< id="header">


فیض رحمکار بابا﷬


پیش لفظ

الحمدللہ اس وقت ایک کتابچہ آپ حضرات کے ہاتھوں میں ہے جو ایک رسالہ استغنا الفقر کے تعارف کے لئے ہے۔ اس رسالہ کی اشاعت آخری مراحل میں تھی اور اس کے لئے ہم دو تین ہفتے پہلے زیارت کاکاصاحبؒ میں حاضر ہوئے تھے اور رسالے کے بارے میں جمعہ کے بیان میں تفصیلی بات ہوئی تھی۔ ساتھ ہی ہمارے یہاں آنے کے مقصد پر بھی تفصيلی بات ہوئی تھی۔ اُس وقت جو باتیں ہوئی تھیں وہ بھی اس کتابچے میں شامل کی گئی ہیں تاکہ جو حضرات اُس وقت موجود نہیں تھے اُن کو بھی ہماری اس فکر کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں۔ اُس وقت مشورہ سے جلسے کی تاریخ 13اگست طے ہوگئی تھی کہ خبر آگئی کہ رجسٹریشن کے مراحل اتنے آسانی سے طے نہیں ہونے۔ چونکہ حج پر جانے کی تیاری بھی تھی اور حج پر جانے سے پہلے رجسٹریشن مکمل ہوجانا ایک خواب ہی ہوسکتا تھا اس لئے یہ فیصلہ ہوا کہ جلسہ تو ملتوی نہ کیا جائے کیونکہ تعارف تو اس کا ہو ہی جائے گا البتہ رسالے کی جگہ ایک کتابچہ شائع کیا جائے جس میں ابتدائی مضمون ہو اور رسالے کا تعارف بھی کیا جائے۔ اس رسالے میں کیا ہوگا وہ تو آپ کے سامنے آرہا ہے لیکن ہماری اس میں کوشش ہے کہ اس میں مقاماتِ قطبیہ اور مقالاتِ قدسیہ کی جو تعلیم خانقاہ میں ہورہی ہے وہ پیش کی جائے۔ ساتھ ہی کاکا صاحبؒ کی سوانح بھی سلسلہ وار پیش کی جائے۔ اس کے علاوہ ہماری خانقاہ میں خواتین کے لئے باقاعدگی سے بیانات ہوتے ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا اور ساتھ خانقاہ کے شب و روز کا خاکہ بھی باقاعدہ پیش کیا جائے گا۔ مقامات قطبیہ اور مقالات قدسیہ ایک نادر کتاب ہے لیکن ابھی تک عملاً پردۂ اخفاء میں رہی ہے۔ اس کی وجہ بظاہر یہ آرہی ہے کہ اس کو سمجھنے کے لئے جن معارف کی ضرورت تھی وہ کتابوں میں تو موجود تھیں لیکن کتابوں سے باہر نہیں آرہی تھیں وہی بات کہ ہر چیز میں ہم تیار نوالہ چاہتے ہیں حالانکہ دنیاوی چیزوں میں ہم ہر قسم کے پاپڑ بیلنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ چونکہ احقر پہلے سے حضرت تھانویؒ کے انفاسِ عیسیٰ اور مثنوی مولانا روم کے درس میں عرصہ دراز سے مشغول رہا ہے۔ بنیادی تعارف تو ان دو مآخذ سے حاصل ہوا۔ بعد میں اشارہ جب حضرت مجدد صاحبؒ کے مکتوبات پر کام کرنے کا ہوا تو اس کی تدریس بھی شروع ہوئی۔ ابھی اس میں ہم زیادہ بڑھے نہیں تھے کہ حضرت بہادر باباؒ کی طرف سے اشارہ ہوا کہ بزرگوں کی کتابوں پر کام کرنا اچھی بات ہے لیکن اپنی چیز اپنی ہوتی ہے۔ یہ ایک بالکل واضح اشارہ تھا کہ مقاماتِ قطبیہ اور مقالاتِ قدسیہ پر کام شروع کیا جائے اس لئے توکلاً علی اللہ اس پر کام شروع کردیا۔ منگل کا روز اس کے لئے مختص ہوا۔ اب تک تقریباً 60 کے لگ بھگ دروس ہوچکے ہیں۔ ان دروس میں الحمد للہ یہ بات بالکل واضح طور پر محسوس ہوئی ہے کہ بات میں نہیں کررہا ہوں بلکہ کوئی اور کروا رہا ہے اس لئے میرے لئے خود یہ معارف کا بہت بڑا خزانہ ثابت ہوا۔ اس میں بارہویں درس میں جو بیان ہوا تھا جو کہ کاکا صاحبؒ کے زہد اور عشق کے بارے میں تھا اس کو رسالے کے لئے مضمون کی شکل میں ترتیب دیا گیا ہے جو کہ اس کتابچے میں آگے آرہا ہے۔ یہ گو کہ بارہواں درس تھا لیکن ابتدا میں اس کو اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ رسالے “استغناء الفقر” کا نام اس سے لیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ ہم نے نام “فیضِ رحمکار” تجویز کیا تھا لیکن افسوس ہے کہ رجسٹریشن کے ذمہ دار حضرات نے بتایا کہ کسی شخصیت کے نام پر رسالے کا نام نہیں ہوسکتا اس لئے مجبوراً اس نام کو تجویز کیا گیا جس کا حضرت کاکا صاحبؒ کی زندگی کے ساتھ بہت تعلق تھا جیسا کہ سرِورق پر دو اقتباسات دئیے گئے ہیں ایک خود حلیم گل باباؒ کی طرف سے کہ کاکا صاحبؒ کا فقر بصورتِ استغناء تھا اور دوسرا خوشحال خان خٹک نے جو قطعہ وفات کہا تھا اس میں تاریخ وفات (بافقر رفت) سے نکلتا ہے۔ اس رسالے کا افتتاح حضرت ؒ کے مزار مبارک کی مسجد سے ہورہا ہے۔ کاکاخیل قوم کے لئے یہ خصوصی طور پرانتہائی مبارک دن ہے کہ حضرتؒ کی تعلیمات پر مشتمل یہ رسالہ شروع ہو رہا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ کاکاخیل قوم اور حضرتؒ کے معتقدین بالخصوص اور باقی مسلم اُمت کو بالعموم اس کا فیض ان شاء اللہ پہنچے گا۔ یقیناً وہ حضرات بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی کوششوں سے یہ رسالہ منصۂ وجود میں آرہا ہے۔ اللہ کرے کہ ہمیں اس میں اخلاصِ تام حاصل ہو اور حضرتؒ کے فیضِ مبارک سے مستفید ہوں، اپنے اللہ پاک کو راضی کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور اپنی زندگی کو سنتوں سے مزین کرکے محبوبیتِ خدا کا مژدہ پاسکیں۔ کاکا صاحبؒ نے اپنا مقام یہی تو بتایا تھا کہ حلیم گل باباؒ نے اپنی کتاب مقامات قطبیہ میں یہ لکھا ہے کہ

ضعیف اور کمزور جامع (شیخ عبدالحلیم صاحب فرزند کاکا صاحب ؒ ) عرض کرتا ہے کہ ایک دن میں نے اپنے شیخ صاحب ؒ سے عرض کیا کہ اے حضرت شیخ آپ کے پیر و مرشد محترم کون صاحب ہیں؟ انہوں نے جواب فرمایا کہ خدا مجھے آپ کا درد نہ دکھائے (یہ خاص الفاظ حضرت صاحب کے معمول تھے، جو کہ مہربانی اور تلطف کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا مخاطب کرتے ہوئے فرماتے تھے) کہ شیخی کو میں نے شیخوں یعنی مشائخ کے لیے چھوڑ دیا، پیری کو پیروں کے واگذار کر دیا، سلوک سالکوں کو بخش دیا، تصوف صوفیوں کے لیے چھوڑ دیا، میں تو یہ چاہتا ہوں اور میری حالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کی زنجیر میرے گلے میں ڈال دی ہے چاہتا ہوں کہ یہ زنجیر میری گردن میں پڑی رہے اور میری گردن سے جدا نہ ہو، بیت



رشتہ درگردنم افگندہ دوست

مے برد ہر جاکہ خاطر خواہ اوست

میر ی گردن میں دوست نے رسی ڈال رکھی ہے اور جس طرف کہ اُس کی مرضی ہو مجھے کھینچے لیے جارہا ہے پس یہ عبودیت کا مقام ہے اور عبودیت کے بہت سے اور بکثرت درجات ہیں۔

احقر سید شبیر احمد کاکاخیل

 



کاکا صاحب﷬ کا زہد اور عشق

 

بسم اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ ۝ ۝ اِذِااَتَمَّ الْفَقْرَ فَهُو َ اللہ وَ تَخلَّقُوا بأخْلَاقِ الله -۝

جب فقر درجہ کمال کو پہنچ جاتا ہے تو یہی خدا کا (پسندیدہ) مقام ہے اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق اختیار کرو۔ عاشق کے لئے اس سے بلند تر مقام اور کوئی نہیں۔ یا اللہ کریم ہمارا مقصود بھی ہمیں نصیب فرما۔

اے عزیز بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص (بہترین قصہ) اس لئے کہا گیا ہے کہ " وَیُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَه" کا اس سے پتا چلتا ہے۔ اے بھائی! "وَیُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَه" کا پتا تجھے اس وقت چلے گا جب تجھ پر اس آیت مبارک کے معنے کھل جائیں گے۔ " وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللہُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ " -(سورہ شوریٰ آیت 51) اور کسی بشر کا مرتبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی سے کلام کرے۔ مگر ہاں یا تو وحی سے یا کسی آڑ یا پردے سے یا کسی قاصد فرشتے کو بھیج دے سو وہ وحی پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے ہوتا ہے اور لفظ طٰہ میں سب کچھ تو مشاہدہ کرے گا اور سمجھ جائے گا کہ " وَیُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَه" کیا ہے کیونکہ اے بھائی شہد شہد کہنا یا گڑ گڑ کا و ظیفہ کرنا اور بات ہے اور اس کا دیکھنا اور چکھنا دوسری بات ہے لیلیٰ ہونا اور بات، لیلیٰ کانام لینا اور اور لیلیٰ بن جانا اور مجنوں بھی جب خود عالمِ استغراق میں ہوتا ہے تو وہ خود کو لیلیٰ محسوس کرتا ہے اور بزبانِ حال کہتا ہے کہ میں لیلیٰ ہوں اور لیلیٰ مجھ میں ہے۔ بیت

عشق و عاشق محو گردد و زیں مقام

چوں ہماں معشوق ماندہ السلام

اس مقام میں عشق اور عاشق سب محو ہو جاتے ہیں اور معشوق رہ جاتا ہے۔ اور بس اے بھائی " یُحِبُّوْنَه" کے خلوت خانے میں یہ سب ہم سر برابر اور ہم مشاہدہ ہیں۔ " وَیُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَه" ایک دوسرے کے سودا میں نہیں بلکہ ہم سر و ہم مشاہدہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ " لَایَطَّلِعُ عَلِینَا مَلَكٌ مُقَرَّب وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ" ہماری حالت کا کسی مقرب فرشتے اور پیغمبر تک کو اطلاع اور آگاہی نہیں ہوتی۔

