Urdu HomePage - صفحۂ اول

نوٹ

الحمدللہ ہر سوموار کو خانقاہ میں حضرت اقدس اصلاح و تربیت سے متعلق سوالوں کے جوابات دیتے ہیں جو براہِ راست ویب سائٹ پر سنے اور ڈاونلوڈ کئے جاسکتے ہیں۔ عوام الناس کی سہولت کے پیشِ نظر پہلے سے پوچھے گئے سوالات کو ساتھ ساتھ تحریری صورت بھی دی جارہی ہے۔ اللہ رب العزت اس کام کو جلد تکمیل تک پہنچا دے۔ آمین

تصوف سے متعلق سوالات و جوابات

ذیل میں کسی بھی بٹن کو دبا کر مقررہ صفحہ دیکھئے۔۔۔



مجلس سوال و جواب تحریری

سوال: ذکر کے دوران وسوسے آتے ہیں اور نماز کے دوران بھی وسوسے آتے ہیں ‘ پہلے کم تھے اب زیادہ ہوگئے ہیں تو اس کا کیا علاج ہے ؟

جواب: وساوس چاہے ذکر میں ہوں چاہے نماز میں ہوں اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اگر وہ غیر اختیاری ہیں ‘ خود سے لائے نہیں گئے ہیں تو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وسوسوں کی جتنی بھی پرواہ کی جائے گی وہ زیادہ بڑھیں گے ۔ اور یہ اصل میں اس بات کی علامت ہے کہ شیطان کو فکر ہوگئی کہ یہ تو راستے پر چل پڑا ہے اس وجہ سے وہ اس کو تنگ کرنا چاہتا ہے تاکہ یہ تنگ ہوکر اس کو چھوڑ دے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ پرواہ نہ کرے اور ذکر کرتا رہے جیسے بھی ہوتا رہے ذکر کرتا رہے ۔ اس طرح نماز میں بھی وسوسوں کی پرواہ نہ کرے اپنی نمازیں جاری رکھے ۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے بجلی کے تار کو اگر کوئی دور کرنے کے لئے بھی ہاتھ لگائے گا تو وہ کرنٹ مار سکتا ہے تو اس وجہ سے اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے

سوال: صوفیائے کرام ذکرکراتے ہیں ، ضربیں لگاتیں ہیں اور مراقبات کراتے ہیں تو کیا یہ سنت سے ثابت ہے ؟ یا یہ صوفیائے کرام نے اپنی طرف سے بنائے ہیں ۔

