی اور اخیافی پھوپھیوں کے علاوہ اخیافی چچا آتے ہیں اور حقیقی ماموں خالہ ماں کی طرف کے رشتہ دار ہیں ۔ باپ کی طرف کے رشتہ داروں میں گروپ نمبر 19ہی سب سے کم نمبر والا گروپ ہے اس لئے صرف یہی گروپ یعنی حقیقی پھوپھیا ں ہی باپ کی طرف کے 2 3 حصّے کی مستحق ہیں چونکہ یہ دو ہیں اس لئے ہر ایک کو 1 3 حصّہ ملے گا ۔ ماں کی طرف کے رشتہ داروں میں صرف حقیقی ماموں خالہ ہی ہیں اس لئے ماں کے حصّے کا 1 3 ان میں للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے سے تقسیم ہوگا ۔چونکہ حقیقی مامؤوں کی تعداد 2اور حقیقی خالاؤں کی تعداد 3ہیں اس لئے یہ گویا کہ کل 7خالائیں ہیں پس ہر خالہ کو 1 3 کا 1 7 یعنی 1 21 ملے گا اور ہر ماموں کو خالہ کے حصّے کا دگنا یعنی 2 21 ملے گا ۔

    • طریقہ نمبر 8۔
      • اس طریقے کا طریقہ نمبر 7کے ساتھ اتنا فرق ہے کہ مستحق گروپ تو طریقہ نمبر 7کے مطابق معلوم کیا جاتے ہیں وہ پھر چاہے ماں کی طرف سے ہوں یا باپ کی طرف سے ،ان میں مال حسب موقع طریقہ نمبر 1یا طریقہ نمبر 2 کے مطابق تقسیم ہوگا ۔
    • مثال نمبر 5

        میت کی حقیقی پھوپھیوں کے 2 نواسوں کی نواسیاں ،ایک نواسی کی پوتی اور دو نواسی کے نواسے ، میت کے اخیافی چچا کے 3 سکڑپوتے حقیقی خالہ کی پڑپوتیوں کے 2بیٹے اور 3بیٹیاں ہیں ان میں ترکہ تقسیم کیجئے ۔یہ سب صنف چہارم کے ورثاءہیں اس لحاظ سے سب مستحق ہوسکتے ہیں لیکن گروپ نمبر کے لحاظ سے بعض بعض پر سبقت لے سکتے ہیں ۔جدول نمبر 2سے پتہ چلا کہ میت کی حقیقی پھوپھی کے نواسے کی نواسیاں ، نواسی کی پوتی اور نواسی کے نواسے سب حقیقی پھوپھی کی اولاد نمبر 2میں آتے ہیں جن کا گروپ نمبر 36ہے ، میت کے اخیافی چچا کے سکڑپوتے اخیافی چچا کی اولاد نمبر 3میں آتے ہیں اور ان کا گروپ نمبر39ہے جبکہ حقیقی خالہ کی پڑپوتیوں کی اولاد حقیقی خالہ کی اولاد نمبر 3میں ہیں اور ان کا گروپ نمبر 40ہے۔ ان سب میں گروپ نمبر 36 سب سے کم ہے اس لئے جدول نمبر 3کے مطابق اس کے لئے طریقہ 8استعمال ہوگا ۔ اس کے مطابق حقیقی پھوپھی کی اولاد ہی باپ کی طرف کے 2 3 حصّے کی مستحق ہوگی اور اخیافی چچا کی اولاد محروم ہوگی اور والدہ کی طرف کا 1 21 حقیقی خالہ کی اولاد کا حق ہے ۔ اب حقیقی پھوپی کی اولاد میں طریقہ نمبر 2 کے مطابق مال تقسیم ہوگا جس کے لئے مثال نمبر 1کو دیکھا جائے ۔ اس مثال کے مطابق ہرنواسے کی نواسی کو 2 7 مل رہاتھا نواسی کی پوتی کو 3 14 اور نواسی کے ہر نواسے کو 3 28 مل رہا تھا اب یہ ان کو صرف باپ کے حصّے 2 3 میں مل رہا ہے اس لئے حقیقی پھوپھی ہر نواسے کی نواسی کو 2 3 × 2 7 = 4 21 ، نواسی کی پوتی کو 2 3 × 3 14 = 1 7 اور نواسی کے ہر نواسے کو 2 3 × 3 28 = 1 14 حصّہ ملے گا ۔ اس طرح ماں کا 1 3 حقیقی خالہ کی پڑپوتیوں کے 2بیٹوں اور3بیٹیوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے کے مطابق تقسیم ہوگا پس یہ کل 7بیٹیاں ہوئیں پس ماں والی طرف کے کل حصّے میں ہر بیٹی کو 1 7 اور ہر بیٹے کو 2 7 حصّہ ملے گا جو کہ میت کے کل باقی ترکہ میں بالترتیب 1 3 × 1 7 = 1 21 اور 1 21 × 1 3 × 2 7 = 2 21 ہوگا ۔

    • طریقہ تنزیل

        اس طریقے پر امام احمد بن حنبل ؒ کا فتویٰ ہے اور شوافع اور مالکیہ کے متاخرین میں بعض نے بھی اس طریقے کو ذوی الارحام کے لئے اپنایا ہے اگر چہ ان کے متقدمین ذوی الارحام کو دینے کے قایل نہیں ۔ اس طریقے کے مطابق ذوی الارحام جن ذوی الفروض اور عصبات کے واسطے سے میت کے رشتہ دار ہیں ذوی الارحام کوپہلے وہی ذوی الفروض و عصبات سمجھ کر ان میں تقسیم کیا جاتا ہے اور پھر وہ ذوی الارحام اپنے واسطوں کا حق وصول کرتے ہیں مثلاً اگر کسی میت کے ورثاء میں نواسے ، بھتیجیاں ، اور پھوپھی اور خالہ موجود ہیں تو نواسے چونکہ بیٹی کی اولاد ہے اس لئے ان کو بیٹی ، بھتیجیوں کو بھائی ، پھوپھی کو باپ اور خالہ کو ماں سمجھ کر ان میں ایسا تقسیم کیا جائے گا گویا کہ میت کے ماں باپ اور بھائی بیٹی موجود ہیں اور ہم ان میں اس کا ترکہ تقسیم کررہے ہیں پھر یہ واسطے میت سے حصّہ وصول کرکے ذوی الارحام کو دیتے ہیں لیکن : -1
        امام احمد بن حنبل ؒ کے مشہور قول کے مطابق ہر واسطے کے ورثاء میں مرد و عورت میں فرق نہیں کیا جائے سب کوبربرابر ملے گا جبکہ دوسرے قول کے مطابق ان میں للذکر مثل حظ الانثیین کا قاعدہ استعمال کیا جائے گا۔بعض متاخرین شوافع اور مالکیہ کا بھی اس دوسرے قول پر عمل ہے ۔ -2
        المغنی کے روایت کے مطابق میت کے ذوی الارحام میں تین گروپ بنائے جائیں گے ۔ پہلا وہ جو اولاد کے ذریعے وارث ہیں ، دوسرا وہ جو باپ کے واسطے سے ہیں اور تیسرا وہ جو ماں کی طرف سے ہیں ۔ ان میں ہر گروپ میں جو میت کے سب سے قریب ہوں گے وہ مستحق ہوںگے اور دوسرے محروم لیکن ہر گروپ کے ورثاء کا دوسرے گروپ کے ورثاء کے ساتھ مقابلہ نہیں ہوگا ۔ ایک دوسرے قول کے مطابق سارے ذوی الارحام ایک گروپ میں ہیں اس لئے اس قول کے مطابق سب میں جو سب سے زیادہ میت کے قریب ہیں وہ حصّہ پائیں گے اور باقی محرو م ہوں گے ۔ اس کے علاوہ بھی دوسرے اقوال ہیں لیکن متاخرین نے ان کو نظر انداز کیا ہے ۔ ماں کے طرف کے جو ورثاء ان میں للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے کا کوئی بھی قائل نہیں ہے ۔ -3
        اگر کوئی مختلف واسطوں سے میت کا رشتہ دار ہو تو جس واسطے سے اس کا فاصلہ کم سے کم ہو اس کا واسطہ وہی سمجھا جائے مثلاً ُ پڑپوتی کا نواسا بیٹے کی بیٹی کا نواسا بھی ہے لیکن اس کو پڑپوتی کا نواسا سمجھا جائے کیونکہ پڑپوتی سے وہ دو واسطے دور ہے جبکہ بیٹے سے تین واسطے ۔ -4
        ہر واسطے کی تعداد کواتنی ہی مانی جائے جتنی کی اس واسطے کی فی الحقیقت ہے ان کی اولاد یا متعلقہ ورثاء کی تعداد کے برابر نہیں مثلاً ایک حقیقی بہن کے چار پڑپوتے ہیں اور دوسری کا ایک نواسی کا بیٹا ہے پس ان کو پہلے دو حقیقی بہنیں سمجھا جائے گا ۔اور پھر ہر حقیقی بہن کا حصّہ اس کی اولاد میں علیحدہ علیحدہ تقسیم ہوگا ۔ -5
        جس وقت ان میں سے جس و اسطے کو اپنا حصّہ مل جاتا ہے تو پھر اس کے ورثاء میں اس کا حصّہ ایسا تقسیم ہوگا جیسا کہ یہ واسطہ ہی میت ہو اور اس کا ترکہ تقسیم ہورہا ہو واسطے جو بن سکتے ہیں ۔
        ذوی الارحام مندرجہ ذیل واسطوں سے حصّہ لے سکتے ہیں ۔
        -1بیٹیوں کی اولاد کو بیٹیاں
        -2پوتیوں کی اولاد کو پوتیاں
        -3پڑپوتیوں کی اولاد کو پڑپوتیاں
        -4سکڑپوتیوں کی اولاد کو سکڑپوتیاں
        -5ہر قسم کی پھوپھیوں، اخیافی چچا اور ان کی اولادکو باپ
        -6ہر قسم کے مامؤں اور خالاؤں اور ان کی اولاد کو ماں
        -7حقیقی بہن کی اولاد کو حقیقی بہن
        -8علاتی بہن کی اولاد کو علاتی بہن
        -9اخیافی بہن بھائیوں کی اولاد کو اخیافی بہن بھائی
        -10دادا کی ہر قسم کے بہنوں اور اخیافی بھائیوں کو دادا
        -11پدری جدات صحیحہ کے ماں باپ اجداد و جدات کونیزبہن بھائیوں اور اور ان کی اولاد کو پدری جدات صحیحہ
        -12مادری جدات صحیحہ کے ماں باپ اجداد و جدات کو نیزبہن بھائیوں اور اور ان کی اولاد کو مادری جدات صحیحہ
        -13حقیقی بھائیوں کی ذوی الفروض یا ذوی الارحام اولاد
        -14علاتی بھائیوں کی ذوی الفروض یا ذوی الارحام اولاد
        جھات کے لحاظ سے ورثا میں تقسیم کے لحاظ سے نمبر 1سے لیکر 4تک بنوی﴿اولاد کی جھت ﴾ ، نمبر 5، 7، 8، 10، 11، 13اور 14ابوی اور 6، 9 اور 12اموی جھت کے ہیں پڑپوتی کا نواسا ، پھوپھی اور خالہ کا بیٹا موجود ہو تو تینوں کو حصّہ ملے گا کیونکہ یہ تینوں مختلف جھات کے ہیں اس لئے اگر چہ ان میں بعض بعض سے میت کے زیادہ قریب ہیں لیکن جھت میں مختلف ہونے کی وجہ سے آپس میں مقابل نہیں ہاں بیٹی کا پوتامثلاً ہوتا تو وہ پڑپوتی کے نواسے کو محروم کرتا ، اس طرح خالہ یا ماموں کی موجودگی خالہ کے بیٹے کو محروم کردیتا ۔

    • مثال نمبر 6 ۔

        عبد العظیم کے وفات کے بعد اس کا نانا ، دو حقیقی بھتیجیاں ایک حقیقی بھانجی اور ایک خالہ زاد بہن موجود تھے ان میں اس کا ترکہ تقسیم کیجئے ۔ پہلے یوں سمجھا جائے گا کہ ایک ماں ایک بھا ئی اور ایک حقیقی بہن موجود ہیں پس ماں کو 4اکائیاں دینے کے بعد باقی 20 اکائیاں ایک حقیقی بہن اور حقیقی بھائی آپس میں للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے سے تقسیم کریں گے ۔ یہ گویا کہ تین بہنیں ہیں اس لئے ہر بہن کو 20 3 اکائیاں ملیں گے پس اگر ایک بہن کے لئے 20اکائیاں مان لی جائیں تو ماں کو 4کی جگہ 12دینی پڑیں گی اور کل اکائیاں 24 کی جگہ 72 بن جائیں گی۔پس 72میں ماں کے 12 حقیقی بہن کے 20اور حقیقی بھائی کے 40 اکائیاں ہوں گی۔ حقیقی بھتیجیاں دو ہیں ان میں بھائی کا حصّہ تقسیم ہوگا پس ہر ایک کو 20اکائیاں ملیں گی جبکہ اکیلی بھانجی کو حقیقی بہن کی 20اکائیاں ساری کی ساری مل جائیں گی۔ ماں کی اکائیاں 12ہیں وہ نانا اور خالہ زاد بہن میں تقسیم ہوں گے ۔ چونکہ نانا ماں کا والدایک واسطے پراور خالہ زاد بہن دو واسطے پر ہے اس لئے نانا کے سامنے خالہ زاد بہن محروم ہے اور ماں کی 12اکائیاں ساری کی ساری نانا کو ملیں گی۔

    • مثال نمبر7۔

        ایک اخیافی پھوپھی ،ایک حقیقی بھتیجی ، ایک حقیقی چچازاد بہن ، ایک حقیقی بھانجا، ایک حقیقی خالہ اور ایک علاتی خالہ ۔ اخیافی پھوپھی اور حقیقی چچا زاد بہن حقیقی بھتیجی اور حقیقی بھانجی باپ کے جہت ہیں ۔ان میں اخیافی پھوپھی حقیقی بھتیجی اور بھانجی و و واسطوں پر جبکہ حقیقی چچازاد بہن تین واسطوں پر ہیں اس لئے حقیقی چچازاد بہن محروم ہے ۔ علاتی اور حقیقی خالائیں ماں کے رخ سے ہیں اور دونوں میت سے ایک ہی فاصلے پر ہیں پس اخیافی پھوپھی کو باپ ، حقیقی بھتیجی کو حقیقی بھائی ، حقیقی بھانجی کو حقیقی بہن علاتی اور حقیقی خالاؤں کو ماں فرض کیا جائے گا ۔ باپ کی موجودگی میں بہن بھائی محروم ہیں لیکن ان کی موجودگی ماں کے حصّہ کو سد س کردے گی۔ اس لئے ماں کو 24میں سے 4حصّے دے کر باقی باپ کو دیئے جائیں گے جو کہ تنہا پھوپھی کا حصّہ ہوں گے ۔ ادھر ماں کا حصّہ حقیقی اور علاتی خالاؤں میں تقسیم ہوگا جس میں حقیقی خالہ کو حقیقی بہن سمجھ کر 3حصّے دیئے جائیں گے اور علاتی کو ایک حصّہ دیا جائے گا۔