ہمارے حضرت صاحب یعنی شیخ رحمکار رحمتہ اللہ علیہ اخلاق حمیدہ، بلند ہمتی، صداقت، مقامات، انفاس اور زبانِ حال کے لحاظ سے "مُوتُو قَبل ان تمُوتُو" (موت سے پہلے مر جاؤ) کے مقامِ عالی تک پہنچے تھے اور اس مقام کی فرحتوں سے لطف اندوز ہو چکے تھے اور اس کے آثار و اسرار آپ کی روح پر ظاہر ہو گئے تھے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے کہ اس میں استہلاک ( خود کو ہلاک کئے ) کے بغیر منزل تک رسائی نہیں ہوتی۔ جناب علی محمد عطاء صاحبؒ جو کہ طریقت کے راستے کے عطار تھے فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے ایک درویش صاحب کو دیکھا جو کہ قسم قسم کے مصائب و آفات میں مبتلا تھے جب میں نے اسے اس حال میں دیکھا تو میرا دل اس کی حالت پر غم کھانے لگا، درویش نے مجھے دیکھ کر زور سے کہا کہ " یا مکلف ما دخولک فِی بینی وبین ربی ۔ دعهُ یَعْمِل مَا یَشاءُ بعدہ۔" اے ہوشیار اور مکلف شخص تمہیں میرے اور میرے رب کے معاملات میں دخل اندازی کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بات چھوڑیئے وہ چاہے اور جو کچھ اس کی مرضی ہو وہ کرتا رہے مجھے یہ کہہ کر اس نے کہنا شروع کیا۔ " الٰھی بِعِزَّتِكَ وَ جَلَالِكَ لوقَطَعْتُنِی اَرْبًا وَ حیَّب علَیَّ مِن البلاءِ حبّاً مَا ازْدَدْتُ لَكَ اِلَّا شَوْقًا و حُبّاً ۔" اے میرے رب مجھے آپ کی عزت و جلال کی قسم ہے، اگر تو مجھ پر مصیبتوں کا پہاڑ توڑ ڈالو اور میری ہر حاجت منقطع کر ڈالو تو ایسے حالات میں بھی میری محبت اور میرا شوق بڑھتا جائے گا۔ فرماتے ہیں کہ اس کی سلطنت میں آگ کے آداب ہیں یعنی آگ بھی اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ وہ معاملہ جو کہ ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان گذر چکا اور جس کا بڑا حصہ لوگوں کو بتلا دیا وہ کیا تھا۔ " لِیَعْلَمُوْ اَنَّ کُلَّ مَنْ اَحَبَّهُ لَایَضُرُّہٌ شَیْ ءٌ فِی الدَّارَینِ و لِیَعْلَمُوْ اَنَّ اَهْلَ الْمَعْرِفَتِهِٖ فِی النَّار اطَیبُ عَیْشَاً و احْسَنُ حَالاً وَ اَشُدَّ سُرُورَاً مَع اللہ تعالیٰ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ فِی الْجَنَّةِ" وہ صرف یہ بات تھی کہ وہ لوگ جان لیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو دونوں جہانوں میں کوئی چیز بھی اسے ضرر نہیں پہنچاتی اور یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ اہل معرفت کے لئے آگ میں بہت اعلیٰ قسم کی زندگی ہے اور بہتر حالت ہوتی ہے اور اہلِ جنت کو جنت میں جتنی خوشی ہوتی ہے اہلِ معرفت کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معیت میں اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ سلطان عارفین فرماتے ہیں کہ" اگر قیامت کے دن اہلِ جنت سے ملاقات کا مزا منقطع کیا جائے تو اہلِ بہشت بھی ویسی ہی فریاد کریں گے جیسا کہ دوزخ کے لوگ دوزخ میں کرتے ہیں"




تشریح

جلدی نہیں مچانی اصل میں اس کلام کو سمجھنے کے لیے بڑے حوصلے کی ضرورت ہے، یعنی جلدی نہیں مچانی چاہئے، مطلب یہ کہ اگر جلدی مچالی تومحروم ہو جائیں گے اور نقصان بھی ہو سکتا ہے، بزرگوں کے کلام میں کافی گہرائی ہوتی ہے اس میں کافی غور حوض کرکے اس سے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے۔بعض دفعہ وہ اپنے حال میں مست ہوکر گفتگو کررہے ہوتے ہیں۔ جب تک وہ حال حاصل نہ ہو ان کی بات کو سمجھنا دشوار ہوتا ہے لیکن اگر تحمل کیا جائے تو بات تک پہنچنا بعض دفعہ ممکن ہوتا ہے نیز بعض دفعہ ان کی بعض باتیں بعد میں آنے والے بزرگوں کے لئے رموز کی صورت میں ہوتی ہیں جن کو وہی حاصل کرسکتے ہیں۔حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات میں بھی اس قسم کی باتیں کافی ملتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی پہچان اصل میں اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو پیدا کیا کہ اس کو جان لیا جائے اور پہچان لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے " لِيَعْبُدُونِ" کی تفسیر "لِیَعْرِفُون" سےکی ہے، یہ مشیتِ الٰہی ہے، اب اس مشیتِ الہٰی کے مطابق جو مخلوق اللہ تعالیٰ کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی معرفتِ الہٰی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ سب سے اچھی جماعت ہے، کیوں کہ منشا الہٰی کے مطابق کام کر رہی ہے، اس منشا الہٰی کے مطابق عمل کرنے (عبدیت) میں اور اللہ کی پہچان (معرفت) میں جو چیز رکاوٹ ہے وہ ہمارا نفس اور دل کی گندگی ہے۔ جب تک نفس نفسِ امارہ ہے اور دل میں دنیا کی محبت ہے، اُس وقت تک ہم اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچان سکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس کا جو زور ہے اور دنیا کی محبت کا جو اثر ہے وہ کافی زیادہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے معرفت کے جو رستے ہیں وہ آلودہ ہو جاتے ہیں،آنکھ بھی آلودہ، کان بھی آلودہ، دل بھی آلودہ، ذہن بھی آلودہ، یعنی اُس کی آنکھیں کام نہیں کریں گی، شنوائی متاثر ہوگی، دماغ سوچ نہیں سکے گا، دل صحیح بات اخذ نہیں کرے گا، جیسا کہ قرآن پاک میں اس کے بارے میں فرمایا۔ " لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (7,179) " اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں جن مقاصد کے لیے دی ہیں، وہ مقاصد اس سے پورے نہیں ہوں گے۔ ہمارے نفس کی اس آلودگی اور دل کی گندگی کی وجہ سے ہم لوگ صحیح بات تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اب کیسے اس پر قابو پائیں ؟

رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جائے؟ ظاہر ہے اللہ تعالی کی پہچان میں جو رکاوٹیں ہے اُن کو دور کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ اور کوئی رستہ ہمارے پاس ہے نہیں۔ یہ کیسے دور ہوں گی۔ اُس کے لیے رستے بھی دو ہیں، ایک راستہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق اور محبت کا ہے جو دنیا کی محبت کا توڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عشق و محبت اتنا بڑھ جائے کہ دل دنیا کی محبت سے پاک ہوجائے، دوسری طرف نفس کو زہد کے ذریعے قابو کیا جائے۔یہ طریقہ ہے، لیکن اُس کے کچھ اضافی اثرات ہوں گے جن کو برداشت کرنا پڑے گا، حضرت کاکا صاحب ؒنےان دونوں طریقوں زہد اور عشق کو ملایا ہے، کیونکہ نفس کی قوت کو توڑنے کے لیے زہد ہے، جو مجاہدات سے حاصل ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق سے دل دنیا کی محبت سے پاک ہوتا ہے اِس کے حاصل کرنے کے جو ذرائع ہیں، اُن کو اختیار کر کے اِس کو حاصل کیا جائے گا۔ ان دونوں چیزوں کا جو ملا ہوا نام ہے وہ فقر ہے مطلب یہ ہے کہ انسان کی اپنی خواہش فنا ہو جائے، اور اُس کی بھی وہی خواہش ہو جائے جو اللہ کی خواہش ہے۔

فقر کیا ہے؟ جب تک اپنے نفس کی خواہش زندہ ہے انسان فقیر نہیں ہو سکتا، فقیر اپنے آپ کو کہہ سکتا ہے مگر ہو نہیں سکتا۔ "رَبِّ اِ نِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ " اس میں دونوں چیزیں شامل ہیں، یعنی محبت کا جذبہ بھی ہے، اور اپنے نفس پر پیر رکھنا بھی ہے ان دونوں کو جمع کرنے سے فقر حاصل ہوتا ہے، اب جب یہ انسان فقر کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے، تو یہ پھر اخلاق حمیدہ کی صفات کو حاصل کر لیتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بے لوث ہے، اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کی حاجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تمام فیصلے ان تمام چیزوں سے آزاد ہیں۔ وہ اپنے ارادے سے کام کرتا ہے، اس میں کوئی اور چیز شامل نہیں ہے، اب انسان بھی جب اس کیفیت کو حاصل کر لے کہ اُس کی اپنی خواہش ختم ہو جائے، اور اُس کی خواہش وہ ہو جائے جو اللہ کی خواہش ہے، تو بات ایک ہو جائے گی، یہی بات تو ہی بہلولؒ نے ہارون الرشید سے کی تھی۔ اُن سے جب پوچھا کہ، کیا حال ہے؟ کہا اُس شخص کی کیا بات کرتے ہو جس کی مرضی کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے، تو ہارون رشید نے کہا کہ خدائی کا دعویٰ کب سے کیا ہے؟ یہاں ہارون رشید نے جلدی مچائی، اور اُن کی بات کا وہ مطلب لیا جو اُن کے نزدیک نہیں تھا، اُس نے کہا کہ میں نے تو خدائی کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا، اُس نے کہا کہ جو بات آپ نے کی ہے اس کا مطلب یہی ہے کیونکہ صرف اللہ کی مرضی کے مطابق ہی سب کچھ ہو سکتا ہے، تو بہلولؒ نے فرمایا، میں نے اپنی خواہش کو اللہ کی خواہش میں فنا کر دیا ہے، اب میری خواہش وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہے، لہذا سب کچھ میری مرضی کے مطابق ہو رہا ہے، تو پھر ہارون رشید کی سمجھ میں بات آ گئی کہ واقعی یہ صحیح کہہ رہا ہے۔