جواب: اس کا اصولی جواب یہ ہے اور میرے خیال میں میری کتاب تصوف کا خلاصہ میں بھی اس کا جواب لکھا ہوا ہے کہ جتنے بھی ذکر اذکار کے طریقے ہیں تو اس کا جو مقصد ہے وہ تو ثابت ہے ۔مقصد سے مراد یہ ہے کہ ہمیں دل کی اصلاح کرنی چاہیے اور اس کے اندر سے حسد، کینہ ، بغض ،تکبراور دوسرے تمام رذائل کو دور کرنا چاہیے اور صبر شکر اور اخلاص جیسے فضائل پیدا کرنے چاہیے ۔ تو مقصد متعین ہے اور وہ قران و سنت سے ثابت ہے ۔ لیکن اس کے بعد اب ان کو دور کیسے کیا جائے تو قران و حدیث سے ثابت ہے کہ سوال کرنا حرام ہے ، اشراف نفس بھی حرام ہے اب اس سے بچنے کے جو ذرائع ہونگے وہ تو بہت سارے ہیں اور کوئی بھی ثابت نہیں ہے ۔آپ جو بھی صحیح کاروبار کرتے ہیں کیا اس کا سارا طریقہ قران سے ثابت ہوتا ہے یا حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے ؟ آپ جتنے بھی پیسے کماتے ہیں اس کے کمانے کے بہت سارے طریقے ہیں وہ سارے کے سارے تو ثابت نہیں ہیں لیکن ظاہر ہے کہ کوئی بھی اس کو چھوڑتا نہیں کہ یہ قران و حدیث سے ثابت نہیں ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہم سوال کرنے سے بچ جائیں گے ، حرام کام سے بچ جائیں گے تو اسی طریقے سے یہ چیز تو ثابت ہے قران و حدیث سے کہ ہم لوگوں کو اپنے دل کی اصلاح کرنی چاہیے ، اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہیے لیکن اب یہ اصلاح کیسے ہو ، اس کے لئے ذرائع ہوتے ہیں اور وہ تجرباتی ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ جتنے لوگ ہیں اتنی ہی بیماریاں ہیں ۔ اور ہر ایک کا علاج بھی مختلف ہوگا تو کیا اتنے سارے لوگوں کی بیماریوں کا علاج کتابوں میں آسکتا ہے یاقران و حدیث میں یہ چیز آسکتی تھی ؟ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔تو اصول سمجھا دیے گئے ہیں اور فروع کو اس پر مستنبط کرلیتے ہیں ،تو یہ ساری کی ساری چیزیں تجرباتی ہیں اور جو تجرباتی چیزیں ہوتی ہیں وہ اگر قران و سنت سے نہیں ٹکراتی یعنی اس کی ممانعت نہ ہو تو وہ جائز ہوتی ہیں ، اس میں نتیجے کو دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا برآمد ہوتا ہے ، کیا وہ نتیجہ جائز صورت میں نظر آتا ہے یا ناجائز صورت میں نظر آتا ہے ۔ اگر وہ نتیجہ اس کا جائز صورت میں نظر آتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ اس طرح علم فرض عین ہے ہر مسلمان مرد و عورت پر ، لیکن اب اس کے حاصل کرنے کے طریقوں پر پابندی نہیں لگائی گئی ۔ مثال کے طور پر آپ ﷺ کے وقت میں علم براہ راست آپ ﷺ سے حاصل کیا جاتا تھا اب اگر اسی کو لازم سمجھا جائے تو وہ اب کیسے ہو ؟ اب تو ہو ہی نہیں سکتا ۔ علم کاوہ جو مخصوص طریقہ تھا وہ تو موجود ہی نہیں ہے ۔ اب جتنے بھی طریقے ہیں وہ تجرباتی ہیں ۔ اب یہ جو میں بات کررہا ہوں یہ انٹرنیٹ پر جارہی ہے تو کیا یہ جائز ہے یا ناجائز ہے ؟ اب جو لوگ انٹرنیٹ سے استفادہ کررہے ہیں تو کیا یہ ناجائز ہے ؟ تو اس کو دیکھا جائے کہ کونسی چیز ہورہی ہے جائز ہے یا ناجائز ۔ باقی انٹرنیٹ بذات خود کچھ بھی نہیں ہے جیسے لاؤڈ سپیکر ہے اس پر قران پاک کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے اور گانا بھی بجایا جاسکتا ہے ۔ اب گانا ناجائز ہوگا اور قران پاک کی تلاوت جائز ہوگی ۔ ہاں البتہ قران پاک کی تلاوت اس صورت میں جائز ہوگی جس سے کسی کو تکلیف نہ ہو ۔ تو اس طرح اس ذکر پر بھی پابندی ہوگی جس سے کسی کو تکلیف ہو ۔ مثال کے طور پر وہ ایسے وقت میں کرے کہ لوگ سو رہے ہوں ، یا لوگ پڑھ رہے ہوں یا کوئی بیمار ہو ، تو ایسی صورت میں اگر کوئی بلند آواز سے ذکر کرے گا تو اس کو روکا جائے گا کہ ایسا نہ کرو ۔ قران پاک کو یاد کرنے والے بچے جو ہوتے ہیں ان کو اساتذہ باقاعدہ کھڑا کرتے ہیں کہ کھڑے ہوکر پڑھو اور باقاعدہ اس طرح جھومتے ہیں ۔ اب اگر ان کے استاد سے کہا جائے کہ یہ طریقہ کہاں سے ثابت ہے ، قران یا حدیث سے ثابت ہے تو وہ کہے گا کہ یہ تو تجربے سے ثابت ہے کہ اس طرح قران جلدی یاد ہوجاتا ہے ، تو کبھی ان پر اعتراض کیا ہے ؟ اگر ان پر اعتراض نہیں کیا تو پھر اس پر اعتراض کیوں کرتے ہیں ۔ ہاں یہ ساری چیزیں تجرباتی ہیں اور تجرباتی چیزوں کی تفصیل ثابت نہیں کی جاسکتی ، ہاں اس کا مقصد سامنے موجود ہے اور وہ مقصد ثابت ہے ۔ اس طرح تبلیغی جماعت کے جتنے بھی طریقے ہیں چاہے وہ سہ روزہ ہے ، شب جمعہ ہے ، چلہ ہے یا تین چلے ہیں یا پورا سال ہے یا ڈھائی گھنٹے کی جو ترتیب ہے کیا یہ قران و حدیث سے ثابت ہے ؟ کیا ہم اس کو روکیں گے ۔ اب جس طرح ان کو نہیں روکیں گے اس طرح ان کو بھی نہیں روکیں گے تو یہ ساری کی ساری تجرباتی چیزیں ہیں لہذا انسان کو حوصلہ کرنا چاہیے خواہ مخواہ ایک نیک کام کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے اور یہ تو صرف اور صرف کچھ چیزوں کو پیدا کرنے کیلئے ہے اور مقصود کے لئے ہوتی ہے اگر وہ مقصود حاصل ہوجائے تو پھر یہ نہیں کرتے اور پھر کرنا بھی نہیں چاہیے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔

سوال: دل کا جاری ہونا کسے کہتے ہیں ۔

جواب: دل کا جاری ہونا اصل میں اصطلاح ہے عوام کی ۔ یہ مشائخ کی اصطلاح نہیں ہے ۔ کیونکہ انسان کا دل تو ہر وقت جاری ہے ، دھڑک جو رہا ہے ،لیکن اگر اس کے ساتھ آپ کو ایک چیز مسلسل یاد آنے لگے تو یہ دل کا جاری ہونا ہے اس کو آپ سمجھ سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کوئی بھی چیز ہو لیکن آپ اس کو associateکرلیں کسی چیز کے ساتھ کہ جب یہ مجھے نظر آجائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا ۔ مثلاً ایک آدمی باتوں میں بہت زیادہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کو مشائخ کہتے ہیں کہ بھئی اپنے ہاتھ سے کوئی تار لپیٹ لو اور جس وقت آپ کو یہ تار نظر آجائے تو فوراً آپ کو پتہ چل جائے گا کہ میں تو جھوٹ بولتا ہوں تو اس وقت آپ رک جائیں ،اب اس کے ساتھ اس نے اس چیز کو associateکرلیا ۔ تو یہ جو association ہم جس کو کہتے ہیں اگر آپ کے دل کے ساتھ ہوگیا تو سبحان اللہ ٹھیک ہے ۔ اس طرح جو دوسرے لطائف ہیں وہاں پر بھی جب آپ تصور کرتے ہیں تو وہاں تصور میں آپ کو حرکت بھی محسوس ہوتی ہے اور پھر بعد میں حرکت ہونے بھی لگتی ہے ۔لیکن مقصود وہ نہیں ہے ۔ وہ حرکت بھی مقصو د نہیں ہے بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ آیا اس سے آپ کو اللہ یاد آتا ہے یا نہیں ۔ اور اگر آپ اسی میں مشغول ہوگئے کہ یہ ہورہا ہے اور یہ ہورہا ہے اور اللہ کو آپ بھول گئے تو پھر تو یہ آپ کے لئے حجاب بن گیا ۔ اس لئے شیخ کامل کے ساتھ جب تک تعلق ہوتاہے تو آدمی کیلئے حجاب نہیں بنتا ، وہ اس کو صحیح راستے پر لاتا رہتا ہے ورنہ پھر یہ ہے کہ آدمی اسی سیر سپاٹے میں لگا رہتا ہے اور اپنے آپ کو بزرگ بھی سمجھ رہا ہوتا ہے ۔ حالانکہ ابھی تو اس کو اس راستے کی الف بے بھی حاصل نہیں ہوتی ۔