  • مناسخہ

      مناسخہ لغت میں ازالے کو کہتے ہیں اور علم میراث میں اصطلاحاً کسی وارث کی موت کی وجہ سے اس کے حصوں کا اس کے اپنے ورثاءکی طرف منتقل ہونے کے بعد کی تقسیمِ میراث کو مناسخہ کہتے ہیں۔ اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ جو وارث فوت ہوچکا ہے وہ بھی اپنے مورث کے ورثاء کا مورث بن سکتا ہو پس ان باقی ورثاء کو نہ صرف اپنے مورث اعلیٰ کا حصہ ملے گا بلکہ اس وارث میت کی میراث میں بھی حصہ ملے گا ۔ فقہا کرام نے عام لوگوں کی آسانی کی خاطر ایسا طریقہ وضع کیا جس کے ذریعے مورث اعلیٰ کے ورثاء میں بعض ورثاء کی موت کے بعد ان کی میراث کی تقسیم بیک وقت ہوسکے ۔
      اگر وقت پر ترکہ شرعی طریقے سے تقسیم کیا جائے تو مناسخے کے جھنجھٹ سے بچا جا سکتا ہے لیکن آج کل ہم جیسے دوسری ضروریات دین سے تغافل برتتے ہیں اسی طرح بلکہ کچھ زیادہ اس اہم ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں جس کی وجہ سے تقسیم سے پہلے کئی ورثاء مرجاتے ہیں اور پھر سب کا اکٹھا حساب کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے بعض ورثاء ایک میت کے بعض دو کے اور بعض تین کے ترکے سے حصہ پائیں گے ۔ اس طرح سلسلہ کئی پشتوں تک جاسکتا ہے ۔ اگر ترکہ کی مقدار معلوم ہو تو راقم کے نزدیک مناسخہ کے معروف طریقے کی بجائے اگر تقسیم کا اصل طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ نہ صرف یہ کہ مشکل نہیں ہوگا بلکہ اس میں اگر کہیں غلطی واقع ہوگی تو اس کی پڑتال آسانی کے ساتھ ہوسکے گی نیز اس میں مورث اعلیٰ کے علاوہ دوسرے مورثوں کی ذاتی جائیداد بھی تقسیم میں شامل ہوسکے گی۔ اگر کسی کو کسور کی جمع تفریق اور ضرب تقسیم آتی ہو تو ان کے لئے آخر میں معروف طریقے کو بھی آسان کرکے دیا جائے گا لیکن بہتر یہی ہے کہ اصل طریقہ اختیار کیا جائے۔ اصل طریقے کا مطلب یہ ہے کہ جتنی میتیں ہیں ہر میت کے لئے اس کے ورثاء کا تعین کرکے سوال کو حل کیا جائے اور اس میں ہر وارث کا حصہ ہر میت کی میراث میں معلوم کرکے ان کے ناموں کے سامنے لکھیئے۔ جب مورث اعلیٰ کا ترکہ معلوم ہوجائے تو سب سے پہلے مورث اعلیٰ کے ورثاء میں اس کا ترکہ حسب قاعدہ ان ورثاء کے معلوم شدہ حصوں کے مطابق تقسیم کیجئے۔ اس کے بعد ہر میت کے ورثاء میں درجہ بدرجہ ان کی وہ میراث جو دوسروں سے حاصل کرچکا ہے تقسیم کیجئے تمام ورثاء کے نام لکھ کر جو فوت ہوچکے ہیں ان کے گرد دائرہ لگائیے اور باقیوں کا ہر ہر میت کی میراث میں حصہ معلوم کرکے جمع کیجئے۔ اس میں آپ یہ بھی کرسکتے ہیں کہ ہر میت کے اس ترکے میں جو اس کو دوسروں سے ملا ہے اس میں اس کا ذاتی ترکہ بھی جمع کرسکتے ہیں تاکہ سارا حساب اکٹھا ہوسکے ۔ آخر میں پڑتال کے طور پر ساری میتوں کے ذاتی ترکوں کو ان کے مورث اعلیٰ کے ترکے کے ساتھ جمع کریں۔ اگر تمام زندہ ورثاء کے حاصل کردہ حصوں کا مجموعہ اسی مجموعے کے برابر آتا ہے تو جواب ٹھیک ہے ورنہ غلط ہے مثال کے طور پر ایک مناسخے کا مسئلہ پہلے مجوزہ طریقے کے مطابق حل کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد دوسرے طریقے کے مطابق تاکہ نہ صرف دونوں طریقوں کی وضاحت ہوسکے بلکہ ان میں آسان ا ور مشکل کا پتہ بھی چل سکے ۔

    • مثال

        سلیمہ نے زید نامی خاوند ایک بیٹی کریمہ اور ماں عظیمہ چھوڑی ۔ سلیمہ کی میراث ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ زید بھی انتقال کرگیا۔ اس نے اپنے پیچھے باپ عمر اور ماں رحیمہ چھوڑی آخر میں کریمہ بھی سدھار گئیں۔ اس نے دو بیٹے خالد اور عبداللہ اور ایک بیٹی رقیہ چھوڑی ۔ ان کی تقسیم سے قبل عظیمہ بھی رحلت کر گئیں اور اپنے پیچھے دوسرا خاوند عبدالرحمان ﴿ سلیمہ کا والد پہلے فوت ہوگیا تھا ﴾ اور دو بیٹے عبدالرحیم اور عبدالکریم اور ایک بھائی عبد الرشید چھوڑے ۔ سلیمہ کے ترکہ میں ہر زندہ وارث کا حصّہ معلوم کریں۔
        عظیمہ کے بھائی سلیمہ کے ماموں تھے جو ذوی الارحام میں ہونے کی وجہ سے اس کے مال میں حصہ دار نہیں تھے اور نہ ہی اس کا سوتیلا باپ حصہ دار تھا اس لئے سلیمہ کے وارثوں میں خاوند زید کو 6 حصے ، بیٹی کریمہ کو 12 حصے اور ماں عظیمہ کو 4 حصے دینے کے بعد 2 حصّے باقی بچے ۔ عصبات میں کوئی موجود نہیں اس لئے ان دو حصوں کو بھی ذوی الفروض نسبی کی طرف لوٹایا جائے گا جس کو رد کہتے ہیں ۔
        اس کو حل کرنے کے لئے حسب قاعدہ ذوی الفروض نسبی کا مجموعہ ’’ن‘‘ معلوم کیا جو کہ 16 معلوم ہوا۔ ذوی الفروض سببی کا حصّہ 6 ہے اس کو 24 سے تفریق کیا تو ’’س‘‘ کی قیمت 18 دریافت ہوئی ۔ اب ذوی الفروض نسبی کے حصوں کو 18 سے اور ذوی الفروض سببی کے حصّے کو 16 سے ضرب دی ۔ نیز کل24 حصوں کو بھی 16 سے ضرب دی تو 384 حصوں میں زید کو 96 ،کریمہ کو 216اور عظیمہ کو 72 حصے ملے۔ اب زید کے ترکے کو بھی اگر 24 حصے مانا جائے تو اس میں اس کی ماں رحیمہ کو 4 ، بیٹی کریمہ کو 12 اور باپ عمر کو 4 حصے ملے ۔ سب کا مجموعہ 20 آیا جو کہ 24 سے کم ہے اس لئے باقی 4 حصے بھی باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے ملے اس لئے اب عمر کے کل 8 حصے ہوگئے ۔
        کریمہ جب فوت ہوگئی تو اس کے ترکے کو بھی 24 مانا گیا ۔ عظیمہ اس کی نانی ہے اور رحیمہ اس کی دادی اور عمر اس کا دادا ہے اس کے علاوہ دو بیٹیوں عبداللہ اور خالد کے علاوہ اس کی ایک بیٹی رقیہ بھی ہے ۔عظیمہ اور رحیمہ میں 4 حصے برابر تقسیم کیے کیونکہ ماں باپ موجود نہ ہونے اور ایک ہی پشت میں ہونے کی وجہ سے دونوں برابر کے حقدار ہیں نیز دادا دادی کا خاوند ہے اور اس کے اور میت کے درمیاں واسطہ نہیں بنتے اس لئے وہ بھی محروم نہیں اور ان دونوں کو کل 4 حصے مل سکتے ہیں پس ان میں ہر ایک کو 2 حصے ملیں گے ۔ اور دادا عمر کو بھی 4 حصے ملے باقی 16حصے کریمہ کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی میں للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم ہوں گے ۔ اس کے مطابق دو بیٹے چار بیٹیوں کے برابر ہو کر کل پانچ بیٹیا ں بن جاتی ہیں پس حسب قاعدہ اگر کل مفروضہ حصوں یعنی 24 کو 5 کے ساتھ ضرب دی جائے تو اس کے حاصل ضرب 120 حصوں میں سے رقیہ کو 16 ، خالد اور عبداللہ میں ہر ایک کو 32 ، عمر کو 20 ، رحیمہ کو 10 اور عظیمہ کو بھی 10 حصے ملیں گے ۔
        عظیمہ جب فوت ہوئی تو اس کے ورثاء میں اس کا خاوند عبدالرحمان ایک بھائی عبد الرشید ، دو بیٹے عبدالکریم اور عبدالرحیم ہیں ۔ اس کے ترکے کے بھی 24 حصے فرض کیے گئے اولاد کی موجودگی میں اس کو 6 حصے مل سکتے ہیں اور باقی 18 حصوں کو اس کے دو بیٹے آپس میں برابر تقسیم کریں گے تو ہر ایک کو 9 حصے ملیں گے ۔ اب اگر سلیمہ کا کل قابل تقسیم ترکہ 384000 روپے ہو تو چونکہ زید کے 384 میں 96 حصے ہیں پس ا کائی کے قاعدے سے زید کا حصہ 96000 روپے بنتا ہے اس طرح کریمہ کے حصے میں 216000 روپے اور عظیمہ کے حصے میں72000 روپے آئے ۔ زید کے96000 میں اکائی کے قاعدے سے کریمہ کو48000 ،عظیمہ کو 16000 اور عمر کو 32000 روپے ملے ۔ اب کریمہ کو سلیمہ سے 216000 روپے ملے تھے اور اپنے باپ زید سے 48000 روپے ملے، اس لئے اب اس کے کل 264000 روپے ہوگئے جس میں اکائی کے قاعدے سے خالد اور عبداللہ میں ہر ایک کو70400 روپے اور رقیہ کو 35200 روپے ملے ۔ اس کے علاوہ اس کی دادی اور نانی یعنی رحیمہ اور عظیمہ میں ہر ایک کو 22000 اور دادا عمر کو 44000روپے ملے ۔ زید کے ترکہ سے عمر کو 32000اور رحیمہ کو 16000ملے تھے تو عمر کے حصّے میں کل 76000اور رحیمہ کے حصّے میں کل 38000روپے آگئے ۔عظیمہ کو سلیمہ کے ترکہ سے 72000 اور کریمہ کے ترکہ سے 22000 روپے ملے اس طرح اس کا ترکہ 94000روپے بنا جس میں اس کے خاوند عبدالرحمان کو 23500 روپے اور ہر بیٹے کو 35250 روپے ملے ۔ جب ان سب کو جمع کیا تو جواب 480000 روپے ہی آیا اس لئے جواب درست ہے ۔ اب دوسرے طریقے سے اس سوال کو حل کرتے ہیں ۔ اس میں ہم یہ فرض کریں کہ ترکہ کے بارے میں ہمیں کچھ بھی نہیں بتایا جائے گا اور حصے ایسے بنانے ہیں جو ٹوٹے ہوئے نہ ہوں بلکہ پورے ہوں ۔
        جب ترکہ کی مقدار پہلے سے معلوم نہ ہو۔
        اس صورت میں سب سے پہلے جو ورثاء فوت ہوچکے ہیں ان کا علیحدہ علیحدہ تمام دوسرے فوت شدہ ورثاء بشمول مورث اعلیٰ کے ترکات میں حصّہ معلوم کریں اور ان کو ایک جدول میں جیسا کہ جدول الف میں دکھایا گیا ہے لکھ دیجیئے اور جدول کا آخری کالم ’’ کل ‘‘ بھی پر کر دیجئے۔ چونکہ کل 384حصّوں میں زید کے 96، کریمہ کے 216 اور عظیمہ کے 84 بنتے ہیں ۔ ان سب کے حصّوں کو جب 24پر تقسیم کیا تو 16میں زید کے 4، کریمہ کے 9 اور عظیمہ کے 3حصّے بنتے ہیں اس لئے ’’ سلیمہ سے ‘‘ کے خانے میں زید کے لئے 4 16 یعنی 1 4 ، کریمہ کے لئے 4 16 اور عظیمہ کے لئے 3 16 لکھا گیا ۔ اس طرح باقی سب سے جتنا جتنا جن جن کو ملا وہ بھی ان کے کالموں میں لکھا ۔ اس طرح جدول الف تیار ہوگئی

    • فوت شدہ ورثاء کے ترکہ میں انکے زندہ ورثاء کا حصّہ

        جوجو ورثاء فوت ہوچکے ہیں ان کے مال میں زندہ ورثاء کو جتنا جتنا حصّہ ملا ا س کا الگ حساب کیا جائے وہ ہر زندہ وارث کے نام کے سامنے اس فوت شدہ وارث کے نام کے نیچے متعلقہ کالم میں لکھّا جائے ۔ اس طرح ہر زندہ وارث کو ہر فوت شدہ وارث سے جتنا ملا اس کو آپس میں جمع کیا جائے تو یہ مورث اعلیٰ کے ترکہ میں سے اس وارث کا حصّہ ہوگا مثلاً عمر کو زید کے مال میں 1 3 حصّہ ملا اور زید سلیمہ سے 1 4 حصّہ لے رہا تھا تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ عمر کو سلیمہ سے زید کی معرفت 1 3 × 1 4 = 1 12 حصّہ ملا ۔ عمر کو کریمہ سے 1 6 حصّہ ملا جب کہ کریمہ کو جدول نمبر ب کے مطابق سلیمہ سے 11 16 حصّہ ملا پس عمر کو سلیمہ سے کریمہ کی معرفت 1 6 × 11 16 = 11 96 حصّہ ملا اور زید کی معرفت 1 12 حصّہ ملا ۔ عمر کو عظیمہ سے کچھ بھی نہیں ملا پس سلیمہ یعنی مورث ا علیٰ سے عمرکوکل 1 12 + 11 16 = 19 96 حصّہ ملا ۔ اس طرح ہر زند ہ وارث ہر فوت شدہ وارث کے ترکہ میں جتنے کا حقدار ہے اس کو اس فوت شدہ وارث کے مورث اعلیٰ سے حاصل شدہ حصّے کے ساتھ ضرب دیں اور اس کے جواب کو اس کے نام کے سامنے ان فوت شدہ ورثاء کے ناموں کے نیچے لکھتے جائیں اور پھر سب کے حصّوں میں جتنا اس کا مجموعی حصّہ بنتا ہے وہ کل کے کالم میں لکّھا جائے تو یہ اس کا اپنے مورث اعلیٰ کے کل ترکہ میں حصّہ ہوگا۔ اس طرح اگر جداول کی مدد سے سوالات کو حل کیاجائے تو انشاء اللہ کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

    • فوت شدہ ورثاء کے ذاتی ترکہ کا حساب

        اگر فوت شدہ ورثاء کا اپنی ذاتی جائیداد بھی ہو اور اس کا حساب بھی ساتھ ہی کرنا ہو تو اس کے لئے سلیمہ کے ترکہ میں جو فوت شدہ ورثاء کا حصّہ بنتا ہو اس کا حساب کرکے ان کی ذاتی جائیداد اس میں جمع کی جائے گی جیسا کہ درج ذیل جدول میں دکھایا گیا ہے ۔ زید کو سلیمہ کے ترکہ میں سے 96000 روپے مل رہے ہیں اور اسکا ذاتی ترکہ 100000 روپے اپنا ہے دونوں ملاکر 196000 روپے بن جاتے ہیں اب زید کے جو وارث ہیں وہ صرف96000 روپے کی بجائے 196000 روپے میں حصّہ دار ہوں گے ۔ پس زید سے کریمہ کو اب 48000 کے بجائے 98000 روپے ملیں گے ۔اس طرح سب فوت شدہ ورثاء کے ذاتی ترکات کو ان کے ان حصّوں کے ساتھ جمع کیا جائے گا جو ان کو مورث اعلیٰ سے ملے ہوں گے ۔