اللہ والا بننا ایسی صورت میں جو اللہ کے ہوجاتے ہیں، تو اللہ اُن کے ہو جاتے ہیں " مَنْ كَانَ لِلهِ كَانَ الله لَه " جس کے نتیجے میں یہ انسان عام انسان نہیں رہتا بلکہ یہ اللہ والا ہوتا ہے اللہ کا ولی کہلاتا ہے۔ اس کے لئے ایک حدیث قدسی کے مطابق پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ" جس نے میرے ولی کو تکلیف دی اس کے ساتھ میرا اعلان جنگ ہے۔ اُس کے اندر دو چیزیں ہر وقت پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنا سب کچھ پیش کرنا، دوسرا اللہ تعالیٰ کی جو مدد ہے اُس کے ساتھ ہر حال میں ہونا۔ یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے ارادے کے مطابق اُس کو جو مقامات نصیب فرما دیتے ہیں، اُس قسم کے حالات بناتے ہیں، اُن حالات پر وہ دل سے راضی ہوتا ہے، اور اس طریقے سے وہ آگے بڑھ رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔ تو اللہ کا محبوب ہونے کی وجہ سے، وہ جو عارضی چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ اگرچہ اُس کو بہت وافر دے سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اُس کے لیے وہ چیزیں پسند کرتا ہے، جو اُس کے لیے سب سے زیادہ مفید ہوتی ہیں، اور دوسری طرف، وہ بھی اُس پر دل سے راضی ہوتا ہے، وہ یہ نہیں کہتا کہ فلاں کے ساتھ یہ ہورہا ہے میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ تمام خواہشات کو ختم کر چکا ہوتا ہے۔ اُس کے پاس کچھ باقی رہتا ہی نہیں، لہذا وہ عین اللہ کی مرضی اور منشاء کے مطابق زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ یہی مطلب ہے جو یہاں پر فرمایا، یعنی اللہ اُن کے ساتھ محبت کرتا ہے اور وہ اللہ کے ساتھ محبت کرتے ہیں، جانبین ایک دوسرے کے محبوب ہوتے ہیں۔ ہاں البتہ یہ الگ بات ہےکہ اللہ اللہ ہے اور بندہ بندہ ہے۔ لہذا اللہ اللہ ہونے کے لحاظ سے وہ ایسا نہیں کر سکتا جیسا کہ انسان انسان کے ساتھ کرتا ہے۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جنس کا اختلاف نہیں ہے، بلکہ خالق اور مخلوق کا فرق ہے۔ لہذا محبت کی وجہ سے اُس میں فنائیت پائی جاتی ہے لیکن معرفت کی وجہ سے اُس میں تنزیہہ پائی جاتی ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ لہذا فنائیت کی وجہ سے وہ اگرچہ اپنا سب کچھ لٹاتا ہے، لیکن معرفت کی وجہ سے اللہ کے سامنے دم نہیں مار سکتا، اور نیاز کی کیفیت میں رہتا ہے۔ یہ معرفت کی وجہ سے ہے۔

وحدت الوجود اور وحدت الشہود یہی وہ چیز ہے جس کو حضرت مجدد صاحب ؒ نے شہود کہا ہے۔ وحدتُ الشہود کامطلب یہ ہے کہ یہ جو بندہ ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنی محبت کرتا ہے، کہ اُس کے لیے اپنی تمام خواہشات کو فنا کر دیتا ہے۔ سب کچھ قربان کرتا ہے۔ اور اُس کی اپنی مرضی کچھ بھی نہیں رہتی سوائے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے اور کچھ بھی نہیں کرتا، چونکہ اللہ تعالیٰ اس پر حکمتوں کو کھول دیتے ہیں جس سے معرفت بھی حاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ جتنا جتنا وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے آپ کو ختم کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اُس کو اپنے ساتھ اتنی اتنی بقا عطا کردیتے ہیں، نتیجہ کے طور پر اس کو اللہ تعالیٰ کی جو معرفت ملتی ہے، اُس معرفت کی وجہ سے اُس کو تنزیہہ حا صل ہوتی ہے، معرفت کا مطلب کیا ہے؟ اس کو جاننے کے لئے یہ سمجھا جائے کہ مخلوق مخلوق ہے اللہ اللہ ہے۔ تو دونوں کیسے ایک ہوسکتے ہیں یعنی جیسا کہ ایک جنس کا دوسرے جنس کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے، وہ تو یہاں تصور نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہاں پر انسان محبت کے لحاظ سے اپنے رب کا انتہائی قریب بھی ہوتا ہے اور معرفت کے لحاظ سے انتہائی دور بھی ہوتا ہے۔ محبت کے لحاظ سے قریب ہوتا ہے۔ تنزیہہ کے لحاظ سے بہت دور ہوتا ہے۔ یہی وحدتُ الشہود ہے جو حضرت فرمانا چاہ رہے ہیں، وحدتُ الوجود میں محبت غالب ہوتی ہے لیکن معرفت نہیں آئی ہوتی ہے یعنی علم نہیں آیا ہوتا۔ یہ حالت حالت سکر کہلاتاہے، اس پُل سے گزرنا تو پڑتا ہے۔ لیکن جب وہ گزر جاتا ہے پھر اُس کو ادراک ہوتا ہے کہ میں کون ہوں۔ اُس پر جو اپنی بندگی کھلتی ہے کہ میں بندہ ہوں اور اللہ ، اللہ ہے۔

مقام حیرت اللہ کی جو صفات اُس پر کھلتی ہیں، تو جو اللہ کی ذات کی محبت اُسے حاصل ہوتی ہے۔ اُس وجہ سے وہ مقامِ حیرت میں چلا جاتا ہے، کیوں کہ دُوری اور قرب کو اکھٹا کرنا ممکن نہیں ہے۔جتنی دُوری بڑھے گی اور جتنا قرب ملے گا، تو مقام حیرت بڑھے گا یا نہیں؟ یہی مقامِ حیرت ہے، جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، اسی کے بارے میں حضرت نے کلام فرمایا ہے، اگر ہم یہاں جلدی کرتے تو ہم اس کلام سے کیا نتیجہ نکال سکتے؟ لیکن نہیں یہ ساری چیزیں ہیں لیکن اصل میں ہیں۔ اس کا ادراک قلب کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ذہن نہیں کر سکتا، ذہن محدود ہے، قلب لامحدود ہے، اسی لیے فرمایا ہے کہ کُل کائنات میں اللہ تعالیٰ نہیں سماتے لیکن مومن کے دل میں سما جاتے ہیں کیوں کہ اس طرح جو آنا ہے وہ تو ہے ہی نہیں، جس طرح ہم انسان کسی چیز کے بارے میں کہتے ہیں کہ آ گئی، یہ تو ہے ہی نہیں۔وہ تو آنا اور چیز ہے، وہ تو تنزیہہ کے ساتھ ہے، اس وجہ سے دونوں چیزوں کو اکھٹا کرنا پڑتا ہے، اس مقام کو مقامِ حیرت کہتے ہیں۔

الفاظ اور ہیں اور حقیقت اور حضرت نے یہ جو فرمایا ہے کہ شہد، شہد کہنا یا گڑ، گڑ کہنا اور ہے اور ان کا چکھنا اور ہے، جب تک کسی کو شکر حاصل ہو نہیں جاتا وہ اس کو کیسے محسوس کرسکتا ہے؟ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کیفیت جو ہے یہ الفاظ میں نہیں سمائی جا سکتی، اگر گڑ کسی نے کھایا ہے اور شہد بھی کھایا ہے، تو اُسے بغیر کسی لفظ کے گڑ اور شہد کے درمیان فرق معلوم ہوگا، وہ بعدمیں یہ کہہ سکے گا کہ یہ گڑ ہے اور یہ شہد ہے، چاہے اُس کی آنکھیں بند کر دی جائیں اور اگر کسی نے گڑ اور شہد کھایا ہی نہیں تو چاہے اُس پر کتابیں لکھ دیں یا لائبریری بھر دیں کہ گڑ کی یہ صفات ہیں شہد کی یہ صفات ہیں وہ پھر بھی اُس میں فرق نہیں کر سکتا، تو یہ کیفیت جب تک کسی کو حاصل نہ ہو،اُس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں، اب جن کے اوپر گزر رہی ہوتی ہے، یعنی مقامِ حیرت، تو اُس کو پتہ ہوتا ہے کہ مقامِ حیرت کیا چیز ہے۔ تو جو اُس کی تنزیہہ کی حالت، اور جو اُس کی کیفیت ہے، اور جو محبت کی حالت ہے، محبت کی وجہ سے جو قرب ہے، اور معرفت کی وجہ سے جو دوری ہے، اِس کو الفاظ میں جمع کرنا ناممکن ہے، آپ الفاظ میں اس کو بیان ہی نہیں کرسکتے، تو اس وجہ سے یہ جو بات سمجھ نہیں آسکتی یہ الفاظ کی تنگ دامنی ہے، اور کچھ نہیں ہے، مجدد صاحبؒ نے بھی اس کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ جتنا میں کہہ سکتا تھا وہ میں نے کہا، لیکن الفاظ کی تنگ دامنی کی وجہ سے میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ میں نے صحیح کہا ہے، اور پھر استغفار بھی کرتے ہیں، بلکہ یہ استغفار حضرت گنگوہی ؒ نے بھی اپنے مکتوبات میں کیا ہے، یہ کیفیات گزرتی ہیں اور یہ جو کیفیات ہوتی ہیں، ان کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا یہ جو کہا جاتا ہے کہ میں نے کیفیات کو الفاظ میں بیان کر دیا، یہ تو غلط ہے اور ناممکن ہے، ہاں البتہ اشاروں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں، تھوڑا تھوڑا قریب پہنچ سکتے ہیں یہ نہیں کہ آپ اس حالت کو حاصل کر سکتے ہیں۔

مُوتُوا قَبلَ اَن تمُوتُوا مر جاؤ قبل اس کے مر جاؤ، اصل میں جو نفس کو ہلاک کرنے والی بات ہے وہ یہی ہے، نفس کو مارنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم اُس کو ذبح کر دو، مطلب یہ ہے کہ جیسے ہم کہتے ہیں کہ تم اللہ کی ایسے عبادت کرو جیسا کہ تم اُس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر اس طرح نہیں تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے، یہ بھی ایک کیفیت ہے، اور اس کو کیفیتِ احسان کہتے ہیں، اب جس کو حاصل ہے وہ اُس کو جانت ا ہے اور جس کو حاصل نہیں ہے اُس کو سمجھایا نہیں جا سکتا ہے، لیکن بہرحال کیفیت ہے، تو اللہ تعالیٰ کے سامنے جو حضوری کی کیفیت ہے، وہ تو آپ نے اس کے ذریعے سے حاصل کی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں جو مانع چیز ہے وہ نفس ہے اگر کسی نے اُس پر قابو پا لیا، تو وہ اس کے اور اللہ کے درمیان حائل نہیں ہو سکتا، یہ ہے اِس کی کیفیت، کہ مر جاؤ قبل اس کے مر جاؤ۔