سوال: دنیا ذکر کیسے بن سکتی ہے؟

جواب: اگر دنیا کی ذمہ داری آپ اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کررہے ہیں تو یہ ذکر بن گیا ۔

سوال: تصور شیخ شرعا ًکیسا ہے؟

جواب: اس میں بذات خود تو شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ، مثال کے طور پر اگر آپ اپنے استاد کا تصور کرلیں کہ میں اپنے استاد کے سامنے بیٹھا ہو ںاور اس سے پوچھ رہا ہوں تو اس کو کوئی ناجائز کہے گا ؟ یہ ایک تصور ہی ہے ۔ آپ اپنے شیخ کو خدا تو نہیں سمجھتے اور جو سمجھے گا تو وہ غلط کرے گا اور اپنا عقیدہ خراب کرے گا ۔ تو اب تصور شیخ سے مراد صرف اتنی چیزہے کہ جیسے انسان کو شیخ کی مجلس میں فائدہ ہوتا ہے ، جوفائدہ وہ شیخ کی مجلس میں حاصل کرسکتا ہے اتنا عام طور پرحاصل نہیں کرسکتا ۔ آپ ﷺ کے دور کا واقعہ ہے ، حضرت حنظلہ ؓ راستے پر آرہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں تو منافق ہوگیا ، حضرت ابوبکر صدیقؓ ملے فرمایا یہ کیا کہہ رہے ہو ۔ فرمایاکہ ہم جب حضورﷺ کے سامنے ہوتے ہیں تو مختلف ہوتے ہیں اور جب گھروں میں پہنچتے ہیں تو بالکل مختلف ہوتے ہیں وہ چیز پھر نہیں ہوتی تو یہ تو نفاق ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے ایک طرح اور باقی وقت میں دوسری طرح یہ تو منافقت ہے ، تو میں تو منافق ہوگیا ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر تو میں بھی منافق ہوگیا ہوں کیونکہ میرے ساتھ بھی یہ بات ہوتی ہے ۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ چلو حضورﷺ سے پوچھتے ہیں ۔ آپ ﷺ کے پاس تشریف لے گئے اور آپﷺ کے سامنے ساری بات رکھ دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بھئی وہ تو گاہے گاہے ہوتا ہے ۔ اگر تمہاری ایسی حالت رہے جیسے میری موجودگی میں ہوتی ہے تو پھر تو تمہارے ساتھ فرشتے تمہارے بستروں میں مصافحہ کریں گے ، تو یہ ہر وقت نہیں ہوتا ۔ اسی طرح حضرت حسنؓ نے اپنے ماموں ہند ابن ابی ہالہ ؓ سے درخواست کی کہ مجھے ذرا آپ ﷺ کا حلیہ بتا دیجئے ۔ یہ بات آپ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد کہی جارہی ہے ، تو فرما رہے ہیں کہ ماموں مجھے آپ ﷺ کا حلیہ مبارک بتا دیجئے تاکہ میں اس کو اچھی طرح دل پر نقش کروں ۔ تو جو آپ ﷺکے شمائل بہترین انداز میں مروی ہیں حدیث کی کتابوں میں تو یہ اس کے جواب میں ہے کہ ہند بن ابی ہالہ نے اس کو تفصیل سے بتایا ہے کہ آپ ﷺ ایسے تھے اور آپ ﷺ ایسے تھے ۔ تو جو تفصیلات آئی ہیں وہ بہت عمدہ الفاظ ہیں ۔ تویہ کہنا کہ اس کو اپنے دل پر نقش کروں اس کا مطلب ہے کہ اس کا کوئی فائدہ ہوگا ۔ اب جو مریدین تھوڑے وساوس کے شکار رہتے ہیں تو ان کے لئے بہتر طریقہ یہ ہے کہ شیخ کی مجلس کا تصور کرلیں کہ میں شیخ کی مجلس میں بیٹھا ہوا ہوں تو وہ وساوس بھاگنے لگیں گے ۔ لیکن چونکہ آج کل لوگوں کے مزاج ایسے نہیں ہیں تو اس میں بعض دفعہ ایسے کام ہونے لگتے ہیں مثال کے طور پر اس شیخ کے ساتھ اس کا جو قلبی تعلق ہے اس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ طرف سے کچھ ایسی مدد آتی ہے جس کو شیطان دوسری صورت میں پیش کرتا ہے اور اس سے شرک کروانا چاہتا ہے تو چونکہ آج کل لوگوں میں اس کا تحمل نہیں ہے ، برداشت نہیںہے لہذا عام طور پر یہ کروایا نہیں جاتا ۔ ابھی بھی ہمارے بعض صحیح سلسلے والے حضرات کرواتے ہیں لیکن ہم نہیں کرواتے ۔ ہمارے ہاں یہ مروجہ نہیںہے ۔ ہم لوگ کسی کو تصور شیخ نہیں کرواتے ۔ لیکن خود بخود اگر ہوجائے تو اس کو روکتے بھی نہیں ۔ مجھے ایک ای میل آیا تھا انڈیا سے ۔ وہاں پر ایک خاتون بیت ہوئی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر وقت آپ کی صورت میرے سامنے ہوتی ہے ۔ حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا تو نہیں ۔ کہتی ہیں کہ ہر حالت میں آپ میرے سامنے ہوتے ہیں تو کیا یہ ٹھیک ہے ؟ تو میں نے اسے جواب دیا کہ ہم خود تو لوگوں کو نہیں کرواتے لیکن اگر خود سے ہوجائے تو اس کو روکتے بھی نہیں ۔ شاید آپ کو اس کی ضرورت ہو کیونکہ آپ ایسے ماحول میں ہیں کہ اس ماحول میں آپ پر ذہنی دباؤ بہت زیادہ آتا ہوگا ۔ کیونکہ یہ مخالفانہ ماحول ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو سہولت گزارنے کیلئے آپ کو یہ چیز عطا فرمائی ہے ۔ تو جو خود بخود ہوتا ہے اس کو روکتے بھی نہیں لیکن خود کرواتے بھی نہیں ۔ یہی طریقہ ہمارے شیخ کا بھی تھا ، ہمارے شیخ نے ہم سے کبھی بھی نہیں کہا کہ میرا تصور کرو لیکن جب خود بخود ہونے لگتا تو ہم پوچھتے تو فرماتے ٹھیک ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ہم کرواتے بھی نہیں لیکن روکتے بھی نہیں اور تصور شیخ میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے الا کہ استغاثہ کرنا شروع کردے اپنے شیخ سے ، جیسے کوئی کہتا ہے کہ اے میرے شیخ پہنچ جاؤ ، اب اگر کوئی اس قسم کی بات کرے گا تو وہ تو ناجائز ہوگا اور اسی کا ڈر ہے ۔ اسی وجہ سے ہم کرواتے نہیں ۔ تو اگر کوئی اس طرح نہیں کرتا بلکہ صرف مجلس کا effect محسوس کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی حالت بہتر ہوتی ہے ۔ ابھی بھی الحمد اللہ ہمیں جب اپنے شیخ یاد آجاتے ہیں ہماری حالت بدل جاتی ہے ۔ اس کے بعد اگر ہم نماز پڑھتے ہیں تو وہ الگ ہوتی ہے یا کوئی بات کرتے ہیں تو اس میں تبدیلی آجاتی ہے تو اگر ابھی تک ہمیں اس سے فائدہ ہوتا ہے تو ظاہر ہے اس کو روکنا تو نہیں چاہیے لیکن یہ ہے کہ اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے اگر کسی کا رخ اس طرف چلا گیا تو پھر اس کو روکا جائے گا اور اس کو غلط کہا جائے گا ۔