    • زندہ ورثاء کے حصّے

        درج ذیل جدول میں جیسا دکھایا گیا ہے کہ زندہ ورثاء کو جس جس فوت شدہ وارث کے مجموعی ترکہ سے جو جو حصّہ ملتا تھا اس کا حساب اکائی کے قاعدے سے روپوں میں کیا مثلاً جدول نمبر 6 کے مطابق عمر کو زید کے ترکہ میں سے 19 96 حصّہ ملتا ہے اب چونکہ زید کا ترکہ 196000روپے ہے اس کو جب 1 3 اسکا دیا تو یہ 65333.33 روپے ہوئے ۔اس کریمہ سے عمر کو اس کے ترکے کا 1 6 حصّہ مل رہا تھا اور کریمہ کا ذاتی ترکہ ملا کر کل 464000 روپے بنتا ہے اس کا 1 6 حصّہ 77333.33روپے بنتاہے ۔ عظیمہ سے عمر کو کچھ بھی نہیں ملایعنی عمر کو کل 142666.67 روپے ملے ۔ باقی زندہ ورثاء کا حساب درج ذیل ہے۔

  • تخارج کا مسئلہ

      اگر کوئی کسی خاص چیز کے بدلے میں دوسرے وارثوں کی رضا مندی سے حصے سے دستبردار ہونا چاہتا ہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے ۔ اس کے لئے اس کے حصے میں جتنی اکائیاں آتی ہوں تمام وارثوں کی اکائیوں کے مجموعے سے تفریق کریں اور باقی ورثاء کی اکائیاں اتنی رہنے دیں جتنی تخارج سے پہلے تھیں ۔

    • مثال ۔ رشیدہ نے خاوند ، 2 بیٹیاں ، ایک حقیقی بہن اور ایک علاتی بہن وارث چھوڑے۔ اس کا خاوند مہر کے بدلے اپنے حق سے دستبردار ہورہا ہے۔ باقی ورثاء کے حصے معلوم کریں ۔

        جواب ۔ خاوند کو 6 اور بیٹیوں کو 16 سہام ذوی الفروض میں ملے جس کا مجموعہ 22 سہام بنا۔ حقیقی بہن کو باقی دو سہام عصبہ کے طور پر ملے۔ اس لئے خاوند اور حقیقی بہن کے 24 میں دو حصے بنے۔ اب خاونداپنے 6 سہام سے دستبردار ہورہا ہے۔8 یعنی ایک بیٹی کے16 ، دوبیٹیوں کو 6 میں 24کو اس لئے 24 سے 6 تفریق کیے تو جواب 18 آیا۔ پس اب ہر بیٹی کا حصہ 18 میں 8سہام ہوگا اور حقیقی بہن کے دو سہام ہوں گے۔ اگر کسی مسئلے میں رد کی ضرورت پڑجائے تو اس وقت پہلے معمول کے مطابق ہر وارث کے حصے معلوم کریں ۔ پھر معمول کے مطابق تخارج کا قاعدہ استعمال کریں مثلاً 2 بیٹیوں،ماں اور ایک بیوی میں ایک بیٹی اپنا حصّہ صوفہ سیٹ کے مقابلے میں چھوڑنا چاہتی ہے سب کے حصّے معلوم کریں ۔ کل 24 سہام میں سے دو بیٹیوں کے 16 ، ماں کے 4 اور 3 بیوی کے ہیں ۔ یہ سب ملکر 23سہام ہوئے اسلئے ایک سہام ماں اور 3 بیٹیوں پر رد کرناپڑے گا۔اس کے لئے:
        ن=16+4=20، س=24-3=21، بیٹیوں کا حصّہ = 16
        336=16x21=16xس= بیٹیوں کا حصہ
        ماں کا حصّہ=4x21=84
        بیوی کا حصّہ=3xن = 3x20=60 کل اکائیاں =24x20=480
        پس ایک بیٹی کا حصّہ =168 ،چونکہ ایک بیٹی اپنا حصّہ صوفہ سیٹ کے مقابلے میں چھوڑ رہی ہے ا س لئے اس کے سہام کل سہام سے تفریق کرتے ہیں پس 480-168=312سہام باقی بچے پس اب سب کا حصّہ اتنے سہام میں ہوگا اس لئے بیوی کو 312میں 60، ماں کو 84اور ایک بیٹی کو 168 سہام ملیں گے۔ اب ان میں سے کوئی اور بھی اپنا حصّہ چھوڑنا چاہے تو اس کے حصّے بھی اس سے نکالیں مثلاً ماں اپنا حصّہ چھوڑنا چاہے تو اس کے 84سہام بھی 312سہام سے تفریق کریں اب کل سہام یعنی 228سہام میں ایک بیٹی کو 168 اور بیوی کو 60سہام ملیں گے۔ اگر ترکہ معلوم ہو تو کل ترکہ کو کل سہام پر تقسیم کرکے جس کاحصّہ معلوم کرنا ہو اس کے سہام سے ضرب دیں ۔

  • حمل کا حصہ

      بہتر یہ ہے کہ وضع حمل تک انتظار کیا جائے تاکہ صورت حال واضح ہوجائے۔ اگر تقسیم ناگزیر ہو تو پھر ترکہ کی تقسیم دو طرح سے کی جائے ۔ ایک تو حمل کو لڑکا فرض کرکے اور دوسرا اسکو لڑکی سمجھ کر پھر موجودہ ورثاء کے حصے معلوم کریں ۔ جس تقسیم میں موجودہ ورثاء کو کم ملتا ہے اس کے مطابق ان کو حصہ دے دیں اور باقی کو وضع حمل تک محفوظ رکھیں ۔ نیز موجودہ ورثاء سے اس بات کا عہد لے لیا جائے کہ اگر کچھ واپس کرنا پڑا تو واپس کردیں گے اور کوئی شخص ان سے اس کی ضمانت بھی لے ۔ ﴿یہ طریقہ امام ابویوسف ؒ کا تجویز کردہ ہے۔ امام محمد ؒکے نزدیک دو لڑکے اور دو لڑکیوں کی فرضی صورت سے حمل کا حساب کیا جاتا ہے﴾۔ اس کی ایک مثال دی جارہی ہے جس سے انشاء اللہ بات پوری سمجھ میں آجائے گی۔

    • مثال

        کل ترکہ 24000 روپے ہے اور ورثاء میں حاملہ بیوی ، ماں ، باپ ، ایک بیٹی ، 2 حقیقی بھائی او ر 1 حقیقی بہن ہیں۔

        حمل کو پہلے لڑکا فرض کیا۔ اس صورت میں ورثاء بیوی ، ماں باپ ، ایک بیٹی ، ایک بیٹا ، 2 حقیقی بھائی او ر 1 حقیقی بہن ہیں۔اس صورت میں سہام میں بیٹے اور بیٹی کو بطور عصبات ملیں گے۔تصحیح کے بعد کل 13 ملیں گے جبکہ بقیہ 4،ماں باپ میں ہر ایک کو 3 بیوی کو ملیں گے۔ 26 اور بیٹے کو 13 بیٹی کو ،12،ماں باپ میں ہر ایک کو 9 بیوی کو سہام میں 72 اس طرح حمل کو لڑکی فرض کرنے سے ورثاء بیوی ، ماں باپ ، دو بیٹیاں، 2 حقیقی بھائی او ر 1 حقیقی بہن ہیں۔ اس صورت میں بیوی کو تین ، ماں باپ کو چار چار اور بیٹیوں کو ملکر سولہ سہام ملتے۔کل 27سہام میں ہر وارث کے سہام معلوم ہوئے۔ تقابل کے لیئے لڑکا ہونے کی صورت میں ورثاء کو جتنے سہام ملتے ہیں ان سب کو 27سے ضرب دی اور لڑکی ہونے کی صورت میں ہر وارث کے جتنے سہام بنتے ہیں ان سب کو 72سے ضرب دی تو ہر دو صورتوں میں ہر وارث کے 1944 سہام میں حصّہ معلوم کیا جس سے پتہ چلا کہ حمل اگر لڑکی ہو تو بیوی ،ماں اور باپ کے سہام بالترتیب 216،288،288بنتے ہیں جبکہ حمل لڑکا ہونے کی صورت میں یہ حصے بالترتیب بنتے ہیں جو حمل کے لڑکی ہونے کی صورت میں ان کے حصّوں سے کم ہیں پس ان کو یہی سہام دیئے جائیں گے ۔ حمل لڑکا ہونے کی 243،324،324 صورت میں لڑ کی کا حصّہ351بنتا ہے جونسبتاً کم ہے, اس کو یہی دیں گے اور باقی 801سہام کو وضع حمل تک محفوظ کریں گے پس اگر حمل لڑکی ہوئی تو بیٹی کو 225سہام اور دیں گے اور باقی ﴿بیٹی﴾ حمل کے ہوں گے اور حمل لڑکا ہوا تو بیوی کو 37، ماں کو 36 اور باپ کو 36 سہام مزید دیں گے اور702حصّے ﴿بیٹا﴾ حمل کو دیئے جائیں گے۔

  • مفقود الخبر کا حصہ

      گمشدہ شخص کو مفقود الخبر کہتے ہیں ۔ یہ جس تاریخ سے گم ہوچکا ہوتا ہے دوسروں کے مال کے حق میں مردہ اور اپنے مال کے حق میں زندہ ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کا مال اس وقت تک قابل تقسیم نہیں ہوتا جب تک اس کی موت کا حکم نہ لگے اور دوسروں کی میراث میں اس کا حصہ اس کو زندہ اور پھر مردہ فرض کرکے معلوم کیا جاتا ہے ۔ جس صورت میں دوسرے ورثاء کا حصہ کم بنتا ہو وہ ان کو دے کر باقی کو اس کی واپسی یا موت کے حکم لگنے تک محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ اگر یہ واپس آیا تو دوسروں کے مال میں اس کو زندہ فرض کرنے میں جو دوسرے ورثاء کا حصہ بنتا تھا وہ پورا کیا جائے گا اور اس کو اس صورت میں جتنا ملنا تھا دلوایا جائے گا۔ اور موت کا حکم لگا تو اگر یہ موت حکمی ہے یعنی اس کا پتہ تو نہیں چلا لیکن قرائن پر حاکم نے فیصلہ کیا تو اس کو مردہ فرض کرنے کی صورت میں مورث کے باقی ورثاء کا جتنا جتنا حصّہ بنتا تھا وہ ان کو دیا جائے گا اور اس کے اپنے ورثاء کو اس میں سے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ مفقود دوسرے کے مال میں مردہ ہوتاہے ۔ اگر یہ موت یقینی ہے یعنی یقینی طور پر تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ فلاں تاریخ کو مرگیا تھا تو پھر اس تاریخ سے اس کی موت کا حساب ہوگا جس وقت وہ مرگیا تھا ۔ جو مال یہ خود چھوڑ کر گم ہوا تھا تو اگر اس کی موت حکمی ہے تو اس کے مال میں اس کے صرف وہ ورثاء حقدار ہوں گے جو اس کی حکمی موت کے بعد زندہ تھے ۔اور جو اس کی گمشدگی اور حکمی موت کے درمیان زندہ تھے وہ اس کے ذاتی مال میں محروم قرار پائیں گے کیونکہ مفقود اپنے مال کے حق میں زندہ ہوتا ہے۔

    • مثال نمبر 1

        ورثاء میں بیوی ، ماں ، باپ اور دو بیٹیوں کے علاوہ ایک کنوارا بیٹا مفقود الخبر ہے ۔ مفقود الخبر بیٹے کا کل سرمایہ 3 لاکھ روپے منجمد پڑا تھا کہ ورثاء نے آپس میں میراث تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ۔ میت کا مال کیسے تقسیم ہوگا۔ مفقود الخبر کو زندہ/مردہ ماننے سے دو قسم کے حساب کئے گئے ہیں۔تقابل کے لئے 27اور96کا ذو اضعاف اقل معلوم کیا جو کہ 864بنتا ہے۔اس کو کل سہام فرض کرکے اس میں ہر ایک کا حصّہ دونوں صورتوں میں معلوم کیا گیا ۔اول الذکر کے لئے پہلے 864کو 27پر تقسیم کیا گیا ۔ حاصل تقسیم جو کہ 32ہے ,سے تمام ورثاء کے حصّوں کو 32سے ضرب دی گئی۔پھر 864کو 96پر تقسیم کیا گیا اور حاصل تقسیم جو کہ 9ہے ,سے سب ورثاء کے حصوں کو ضرب دی گئی۔ اگر مفقود الخبر کو فوت شدہ مانتے ہیں تو بیوی باپ اور ماں کا حصّہ مقابلتاً کم بنتا ہے ۔ جبکہ اسکے زندہ ہونے کی صورت میں بیٹی کو کم حصّہ ملتا ہے اس لئے 864میں بیوی کو تو 96، ماں کو 128، باپ کو 128 سہام دیں گے جو کہ ان کا مفقود کے فوت شدہ ہونے کی صورت میں ہے جبکہ بیٹیوں کو فی کس 864میں 117سہام دیں گے جو کہ ان کاحصّہ مفقود کے زندہ ہونے کی صورت میں ہے۔ مفقود الخبر کے لئے اس کی حکمی موت یا یقینی موت یااسکے زندہ واپس آنے کا انتظار کیا جائے گا ۔اگر زندہ گھرواپس آیا تو اس کو اس کا اپنا حصّہ دیا جائے گا اور ماں ،باپ، بیوی کو ان کا بقایا واپس کیا جائے گا اوراگر اس کی حکمی موت یا یقینی موت واقع ہوئی تو پہلی صورت پر عمل کیا جائے گا اور بیٹیوں کو ان کا بقایا دے دیا جائے گا۔اس کا اپنا تین لاکھ کا سرمایہ جو منجمد پڑا ہے اس کو اس وقت تک کوئی نہیں چھیڑے گا جب تک مفقودالخبرکی حکمی / یقینی موت یا زندگی کا پتہ نہ چلے کیونکہ اپنے مال کے حق میں اس وقت تک زندہ ہے ۔

    • مثال نمبر 2۔ مثال نمبر 1کے مفقود الخبر بیٹے کی حکمی موت کا جب پتہ چلا تو اس کی ایک بہن کچھ عرصہ پہلے وفات ہوچکی تھی جس کا صرف ایک بیٹا زندہ ہے ۔اس کے ترکے کا حساب کیسے ہوگا ۔