اصلاح نفس کی اہمیت حضرت بایزید بسطامی ؒ نے خواب دیکھا تھا، خواب میں اللہ پاک کا دیدار ہوا، اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ اے اللہ تجھ تک پہنچنے کا آسان ترین راستہ کون سا ہے؟ فرمایا اپنے نفس کو چھوڑ دے اور آ جا۔ دیکھیں انسان جہاز یا راکٹ میں، فضا میں ہوتا ہے تو جب تک انسان زمین کی کشش سے آزاد نہیں ہوگا، اُس کو چلنے کے لیے مسلسل قوت چاہیے ہوگی، لیکن جس وقت وہ آزاد ہوگیا، خلا میں پہنچ گیا تو پھر جو چل رہا ہے وہ چلتا رہے گا، جو کھڑا ہے وہ کھڑا رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اُس کو رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اب اللہ کی محبت آپ کو اللہ کے قریب کر رہی ہے اور نفس آپ کو دور کر رہا ہے، آپ ان دونوں کے درمیان لگے رہو گے، یہ سلسلہ چل رہا ہوتا ہے، جس وقت نفس کو ختم کر دو، یعنی نفس کی رکاوٹوں کو ختم کردو تو اُس وقت تھوڑی سی بھی روحانیت آپ کو اللہ کی طرف لے جائے گی، کیونکہ سمت تو وہی ہو گی، اورجب تک آپ نفس کو ختم نہیں کر سکے، اُس وقت تک یہ مسلسل مانع ہے۔ یہی نفس کی اصلاح کی اصل بنیاد ہے، حضرت مجدد صاحبؒ فرماتے ہیں، جتنے بھی سلاسل تھے گزشتہ سب پہلے نفس کے مانع کو ختم کرتے تھے، محنت کرتے تھے مجاہدات کے ذریعے سے نفس کو کالعدم کر دیتے تھے، اب جب نفس کالعدم ہو جاتا، تھوڑا سا ذکر کرتے تو واصل ہو جاتے، کیوں کہ رکاوٹ نہیں ہوتی، مسئلہ کیا ہوا؟ مسئلہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اپنے آپ کو نفس کے مجاہدات کے لیے تیار نہیں کیا، کیوں کہ مجاہدات کے لیے اپنے آپ کو نفس کے خلاف کرنا پڑتا ہے، تو اب جب تیار نہیں ہے تو اصلاح کیسے ہو؟ تو حضرت خواجہ نقشبندؒ نے یہ کام بہ امرِ مجبوری کیا تھا، پہلے چونکہ لوگ مجاہدات کے لیے تیار نہیں تھے، تو انہوں نے یہ کیا کہ پہلے جذب حاصل کر لو، اُس جذب کو جب حاصل کر لو گے تو نفس مجاہدے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ اس لیے انہوں نے جذب کو پہلے کردیا اور مجاہدے کو بعدمیں کر دیا، یہ نہیں کہ بالکل ختم کر دیا، سلوک ختم نہیں کیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ جب تک کشش موجود ہے بے شک آپ کو کتنی بھی روحانیت حاصل ہو، آگے نہیں جا سکتے، آپ کی گاڑی نہیں چلے گی، ہاں شور بہت ہوگا، جیسے کھڈے میں کوئی چیز پھنس گئی ہو،آواز تو ہوگی مگر وہ چل نہیں رہی ہوگی، تو پہلے جذب پھر نفس کے خلاف مجاہدہ اور پھر اُس کے بعد سلوک کی منازل کو طے کرنا ہے، یہ لازم ملزوم تھا۔ اب اگر آپ نفس کے خلاف مجاہدہ نہیں کریں گے یا اس کی تربیت نہیں کریں گے۔ وہ آپ کے افکار پر اثر ڈالے گا، آپ کی سوچ پر اثر ڈالے گا۔ تو اثر ڈالتے ڈالتے یہاں تک ہوا کہ لوگوں کی نظر میں مجاہدے کو ختم کر دیا، اور اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، سارا زور اللہ پاک کے ذکر اور مراقبات کے ذریعے روحانیت کو حاصل کرنے میں لگا دیا، اس میں مزہ بہت ہے، اب اگر انسان صرف مزے کا عاشق ہو جائے، تو وہ چیز حاصل نہیں ہوگی، تکلیف ہی تو شریعت ہے،کیونکہ انسان مکلف ہے،کس چیز کا مکلف ہے؟ تکلیف کا مکلف ہے، تکلیف کیا چیزہے؟ یہی شریعت ہے، اگر آپ اپنے آپ کو تکلیف سے بچانا چاہتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو شریعت سے بچانا چاہتے ہیں، اس لیے نفس کی اصلاح کے لیے جو تکلیف مجاہدہ کی صورت میں اٹھانی پڑتی ہے، وہ لازم ہے اُس کے بغیر کوئی حل نہیں، وجہ کیا ہے؟ اگر آپ یہ نہیں کرتے تو پھر بھی تکلیف رہے گی، اور وہ تکلیف مستقل رہے گی، وہ ایسے مستقل رہے گی کہ آپ نے روحانیت کی طرف تو چلنا ہے، صبح آپ نے نماز کے لیے اُٹھنا ہے چاہے آپ مریں چاہے جئیں۔ کام تو کرنا ہے۔ یہ تو آپ نہیں کہہ سکتے کہ مجھ سے تو اُٹھا نہیں جاتا، یہ والی بات نہیں ہے، اُٹھنا تو پڑے گا، نماز تو پڑھنی پڑے گی، اس طرح زکوۃ تو دینی پڑے گی، حج کرنا پڑے گا۔ جتنے بھی شریعت کےاعمال ہیں اُن پر عمل کرنا پڑے گا۔ معاشرت درست کرنی پڑے گی، اب اگر آپ یہ مجاہدہ نہیں کرتے تو عمر بھر تکلیف اٹھانی پڑے گی، شریعت تکلیف تو ہے ہی، وہ مجاہدہ مستقل ہوگا۔ جس وقت آپ تصوف کے ذریعے سے نفس کی اصلاح کر لیں گے۔ نفس کی تربیت کر لیں گے پھرمستقل تکلیف نہیں رہے گی، پھر آپ کا نفس ماننا شروع کر دے گا۔ لیکن وہ ماننا اس طرح نہیں ہوگا کہ محنت نہیں کرنی پڑے گی، وہ محنت اس طرح ہو گی کہ آپ کا نفس اُس کام کے لئے تیار ہوگا۔ جب گھوڑے کو سدھایا جاتا ہے اُس کے اوپر کوئی وزن رکھ دیا جائے تو اُس کو وزن محسوس تو ہوتا ہے، لیکن پھر بھی اُس کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لیکن اگر تربیت نہیں کی ہوگی پھر وہ اڑی کرے گا اور وزن نہیں اٹھائے گا۔ اصل میں اس تکلیف سے اِس اَڑی کو دور کیا جاتا ہے، اب اگر تکلیف نہیں اٹھائیں گے تو اِس اڑی کو مستقل برداشت کریں گے۔ یہ بات سمجھنی ضروری ہے۔نتیجہ کے طور پر جب مجاہدات کو ختم کیا تو دو قسم کے لوگ ہو گئے، ایک وہ جو مخلص تھے، اور ہر وقت کی اڑی کو برداشت کرلیا، کام تو ہو رہا ہے لیکن مشکل سے ہو رہا ہے۔ لیکن اگر یہ حضرات مجاہدہ کرتے، تو پھر سیدھے طریقے سے کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ کون سا مشکل ہے؟ اب نقشبندی سلسلے کے جن حضرات نے مجاہدات سے اپنے آپ کو بری کیا تو یوں اپنے آپ کو مستقل مشکل میں ڈال دیا، لیکن مجدد صاحبؒ نے جو اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جس نے جذب تو حاصل کیا لیکن سلوک طے نہیں کیا وہ مجذوب متمکن ہے منتہی مرجوح نہیں۔ نہ پہنچا ہے نہ پہنچا سکتا ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ نفس کے اوپر کوئی اعتبار نہیں ہے۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اب اس پر اعتبار کر سکتے ہیں، لیکن کسی بھی وقت بالخصوص جب اس کا تعلق نظریات کے ساتھ ہو، احساسات کے ساتھ ہو، نقصان پہنچائے گا۔ وجہ کیا ہے وہ چیزیں باریک ہوتی ہیں۔ اُس کے اندر فرق کرنا مشکل ہے۔ فرق کرنا آسان نہیں ہوتا، وہاں پر معاملہ بہت خراب ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہاں پر نمازیں تو پڑھیں گے۔ روزے تو رکھیں گے، زکوۃ دیں گے، حج کریں گے، کسی جگہ ایسا معاملہ ہو جائے گا کہ گڑبڑ ہو جائے گی۔ مثلاً اشرافِ نفس کیا ہے؟ اب اُس سے بچنا ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ ذہنی چیز ہے قلبی چیز نہیں ہے تو اُس میں انسان پھنس سکتا ہے۔ یعنی کسی کو خیال ہوا کہ فلاں مجھے کچھ دے گا اور اس کا دل اس میں مشغول ہوا اور اس شخص کے ساتھ اس طرح معاملہ بھی کیا تو یہ اشرافِ نفس ہے جو حرام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ صرف ذہنی نہیں رہا بلکہ اس کے تقاضے پر عمل ہو گیا۔ جب اُس کے تقاضے پر عمل ہو گیا تو نقصان تو ہوگیا۔ اب آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں تو کامل ہوگیا۔ میں تو کامل ہو گیا اپنے مراقبات کے لحاظ سے۔ لیکن کیا ہوا؟ نفس نے اپنے جال میں پھنسا دیا۔ اس طرح جو خواتین سے ملنے میں احتیاط نہیں کرتے مثلاً کوئی کہتا ہے کہ اس کی نظر پاک ہو گئی۔ یہ اس کی ایک ذہنی کیفیت ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ صحابی سے تو بڑا نہیں ہے۔ اگر صحابی کا رخ نبی کریم ﷺ پھیر سکتے ہیں کہ نہ دیکھو ان کو تو آج کل کے اپنے مزعومہ بزرگ کے لئے یہ بات کیسے جائز ہوگئی۔ یہ کھری باتیں مجبوراً کرنی پڑ رہی ہیں۔ اس قسم کی چیزوں میں انسان پھنس سکتا ہے۔ نمازیں پڑھے گا روزے رکھے گا زکوۃ دے گا حج کرے گا سب کچھ کرے گا یہاں پھنس جائے گا۔ یہ قلبی اور ذہنی چیزیں ہیں آخرت کے متعلق اور اس کی وجہ سےنقصان ہوتا جائے گا۔