سوال: مراقبے میں اور ہپناٹزم میں کیا فرق ہے ۔

جواب: بہت زبردست سوال ہے ۔ اصل میں ہپناٹزم کیا ہے ؟ یہ انسان کے اندرجو قوت مقناطسیت ہے اس کو حاصل کرنے کے پراسس کو کہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر آنکھوں کے اندر بھی باقاعدہ ایک مقناطیسی قوت ہے ۔ اگر اس سے کسی چیز کو غور سے دیکھا جائے ہو اور align ہو اور وہ ساری چیز focusہوجائے تو اس کے اندر بڑی intensity آجاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے بعض محیر العقول کام بھی صادر ہونے لگتے ہیں ، مثلاً بہت سے لوگ چمچوں کو موڑ دیتے ہیں ، بعض لوگوں کو گرا دیتے ہیں ، اور بڑے عجیب عجیب کام اس سے کرتے ہیں تو یہ ایک سائنس ہے اس کا روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جبکہ مراقبہ روحانیت سے تعلق رکھتا ہے لیکن طریقے میں تھوڑی سی similarityہے ۔ بالکل ایک جیسی چیز تو نہیں ہے لیکن تھوڑی سی ملتی جلتی ہے ۔ ارتکاز اس میں بھی ہے اور اس میں بھی ہے ۔ لیکن مراقبہ آنکھیں بند کرکے کیا جاتا ہے ہپناٹزم تو آنکھیں کھول کر کی جاتی ہے ۔ جیسے ہم شمع کی روشنی کو دیکھیں گے اور ایک پوائنٹ پر اپنی نظر کو مرکوز کریں گے اس کا پروسیجر اس طرح ہے ،لیکن مراقبہ اس سے بالکل الگ ہے ۔ مراقبے میں یوں کیا جاتا ہے کہ اللہ پاک نے جو روحانی صلاحیت لوگوں کو دی ہے اس کو اجاگر کرنا ہوتا ہے ۔ ہپناٹزم نفسانی قوتوں کو اجاگر کرنے کیلئے ہوتا ہے ، مراقبہ روحانی قوتوں کو اجاگر کرنے کیلئے ہوتا ہے ۔ تو ہر انسان کو اللہ پاک نے جو روحانی قوتیں دی ہیں ان کو اجاگر کرنے کیلئے مراقبہ ہوتاہے ۔ مثال کے طور پر ایک آدمی سوچ رہا ہے کہ میرا دل اللہ اللہ کررہا ہے ۔ ابتداء میں تو بالکل نہیں کرے گا لیکن ایک وقت آئے گا کہ دل باقاعدہ اللہ اللہ کرے گا ۔ پھر وہ کسی اور لطیفے پر منتقل کردے گا تو وہاں پر بھی کرے گا ۔ پھر کسی اور لطیفے پر ، پھر کسی اورپر حتیٰ کے ایک وقت آتا ہے کہ پورا جسم اللہ اللہ کرتا ہے ، لا الہ الا اللہ کرتا ہے ، اللہ ھو کرتا ہے ۔ جس کا جو بھی ذکر ہو اس کے مطابق کرتا ہے تو ایسی صورت میں باقاعدہ اس کے جسم پر بھی اثرات ہوتے ہیں اور روح پر بھی اثرات ہوتے ہیں ۔ حتیٰ کے اس کے بعد مزید مراقبات شروع ہوتے ہیں ،مثلاً مراقبہ مسجد نبوی کا ، مراقبہ بیت اللہ شریف کا ، مراقبہ عرش تک چلا جاتا ہے ۔ ہمارے پشتو کے شاعر رحمن بابا کا ایک شعر ہے ۔ چہ پہ یو قدم تر عرشہ پورے رسی ما لیدلے دے رفتار د درویشانو جو ایک قدم پر عرش تک پہنچتے ہیں میں نے درویشوں کی رفتار کو دیکھا ہے ۔تویہ کونسی رفتار ہے ؟ یہی مراقبہ کی رفتار ہے ۔ مراقبے کے ذریعے سے پہنچتے ہیں ۔ تو یہ روحانیت والی بات ہے اس کا نفسانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہاں تھوڑی بہت similarityتو ہے طریقہ کار میں کہ ارتکاز دونوں میں ہے ۔ لیکن ایک کا مقصد روحانی قوتوں کا حصول ہے اور دوسرے کا مقصد نفسانی قوتوں کا حصول ہے ۔ تو یہ دونوں الگ الگ ہیں ۔