        چونکہ مفقود حالت گمشدگی میں دوسروں کے مال کے حق میں مردہ تھا اور اپنے مال کے حق میں زندہ اس لئے مثال نمبر 1کے فوت شدہ صورت پر عمل کیا جائے گا یعنی ہر بیٹی کو 864میں 256سہام ، ماں باپ اور بیوی کے حصّے میں تبدیلی نہیں ہوگی۔اس لئے جو بقایا مال بیٹیوں کا مثال نمبر 1کی تقسیم میں بچا تھا اس میں اس کی فوت شدہ بہن کا حصّہ اس کے واحد بیٹے کو دے دیا جائے کیونکہ ان کو ادائیگی117سہام فی کس کے حساب سے کی گئی تھی اس لئے باقی 139سہام اس کے واحد بیٹے کو دیئے جائیں گے جبکہ اس کی دوسری بہن کو بھی اتنے ہی سہام دیئے جائیں گے البتہ اس کے اپنے تین لاکھ روپوں میں اب اس کی فوت شدہ بہن کے بیٹے کا کوئی حصّہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کی ماں جومفقود کی وارث ہوسکتی تھی اس کی حکمی موت سے پہلے سدھار چکی ہے اور وہ بھانجا ہونے کے بنا پر وارث نہیں البتہ اس کے باپ کا باپ﴿ دادا﴾ ، باپ کی ماں﴿ دادی﴾، باپ کی بیوی﴿ ماں﴾ اور باپ کی بیٹی ﴿بہن﴾ میں یہ تین لاکھ روپے تقسیم ہوں گے ۔ ان میں اس کی دادی تو اس کی ماں کی موجودگی کے وجہ سے محروم ٹھہری ۔مفقود کی ماں کو مفقود کی اولاد اور اخوہ نہ ہونے کی وجہ سے 24میں 8سہام ملیں گے ۔ احناف اور حنابلہ کے نزدیک مفقود کے باپ اور اولادکی غیر موجودگی میںاس کا داداعصبہ کے طور پر باقی 16سہام کا واحد حقدار ہوگا اور اس کی بہن محروم ہوگی البتہ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک بہن دادا کے ساتھ شریک ہوگی جس کی تفصیل اخوہ مع الجد کے باب میں پڑھیئے ۔مفقود الخبر کے حکمی موت کے فیصلے کے لیئے کئی فارمولے ہیں جن میں اس کی عمر کا 70سال ، 90سال یا 120 سال کا ہونا بھی ہے لیکن زیادہ قرین قیاس اس کو سمجھا جاتا ہے کہ اس کی عمر اتنی ہوجائے جتنی اس علاقے میں معمر ترین شخص کی ہوتی ہے تاہم حاکم دوسرے قرائن کو دیکھ کر بہتر فیصلہ کرسکتا ہے۔

  • مرتد کا حکم

      مرتد اگر ارتداد پر مرجائے یا دار الحرب کے ساتھ جاملے اور قاضی اس کے الحاق کا حکم کردے یا اس کو کوئی قتل کرے تو جو دولت وہ حالت اسلام میں کما چکا ہے وہ اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گی اور جو حالت ارتداد میں کما چکا ہے وہ بیت المال میں رکھی جائے گی۔ یہ امام ابوحنیفہ ؒ کا فتوٰی ہے ۔ اور صاحبین ؒ کے نزدیک دونوں حالتو ں کا مال مسلمان ورثاء کو ملے گا ۔ اور امام شافعی ؒ کے نزدیک دونوں حالتوں کا مال بیت المال میں رکھا جائے گا۔ اور جو مال اس نے دارالحرب کے ساتھ جاملنے کے بعد کمایا ہے وہ بالا تفاق مال فئی ہے اور مرتد عورت کا مال سب کا سب بالاِتفاق مسلمان ورثاء کو ملے گا ۔ اور مرتد کسی سے میراث نہیں لے سکتے ، نہ مسلمانوں سے اور نہ اپنے جیسے مرتدین سے ۔

  • قیدی کی وراثت

      اس کا حکم عام مسلمانوں جیسا ہے ۔ وہ مسلمان قیدی جس کو حربی کافر قید کردیں اس کا حکم بھی عام مسلمانوں کا ہے جب تک وہ اپنے دین پر جما رہے ۔ خدانخواستہ دین چھوڑبیٹھے تو اس کا حکم مرتد کا ہوجائے گا۔ اور اس کا کچھ پتہ نہیں لگ رہا ہو کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ؟ تو اس کا حکم مفقود کا ہے ۔

  • مرگ انبوہ

      اگر ناگہانی طور پرکئی افراد کسی وجہ سے اکٹھے مرجائیں اور ان میں یہ فیصلہ کرنا ممکن نہ ہو کہ کون پہلے مرا تھا اور کون بعد میں تو یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ سب بیک وقت مرے تھے اور فوت شدہ اشخاص آپس میں ایک دوسرے سے میراث نہیں لیں گے اور ان کے زندہ رشتہ دار ان سب سے میراث لیں گے ۔

  • مثال

      رشید ﴿باپ ﴾ اور اس کا کنوارا بیٹا سلیم ایک ایکسیڈنٹ میں اکٹھے مرگئے ۔ رشید کی بیوی دو بیٹوں ﴿ زندہ﴾ اور ایک بیٹی میں میراث تقسیم کریں ۔ رشید کا ترکہ 12لاکھ اور سلیم کا 24000روپے تھا ۔

      رشید نے سلیم سے اور سلیم نے رشید سے میراث نہیں لی۔زندہ ورثاء نے دونوں سے حصّہ لیا۔رشید کے ترکے میں ورثاء کاحصّہ لاکھوں میں اور سلیم کے ترکے میں ہزاروں میں ہے۔

  • خنثیٰ مشکل کی میراث

      اگر کسی میں مردوں کی علامتیں غالب ہوں تو ترکہ کی تقسیم میں اس کومرد سمجھا جائے گااور اگر اس میں عورتوں کی علامتیں غالب ہوں تو اس کوعورت مانا جائے گا لیکن جس میں مردوں اور عورتوں کی علامات بیک وقت ایسی پائی جائیں کہ اس میں کسی رخ کو غالب نہ کہا جاسکے تو اس کو خنثیٰ مشکل کہتے ہیں ۔ اس حالت میں اس کو ایک دفعہ مرد تصور کیا جائے گا اور ایک دفعہ عورت ۔ اور دیکھا جائے گا کہ کس صورت میں اس کا حصہ کم بنتا ہے ۔ گویا کہ یہ صورت مفقود الخبر اور حمل کا عکس ہے ۔اس کے حصے کے تعین میں اس کی بات نہیں مانی جائے گی کہ وہ خود کو کیا سمجھتا ہے بلکہ حاکم کا فیصلہ نافذ ہوگا ۔

    • مثال ۔ فہیم نے اپنے پیچھے ایک بیوی ، ماں ، باپ ، ایک حقیقی بھائی اور ایک خنثیٰ مشکل ﴿بیٹا / بیٹی ﴾ چھوڑے۔ ان میں اس کا ترکہ 48000 روپے کیسے تقسیم ہوگا ؟

        اگر خنثیٰ کوبیٹاتصور کرتے ہیں تو بیوی کو 6000 ماںکو 8000 باپ کو 8000 اور خنثیٰ مشکل کو 26000 روپے ملتے ہیں اور ااگر اس کو بیٹی فرض کرتے ہیں توبیوی اور ماں باپ کے حصّے میں تو کوئی تبدیلی نہیں آتی لیکن اس کا حصہ 24000 روپے رہ جاتا ہے اور اور فہیم کے حقیقی بھائی کو 1000 روپے ملتے ہیں۔ چونکہ دوسری صورت میں اس کا حصہ کم بنتا ہے اس لئے اس کے حق میں یہی نافذ کیا جائے گا ۔

  • وراثت سے دستبرداری

      اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنی وراثت سے دستبردار ہونا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے ۔ لیکن اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ وارث اپنے حصے پر باقاعدہ قبضہ کرے مثلاً زمین کا انتقال وغیرہ کرالے ۔ اس کے بعد جس کو بخشنا چاہے اس کو اس کا انتقال کردے ۔ اس میں کئی مصلحتیں ہیں جن کا خیال نہ رکھنے سے بعض اوقات بہت مشکلات واقع ہوجاتی ہیں ۔ آجکل جو بہنوں بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا جاتا اس کے لئے ایسا ماحول بنایا گیا ہے کہ بہنوں کے لئے سوائے نہ لینے کے اور کوئی گنجائش چھوڑی نہیں جاتی ۔ ایسی صورت میں ان کا حصہ لینے سے انکار معتبر نہیں ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ پہلے ان کو ان کا مال قبضے میں دینا چاہیئے۔ ایک سال اس کو استعمال کرنے کے بعد اگر اپنی مرضی سے پھر کسی کو اپنا حصہ دینا چاہیں تو بیشک دے دیں ۔ بعض لوگ ان کو کچھ اور چیزوں کے ذریعے بہلا کر ان سے ان کا حصّہ وصول کرلیتے ہیں اس وقت وہ بظاہر ان کی مرضی سے ہوتا ہے لیکن یہ مرضی اس وجہ سے ہے کہ ان کو حقیقت حال سے بے خبر رکھا گیا ہے ۔کیا کوئی سودے کا عیب نہ بتائے اور گاہک اپنی مرضی سے اس کو صحیح سمجھ کر لے تویہ دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہی حال اس مسئلے میںبھی ہے اللہ تعالیٰ سب کو صحیح فہم نصیب فرمائے۔ آمین۔ اختلافیات

  • اختلافیات

      اختلاف امتی رحمۃ ﴿ میری امت کا اختلاف رحمت ہے ﴾ کے پیش نظر ہمیں اختلاف کا مفہوم سمجھنا چاہیے کیونکہ اس میں غلطی بعض اوقات بہت مہنگی پڑتی ہے ۔ اس کی دو انتہائیں ہیں ۔ ایک یہ کہ سرے سے دوسروں کی تحقیق پر بھروسہ ہی نہ کیا جائے اور اپنی غلط تحقیق کی بنیاد پر بڑے بڑے اکابر جن کی عمریں اس میں گزری ہوتی ہیں اور جن کے تقویٰ کی ایک دنیا قسم کھارہی ہوتی ہے ان کی تحقیقات سے صرف نظر کیا جائے اور دوسری انتہا یہ ہے کہ ایسی تقلید کی جائے کہ کوئی اپنے امام کی تقلید کے علاوہ دوسرے آئمہ کی تحقیقات کے غلط ہونے کا یقین کرکے ان کی تغلیط اور تنقیص کے درپے ہوجائے ۔ بلا شبہ اکابر نے تقلید کا یہ مطلب ہرگز نہیں بتایا ۔ خود آئمہ کرام اپنی تحقیقات پر لرزہ بہ اندام ہوتے تھے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ارشاد ’’ من سرہ ان یقتحم جھنم فلیقض بین الجد والاخوہ ‘‘ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اکابر ان فیصلوں کو کیا سمجھتے تھے ۔ حضرت عمر ؓ آخر وقت تک ان معاملات میں اپنے فیصلوں پر ڈرتے تھے ۔ تقلید کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی معتمد پر بھروسہ کرکے اپنے نفس کے شر سے محفوظ ہوجائے بالخصوص جب فیصلہ مالی امور کا ہو کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ ایمان کو داؤ پر لگاسکتے ہیں ۔ اس مقصد کے پیش نظر اس کتاب میں چاروں فقہوں کے قاعدے دیے گئے ہیں کہ جو جس امام کا پیروکار ہو اپنے لئے حکم معلوم کرکے اس پر عمل کرسکے ۔ایک مسئلہ میں کسی ایک فقہ اور کسی دوسرے معاملے میں دوسرے کو لینا فتنے کو دعوت دینا ہے کیونکہ ان ترجیحات کا منشاء اگر نفس کی چاہت کو پورا کرنا ہو تو یہ صراحتاً ضلالت اور گمراہی ہوگا ۔ ہر فقہ کی بنیاد قرآن و سنت ہے اس لئیے کسی کا یہ کہنا کہ کسی خاص کا پیروکار ہونا سنت کی مخالفت ہے بالکل حماقت ہے ۔ ہاں اگر کوئی خود تقلیدچھوڑتا ہے تو یہ اس کا اللہ کے ساتھ معاملہ ہے اس پر اس کے ساتھ بحث کرنا تصنیع اوقات ہے ۔ علم المیراث میں اختلاف بہت کم ہیں کیونکہ اس کے اکثر اصولوں کا ماخذ قرآن کریم اور اجماع ہے ۔ جہاں احادیث شریفہ کی تطبیق میں آئمہ کرام کا اختلاف ہو وہاں کچھ اختلاف ہے ۔ جس کا لب لباب درج ذیل ہے ۔

  • ذوی الفروض اور عصبات میں اختلاف

      1۔ باپ دادا کا دادی کے حاجب ہونے میں اختلاف: احناف ، مالکیہ اور شوافع کے نزدیک جدات صحیحہ کو ان کا میت کے ساتھ کوئی ذوی الفروض واسطہ محروم کرسکتا ہے یعنی ماں باپ دادا وغیرہ جبکہ حنابلہ کے راجح قول کے مطابق صرف ماں ہی جدات کو محروم کرسکتی ہے اور کوئی نہیں ۔ پس ان کے نزدیک باپ دادا کی موجودگی میں ابوی جدات محروم نہیں ہوتیں اور باقی آئمہ کے نزدیک ہوتی ہیں ۔
      2۔ اخوہ مع الجد ۔ احناف اور حنابلہ کے مفتٰی بہ اقوال کے مطابق جد کی موجودگی میں حقیقی اور علاتی بہن بھائی بھی محروم ہیں ۔ شوافع و مالکیہ ان کو جد کے ساتھ شریک مانتے ہیں ۔ اسکی تفصیل کیلئے اخوہ مع الجد کے باب کا مطالعہ بہتر رہے گا ۔
      3۔ مسئلہ مشترکہ میں اخیافی بھائیوں کی موجودگی میں حقیقی بھائی محروم ہوتے ہیں ۔ اس میں حنابلہ اور احناف کے ہاں حقیقی بھائی حسب قاعدہ محروم ہوتے ہیں لیکن شوافع اور مالکیہ ان کو اخیافی بہن بھائیوں کے ساتھ ثلث میں اخیافیوں کے طریقے پر شریک کردیتے ہیں ۔
      4۔ رد کے مسئلے میں حضرت زید بن ثابت ؓ کا قول ہے کہ جن وارثوں کا حصہ ازروئے شریعت مقرر ہے ان کو ان کا وہی حصہ دے دیا جائے اور جو بچ جائے وہ بیت المال میں رکھا جائے اور اسی پر امام مالکؒ ، امام شافعی ؒ امام اوزاعی ؒ اور داؤد ظاہری کا فتویٰ ہے لیکن دوسرے اکابر صحا بہؓ نے ان کا قول نہیں لیا اس لئے احناف اور حنابلہ رد کے قائل ہوئے تاہم بعد میں شوافع اور مالکیہ کے متاخرین نے بیت المال کا صحیح انتظام نہیں ہونے کی وجہ سے احناف کے طریقہ پر رد کافتوٰی دیا ہے ۔
      جو حضرات رد کے قائل ہیں ان کے ہاں پھر تین قول ہیں ۔
      الف ۔ سوائے میاں / بیوی کے سب پر رد کیا جائے ۔ یہ امام ابو حنیفہ ؒ کا مسلک ہے ۔
      ب۔ میاں / بیوی پر بھی رد کیا جاسکتا ہے ۔ یہ قول حضرت عثمانؓ کا ہے لیکن اس پر کسی کا عمل نہیں ہے ۔
      ج۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی ایک روایت ہے کہ چھ وارثوں کے سوا سارے ذو ی الفروض پر رد کیا جائے اور وہ یہ ہیں ۔ خاوند ، بیوی ، بیٹی کی موجودگی میں پوتی ، حقیقی بہن کی موجودگی میں سوتیلی بہن ، ماں کی موجودگی میں ماں کی اولاد ، کسی بھی ذوی الفروض کی موجودگی میں دادی ۔ اسی پر امام احمد بن حنبل ؒ کا فتویٰ ہے ۔
      عصبات کے لئے صفحہ نمبر 25 پر دیا ہوا شجرہ عصبات سب کے لئے کافی ہے ۔ اس میں داداؤں اور بہن بھائیوں کو شیڈ میں دکھایا گیا ہے کیونکہ یہ سب شوافع اور مالکیہ کے نزدیک آپس میں شریک ہوتے ہیں البتہ سب کے کوڈ نمبر علیحدہ علیحدہ اس لیئے دئیے ہوئے ہیں کہ اگر صرف کئی دادا موجود ہوں یا صرف بہن بھائی موجود ہوں تو ان کے آپس میں راجح موجوح کا پتہ چل سکے ۔ اس کی تفصیل اخوہ مع الجد کے باب میں پڑھیئے۔