سچا فقر یہ مخلوق سے استغنا فقر کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا تبھی تو حضرت حلیم گل بابا ؒ فرماتے کہ کاکا صاحبؒ کا فقر بصورتِ استغنا تھا یعنی مخلوق سے استغنا، خالق کے ساتھ محتاجی۔ اس لئے اس فقر کو حاصل کرنا بہت ضروری ہے عشق کا تعلق ہے دل کے ساتھ اور زہد کا تعلق ہے نفس کے ساتھ۔ نفس پر جب قابو نہیں ہے تو زہد کہاں؟ زہد نہیں تو بے لوثی کہاں؟ اور دل کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہیں تو لِلہٰیت کہاں؟ اور اس کی غیر موجودگی میں روحانیت کہاں؟ اسی زہد اور عشقِ الٰہی کے اجتماع سے فقر بنتا ہے جس میں انسان صرف اللہ کا ہوتا ہے اور مخلوق سے اس کا تعلق اتنا ہوتا ہے کہ ان کے حقوق ادا کرے اور کچھ نہیں جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بے بس بچیوں کو پانی دلوا کر یعنی ان کا حق ادا کرکے ان سے کچھ طلب نہیں کیا پھر اللہ تعالیٰ کی طرف مدد کے لئے متوجہ ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دکھا دیا کہ جن کی اللہ تعالیٰ کے لئے مدد کی تھی اور ان سے کوئی جزا طلب نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں بات ڈالی، ان کو بلایا اور اس طرح دیارِ غیر میں ان کے لئے نہ صرف ٹھکانے کا بلکہ شرفاء کے گھر بسانے کا بندوبست بھی کرلیا ایسا ہی ہوتا ہے فقیروں کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سچا فقر نصیب فرمائے۔

صحیح درویشی جیسے فقر کا صرف نام استعمال ہوتا ہے سچا فقر کسی کسی کا ہوتا ہے اسی طرح سچی درویشی بھی کہیں کہیں پائی جاتی ہے اس کا صرف نام ہی استعمال ہوتا ہے۔ حضرت ؒ نے جس درویش کی طرف اشارہ کیا کہ وہ مصائب میں مبتلا تھے لیکن اس سے نکلنے کے متمنی نہیں تھے بلکہ جو اس کے لئے یہ فکر کر رہا تھا اس پر ناراض ہورہے تھے کیونکہ یہی مصائب اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ تھے اور اس کو اس کی معرفت تھی لیکن یہ تو اس درویش کی طرف سے بات تھی کہ اس نے ظاہری تکلیف کو اپنے گلے کا ہار بنایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں کو کیا ملتا ہے اس کے لئے ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ دیا کہ وہ خلیل اللہ بن گئے۔ یعنی اللہ کا بے انتہا قرب ان کو حاصل ہوا۔ اس کے مقابلے میں دوسری نعمتوں کی کیا حیثیت ہے۔ پس جن کی اس قرب پر نظر ہوتی ہے وہ جذب کی حالت میں ایسی گفتگو کرتے ہیں جو دنیاداروں کی سمجھ میں کہاں آسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی محبت عطا فرمائے۔




سوانح حضرت کاکاصاحب ﷬

درود و سلام اور حمد باری تعالیٰ کے بعد عرض ہے کہ یہ بندہ جو کہ اللہ باری تعالیٰ کے لئے وسیلہ کی تلاش میں مستعد رہتا ہے اپنے تمام تر معاصی اور تر دامنی کے ادراک کے باوجود اللہ عزوجل سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ ذات غفار و کریم تمام تر کوہتاہیوں کو معاف کرکے محض اپنے رحم و کرم سے جنت میں داخل فرمائیں گے عبادات اور طاعات میں موجود ساری ظاہری اور باطنی کوہتاہیوں سے درگذر فرمائیں گے، جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائیں گے اور اپنے لطف و کرم کی انتہا کرتے ہوئے میرے قلب کو ان لوگوں کی محبت سے معمور فرمائیں گے جو ان سے محبت کرتے ہیں اور جن سے وہ محبت کرتے ہیں ، ان لوگوں کی جن کے قلوب عرفانِ ذات حق سے مصفا ہو چکے ہوں۔ "وَارْزُقْنِیْ شَفَاعَةُۃ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ یا مُولانَا یا مُولانَا یا سَامِعَ دُعَانَا یَوُمَ الْحَشْرِ النَّشْرِ وَالغْفِرْلِی وَ اَبِوَیْنَا وَاَدْخِلْنِی الْجَنَّةَ وَ اَجِرْنِی مِنَ النَّارْ بِحُرْمَتِهِ وَلَاتَقْطَع رَجَانَا"

حضرت شیخ رحمکارؒ کی روح سے میرا قلب ہمیشہ سے مزکی و منور رہا ہے۔ کبھی وارفتگیِٔ شوق اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے تو خیال آتا ہے کہ اپنے شیخ و مربی کے کچھ مناقب جمع کرکے اپنی دیوانگیِٔ قلب کو فرزانگیِٔ لفظ کا جامہ پہناؤں، اسی ذوق و شوق سے میں نے حضرتِ شیخؒ کے کچھ مناقب جو کہ مستند ذرائع سے مجھ تک پہنچے ہیں حوالہ قلم و قرطاس کئے ہیں۔ اگر چہ مجھے اپنی قلبی اور فکری درماندگی کا پورا احساس ہے لیکن پھر بھی اپنے اور دوسروں کے فائدہ کیلئے اور اس سوچ کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے اس محبوب بندے کے احوال محفوظ کرنے سے مجھے آخرت میں فائدہ ہوگا میں نے اپنی سی محنت کرکے یہ مناقب جمع کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے روحانی فوائد سے مجھے محروم نہ رکھے۔




باب اول ۔ اسماء طریقہ تربیت اور سلسلہ طریقت

حضرت شیخؒ کے بہت سے نام عوام میں مشہور رہے ہیں ۔ ان میں سے کچھ نام رحمکار، رامکار، کستری، کستیر ہیں ۔ ان کا ایک بہت مشہور نام کاکا صاحب ہے۔ مغلیہ خاندان میں وہ رحمان کار کے نام سے مشہور ہیں۔




اوصاف حمیدہ

آپ صاحب قرب اور صاحب دین تھے، اور جو سباط قرب پر متمکن ہو اس کی ذات میں کبر و غرور کا شائبہ تک نہیں ہوتا ۔ ان کے قلب سلیم میں غیر اللہ کی طرف التفات مفقود تھا اور ان کی نگاہِ پُرتاثیر پر غیر حق مسدود تھا۔ ان کے سینہ مبارک میں معرفتِ الہٰی اور عشقِ الہٰی کا نور اپنے کمال تک پہنچا ہوا تھا ۔ ان کا ظاہر علم سے آراستہ اور باطن تقوٰی سے منور تھا ۔ عشقِ الہٰی کے بحرز خار نے ان کی شخصیت میں جذب و کشش کو دوام و کمال بخشا تھا۔ انہوں نے اپنی ذات کی نفی کی اور مراتب اعلیٰ کے مالک بن گئے ۔ ان کی راتیں غیر حق سے محفوظ اور سیر مع اللہ میں مشغول ہوتی تھیں۔ جب انہوں نے غیر حق کو چھوڑا تو حق ان کے لئے غیر نہ رہا۔ وہ با کمال تھے اس لئے شریعت پر مکمل عامل اور طریقت میں تام تھے۔ ان کا قلب مبارک وارفتگیٔ شوق کی زمام تھامے ہر پل قربِ الہٰی کی نئی رفعتوں کی طرف گامزن تھا ۔ باوجود انتہا درجہ کے پابند شریعت ہونے کے وہ دل میں مجذوبوں کی طرح سوز و گداز رکھتے تھے۔

حضرت شیخؒ اپنے زمانے کے مقتدا و پیشوا تھے۔ وہ خود بھی کامل تھے اور دوسروں کو بھی کمال تک پہنچاتے تھے۔ وہ عشقِ الہٰی سے سرشار تھے جس کی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کے قلب مبارک کو علم لدنی سے مالامال کر دیا تھا۔ انکی صحبت میں عجیب اثر تھا۔ جو ان کی مجلس میں آتا اس کا سینہ سوز عشق سے سرشار ہو جاتا۔ عرفان نفس نے انہیں مکاشفۃ القلوب کا حامل بنا دیا تھا۔

اُنکا مطلوب حصول رضائے الہی تھا جس پر وہ مکمل توجہ جمائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ زندگی ہی میں اپنے تمام ہوائے نفسانی کو موت کے گھاٹ اتار چکے تھے اور انانیت کی ہر رمق سے خالی ہو چکے تھے۔وہ باقی بااللہ تھے۔ ایمان حقیقی رکھتے تھے اور انکے حق الیقین کو کسی حجاب نے آلودہ نہیں کیا تھا۔باوجود اسکے کہ وہ مقام حیرت کے مقیم تھے وہ صاحب عقل و خرد تھے۔ انکے اعمال صالحہ بکثرت اور اپنی ادائیگی میں کامل و اکمل تھے۔ انکے اعمال و اقوال حسنِ نیت اور حسن عمل کی مہک لئے ہوتے تھے۔

حضرت شیخؒ شریعت کا بحر بےکراں تھا۔ شریعت ہی ان کا اخلاق تھا۔ وہ گفتار کے سچے اور کردار کے ستھرے تھے۔ زہد و ریاضت میں یکتائے روزگار ہونے کے باوجود فخروغرور کا شائبہ تک نہ تھا۔ آپ اسرار حقیقت کے عینی شاہد تھے اور آپ کا مشاہدہ کسی حجاب سے محجوب نہ تھا۔ مشاہدہ حق میں ایسے یکسو تھے کہ کوئی غم و اندوہ آپکی یکسوئی میں خلل انداز نہیں ہوسکتا تھا۔ آپ اپنے وقت کے ابن عربی اور بایزید بسطامی تھے۔ جودوسخا میں بشرحافی جنید بغدادی تھے۔ جودوسخا میں ابوجنیب کی طرح اک اتھاہ سمندر تھے۔ اور انہی کی طرح صاحب دل تھے۔

حضرت شیخ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے نیک اعمال کا الہام ہوتا تھا۔ آپ نے تین سال میں تیس ہزار غلاموں کو آزاد کیا۔ انہی سالوں میں اعلیٰ نوع کی بےشمار گائیں اور لاتعداد دنبے خیرات کیے۔ مساکین میں بےشمار نقد رقوم تقسیم کیں۔ آپ خاص و عام کے طعام و قیام کا نہایت اعلیٰ انتظام فرماتے۔ آپ کا ہاتھ بہت کھلا تھا۔ آپ پانی کی طرح رقوم اور اشیاء خردونوش خیرات کرتے تھے۔ آپ عبادات میں دائمی منہمک اور معاملات میں اپنے متعلقین پر انتہائی شفیق تھے۔

مناقب ہذا کا یہ ضعیف جامع عرض کرتا ہے ایک مرتبہ میں نے حضرت شیخؒ سے پوچھا کہ حضرت آپ کے مرشد کون ہیں۔ بہت محبت اور شفقت سے فرمایا خدا مجھے آپ کا درد نہ دکھائے۔ میں نے شیخی شیخوں کو بخش دی، پیری پیروں کو، سلوک سالکوں کو اور تصوف صوفیوں کو۔ میری حالت تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی بندگی کی زنجیر میرے گلے میں ڈال دی ہے اور میری خواہش یہ ہے کہ یہ زنجیر میری گردن سے کبھی جدا نہ ہو

حلقہ درکرنم افگندہ دوست

مےبروآنجا کہ خاطر خواہ اوست

(میری گردن میں دوست نے رسی ڈال دی ہے اور جس طرف اسکی مرضی ہو مجھے کھینچے لئے جارہا ہے)

یہ مقام عبودیت ہے۔ اس مقام کے درجات لاتعداد ہیں۔ بقول شاعر

بادوقبلہ در رہ توحید نتواں رفت راست

یارضائے دوست بایدیا ہوائے خویشتن

(راہ توحید میں دو قبلوں کی طرف رخ نہیں کیا کرتے۔ یا دوست کی مرضی پر عمل کرنا ہوتا ہے یا اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں)

گر مرا دوزخ بسوزند خاک رے گو مباش

وردجنت نباشد بوستانے گو میباش

من سگ اصحاب کہفم بردرمردان مقیم

گرد ہر درمی نگردم استخوانی گو مباش

“نہ دوزخ کی آگ کی پرواہ ہے نہ جنت کے باغ کی چاہ، میں اصحاب کہف کے کتے کی طرح ایک ہی در پر پڑا ہوں اور ہر دروازے پر نہیں جاتا کیونکہ مجھے ہڈی کی ضرورت نہیں”یہ مقام حجت ذاتی ہے۔ باری تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔

عبودیت کا مقام کامل رضا بالقضا کا مقام ہے۔ تم پر کوئی بھی افتاد پڑے راضی بہ رضا رہو۔ جب دل ہر حال میں مطمئن اور اللہ کی طرف متوجہ ہو تو یہ کامل عبودیت کی حالت ہے۔ جب عبدیت کا شرف حاصل ہوتا ہے تو پھر کرامت کا تاج اور امامت کی خلعت بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ آیت " سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْریٰ بِعَبْدِہ ٖ" میں اسی لئے لفظ عبد استعمال کیا گیا ہے اور اسی عبدیت کا انعام پھر " یَا عِبَادِ لَاخَوْفؕ ُٗ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ وَلَا اَنْتُمْ تَحْزَنُوْن" کہہ کردیا گیا ہے۔

حضرت شیخ رحمکارؒ کا طریقہ اویسیہ تھا اور نورِمحمدیﷺ آپکی تربیت کررہا تھا۔ حضرت شیخ کو جو بھی درجات عالیہ حاصل تھے اور عشقِ الہی کا جو بھی فیضان آپکے وجود باسعادت کو منور کیے ہوئے تھا یہ سب اسی مبارک نور کا پرتو اور فیض تھا۔ اویسیت کی یہ خلعت اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ازل ہی سے آپکی قسمت میں لکھ دی تھی۔

حضرت شیخؒ نے ابتدا میں لوگوں کی روحانی تربیت کرنے سے اجتناب فرمایا۔ اسی لئے آپ نے اپنی ذات بابرکت کو استتار کے دبیز پردوں میں چھپائے رکھا۔ لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپکی ذات مبارک کے ذریعے لاکھوں بندگان خدا کی ہدایت کا سامان کرنا تھا اس لئے یہ استتار زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکا اور آپ کی ذات مبارک کی خوشبو آہستہ آہستہ قرب و جوار کے علاقے میں پھیلنے لگی اورمشتاقان دید و فیض آپکے گرد جمع ہونے لگے۔ حضرت شیخ کی طبیعت مبارک کو ابتدا میں یہ عیاں ہونا ناگوار گزرتا تھا اسی لئے جو بھی لوگ آپکی خدمت میں حاضر ہوتے اپنی افتاد طبع کے برخلاف آپ نے انکی مہمان نوازی سے اعراض برتا۔ مقصد یہ تھا کہ لوگ بدظن ہوکر واپس چلے جائیں گے لیکن لوگوں نے عشقِ الہی کا جو نور آپ کے وجود مبارک سے زمزمہ پیماں ہوتے دیکھا تھا اسکی کشش اتنی زیادہ تھی کہ لوگوں نے آپکی ذات بابرکت کی مجلس سے جدا ہونا قبول نہیں کیا اور اپنے کھانے پینے کا سامان اپنے ساتھ لانے لگے اور آپکے پاس کے گاؤں کے لوگ یہ سامان پکا کر زائرین کو کھلانے لگے۔ حضرت شیخؒ نے جب یہ دیکھا تو آس پاس کے گاؤں کے لوگوں کا زائرین کا کھانا پکانے سے منع کردیا۔ مشتاقان توجہ تب بھی منع نہ ہوئے اور اپنے ساتھ کھانا پکانے کا سامان جیسے کہ دیگ وغیرہ بھی ساتھ لانے لگے اور وہی جنگل ہی میں خود ہی کھانا پکا کر کھانے لگے۔ حضرت نے جب یہ دیکھا تو حکم دیا کہ زائرین کے دیگ وغیرہ سب توڑ دیے جائیں۔ اس کے باوجود بھی مشتاقان دید نے اکتساب دید سے منہ نہ موڑا اور اس جنگل و بیابان میں بھوکے پیاسے ہی بیٹھ گئے اور آپ کی صحبت بابرکت ہی کو اوڑھنا اور بچھونا بنا دیا اور بجائے اس کے کہ لوگ بدظن ہو کر آنا چھوڑ دیں لوگوں کا ہجوم اور بڑھ گیا۔

اک عرصہ جب اس حالت میں گذرا تو حضرت شیخ ؒ کا دل پسیج گیا اور لوگوں کے درمیان آئے اور فرمایا کہ میری خواہش تھی کہ میری تنہائی اور یکسوئی برقرار رہے لیکن یوں لگتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مصلحت اس میں ہے کہ میری تنہائی قائم نہ رہے اور ا س لئے آپ لوگوں کو میرے پیچھے لگا دیا ہے۔ لگتا ہے کہ اب نجات کا کوئی راستہ نہیں۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ زائرین کی مہمان نوازی کا اہتمام کیا جائے۔

 

 

بیان زیارت کاکاصاحب ﷬

بروز جمعۃ المبارک 21 جولائی 2017

 

دوستو ہم یہاں پر ایک خاص فکر کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں اور وہ فکر ہے کاکاصاحب ﷬ کی تعلیمات کو عام کرنے کی۔ الحمدللہ کاکاخیل پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن سے کام لے رہے ہيں۔ اب ہم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ہم اپنے جدِ امجد کے فیوضات کو عام کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ یہ ہمارا مرکز ہے اس وجہ سے ہم نے یہ کام یہاں سے شروع کرنے کا ارادہ کیا اور جس میں آپ حضرات سے اس سلسلے میں مشورہ کریں اور جس طرح مشورہ طے ہو جائے اسی کے مطابق ہم چلیں۔

اپنا تعارف ضروری ہوتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے بزرگوں حضرت مولانا اشرف سلیمانی ﷬ اور حضرت صوفی محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے جب تصوف کا کام شروع کیا تو الحمدللہ اس کام کو اللہ تعالیٰ نے راولپنڈی کے علاقے میں بہت فروغ دیا۔ ہمارا اصلاحی اعتکاف تھا ایک نئی جگہ پر وہاں پر ایک صاحب کو خواب میں کاکاصاحب ﷬کی زیارت ہوئی اور بقول اُن کے ایک اور بزرگ بھی تھے کاکا صاحب کے پیچھے کھڑے تھے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ میرا نام بہادر بابا ہے اور میں کاکاصاحبؒ کا والد ہوں اور شاہ صاحب کو میرا سلام کہہ دو اور اُن کو کہو کہ آپ بالکل ٹھیک جا رہے ہیں اور اپنے اس کام کو اور بڑھاؤ اور ساتھ ہی اپنے مزار کا راستہ اُن کو سمجھایا کہ یہاں پر میری قبر ہے اور شاہ صاحب کو کہو کہ میرے پاس ابھی تک نہیں آئے میرے پاس آجاؤ۔ میں نے اُن کو کہا کہ آپ کے خواب کو اب میں سچ مانتا ہوں کیونکہ ابھی تک میں بہادر بابا کے مزار پر نہيں گیا۔ پھرمیں اپنے ایک کزن کرنل احتشام صاحب کے ساتھ بہادر بابا کے مزار پر حاضر ہوا۔