  • ذوی الارحام میں اختلاف

      شوافع اور مالکیہ کے نزدیک ذوی الارحام پر بیت المال المسلمین مقدم ہے لیکن ان کے متاخرین نے بیت المال کو غیر منتظم قرار دے کر ذوی الارحام کو مستحق قرار دیا البتہ ذوی الارحام کے مسائل کو حل کرنے میں نہ صرف حنابلہ اور احناف کے درمیان اختلاف ہے بلکہ احناف میں بھی امام ابو یوسف ؒ کا طریقہ امام محمدؒ کے طریقے سے مختلف ہے ۔ اس کی تفصیل آپ ذوی الارحام کے باب میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

    • مثال

        ایک میت نے بیوی ، دادا ، پردادی ، دو حقیقی بھائی ، ایک علاتی بھائی اور حقیقی بہن وارث چھوڑے۔ چاروں فقہوں میں ان کے حصےّ معلوم کریں ۔

        ذوی الفروض کے جدول سے احناف کے مطابق ذوی الفروض کے حصے نکالے تو پتہ چلا کہ پردادی محروم ہے کیونکہ دادموجود ہے جو اس کا بیٹا ہے ۔ بیوی کو 6 سہام دیے گئے کیونکہ میت کی اولاد موجود نہیں ۔ احناف کے نزدیک چونکہ دادا کی موجودگی میں ہرقسم کے بھائی محروم ہوتے ہیں اس لئے اس کو باقی 18 سہام دیے گئے جس میں 4 اس کے ذوی الفروض میں ہونے کی وجہ سے ہیں اور 14 اس کے بطور عصبہ ہونے کے ہیں ۔ ذوی الفروض کے جدول سے شوافع اور مالکیہ کے مطابق ذوی الفروض کے حصے نکالے تو پتہ یہ چلا کہ یہاں بھی پردادی دادا کی موجودگی میں محروم ہے ۔ پس بیوی کے 6 سہام 24 میں سے نکالے تو باقی 18 رہ گئے ۔ ان 18 سہام میں دادا کے ساتھ بہن بھائی شریک ہوں گے کیونکہ شوافع اور مالکیہ کے ہاں اخوہ مع الجد کا اعتبار ہے ۔ اس صور ت میں مقاسمہ کی صورت میں جد کو 4 سہا م ملے جو کہ ثلث مابقی 6 سہام سے کم ہیں ۔ اس لئے جد کو ثلث مابقی 6 سہام دینے کے بعد باقی 12 سہام میں حقیقی بہن بھائیوں کو آپس میں شریک کیا جائے گا ۔ پس حقیقی بہن 12 5 اور حقیقی بھائی کو 24 5 سہام دیئے جائیں گے اور علاتی بھائی حقیقی بھائیوں کے مقابلے میں محروم ہیں ۔ ذوی الفروض کے جدول سے حنابلہ کے مطابق ذوی الفروض کے حصے نکالے تو پتہ چلا کہ ان کے ہا ں پردادی دادا کے سامنے محروم نہیں ۔ اس لئے بیوی کے 6 اور پردادی کے 4 حصے نکال کر باقی 14 اکائیاں دادا کو ملیں گی جس میں 4 بطور فرض اور10 بطور عصبہ ہوں گی۔ اس سوال میں دادا کو سب سے زیادہ حصہ احناف سے ملا پھر حنابلہ سے پھر مالکیہ اور شوافع سے ۔ خطرے کی بات یہ ہے کہ دادا جان اگر پہلے حنفی نہیں تھے اور صرف انہوں نے اس وقت فقہ حنفی اختیار کیا تو بقول علمائے کرام ان کے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے کیونکہ ایک دنیا وی فائدے کے لئے اپنے مسلک کو بدلنا دل کے ایک زبردست روحانی روگ کو ظاہر کررہا ہے جو موت کے وقت اس کے ایمان کو ڈبونے میں شیطان کے استعمال میں آسکتا ہے ۔ پہلے وقتوں میں ایک صاحب نے فقہ شافعی کو صرف اس لئے اختیار کیا تھا کہ وہ شوافع میں شادی کرنے کا خواہاں تھا ۔ تو اگرچہ شادی ایک جائز ضرورت ہے اور سنت ہے ۔ لیکن اس کے ہم عصر علماء نے کہا ہے کہ اس آدمی کے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے کیونکہ اس نے تحقیق کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک دنیا وی فائدے کے لئے ایک حق فقہ کو ترک کیا جس کا وبال اس کی گردن پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے امتحان میں نہ ڈالے اور کوشش یہ کرنی چاہیے کہ احتیاط کا دامن پکڑ کر محفوظ راستہ اختیار کریں اور عاجلہ کو آجلہ پر ترجیح نہ دیں کہ قرآن پاک میں ’’کلَّابل تحبون العاجلۃ و تذرون الآخرۃ ‘‘ میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔اصول ایسی صورت حال میں یہ بتایاجاتا کہ میت کا جو مسلک ہے اس پر سب ورثاء کو حصّے دلوائے جائیں۔

  • اخوہ مع الجد

      جد سے مراد جد حقیقی ہے ۔باپ کی غیر موجودگی میں اور اولاد کی موجودگی میں جد کا ذوی الفروض میں ایک سدس بنتا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف اس وقت ہوتا ہے کہ ذوی الفروض سے باپ / جد کا حصّہ نکالنے کے بعد بھی جو کچھ بچ جائے تو باپ تو اس میں بلا شرکت غیرے متفقہ طور پر مالک بنتا ہے یعنی جو باقی بچتا ہے وہ یہ سب کچھ واحد عصبہ کے طور پر حاصل کرلیتا ہے لیکن جد کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ کے نزدیک اس کے ساتھ باقی مال میں اخوہ یعنی بہن بھائی شریک ہوسکتے ہیں جس کی تفصیل یہاں دی جارہی ہے ۔ حضر ت ابو بکر صدیق ؓ اور آپ ؓ کے متبعین کی روایت ہے کہ ہر قسم کے بہن / بھائی دادا کی موجودگی میں محروم رہتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہ ؒ کا مذھب ہے اور اسی پر احناف کا فتویٰ ہے لیکن حضرت زید بن ثابت ؓ ،حضرت علی ؓ اور حضرت عبد اللہؓ بن مسعود کے نزدیک حقیقی اور علاتی بہن / بھائی دادا کی موجودگی میں محروم نہیں ہوتے اور یہی صاحبین کا قول ہے۔ امام شافعی ؒ اور امام مالک ؒ بھی صاحبین کے ساتھ ہیں ۔ شجرہ عصبات میں اس لئے حقیقی بہن بھائیوں اور داداؤں کو ایک ہی شیڈ میں دکھایا گیا ہے تاکہ جن آئمہ کے نزدیک شراکت اخوہ مع الجد ضروری ہے، ان کے متبعین کو اس کی پہلے سے اطلاع ہو البتہ دادا موجود نہ ہو تو حقیقیوں اور علاتیوں میں پہلے حقیقیوں کا اور بعد میں علاتیوں کا نمبر دکھایا گیا ہے ۔ اخوہ مع الجد کے مذکور ہ قائلین میں پھر تقسیم کے طریقوں میں بھی اختلاف ہے ۔

    • حضرت علی ؓ کا طریقہ

        جد کے لئے تین قسم کے احوال کا عتبار ہوگا ۔ اگر جد کو ذوی الفروض میں حصّہ نہیں مل سکتا یعنی میت کی اولاد نہ ہو تو اگر میت کے بہن بھائی موجود ہوں تو وہ ان کے ساتھ عصبہ بنے گا اور ان کے ساتھ مقاسمہ میں اپنا حصّہ اس طرح لے گا کہ وہ ایک بھائی کے طور پر حصّہ دار ہوگا ۔ اس صورت میں اگر اس کا حصّہ ایک سد س سے کم ہورہا ہو تو اس کو ایک سدس دیا جائے گا باقی بہن بھائیوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ یاد رہے کہ حقیقی بھائیوں کی موجودگی میں علاتی بہن بھائی یکسر محروم ہوتے ہیں اور حقیقی بہنیں ان کے ساتھ عصبہ بنتی ہیں جبکہ علاتی بھائی حقیقی بہن کو اس کے قرآنی حصّے سے محروم نہیں کرسکتے ۔ اگر جد کے ساتھ اخوہ میں صرف حقیقی بہنیں یا صرف علاتی بہنیں ہوں تو ان کو ذوی الفروض کے قاعدے کے مطابق ان کا حصّہ دیا جائے گا اور دادا ان کو اپنا حصّہ لینے سے محروم نہیں کرے گا ۔

    • حضرت زیدؓ بن ثابت کا طریقہ

        آپ کے نزدیک دادا اخوہ کی موجودگی میں عصبہ بنتا ہے اور وہ ذوی الفروض میں حصّہ نہیں لے سکے گا ۔ دوسرے ذوی الفروض کی موجودگی میں تین امور میں سے جو ان کے حق میں بہتر ہوگا اختیار کیا جائے گا ۔ وہ تین امور درج ذیل ہیں ۔
        -1۔ دادا کو ایک بھائی سمجھتے ہوئے مقاسمہ ۔
        2 ۔ دوسرے اصحاب الفروض جب اپنا اپنا حصہ لے لیں تو باقی کا تہائی ۔
        3 ۔ کل مال کا چھٹا ۔
        اگر ذوی الفروض میں کوئی نہ ہو تو نمبر 2 میں دادا کے لئے کل مال کی تہائی کا حساب کیا جائے گا۔ اس صورت میں نمبر 3 یعنی کل مال کا چھٹا حساب سے خارج ہوجائے گا کیونکہ یہ تہائی کے مقابلے میں کم ہی ہے۔
        دادا کو ایک بھائی قرار دیتے وقت علاتی بہن /بھائی حساب میں شامل کیے جائیں گے لیکن دادا کو حصہ دینے کے بعد ان کا اپنے حقیقی بہن بھائیوں سے الگ معارضہ ہوگا ۔ حقیقی بھائی کی موجودگی میں علاتی بہن بھائیوں کو کچھ بھی نہیں ملتا کیونکہ حقیقی بھائی عصبہ ہیں اور عصبہ اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑتا اور ان میں جو ترتیب میں پہلے آئے سارا مال وہی لیتا ہے گویا کہ اس صورت میں علاتیوں نے اپنے حق میں تو کچھ نہیں کیا لیکن حقیقی بھائیوں کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا اور یہی یہاں مقصود تھا البتہ حقیقی بہن کے ساتھ حقیقی بھائی موجودنہ ہوں لیکن علاتی موجود ہوں تو اس کو نصف دینے کے بعد اگر کچھ بچتا ہے تو وہ علاتیوں کو دیا جائے گا مثلاً دادا کے ساتھ ایک حقیقی بہن اور دو علاتی بہنیں جمع ہوگئیں تو اب دادا کو ایک بھائی اگر مانتے ہیں تو کل ایک بھائی اور تین بہنیں اس حساب سے بھائی کو دو اور ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے تو کل پانچ حصے ہوگئے جن میں دو دادا کے تین تینوں بہنوں کے پس دادا کا اس طرح حصہ کل کا 2 5 بنا جو کہ 1 3 سے زیادہ ہے اس لئے اس کو 2/5 دیا جائے گا ۔ باقی رہ گیا 3 5 اس میں سے 1 2 حقیقی بہن کو دیا گیا تو صرف 1 10 علاتیوں کے لئے باقی بچا جسے وہ دونوں آپس میں تقسیم کرلیں گی ۔ فرض کریں دو علاتی بہنوں کے بجائے صرف ایک علاتی بہن ہے تو اب ایک بھائی کے ساتھ دو بہنیں ہیں ۔ دادا جو اس وقت بھائی ہے نے دو بہنوں کی موجودگی میں 1 2 لے لیا ۔ باقی رہ گیا 1 2 ۔ اس پر علاتی بہن اور حقیقی بہن کا معارضہ ہے ۔ ذوی الفروض کے معروف قاعدے کے مطابق اگر بہن ایک ہو تو اس کو 1 2 ملتا ہے اور یہاں باقی 1 2 ہی ہے ۔ اس لئے یہ تو حقیقی بہن کو مل گیا اور علاتی بہن محروم رہ گئی ۔

    • حضرت عبدللہ بن مسعود ؓ کا طریقہ

        یہ طریقہ مندرجہ بالا دونوں طریقوں کی اوسط ہے ۔ پس اگر جد کے ساتھ صرف اخوات ہوں تو حضرت علیؓ کرم اللہ وجہ کے طریقے پر عمل کیا جائے گا ۔ اگر جد کے ساتھ صرف اخوہ ہوں تو ان کا جد کے ساتھ مقاسمہ ہوگا اور اگر اخوہ کے ساتھ اور ذوی الفروض بھی ہوں تو پھر حضرت زید ؓبن ثابت کے طریقے پر عمل ہوگا ۔

  • مالکیہ اور شوافع کا عمل

      احناف اور حنابلہ تو اخوہ مع الجد کے قائل ہی نہیں شوافع حضرت زیدؓ بن ثابت کے طریقے پر عمل کرتے ہیں ۔ مالکیہ عام طور پر تو حضرت زید ؓبن ثابت کے قاعدے پر عمل کرتے ہیں لیکن دو صورتوں میں مالکیہ اس اصول سے انحراف کرتے ہیں ۔
      -1 جب میت کا شوہر ، ماں ، ایک سے زیادہ اخیافی بہن بھائی ، علاتی بھائی اور جد موجود ہو تو شوہر کو نصف ، ماں کو سدس اور جد کو ثلث ملے گا کیونکہ اخیافی بہن بھائیوں کو جد کی موجودگی نے محروم کیا ورنہ وہ ثلث﴿ 1 3 ﴾ لے کر پیچھے کچھ نہ چھوڑتے ۔ اس لئے علاتی بھائی جو ذوی الفروض بھی نہیں ان کی محرومی کے بعد کہاں حصّہ پاسکتے ہیں اس لئے اخیافیوں کی محرومی کا فائدہ صرف جد کوملنا چاہیئے ۔ -2 جب میت کا شوہر ، ماں ، ایک سے زیادہ اخیافی بہن بھائی ، حقیقی بھائی اور جد موجود ہوں تو بھی شوہر کو نصف ، ماں کو سد س اور جد کو ثلث ملے گا کیونکہ اخیافی بھائیوں کو یہاں بھی جد نے ہی محروم کیا ورنہ وہ حقیقی بھائیوں کے ساتھ مسئلہ حماریہ کے مطابق شریک ہوتے اب اگر وہ محروم ہیں تو چونکہ مسئلہ حماریہ میں حقیقی بھائی ان کے ساتھ برابر کے شریک ہوتے تو اب محرومی میں بھی ان کے ساتھ ان کو شریک ہونا چاہیئے۔

  • جد کے لئے کیا بہتر ہے ؟

      اگر خاوند ، بھائی اور دادا رہ جائیں یا جد اور بہن رہ جائیں یا جد ا ور دو بہنیں رہ جائیں یا جد اور تین بہنیں یا جد اور بھائی رہ جائیں یا جد ، ایک بھائی اور ایک بہن رہ جائیں تو اس میں فیصلہ مقاسمہ پر ہوگا کیونکہ یہ جد کے لئے یہی بہتر ہے ۔ اگر میت کا جد دو بھائی اور ایک بہن رہ جائیں یا جد اور تین یا تین سے زیادہ بھائی رہ جائیں یا جد ، دو بھائی اور دو بہنیں رہ جائیں یا جد اور پانچ یا پانچ سے زیادہ بہنیں رہ جائیں تو فیصلہ ثلث ما بقی پر ہوگا کیونکہ اس صورت میں جد کے لئے یہی بہتر ہے ۔ بیٹی اور دو بھائی رہ جائیں یا جد ، جدہ ، بیٹی اور تین بہنیں رہ جائیں یا خاوند ، جد اور پانچ بیٹیاں رہ جائیں تو جد کو سارے مال کا چھٹا دینا پڑے گا کیونکہ یہی اس کے حق میں بہتر ہے ۔