ہماری خانقاہ میں الحمدللہ پورا ہفتہ بزرگوں کی تعلیمات کا سلسلہ چلتا ہے جن میں حضرت مولانا روم ﷬ کی مثنوی شریف کا درس، حضرت مجدد الف ثانی﷬ کے مکتوبات کا درس اور حضرت شاہ ولی اللہ ﷬ اور حضرت شاہ اسماعیل شہید ﷬ کی تعلیمات کا درس ہوتا ہے۔ جب ہمارا یہ سلسلہ چل رہا تھا تو ہمارے ایک ساتھی کو پھر حضرت بہادر بابا ﷬ کی زیارت ہوئی اور میرے متعلق فرمایا کہ یہ جن بزرگوں کی تعلیمات بیان کر رہے ہیں یہ بہت اچھی بات ہے یہ ہمارے بھی بڑے ہیں لیکن اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ اُس کے بعد ہم نے مقاماتِ قطبیہ اور مقالاتِ قدسیہ کا درس شروع کیا۔ اس کے بہت سے فوائد سامنے آئے اور جو کاکاخیل تھے اُن کو اس کا بہت زیادہ فائدہ ملنا شروع ہوا جو کہ ایک فطری بات ہے۔ اور ہمارے ساتھیوں نے یہ کہا کہ اس کے اندر جو فیض ہے اُس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔ پھر اس کے بارے میں ہم نے یہ سوچا کہ اس فیض کو کسی منظم طریقے سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ تو اس کا آسان طریقہ یہ تھا کہ اس کو رسالے کے صورت میں پھیلایا جائے۔ اگرچہ ہمارے سارے بیانات ویب سائٹ پر موجود ہيں لیکن رسالہ سے وہ لوگ بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہيں جن کو انٹر نیٹ کی سہولت میسر نہ ہو یا وہ انٹر نیٹ کے استعمال کا طریقہ نہ جانتے ہوں۔ اس رسالے کا نام ہے “استغنا الفقر” یعنی وہ استغناء جو کہ فقر سے مستعار ہو۔ جب کاکا صاحب﷬ کا وصال ہوا تو حضرت کی تاریخ وفات خوشحال خان خٹک نے جو ایک قطعہ میں لکھی تھی وہ یہ تھی “بافقر رفت” یعنی فقر کی حالت میں دنیا سے چلے گئے۔ کاکا صاحب﷬ کے فق ر پر اس کتاب مقاماتِ قطبیہ اور مقالاتِ قدسیہ میں کافی تفصیل سےبات ہوئی ہے۔ زُہد اور عشق جب جمع ہو جائیں تو اس سے فقر بن جاتا ہے۔ فقر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو کچھ نہ سمج ھے اور مخلوق سے بے نیاز ہو جائے۔ یعنی مخلوق سے کچھ نہ مانگے اور خالق سے سب کچھ مانگے۔ اس کو فقر کہتے ہيں۔ جب “اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ۝ ” پر پورا عمل پیرا ہوجائے تو یہ فقر ہے۔ موسیٰ علیہ سلام جب مدین میں داخل ہوئے اورشعیب ﷤ کی بیٹیوں کے لئے پانی بھر دیا تو پھر ایک طرف ہو کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی جو کہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ “رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ”۔ اے میرے رب تیری طرف سے جو بھی خیر مجھے ملے میں اس کا م حتاج ہوں۔ تو فقر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا م حتاج محض سمجھ لے اور مخلوق سے اُس کی طمع بالکل قطع ہو جائے۔ یہی مقامِ عبدیت بھی ہے، یہی مقامِ محبوبیت بھی ہے، یہی فناء بھی ہے، یہی بقاء بھی ہے۔ سارے مقامات اس میں جمع ہوگئے ہیں۔ تو حضر ت کاکاصاحبؒ کا یہ مقام اس کتاب میں موجود ہے اور حضرت حلیم گل بابا ﷬ نے اس پر پورا تبصرہ کیا ہے۔ کاکاصاحب ﷬ کی تعلیمات میں اللہ تعالیٰ نے کاکاخیلو کے لئے کچھ رکھا ہوگا جس کو اب ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ پیغام تو سب کو پہنچانا ہے اور اس پہنچانے کے عمل میں میں یہ نہیں چاہتا کہ صرف میرا حصہ ہو بلکہ سب کاکاخیلو کا اس ميں حصہ ہو تو ہم اس سلسلے میں یہاں زیارت کاکاصاحبؒ میں ایک جلسہ منعقد کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ ہماری فکر اس سلسلے میں کیا ہے؟ بہت سے علاقوں میں کاکاخیل موجود ہیں لیکن مرکز زیارت کاکاصاحب ہے۔ اس وجہ سے یہ جلسہ زیارت کاکاصاحبؒ میں ہونا چاہئے۔ اس کے لئے آپ حضرات سے مشورہ درکار ہےکہ یہ جلسہ کس طریقے پر کیا جائے۔ یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں ہے صاف بات کہہ رہا ہوں۔ نہ ہم سیاسی حضرات سے اس سلسلے میں تعاون چاہتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ سیاست غلط چیز ہے یہ بھی دین کا ایک شعبہ ہے اور اس میں جو بات ہوتی ہے وہ بہت اہم ہوتی ہے۔ لیکن اس کام میں ہم سیاست کو لانا نہیں چاہتے۔ اس لیے کہ اگر ایک پارٹی والا آپ کے ساتھ شامل ہوگیا تو دوسری پارٹی والا آپ کا دشمن ہو گیا۔ حالانکہ یہ امانت تو سب کی ہے۔ اس میں یہ نہیں کہ ایک پارٹی والا ہوگا اور دوسری پارٹی والا نہیں ہوگا۔ تو اس کے لئے یہ ایک غیر سیاسی فورم ہوگا اور اس کے لئے جو فکر کرنی چاہئے وہ زیر بحث ہے۔ اس کے لئے جو مشورہ ہوگا وہ ان شاء اللہ نمازِ جمعہ کے بعد ہوگا ۔

بہر حال آپ حضرات کے سامنے میں نے اس بات کو بیان کر دیا تاکہ آپ لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ ہم یہ کام کیوں کرنا چاہتے ہيں۔ الحمد للہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے اور ہمارے بزرگوں کی دعائیں ہیں کہ جس طریقے سے یہ کام آگے بڑھ رہا ہے تو ہم امید رکھتے ہيں کہ ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں گے۔ کاکاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض و برکات بہت زیادہ تھے اور آجکل بھی ہیں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں اُن کو اس کا پتہ ہے اور کاکاصاحب ﷬ اپنی اولاد پر بہت زیادہ مہربان ہیں۔ جس کو صلہ رحمی کہتے ہيں وہ کاکا صاحبؒ کے اندر بہت زیادہ ہے۔ میرے جو پیر بھائی ہیں وہ میرے ساتھ مذاق کرتے ہيں کہ کاکاصاحبؒ نے ساری دعائیں اپنی اولاد کے لئے کی ہیں۔ یعنی ان کے فیوض ان کی اولاد کو ملتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کاکاصاحبؒ اپنی اولاد پر بہت زیادہ مہربان ہیں۔ تو یقیناً اس کے فوائد تو ان کی اولاد کو پہنچیں گے لیکن دین تو صرف کاکاخیلو کا نہیں ہے دین تو سب کا ہے۔ لہذا اس کے فوائد اور لوگوں کو بھی ہوں گے البتہ یہ آواز کاکاخیل بلند کریں گے۔ اس وجہ سے کہ یہ ان کی میراث ہے اور کوشش یہ ہونی چاہئے کہ یہ اس آواز کو بلند کریں۔ الحمد للہ کاکاصاحبؒ کی تعلیمات اتنی زیادہ ہیں کہ اگر ان کو کوئی سمجھ لے تو ان شاء اللہ ان کو کہیں اور جانا نہیں پڑے گا اور اُن کا کام شروع ہو جائے گا۔

کاکاصاحب ؒکے فیوضات دو قسم کے ہیں ایک دنیوی ہیں اور دوسرے اُخروی ہيں۔ مثال کے طورپر اگر کسی کا کوئی دنیوی مسئلہ ہو اور کاکاصاحبؒ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اُس کا کام کر دیا تو یہ دنیوی چیز اُس کو مل گئی۔ لیکن یہ ایک فانی چیز ہے بس ختم ہو جائے گی۔ کسی کا کاروبار چل پڑا، کسی کو نوکری مل گئی، کسی کی بیماری ٹھیک ہو گئی، کسی کو اولاد مل گئی۔ تو یہ دنیوی چیز ہے ایک وقت پر ختم ہو جائے گی۔ لیکن جس کو کاکاصاحبؒ کا اُخروی فیض مل گیا تو یہ اصل فیض ہے۔ آجکل میں جب کاکاصاحبؒ کے مزار پر جاتا ہوں تو مجھے بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو کہ آخرت کے فیض کو حاصل کرنے کے لئے اُدھر آتے ہیں۔ اب اس چیز کو پیدا کرنا ہے کہ اتنا بڑا خزانہ ہمارے پاس موجود ہے اور اس سے ہم صرف دنیاوی فائدہ حاصل کریں تو یہ کتنے خسارے کی بات ہے۔ ٹھیک ہے پانچ ہزار روپے چائے کےلئے آگ لگانے کے لئے استعمال تو ہو سکتے ہیں ۔ چائے تو بن جائے گی لیکن اس کو غلط استعمال کیا گیا۔ اسی طرح کاکا صاحب کا فیض دنیا کےلئے استعمال تو ہو سکتا ہے لیکن یہ دنیا کے لئے نہیں ہے۔ اصل یہ اس کےلئے ہے کہ انسان اللہ تک پہنچ جائے۔ وہ کیا چیز ہے؟ وہ میں آپ کو بتاتا ہوں وہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہيں۔ " قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھََا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا" یقیناً جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے اس کو پاک نہیں کیا وہ تباہ وبرباد ہو گیا۔ اب ہمارے ساتھ جو نفس کے رذائل ہیں جیسے حسد ہے، بغض ہے، تکبر ہے، ریاکاری ہے تو اگر یہ رذائل ہیں تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ حدیث شریف ميں آتا ہے کہ جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہيں ہوگا۔ حسد کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے اور ریاکاری سے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ نماز، روزہ، زکواۃ، حج جیسے بڑے بڑے اعمال ضائع ہو جاتےہیں۔ اسی طرح عُجب سے بھی سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ تو یہ سارے رذائل مصیبتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس نے ان سب سے اپنے نفس کو پاک کیا تو وہ یقیناً کامیاب ہو گیا۔ اب اگرکسی کا دنیوی کام کاکاصاحبؒ کی برکت سے ہو گیا لیکن تکبر کے ساتھ اس دنیا سے چلا گیا تو کیا خیال ہے کہ وہ کامیاب ہو گیا؟ ٹھیک ہے کہ اُس کا دنیا کا کام تو ہو گیا لیکن ناکام تو ہو گیا کیونکہ آپﷺ نے ایسے شخص کو ناکام فرمایاہے ۔ اور اگر کوئی کاکاصاحبؒ کی برکت سے ان رذائل سے بچ گیا تو وہ کامیاب ہو گیا۔ اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ ہم صرف اس کے لئے آئے ہیں۔

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں۔ " اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ " بے شک اس قرآن میں ہر اُس شخص کے لئے نصیحت ہے جس کا دل بنا ہو۔ جس کے دل میں دنیا کی محبت ہو اُس کو قرآن ہدایت نہيں دیتا۔ وہ قرآن کو قسم کھانے کےلئے استعمال کرے گا۔ وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر دھوکہ کرے گا۔ اس لئے کہ اُس کی محبت دنیا کے ساتھ ہے۔ اُس کو یہ پتہ نہیں کہ قرآن کیا ہے؟ اس وجہ سے جس کے دل میں دنیا کی محبت ہو وہ قرآن سے ہدایت نہیں لے سکتا۔ تو اب ہمیں اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکالنا پڑے گا۔ اسی طرح ہماری عقل ہے۔ تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری عقل دنیا کی چیزوں پر فیصلہ کرتی ہے یا آخرت کی چیزوں پر؟ سود کے ساتھ پیسے بڑھتے ہیں اور صدقات کے ساتھ پیسے کم ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ " یَمْحَقُ اللہُ الرِّبَاء وَیُرْبِی الصَّدَقَات" اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ اب اس بات کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن وحدیث کے ذریعے پتہ چلا تو اب میں سود نہیں کھاؤں گا اور اگر دنیا کے قاعدے کو دیکھوں گا تو سود کھاؤں گا، رشوت لوں گا، دھوکہ کروں گا۔ میں آپ کو اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں جو کہ میرے ساتھ ہوا۔ ہمارے ایک استاد تھے اُنہوں نے گھر بنایا اسلام آباد میں۔ یہ 1982 کی بات ہے۔ اُس نے اُس وقت 5 لاکھ روپے پر گھر بنایا تھا۔ تو ہماری دعوت کی تھی۔ ان سےایک ساتھی نے پوچھا کہ آپ نے یہ گھر بنایا ہے تو اب آپ کیا محسوس کر رہے ہيں؟ تو اُس نے کہا کہ اگر نہ بنایا ہوتا تو اچھا ہوتا۔ ہم حیران ہو گئے اور اُن سے پوچھا کہ کیوں تو اُنہوں نے کہا کہ اس وجہ سے کہ اگر یہ پیسے میں نے بنک میں جمع کئے ہوتے تو مجھے ان پیسوں سے ہر مہینے 6 ہزار روپے ملتے اور اب مجھے اس سے 1200 روپے کرایہ ملے گا۔ تو یہ میں نے فائدہ کیا یا نقصان کیا؟ اب ميں آپ کو بتاتا ہوں کہ اُس کا فائدہ کس چیز میں تھا دنیوی لحاظ سے عرض کر رہا ہوں آخرت کے لحاظ سے نہيں۔ اُس گھر کی قیمت اب 2 کروڑ روپے ہو گی اسلام آباد ميں۔ تو اتنے عرصے میں اُس کے 5 لاکھ نے ایک کروڑ 95 لاکھ روپے کا نفع دیا اور آج کل اُس گھر کا کرایہ 70 یا 80 ہزار روپے سے کم نہیں ہے۔ اُس وقت اُس کو بنک سے 6 ہزار روپے مل رہے تھے اور یہ 6 ہزار اُس کو ہمیشہ ملتے۔جبکہ کرایہ ہر سال بڑھتا رہتا ہے۔ لیکن اُس وقت کا ایک فوری فائدہ اُس کو نظر آرہا تھا لیکن یہ بعد میں جو فائدہ تھا وہ نظر نہيں آرہا تھا۔ جب عقل صحيح کام نہ کر رہی ہوتو یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ تو یہی بات اللہ تعالیٰ بھی فرماتے ہيں کہ سود لوگوں کو ختم کرتا ہے لیکن لوگ کہتے ہیں کہ سود سے پیسے آتے ہیں۔ تاج کمپنی کا نام آپ نے سُنا ہوگا۔ قرآن چھاپتے تھے۔ لیکن اُن کا کاروبار سود کا تھا علماء کرام نے اُن کو سمجھایا لیکن اُس کے مالک نے کہا کہ یہ میرا کاروبار ہے اس بارے میں مجھ سے بات نہ کریں۔آج کل وہ تاج کمپنی دیوالیہ ہو چکی ہے۔ بس یہ چیز ہے۔ جب تک ہماری یہ آنکھیں کُھل نہ جائیں اُس وقت تک ہم یہ بات نہيں سمجھ سکتے۔ یہ آنکھیں کھلتی ہيں اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے۔ٗ

"ٗٗٗٗاِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَایت لاولِی الْاَلْبَابِۚ الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"

بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور دن اور رات کے اُلٹ پھیر میں عقل والوں کےلئے نشانیاں ہیں وہ عقل والے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور فکر کرتے ہيں کائنات کی تخلیق میں اور اُن کے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ یا اللہ تو نے ان چیزوں کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا تو پاک ہے۔ پس تو ہمیں عذاب جہنم سے بچا دے۔ اب آپ تھوڑا سوچیں کہ جس کے اندر عقل ہو تو وہ کیا کرے گا؟ پہلا کام تو وہ یہ کرے گا کہ وہ چیزوں کو پہچان لے گا کہ یہ دنیا میں نظر آنے والی چیزیں کیا ہیں؟ اور ان کا اصل مقصد کیا ہے۔ دوسرا اُس کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو جائے گی۔ سُبحانک۔ اور تیسرا وہ دنیا میں اپنے مقصد کو پہچان لے گا کہ دنیا میں میرا مقصد یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو آخرت میں جہنم کی آگ سے بچاؤں۔ تو جو اپنے آپ کو آگ سے بچانا چاہتا ہے کیا وہ سود کھائے گا یا نہیں؟ وہ رشوت لے گا یا نہيں؟ دھوکہ کرے گا یا نہیں؟ اصل عقل یہ ہے۔ تو خلاصہ یہ کہ ان تین چیزوں کو ٹھیک کرنا ہے۔ عقل کو، دل کو اور نفس کو۔ اسی کو تصوف کہتے ہیں۔ تو یہ ہمارے بزرگوں کی ترتیب تھی کہ وہ ان تین چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اب اگر ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ جُڑے رہیں تو ہم اس بات سمجھ جائیں گے۔ ہمارے بزرگوں کی ترتیب یہ نہیں تھی کہ قبر سے طواف کیا جائے۔ ہمارے بزرگ ان کاموں سے خوش نہیں ہوتے بلکہ وہ تو اس سے خوش ہوتے ہیں کہ ہم اُن کی تعلیمات پر عمل کریں۔ میں ایک دفعہ یہاں بطور چیف گیسٹ آیا تھا اور مجھے کہا گیاکہ میں یہاں بیان کروں۔اور بھی لوگ آئے تھے وہ بھی بیان کر رہے تھے۔ تو وہ سارے کرامات کے متعلق بیانات تھے کہ کاکاصاحبؒ کی یہ کرامت ہے اور یہ کرامت ہے۔ میں نے میزبان صاحب کو کہا کہ میں بات کرنا چاہتا ہوں تو اُنہوں نے کہا کہ تم تو چیف گیسٹ ہو آخر میں بات کرو گے۔ میں نے کہا کہ خیر ہے کوئی بات نہیں درمیان میں بھی بات ہو سکتی ہے۔ تو اُنہوں نے مجھے بات کرنے کے لئے بُلایا۔ تو میں نے کہا کہ آپ سارے حضرات کاکاصاحبؒ کے ساتھ محبت کرنے والے ہيں مجھے اس کا پتہ ہے اور یہ جتنے لوگ یہاں آئے ہیں یہ سارے کاکاصاحبؒ کے ساتھ محبت رکھنے والے ہيں۔ کرامات اُن لوگوں کو بیان کریں جو کاکاصاحبؒ کے ساتھ محبت نہ کرتے ہوں۔ ان لوگوں کو جو کاکاصاحبؒ کے ساتھ محبت کرتے ہيں ان کو کاکاصاحب ؒ کی زندگی بیان کرو کہ اُنہوں نے زندگی کیسے گزاری اور حضرتؒ کی تعلیمات کیا ہیں۔ تو اس کے بعد جو بھی لوگ بیان کے لئے آئے تو اُنہوں نے کاکاصاحبؒ کی زندگی اور حضرتؒ کی تعلیمات کو آہستہ آہستہ بیان کرنا شروع کیا۔ یہ حضرتؒ کی زندگی اور تعلیمات کو لوگ کیوں بیان نہيں کر رہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں واہ واہ نہیں ہے۔ تو مجھے یہ پتہ ہے کہ جب میں یہ بات کروں گا تو اس پر واہ واہ نہیں ہوگا لیکن مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ اس بات کے کرنے سے مجھ سے اللہ تعالیٰ خوش ہوگا۔اگر میں واہ واہ کو چاہوں گا اور وہی باتیں کروں جو واہ واہ کے لئے کی جاتی ہيں تو ان باتوں سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو میں نے جو بات آپ کو بتائی یہ باتیں ہمارے بزرگوں کی کتابوں میں لکھی ہیں۔ تو یہ باتیں آپ دوسرے ساتھیوں کو بھی بتائیں۔ ان شاء اللہ جب جلسہ ہوگا تو اُس میں بھی یہی باتیں ہوں گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ رسالہ جب شائع ہوگا تو اُس ميں کاکاصاحبؒ کی تعلیمات آجائیں گی اور ہماری یہ کوشش ہے کہ اس رسالے کو ہم گھر گھر تک پہنچائیں۔ اب میں آپ حضرات کا زیادہ وقت نہیں لیتا وجہ یہ ہے کہ اگر آپ کو ایک بات کی سمجھ آجائے تو یہ بڑی بات ہے ورنہ تقریریں تو بہت سے لوگ کرتے ہیں اصل فکر ہے وہ فکر لینا چاہئے اگر اُس فکر کو آپ لوگوں نے لے لیا تو میری بات پوری ہو گئی۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔

 

 

 

 

ليکوال:حضرت سيد شبير احمد کاکاخيل دامت برکاتهم العاليه

 

فضل خدايه پهٔ ما وکړې پهٔ طفيل دَ رحمکارؒ

دَ بهادر باباؒ پهٔ مخ مې کړې بهادر قوي جرار

 

مست پهٔ مينه دَ الله مې کړې پهٔ مخ دَ مست باباؒ

دَ غالب باباؒ پهٔ مخ مې کړې غالب پهٔ نفس مردار

 

دَ آدم باباؒ پهٔ مخ مې آدميت نصيب کړې ربه

کړ ې روان مې پهٔ خپل فضل دَ ياسين باباؒ پهٔ لار

 

دَ سيد حسينؒ پهٔ مخ مې عافيت خدايه نصيب کړې

دَ سيد باقرؒ لهٔ مخه مې دا ژوند کړې خپل پکار

 

دَ سيد محمودؒ آتا پهٔ مخ پهٔ لاره دَ محمود شوے

دَ سيد احمد آتاؒ پهٔ شان شوے بچ لهٔ نفس مکار

 

زهٔ پهٔ مخ دَ سېف الدين باباؒ شوے جوړه دَ دين توره

دَ دښمن شېطان پهٔ مخ شمه ناساپه راګذار

 

هم پهٔ مخ دَسعدالدين باباؒ سعيد زهٔ دائمي شم

دَ سيداکبر تومانؒ پهٔ مخ پهٔ دين شمه نثار

 

دَ سيد لقمانؒ پهٔ مخ مې لهٔ حکمت ډک ژوند نصيب شوے

دَ سيد عليؒ پهٔ مخ راکړې زړهٔ اؤ عقل بېدار

 

دَ سيد حسينؒ پهٔ مخ مې برکت دَ ژوند نصيب کړ ې

دَ سيد عليؒ پهٔ شان خپله جاه خپله کړمه زار

 

هم لهٔ مخه دَ امامِ اسماعيلؒ شمه قبول زهٔ

دَ امام جعفرؒ پهٔ مخ مې صداقت جوړ شي شعار

 

دَ امام باقرؒ پهٔ شان مې کړې وارث دَ انبياؤ

دَ امامِ زين العابدينؒ خويونه کړم اختيار

 

دَ امام حسېنؓ پهٔ مخ شوے زهٔ قربان دَستا دپاره

دَ حضرت عليؓ پهٔ شان راکړې ګفتار اؤ هم کردار

 

تاپېدا کړو کائنات خدايه پهٔ مخ دَ محمدﷺ چې

دَ هغهٔ پهٔ مخ اے ربه شم دَ ستاسو تابعدار

 

پهٔ خپل فضل مې اے ربه دَ خپل ځان کړې چې دَ ستا شم

جان و مال وخت مې قبول کړ ې ستا پهٔ مينه شم سرشار

 

فاطمېؓ بي بي ته ووې پاک رسولﷺ خپل عمل ښهٔ کړه

تهٔ پهٔ دغې به خلاصېږې پهٔ دې نه چې يم ستا پلار

 

دا نسبت دَ سيدانو معتبر پهٔ دې دنيا دے

حسنؓ وائی آخرت کښې خپل عمل وي بس پکار

 

زهٔ پهٔ ناز دَ سيد ئ کښې عمل پرېنږدمه

دَ شيطان پهٔ لمسه نهٔ شم

جهنم ته زهٔ ګزار

 

کوم نيکونه چې زمونږ دي دَ عمل واړه غازيان وو

پدرم سلطان نعره دَ بې عملئی اؤ خطا کار

 

خدایه ما دَ لاف زنئی نه پهٔ امان کړې پهٔ خپل فضل

پهٔ دهوکو دَ نفس شېطان کښې چرته نهٔ شم راحصار