  • مسئلہ اکدریہ

      حضرت زید ؓبن ثابت کے لئے اس مسئلے کاحل کافی مشکل ہوگیا تھا ۔ اس میں میت نے خاوند ، ماں ، جد اور ایک بہن چھوڑے تھے ۔ پس معمول کے قاعدے کے مطابق خاوند کو 12 ، ماں کو 8 اور جد کو 4 اکائیاں ملیں ﴿جد کو 4 اکائیوںسے کم نہیں مل سکتیں ﴾ پس حقیقی بہن محروم ہو گئی ۔ اس مسئلے کے حل کے لئے حضرت زید بن ثابت ؓ نے بطریقہ ذوی الفروض حقیقی بہن کو 12 سہام دیئے تو کل 36 سہام ہوئے گویا عول کے طور پر خاوند کو 36 میں سے12 اور ماں کو 8 سہام ملے ۔ باقی 16 سہام میں جد اور حقیقی بہن میں للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق جد کو 32 3 اور حقیقی بہن کو 16 3 اکائیاں ملیں ۔ تصحیح کے بعد خاوند کو 36ماں کو 24،جد کو 32اورحقیقی بہن کو 16 سہام ملے ۔اختصار کے بعد خاوندکے حصّہ میں 9، ماں کے 6،جد کے8اور حقیقی بہن کے 4سہام آئے۔

  • حل شدہ سوالات
    • سوال نمبر 1

        18،12، 8 اور 4کا ذو اضعاف اقل معلوم کریں

        پہلے سب کو 2 پرتقسیم کیا کیونکہ اس پر تمام اعداد تقسیم ہوسکتے ہیں ۔اس سے جو اعداد حاصل ہوئے ان میں 6،4اور 2کو 2پر تقسیم کیا کیونکہ یہی 2پرتقسیم ہوسکتے تھے اور 9 کوجوں کا توں برقرار رکھا کیونکہ یہ 2پر تقسیم نہیں ہوسکتا تھا۔بعد ازاں 9اور 3کو3پر تقسیم کیا کیونکہ یہی 3پر تقسیم ہوسکتے تھے تاہم 2ناقابل تقسیم ہونے کی وجہ سے ویسے ہی رہا ۔آخر میں حاصل شدہ 3،1، 2اور 1 کے حاصل ضرب کو تقسیم کنندہ اعداد2،2اور 3 کے حاصل ضرب سے ضرب دی ۔ان سب کا جواب 2x2x3x3x1x2x1=72 آیا جو کہ ان اعداد کا ذو اضعاف اقل ہے ۔ پرانے قواعد کے حساب سے یوں کہا جائے گا کہ 2سارے اعداد کا وفق ہے اس لیئے سب کو اس پر تقسیم کیا اور اس سے حاصل شدہ نمبروں میں 6، 4اور 2کا وفق 2ہے اس لیئے ان کو 2 پر تقسیم کیا ۔ 9جوں کا توں رہا ۔اس کے بعد 9اور 3کا وفق چونکہ 3ہے اس پر سب کو تقسیم کیا اور 2یوں ہی رہا ۔بعد ازاں تقسیم کنندگان نمبروں اور آخری حاصل شدہ نمبر وں کو آپس میں ضرب دی تو جواب 72آیا جو کہ ان سب کا ذو اضعاف اقل ہے۔

    • سوال نمبر 2

        ورثاء خاوند، حقیقی بہن اور میت کا قاتل ایک حقیقی بھائی۔

        جواب ۔ خاوند کو 24 میں 12 سہام ملے،بھائی میت کا قاتل ہے اس لئے وہ نہ صرف محروم ہے بلکہ سرے سے کالعدم ہے یعنی جیسا کہ ہے ہی نہیں اس لئے حقیقی بہن اس کی وجہ سے عصبہ نہیں بنے گی بلکہ ذوی الفروض رہے گی اس طرح اس کو بھی 12سہام مل جائیں گے خاوند اور حقیقی بہن کے سہام کا مجموعہ 24 آیا پس اس میں مزید تبدیلی کی ضرورت نہیں یہی جواب ہے ۔ ویسے اس کو مزید مختصر کرنے کی لیئے 12 پر دونوں کو تقسیم کیا تو خاوند کو 1 اور حقیقی بہن کو بھی 1 سہام ملے گا اور ان دونوں کے سہام کا مجموعہ اب 2 ہوجائے گا۔یہی فرق ہے محجوب اور محروم میں ۔ محجوب حصّہ تو نہیں لیتا لیکن کسی اور کے حصّہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے جیسے اخوہ گو کہ خود اولاد کی موجودگی میں حصّہ نہیں لے سکتے لیکن ماں کے حصّے کو ثلث سے سدس بنالیتے ہیں جب کہ میت کا قاتل نہ صرف یہ کہ خود محروم ہوا بلکہ اپنی بہن کے حصّے پر اثر انداز بھی نہیں ہوسکا ۔

    • سوال نمبر 3

        ورثاء بیوی، باپ، ماں اور 2 بیٹیاں جن میں ایک مفقود الخبر ہے۔

        جواب ۔ چونکہ میت کی اولاد موجود ہے اس لئے 24 سہام میں بیوی کو 3، ماں کو 4اور باپ کو بھی 4 سہام ملیں گے ۔مفقود الخبر کے قاعدے سے پہلے مفقود الخبر بیٹی کو زندہ فرض کرکے سب کے حصّے معلوم کریں گے بعد میں اس کو مردہ فرض کرکے سب کے حصّے معلوم کریں جس صورت میں ورثاء کا حصّہ کم بنتا ہے وہ ان کو دیں گے باقی کو مفقود الخبر کے فیصلے تک محفوظ کریں گے۔ پہلی صورت میں ورثاء بیوی ،باپ، ماں اور ایک بیٹی ہیں پس بیوی کو 3، ماں کو 4،باپ کو بھی 4،اور ایک بیٹی کو 12ملے ۔ان کے سہام کا مجموعہ 23ہے اس لئے باقی بچا ہوا ایک سہام بھی باپ کو بطور عصبہ دیں گے جس سے باپ کے کل پانچ سہام ہوجائیں گے۔ اگر مفقود کو زند ہ فرض کیا جائے تو بیٹیاں دو ہوجائیں گی ۔اس صورت میں بیوی کو 3، ماں کو 4،ہر بیٹی کو 8اور باپ کو 4سہام ملے مجموعہ سب کا 27 ہوا۔ اصولاً اب ورثاء کو جس طریقے میں کم سہام ملتے ہیں وہ ان کو دینے ہیں ۔تقابل کے لئے دونوں صورتوں میں ان کے حاصل شدہ سہام کو 27 اور 24 کے ذواضعاف اقل ،جو کہ 216ہے،سے ضرب دے کر ان کے اس خاص صورت میں مجموعہ پر تقسیم کریں گے ۔ پہلی صورت کے تمام سہام کو 24پر تقسیم کرکے 216 سے ضرب دی تو 216سہام میں بیوی کے 27،ماں کے 36، باپ کے 45اور بیٹی کے 108سہام آئے ۔ دوسری صورت میں تمام سہام کو 27 پرتقسیم کرکے 216سے ضرب دی تو بیوی کے 24، باپ کے 32، ماں کے 32 اور ہر بیٹی کے 72 سہام آئے ۔ پس بیوی کو 24،ماں باپ میں ہر ایک کو 32اور بیٹی کو 72 سہام دیں گے اور باقی سہام کو مفقود کے فیصلے تک محفوظ رکھیں گے۔

    • سوال نمبر 4

        ورثا ء دو بیویاں ، تین بیٹیاں اور ایک علاتی بہن۔

        چونکہ میت کی اولاد موجود ہے اس لئے دونوں بیویوں کو مشترکہ طور پر 24 سہام میںسے 3 سہام ملیں گے ۔ اور چونکہ بیٹے نہیں ہیں اس لئے بیٹیاں ذوی الفروض ہیں اور ان کو مشترکہ طور پر 24سہام میں 16سہام ملیں گے ۔ اولاد کی موجودگی میں علاتی بہن ذوی الفروض میں محروم ہے۔ ذوی الفروض کے سہام کا مجموعہ 19= 3 + 16 = سہام آیا جو کہ 24 سے کم ہے پس ان میں سے جو 5 سہام باقی رہ گئے وہ عصبات کو دیئے جائیں گے ۔ علاتی بہن اولاد ، اجداد صحیحہ اور حقیقی بہن بھائیوں کی غیر موجودگی میں عصبہ بن سکتی ہے اس لیئے اس کو یہ باقی 5 حصّے دیئے جائیں گے ۔ چونکہ بیویوں اور بیٹیوں میں فی کس حصّہ کسر میں آرہا ہے اس لئے ان کی تصحیح کرنی پڑے گی۔اس کے لئے ان کے کسور کا ذو اضعاف اقل معلوم کیا تو 3اور 2کا ذو اضعاف اقل 6آیا۔پس اس سے سب کے سہام فی کس کو ضرب دی تو بیوی کا حصّہ9=6x3/2 سہام، ہر بیٹی کا حصّہ 32=6x16/3 اور علاتی بہن کا حصّہ30=6x5 معلوم ہوا۔

    • سوال نمبر 5۔

        ذا سے مراد ذوی الارحام ہے ۔عصبات کی موجودگی میں ذوی الارحام محروم ہیں۔سب کے سہام اپنی تعدادوں پر قابل تقسیم ہیں اس لئے تصحیح کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

    • سوال نمبر 6۔

        کل جائدباد =96کنال نوٹ :- اس کے بعد سوالات کے حل میں تفصیل نہیں دی جائے گی۔ اکائی کے قاعدے سے جائد اد تقسیم کی تو جائیداد فی کس معلوم ہوئی۔

    • سوال نمبر 7۔

        سہام کا مجموعہ چونکہ 24سے بڑھ گیا ہے اس لئے یہ مسئلہ عول کا ہے ۔ فی کس سہام معلوم کرنے کے بعد عمل اختصار کیا گیا ہے ۔

    • سوال نمبر8۔

        سوتیلی ماں کا حمل علاتی بہن/بھائی ہوسکتا ہے علاتی بہن علاتی بھائی کی غیر موجودگی میں دو حقیقی بہنوں کے ساتھ عصبات میں محروم ہوتی ہے پس حمل اگر لڑکا ہوگا تو حقیقی بہنوں کو کم حصّہ یعنی 8سہام فی بہن ملے گا ،بیوی کا حصّہ دونوں صورتوں میں یکساں ہے اس لئے یہی سہام حمل کی وضع تک تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔

    • سوال نمبر 9 ۔

        ماں کا حصّہ 4سہام اس لیئے ہے کہ بہنوں کی تعداد دو سے زیادہ ہے اگرچہ وہ خود محروم ہیں خاوند کے ساتھ پردادا کے جمع ہونے کی وجہ سے نہیں ۔لیکن ذرا غور فرمایئے دادا کی ماں اورمیت کی بہنیں کیوں محروم ہوئیں ؟

    • سوال نمبر 10۔

        علاتی بہنیں علاتی بھائیوں کے ساتھ عصبہ مع غیرہ کے طور پر ایک سے زیادہ حقیقی بہنوں کی موجودگی میں بھی حصّہ پاسکتی ہیں ۔ 3 بیٹے اور 2بیٹیاںجیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے 8 بیٹیوں کے برابر ہیں پس بیٹیوں کی تعداد کو 8مانتے ہوئے 16 3 اور 2 8 کا ذواضعاف اقل معلوم کیا تو وہ 24آیا۔تصحیح کے بعدایک حقیقی بہن، ایک علاتی بہن اور بیوی کے سہام معلوم ہوئے ۔تصحیح کے بعد ہر علاتی بہن کے 6سہام آئے۔ علاتی بھائی کے سہام علاتی بہن کے سہام کے دگنے یعنی 12 ہوئے۔بعد میں اختصار کا عمل ہے۔

    • سوال نمبر 11۔

        علاتی بھائی اور دادا کے لیئے تو خیر باپ حاجب ہے ذرا سو چیئے کہ ماں کو 24میں 6 سہام کیوں ملے؟

    • سوال نمبر 12۔

        علاتی بہنیں تو محروم ہیں صرف حقیقی اور اخیافی بہنیں حصّہ پارہی ہیں ۔ ان کے سہام چونکہ ان کی تعدادوں پر برابر برابر تقسیم ہورہے ہیں اس لیئے ان کے فی کس سہام کے لئے ذو اضعاف اقل جاننے کی ضرورت نہیں پڑی ۔بعد میں ان کااختصار کیا۔

    • سوال نمبر 13۔

        چونکہ میت کی بیوی اور باپ دونوں موجود ہیں اور نہ تو اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے بہن بھائیوں کی تعداد ایک سے زیادہ ہے اس لئے ماں کا حصّہ 24میں 6سہام آیا ۔ بیوی کو تو میت کی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے 6سہام دیئے گئے جبکہ باقی 12سہام باپ کو بطور قوی ترین عصبہ کے مل گئے ۔

    • سوال نمبر 14

        احناف کے ہاں دادا کی موجودگی میں بہن بھائیوں کو کچھ بھی نہیں ملتا۔شوافع اور مالکیہ کے نزدیک حضرت زیدؓ بن ثابت کے مسلک پرمقاسمہ کی صورت میں دادا اور حقیقی بھائی کو 8سہام اور حقیقی بہن کو 4 سہام ملتے ہیں ۔

    • سوال نمبر 15

        کسور کا ذو اضعاف اقل 15آیا ۔کل سہام 360ہوئے۔بیوی مکان کے بدلے اپنا حق چھوڑنا چاہتی ہے ۔ مجموعہ 360 سے بیوی کا حصّہ 45 سہام منہا کئے تو باقی 315سہام بچے جس میں ماں کے 60، ہر بیٹی کے 48 اورہر حقیقی بھائی کے 5سہام ہوں گے ۔اسی کو تخارج کہتے ہیں .

    • سوال نمبر 16

        پوتی اور پڑپوتیوں کو ذوی الفروض میں حصّہ ملا ۔ عصبات کے لئے صرف ایک سہام باقی بچا جو 4سکڑپوتوں پر تقسیم کرنا پڑا جس سے ہر ایک کے حصّے میں صرف1/4سہام آیا ۔ پس ذو اضعاف اقل 4آیا جس سے سب کے فی کس حصّے کو ضرب دی تو کل مجموعہ 96سہام میں سب کے فی کس سہام معلوم ہوئے۔

    • سوال نمبر 17

        عصبات کے لئے کل 4سہام باقی بچے ۔اس میں پوتی گو کہ پوتا نہ ہونے سے محروم ہوسکتی تھی لیکن سکڑپوتے نے نہ صرف سکڑپوتی کو بلکہ اس پوتی کو بھی اپنے ساتھ عصبہ کے طور پر للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق شریک کیا ۔ اس طرح سکڑپوتے کا وجود پوتی کے لیئے بڑا مبارک ثابت ہوا۔ اسی کو تو مسئلہ تشبیب کہتے ہیں۔

    • سوال نمبر 18

        علاتی بہنوں کو پردادا کی موجودگی نے محروم کردیا جبکہ دادا کی ماں کو ماں نے محروم کردیا ۔ پرداد کو باقی بچے ہوئے 8 سہام بطور قوی ترین عصبہ کے ملے ۔

    • سوال نمبر 19

        باپ کو 4 سہام فرض کے طور پر اور 4عصبہ کے طور پر ملے۔جبکہ حقیقی بہنیں اوربھائی باپ کی موجودگی میںمحروم ہیں۔تصحیح کے بعد مجموعہ 72بنا لیکن اختصار کے بعد مجموعۂ سہام 9 بن گیا۔

    • سوال نمبر 20

        عبد الرشید نے وصیت کی تھی کہ اس کے مال سے سات لاکھ روپے مسجد کو دے دیئے جائیں ۔اس پر احسان اللہ کا 2 لاکھ روپیہ قرض ثابت ہوا ۔تجہیز و تکفین پر 6000روپے لگے ۔اس نے اگر کل ترکہ 17لاکھ چھوڑا ہے اور اس کے ورثاء میں ایک اس کی بیوہ ، تین بیٹے ، چار بیٹیاںاوراس کی ماں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے ایک مرحوم بیٹے کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں بھی موجود ہیں شریعت محمدی کے مطابق اب ہر وارث کا کتنا حصّہ ہوگا ۔ سب سے پہلے ترکہ سے تجہیز و تکفین اور قرض کے پیسے نکالے جائیں پس 1700000-6000-200000=1494000روپے باقی بچے ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ایک تہائی تک کی وصیت کی جاسکتی تھی جو کہ کل 498000روپے بنتی ہے پس سات لاکھ کی بجائے یہ رقم اس میں سے نکالی گئی تو باقی 996000روپے بچے اور یہی قابل تقسیم ترکہ ہے جو موجود ورثا ء میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ذوی الفروض کے سہام کامجموعہ =3+4=7 باقی سہام =24-7=17 سہام للذکر مثل حظ الانثیین کے لئے بیٹوں کی تعداد کو 2سے ضرب دی اور اس میں بیٹیو ں کی تعداد جمع کردی۔ گویا کل 10بیٹیاں ہیں۔یہ عدد بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان لکھا ۔ ان کے لئے 17سہام باقی ہیں۔پس ہر بیٹی کا حصّہ 17 10 بنا ۔ 17 10 چونکہ کسر ہے س لئے اس کے ذو اضعاف اقل 10سے سب کے فی کس سہام بشمول مجموعہ 24کو ضرب دی تو جدید مجموعہ 240میں ہر بیٹی کو 17سہام اور ہر بیٹے کو 34سہام ملے جبکہ بیوہ کو 30اور ماں کو 40 سہام ملیں گے ۔مرحوم بیٹے کی اولاد زندہ بیٹوں کی موجودگی میں محروم ہے ۔ کل ترکہ 996000روپے ہے اس لئے بیوی کا حصّہ 124500، ماں کا 166000، بیٹی کا 70550او ر بیٹے کاحصّہ 141100روپیہ ہوا۔

    • سوال نمبر 21

        حقیقی بہنیں 1سے زیادہ ہیں اس لئے علاتی بہن عصبات میں علاتی بھائی موجود نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہیں۔ 3، 5 اور 2کا ذو اضعاف اقل 30ہے ۔ اس سے سب کے سہام کو ضرب دے کر انکی اپنی اپنی تعدادوں پر تقسیم کیا تو فی کس حصّہ نکل آیا۔

    • سوال نمبر 22

        ﴿مسئلہ ام الارمل ﴾ ذوی الفروض کا مجموعہ 24کے بجائے 34آیا جو کہ عول کہلاتا ہے ۔فی کس حصّہ ہر ایک کا اختصار کے بعد 2 سہام آیا جو کہ عجیب ہے ۔

    • سوال نمبر 23

        ﴿مسئلہ امتحان﴾ سہام فی کس کے کسور معلوم ہوجانے کے بعد ان کا ذواضعاف اقل 1260معلوم ہوا۔اس سے سارے کسور کو ضرب دے کر مجموعہ جدید میں سہام فی کس معلوم کئے ۔ مجموعہ جدید 24کو ذو اضعاف اقل سے ضرب دینے سے 30240معلوم ہوا۔دیکھئے یہ اتنا مشکل مسئلہ تھا کہ مسئلہ امتحان کہلاتا تھا لیکن جدید طریقے سے کتنا آسان ثابت ہوا۔

    • سوال نمبر 24

        اگر خنثیٰ کو مرد فرض کرتے ہیں تو وہ علاتی بھائی بن کر 36سہام میں 6سہام لیتا ہے اور اگر اس کو عورت فرض کرتے ہیں تو وہ علاتی بہن بن کر 12 54 حصّے کا حقدار بنتا ہے جو کہ 1 6 سے زیادہ ہے پس اس کو مرد فرض کیا جائے گا کیونکہ اس صورت میں اس کا حصّہ کم بنتا ہے چاہے وہ لاکھ کہے کہ میں عورت ہوں۔

    • سوال نمبر 25

        ماں ،حاملہ بیوی اور مفقود الخبر باپ میں اصول یہ ہوگا کہ ہروارث کا حصّہ جس طریقے میں کم بنتا ہے وہ اس کو دیا جائے گا باقی کو فیصلے تک موقوف رکھا جائے گا۔ چونکہ سب کے مجموعی سہام مختلف ہیں اس لئے ان کو ایک جیسا کرنے کے لئے سب کے سہام کو ان تمام مجموعوں کے ذو اضعاف اقل﴿ 96﴾ سے ضرب دے کر اس کے اپنے مجموعے پر تقسیم کیا تو سامنے شکل میں دیئے ہوئے نتائج ملے جس سے معلوم ہوا کہ بیوی کاکم سے کم حصّہ 12 سہام اور ماں کا 16 سہام بنتا ہے ۔96کل سہام میں ان کو اتنے حصّے دیئے جائیں گے ۔بچہ کے پیدائش پر اگر بیٹا ہوا تو اس کو مفقود کے فیصلے تک 52 سہام دیئے جائیں گے اور اگر بیٹی ہوئی تو اس کو فی الحال 48سہام دیئے جائیں گے ۔پس اگر مفقود زندہ آیا تو ان کے یہ حصّے برقرار رہیں گے نہیں توبچے اوراس کی ماں کو بقایا کی ادایئگی کی جائے گی۔

    • سوال نمبر 26

        امام احمد بن حنبل ؒ کے مسلک پر سوال حل کریں۔

        مجموعہ = 4+12+4+3=23سہام ،عصبات موجود نہیں اس لئے رد ہوگا۔ بیوی پر رد نہیں ہوسکتا اور امام احمد بن حنبل ؒ کے مسلک پر بیٹیوں کی موجودگی میں پوتیوں پر بھی رد نہیں ہوسکتا ۔اس لیئے باقی ایک سہام کا صرف ماں اور بیٹی پر رد ہوسکے گا۔پس جن پر رد ہوسکتا ہے ان کے سہام کا مجموعہ =4+12=16سہام اور جن پر رد نہیں ہوسکتا ان کے سہام کا مجموعہ =4+3=7سہام پس ’’ن‘‘ =16اور ’’س‘‘=24-7=17سہام۔ ’’ن‘‘ کو ان کے سہام سے ضرب دی جن پر رد نہیں ہوتا اور ’’س‘‘ کو ان کے سہام سے جن پر رد ہوتا ہے ۔ ایک پوتی کا حصّہ 32سہام معلوم ہوا۔

    • سوال نمبر 27

        ایک بیوی ،دو حقیقی بھتیجے ،تین علاتی بھانجیاں اور ایک اخیافی بھانجا ۔بیوی کو 24میں 6سہام ملیں گے ۔ دوسرے ورثاء میں حقیقی بھتیجے عصبات ہیں اور باقی ذوی الارحام اس لیئے صرف ان کو ہی باقی 18سہام ملیں گے ۔یعنی ہر ایک کو 9 سہام ملیں گے۔

    • سوال نمبر28

        یہ تینوں صنف ثالث سے تعلق رکھتے ہیں اس لیئے یہ جن کی اولاد ہیں ان کو اتنی ہی تعداد میں فرض کریں گے۔پس ہم سمجھیں گے کہ تین حقیقی بھائی ایک حقیقی بہن اور ایک اخیافی بہن موجود ہیں۔ان میں اخیافی بہن کو 24 میں4سہام دینے کے بعد حقیقی بہن بھائیوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے قاعدے سے تقسیم کریں گے۔پس کل 168سہام میں سے ہر حقیقی بھائی کو 40 سہام ہر حقیقی بہن کو 20سہام اور ہر اخیافی بہن کو 28 سہام ملے اور بعینہ یہی سہام ان کی اولادوں کو ملے یعنی ہر حقیقی بھتیجی کو 40 سہام ، ہر حقیقی بھانجی کو 20 سہام اور ہر اخیافی بھا نجی کو 28سہام ملے ۔

    • سوال نمبر29

        یہ سارے کے سارے ورثاء صنف ثالث سے ہیں ۔جیسا کہ شکل سے ظاہر ہے۔ پہلے جن کے ذریعے ورثاء حصّہ لے رہے ہیں ان کوان ورثاء کی تعداد میں زندہ ما ن کر ان میں ترکہ تقسیم کیا پھر ان کی اولاد میں ان کا حصّہ صنف اول کے قواعد کے مطابق تقسیم کیا ۔3حقیقی بھائیوں کا حصّہ 3حقیقی بھتیجیوں میں تقسیم کیا اس لئے ہر بھتیجی کو 288میں 32سہام ملیں گے۔ 6حقیقی بہنوں کا حصّہ 96سہام بنتا ہے وہ دو حقیقی بھانجوں اور چار حقیقی بھانجیوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم کیا تو 288سہام میں ہر حقیقی بھانجے کو 24سہام اور حقیقی بھانجی کو 12سہام ملے۔اخیافی بھائی کا حصّہ اخیافی بھانجے کو ملا۔اس لئے ہر اخیافی بھانجے کو 288سہام میں 32سہام ملیں گے۔

    • سوال نمبر 30

        شکل میں دیئے ہوئے ورثاء میں امام محمد ؒ کے طریقے پر تقسیم کریں۔

        سارے ورثاء گروپ نمبر 5سے ہیں ۔اس لئے سب آپس میں شریک ہیں ۔ پشت نمبر 1 پر دو طائفے بنے ۔پشت نمبر 4پر طائفہ نمبر 1دو طائفوں نمبر5اور نمبر6میں تقسیم ہوا اور پشت نمبر 3پر طائفہ نمبر 2بھی دو طائفوں نمبر 3اور نمبر 4میں تقسیم ہوا ۔ ہر طائفہ کا کسر یوں معلوم کیا کہ پہلے ہر طائفہ میں جو افراد ہیں ان کی تعداد معلوم کی مثلاً طائفہ نمبر 1 میں 5بیٹے ہیں اور طائفہ نمبر 2میں 7بیٹیاں ہیں۔ طائفہ نمبر1 میں بیٹوں کی تعداد کو 2 سے ضرب دے کر ان میں طائفہ نمبر 2 کی بیٹیوں کی تعداد کو جمع کیا تو ان کا کل وزن 17 معلوم ہوا۔اس میں طائفہ نمبر1 کا وزن چونکہ 10ہے اس لئے اس کی کسر 10 17 ہوئی اور طائفہ نمبر2 کا وزن 7ہے اس لئے اس کی کسر 7 17 ہوئی۔اس طرح باقی طائفوں کے بھی کسریں معلوم کی گئیں ۔ اب ہر وارث کا حصّہ معلوم کرنے کے لئے اس کو جن جن طائفوں کے ذریعے حصّہ مل رہا ہے ان طائفوں کی کسروں کے حاصل ضرب کو اس کی تعداد پر تقسیم کرنے سے حاصل ہو ا۔مثلاً ہر پوتی کے نواسے کا حصّہ 2÷40 119 = 20 119 ہوگا۔

    • سوال نمبر31

        یہی سوال امام ابویوسف ؒ کے طریقے پر حل کریں۔

        امام ابویوسف ؒ کے نزدیک جتنے شریک ورثاء ہیں ان میں ترکہ للذکر مثل حظ الانثیین کے طریقے پر تقسیم ہوگا۔ پس ان ورثاء میں چار مرد ہیں اور آٹھ عورتیں۔اس طرح گویا کل سولہ عورتیں ہوئیں۔پس ہر عورت کو کل ترکے کا 1 16 اور ہر مرد کو 1 8 دیا جائے گا۔

    • سوال نمبر 32

        نانا ،نانی کی دادی ،حقیقی بھانجی اور ایک حقیقی پھوپھی میں ترکہ تقسیم کریں۔

        نانا اور نانی کی دادی کا صنف نمبر 2، حقیقی بھانجی کا صنف نمبر 3اور حقیقی پھوپھی کا صنف نمبر 4ہے ۔ان میں صنف نمبر 2کے ورثاء کی موجودگی میں نمبر 3 اور نمبر 4کے ورثاء محروم ہیں۔ ان میں پھر نانا کا گروپ نمبر 6اور نانی کی دادی کا گروپ نمبر8ہے ۔پس صرف نانا ہی مستحق وارث ٹھہرا باقی سب محروم ہوگئے ۔

    • سوال نمبر 33

        سوال نمبر 32 کو امام احمد بن حنبل ؒ کے مسلک پر بھی حل کیجئے۔

        حضرت امام صاحب ؒ چونکہ ہر ایک کے مدلیٰ بہ کو زندہ مانتے ہوئے پہلے ان کو حصّہ دلواتے ہیں پھر ان کے ذریعے لینے والوں کو دلواتے ہیں ۔ان میں حقیقی بھانجی کو حقیقی بہن ،نانا کو ماں،نانی کی دادی کو نانی اور حقیقی پھوپھی کو باپ فرض کیا جائے گا ۔پس زیر نظر سوال میں گویا ایک ماں ،ایک باپ ،ایک نانی اور ایک حقیقی بہن ہیں ۔ نانا اور نانی کی دادی کی جہت چونکہ ایک ہے﴿اُمُوَّتْ ﴾ اس لئے نانی کی دادی نانا کی موجودگی میں محروم ہوگئی کیونکہ یہ نانی سے دوسرے درجے پر ہے جبکہ نانا ماں کے واسطے سے پہلے درجے پر ہے۔ ویسے اگر یہ اس اصول پر محروم نہ بھی ہوتی تو نانی کی دادی ﴿بصورت نانی﴾ نانا ﴿بصورت ماں﴾ کے مقابلے میں محروم ہوجاتی۔ باپ کی موجودگی میں حقیقی بہن بھی محروم ہوگئی اس لیئے صرف ماں اور باپ ہی رہ گئے جن میں2/3 حصّہ باپ کواور 1 3 حصّہ ماں کو ملے گا پس نانا کو 1 3 اور پھوپھی کو 2 3 ملا۔

    • سوال نمبر 34

        حقیقی بھائی کی دو پڑپوتیاں،حقیقی بہن کے دو نواسے اور تین نواسیاں،علاتی بھائی کے چار نواسے ۔ پڑپوتی تیسرے درجے کی اولاد نمبر 1ہے جبکہ نواسے نواسیاں دوسرے درجے کی اولاد نمبر 2ہے ۔حقیقی بھائی اور بہنوں کا آپس میں ایک ہی درجہ ہے اس لیئے پڑپوتیاں میت سے بہ نسبت نواسے نواسیوں کے زیادہ بعید ہیں۔ پس پڑپوتیاں گو کہ اولاد نمبر 1 میں سے ہیں زیادہ درجے کی وجہ سے محروم ہوگئیں۔اب حقیقی بہن کے دو نواسے اور تین نواسیاں ہیں یعنی اس کی اولاد کی تعداد پانچ ہوئی اور علاتی بھائی کی اولاد کے چار نواسے ہیں اس لیئے اس کی اولاد4 ہوئی ، ہم فرض کریں گے کہ پانچ حقیقی بہنیں اور چار علاتی بھائی ہیں ۔ پہلے ان میں تقسیم کیا ،پھر بہنوں کے مشترکہ حصّوں کو ان کے دو نواسوں اور تین نواسیوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم کرکے ان کی تصحیح کرنے کے بعد اختصار کا عمل کیا تو 84سہام میں حقیقی بہن کے ہر نواسے کو 16،ہر نواسی کو 8اور علاتی بھائی کے ہر نواسے کو 7سہام ملے ۔

    • سوال نمبر 35

        ِ

        حقیقی چچا کی پڑپوتی ، حقیقی پھوپھی کی بیٹی کی تین نواسیاں ،حقیقی پھوپھی کی بیٹی کے دو نواسے،علاتی ماموں کے تین پڑپوتے۔

        سب سے پہلے درجہ دیکھیں گے ۔پتہ چلا کہ درجہ کے لحاظ سے سارے ورثاء ایک جیسے ہیں ۔ اس لیئے ان میں سب سے پہلے میت کے ساتھ قرب کے بنیاد پر مقابلہ ہوگا۔پس جو میت کے زیادہ قریب ہوگا وہی مستحق ہوگا۔ حقیقی چچا کی اولاد نمبر 1کا گروپ نمبر 34جبکہ حقیقی پھوپھی کی اولاد نمبر 2کا گروپ نمبر 36ہے اس لیئے ان میں حقیقی چچا کی اولاد نمبر 1یعنی حقیقی چچا کی پڑپوتیوں کو باپ کی طرف کا حصّہ یعنی ذوی الارحام کے لئے مختص حصّے کا 2 3 ملے گا۔ ماں کی طرف کے رشتہ داروں میں صرف حقیقی ماموں کے پڑپوتے ہیں اس لیئے ماں کی طرف کا حصّہ یعنی ذوی الارحام کے لئے مختص حصّے کا1/3 ان کو ہی ملے گا ۔پس حقیقی چچا کی پڑپوتی کو کل کا 2 3 دیا جائے گا جبکہ حقیقی ماموں کے ہر پڑپوتے کوکل کے 1 3 کا 1 3 یعنی 1 3 × 1 3 = 1 9 دیا جائے گا۔

    • سوال نمبر36

        ترکہ 48000روپے ذوی الفروض کے سہام کا مجموعہ 14= 4 +4 + 6 = ہے ۔ عصبات کے لیئے 10سہام باقی بچے۔ عصبات میں 4 بیٹے ، 2بیٹیاں اور 3حقیقی بھائی ہیں ۔ بیٹوں اور بیٹیوں کا نمبر 1 ہے اس لیئے ان کی موجودگی میں کسی اور کو کچھ نہیں ملے گا ۔ چونکہ بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہیں اس لیئے ان میں ہر بیٹے کو ہر بیٹی کے حصّے کا دگنا دیا جائے گا ۔ 4 بیٹے 8 بیٹیوں کے برابر ہیں ان کے ساتھ دو بیٹیاں مل کر کل دس بیٹیاں بن جاتی ہیں اور 10 ہی سہام باقی ہیں اس لئے ہر بیٹی کو ایک سہام اور ہر بیٹے کو دو سہام ملیں گے جیسا کہ شکل میں بتایا گیا ہے ۔اب 24 سہام کے 48000 روپے ہوں تو اکائی کے قاعدے سے ایک سہام کے لیئے 2000 روپے آجائیں گے پس اس حساب سے خاوند کو 12000 ، ماں کو 8000 ، باپ کو بھی 8000 ، ہر بیٹے کو 4000 اور ہر بیٹی کو 2000 روپے ملیں گے ۔

    • سوال نمبر 37۔﴿مسئلہ ام الفروخ﴾

        ورثاء ۔شوہر ، دو حقیقی بہنیں ، دو اخیافی بہنیں اور ماں۔یہ مسئلہ عول کا ہے۔اس میں شوہر کا حصّہ 1 2 سے 3 10 تک کم ہوجاتا ہے۔

    • سوال نمبر 38

        میت نے ماں ،دادا ،ایک حقیقی بہن اور ایک علاتی بھائی اور ایک علاتی بہن چھوڑے۔ احناف اور حنابلہ کے نزدیک دادا کی موجودگی میں تمام بہن بھائی محروم ہیں ۔ شوافع اور مالکیہ کے نزدیک دادا اور بہن بھائیوں میں باقی 20سہام تقسیم ہوں گے۔ سب سے پہلے دادا کو ایک بھائی سمجھتے ہوئے مقاسمہ ہوگا ۔پس کل دو بھائی اور دو بہنیں ہوئیں اس لئے 40 6 سہام دادا کے اور باقی 80 6 بہن بھائیوں کے۔ ان میں نصف یعنی40/6سہام حقیقی بہن کے ہوں گے۔اور باقی 40 6 سہام علاتی بہن بھائیوں میں للذکر مثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم ہوئے۔

    • سوال نمبر 39۔ ﴿ مسئلہ دیناریۃ الکبریٰ ﴾

        اس کو مسئلہ شاکیہ ، رکابیہ اور داؤدیہ بھی کہتے ہیں ۔

  • مشقی سوالات

      1 ۔ الف ۔ کونسی صورت میں باپ صرف بطور ذوی الفروض حصہ پاتا ہے ؟
      ب۔ کل ترکہ 40000 روپے ہے ۔ ورثاء خاوند ، بیٹی ، دو پوتیاں اور ایک حقیقی بھائی ہیں ۔
      2۔ الف ۔ کونسی صورت میں باپ صرف بطور عصبہ حصہ پاتا ہے ؟
      ب۔ ترکہ 120000 روپے ہے اور ورثا ء پردادا ، 3 علاتی بھائی ، 1 حقیقی بہن اور 2 اخیافی بھائی۔
      3۔ الف ۔ کون سی صورت میں باپ ذوی الفروض و عصبات دونوں میں حصہ پاتا ہے ؟
      ب۔ کل ترکہ 95000 روپے ہے ۔ ورثاء 3 بیٹیاں ، 2 پوتیاں ، ماں ، 2 حقیقی بہنیں اور 1سکڑپوتا 4۔ الف ۔ اگر باپ کی جگہ دادا ہو تو ماں کے حصے پر کیا فرق پڑسکتا ہے ؟
      ب۔ کل ترکہ 112000 روپے ہے اور ورثاء نانی ، باپ کی دادی ، ماں اور 2 علاتی بھائی ۔ -5الف ۔ علاتی بہن کن کن صورتوں میں محروم ہوتی ہے ؟
      ب۔ ترکہ 24000 روپے ۔ ورثاء دو حقیقی بہنیں ، ماں ، 1 حقیقی چچا ، دو حقیقی بھتیجے ، 1 علاتی بہن
      6۔الف ۔ مسئلہ تشبیب کسے کہتے ہیں؟وضاحت کے ساتھ لکھیئے۔
      ب۔ کل ترکہ 24000 روپے ہے اور ورثاء 3 بیٹیاں ، ماں اور بیوی ہیں ۔
      7 ۔ الف۔ماں کے حصّے پر کو ن کونسے ورثاء اثر انداز ہوتے ہیں؟
      ب۔سوال نمبر 3 میں ماں مکان کے بدلے اپنا حصہ چھوڑتی ہے ۔ نئے حصے معلوم کریں ۔
      8 ۔الف۔حمل کے حصّہ کے بارے میں امام احمد بن حنبل ؒ کا مسلک کیا ہے؟
      ب۔ کل ترکہ ایک لاکھ وپے ہے اور ورثاء حاملہ بیوی ، ماں ، باپ ، ایک بیٹی ۔
      9 ۔الف۔مفقود الخبر اپنے مال کے حق میں زندہ ہوتا ہے اور دوسرے کے مال کے حق میں مردہ اس کا کیا مطلب ہے؟
      ب۔ کل ترکہ 50000 روپے ہے اور ورثاء 2 بیٹے ، ماں اور گمشدہ باپ ہیں۔
      10۔ الف۔ذوی الارحام کیا ہوتے ہیں اور اس میں کون کون سے مسلک ہیں؟
      ب۔ کل ترکہ 54000 روپے ہے ۔ 2 نواسی کی پوتیاں ، 1 پوتی کی نواسی، 2 پوتے کے نواسے ، 3 نواسے کے نواسے اور 2 پوتی کے پوتے ہیں ۔
      11 ۔الف۔نانا نانی کا خاوند ہے اگر دونوں موجود ہوں تو نانی کو حصّہ ملتا ہے نانا کو نہیں۔ کیوں ؟
      ب۔ کل ترکہ 30000 روپے ہے اور 2 حقیقی بھانجے اور 2 حقیقی بھانجیاں ہیں ۔
      12 ۔الف۔میراث کی تقسیم میں عدد 24کو کیا اہمیت حاصل ہے ؟
      ب۔ کل ترکہ 900 کنال ، ورثاء حقیقی بہن کے 2 پوتے 3 پوتیاں ، 2 علاتی بہن کے نواسے ۔
      13 ۔ الف۔تخارج اور رد میں کیا فرق ہے ؟کیا دونوں جمع ہوسکتے ہیں ؟
      ب۔ کل ترکہ 40000 روپے ورثاء ،دادا کا نانا ، نانا کا دادا ، نانا کی نانی اور نانی کا دادا ۔
      14 ۔ الف ۔امام محمد ؒ اور امام ابویوسف ؒ کے درمیان ذوی الارحام میں کیا بنیادی اختلاف ہے ؟
      ب۔کل ترکہ 18000 روپے ہے اور 3 حقیقی بھائی کی پوتیاں ، 2 حقیقی بھائی کی نواسیاں ہیں۔
      15۔ الف۔محروم اور محجوب میں کیا فرق ہے ؟
      ب۔ کل ترکہ 90000 روپے ہے اور 2 علاتی پھوپھیاں ، 1 اخیافی پھوپھی ، 3 علاتی خالائیں ، 1 اخیافی خالہ ہے۔
      16 ۔الف۔’اختلاف دارین میراث سے مانع ہے‘ اس کی تشریح کریں۔
      ب۔ کل ترکہ 85000 روپے ہے اور ورثاء 3 علاتی چچا زاد بھائی ، 2 اخیافی پھوپھی زاد بہنیں ، 4 اخیافی ماموں زاد بھائی ۔ 2 اخیافی خالہ زاد بھائی ، اور 1 اخیافی خالہ زاد بہن ہیں ۔
      17-الف۔اخوہ مع الجد میں حضرت علی ؓ کا مسلک بیان کرکے اس کی تشریح کریں ۔
      ب۔خاوند ،ماں ،جد اور دو بھائیوں میں ترکہ حضرت علی ؓ کے مسلک پر تقسیم کریں۔
      18-میت کے متروکہ مال کے ساتھ کون کون سے حقوق وابستہ ہیں ؟
      ب۔بیوی ،جد ،نانی اور تین حقیقی بہنوں میں حضرت ا بن مسعود ؒ کے مسلک پر ترکہ تقسیم کریں۔
      19-اگر ترکہ کم ہو اور میت زیادہ مقروض ہو تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیئے ؟
      ب ۔ حقیقی پھوپھی کی تین سکڑپوتیاں ، اخیافی پھوپھی کے دو سکڑپوتے، اخیافی خالہ کے تین نواسے اور دو نواسیاں،علاتی ماموں کے دو سکڑپوتے اور چار سکڑپوتیاں۔ ان میں ترکہ تقسیم کریں۔
      20اگر میت کے ساتھ کوئی چیز رہن تھی لیکن مقروض نے اس کا قرض ابھی واپس نہ کیا ہو تو اس مرہونہ چیز کے ساتھ کیا کیاجائے گا؟
      21- الف ۔شجرہ عصبات کا بنیادی اصول کیا ہے؟ اس کی تشریح کریں ۔
      ب۔ دو حقیقی بہنوں اور تین علاتی بہنوں میں ترکہ تقسیم کیجئے ۔
      22-الف ۔میراث کا فتویٰ لکھنے میں کن کن چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ؟
      ب ۔ ایک شخص نے دوسرے شخص کے پاس اپنے گھر کا کچھ سامان رہن رکھواکر 5000روپے قرض لیا ۔کچھ عرصہ کے بعد وہ شخص بغیر قرض کے ادایئگی کے مرگیا۔ورثاء میں اس نے بیوی اور دو بیٹے چھوڑے۔بیوی کا مہر جو 15000روپے تھا وہ بھی اس نے ادا نہیں کیا تھا ۔اس کا کل ترکہ ایک مکان ہے جو کہ دو لاکھ پچیس ہزار میں بک سکتا ہے۔اس نے حج بدل کی وصیت بھی کی تھی جس پر0 8000روپے لگتے ہیں ۔ اس کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا مکمل فتویٰ تحریر کیجئے ۔
      23-الف ۔ذوی الارحام میں اہل تنزیل ترکہ تقسیم کرنے کے لئے کونسا اصول استعمال کرتے ہیں وہ لکھیئے ا ور اس کی تشریح کریں ۔
      ب ۔امام احمد بن حنبل ؒ کے مسلک پر سوال نمبر 19۔ب حل کیجئے ۔
      24-الف ۔مرتد کے مال کے بارے میں امام ابوحنیفہ ؒ کا مسلک بیان کریں ۔
      ب۔ایک بد بخت ،جو کہ دو فیکٹریوں کا مالک تھا جس کی مالیت 23کروڑ بنتی ہے، مرتد ہوگیا ۔اس کے بعداس کو نوبل پرائز ملا جس کی مالیت 5کروڑ روپے بنتی تھی ۔مکافات عمل میں وہ بدبخت کسی کے ہاتھ سے مارا گیا اس کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟
      25-عرفان اپنے پیچھے اپنی بیوی نبیلہ ،ایک بیٹا جمیل ،ایک بیٹی سلمہ، والدہ ناہید،علاتی بھائی اجمل، علاتی بہن صادقہ اور سوتیلا باپ محمود چھوڑ مرا۔ابھی اس کی میراث تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کی والدہ ناہید بھی فوت ہوگئی ۔ابھی اس کی میراث بھی تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کی بیٹی سلمہ موجودہ ورثاء کے علاوہ ایک بیٹی نورین ،خاوند سلمان اور بیٹا میکائیل چھو ڑ کر مرگئی۔آخر میں نبیلہ بھی فوت ہوگئی ۔زندہ ورثاء کا عرفان کے مال میں حصّہ معلوم کریں۔

  • فہرست مآخذ

      1 ۔ السراجی فی المیراث للشیخ سراج الدین محمد بن عبدالرشید السجاوندی ؒ مع حاشیہ دلیل الوارث من محمد نظام الدین الکیرانوی ؒ ۔
      2۔ الصدیقیہ فی الشرح السراجیہ مولانا عبد الصادق شیخ الحدیث جامعہ دار الخیر کراچی ۔
      3۔ مفید الوارثین مؤلفہ حضرت مولانا سید صغیر حسین ؒ محدث دالعلوم دیوبند ۔
      4 ۔ قانون وراثت حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی مدظلہ ۔
      5۔ آسان میراث مفتی محمد جہانگیر مدظلہ ۔
      6۔ آئین وراثت قاضی محمد زاھد الحسینی ؒ ۔
      7۔ المواریث فی الشریعۃ للاسلامیہ علیٰ ضوئ الکتاب والسنۃ بقلم محمد علی الصابونی للاستاذ بکلیۃ الشریعۃ والدرسات للاسلامیہ بمکہ المکرمۃ ۔
      8۔ کتاب المیراث و لغۃ مؤلفہ ملک بشیر احمد بگوی ۔
      9۔ قوانین اسلامی پانچویں جلد جسٹس تنزیل الرحمٰن ﴿ریٹائرڈ ﴾
      -10 فہم المیراث مدلل مرتبہ سید شبیر احمد کاکا خیل