سوال: ایک بزرگ کا قول ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ مقام کیسے پایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے یہ مقام ادب سے پایا ہے ۔ تو یہ ادب کیا چیز ہے اور اس سے کیا حاصل ہوتا ہے ؟

جواب: آپ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک نے مجھے ادب سکھایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بہت اچھا ادب سکھایا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ گویا آپ ﷺ کو اللہ پاک نے ادب سکھا یا ہے اور پھر آپ ﷺ نے صحابہ کو ادب سکھایا ، صحابہ نے پھر تابعین کو ادب سکھایا اور یہ سلسلہ اب تک مشائخ کے ذریعے سے چلا آرہا ہے کہ ہر شیخ اپنے مریدوں کو ادب سکھاتا ہے ۔ تو یہ ادب کیا ہوتا ہے ؟ ادب اصل میں یہ ہوتا ہے کہ جو چیز اللہ کے ساتھ وابستہ ہے یا اللہ کے ساتھ کسی وابستہ چیز کے ساتھ وابستہ ہے مثلاً شیخ کے ساتھ وابستہ ہے ، خانہ کعبہ کے ساتھ وابستہ ہے ، قران کے ساتھ وابستہ ہے ، نماز کے ساتھ وابستہ ہے ، اذان کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ان کو شعائر اللہ کہتے ہیں ۔ اب یہ جو شعائر اللہ کے ساتھ وابستہ ہیں تو اس کا اس لئے احترام کہ ان کا تعلق اللہ کے ساتھ ہے ، اس احترام کو ادب کہتے ہیں ۔ جیسے ارشاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جو شعائر اللہ کی تعظیم کرتے ہیں وہ ان کے دلوں کی تقویٰ کی وجہ سے ہے تو اگر دل میں تقویٰ ہوگا تو سمجھ لیں کہ ادب یقینا نصیب ہوگا کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ، جب اللہ سے ڈرتاہے تو اللہ تعالیٰ سے جو متعلق چیزیں ہونگی اس سے بھی ڈرتا ہوگا ۔ مثال کے طور پر ایک سید آتا ہے اس کے لئے ایک شخص اٹھتا ہے ، یہ ادب ہے ۔ لیکن کیوں اٹھتا ہے ،کیا وجہ ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ اس نے صرف آپ ﷺ کے نسب کی تعظیم کی کہ چونکہ ان کا تعلق نسباً آپ ﷺ کے ساتھ ہے لہذا میں ان کے لئے اٹھتا ہوں۔ حضرت شاہ عبدالقادرؒ بہت بڑے عالم اور بزرگ گزرے ہیں ، شاہ ولی اللہ ؒ کے بیٹے تھے ۔ ان کا طریقہ تھا کہ سید کے لئے اٹھتے تھے چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ ۔ باقیوں کے لئے نہیں اٹھتے تھے ۔ تو ایک نواب صاحب جو شیعہ تھے انہوں نے یہ بات کہیں سنیوں سے سن لی تو اس نے کہا کہ اچھا میں ان کے پاس جاتاہوں لیکن آپ لوگ میرے ساتھ نہ جائیں آپ لوگ میرے پیچھے پیچھے آئیں ۔ یعنی ان کو پہلے سے اطلاع نہ ہو اور میں دیکھتا ہوں کہ وہ میرے لئے اٹھتے ہیں یا نہیں ۔ اگر میرے لئے اٹھے تو میری تائید ہوجائے گی کہ میں سید ہوں اور مجھے پتہ چل جائے گا ۔ دوسری بات معلوم کریں گے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ تو وہ آگے آگے چلے اور پیچھے ان کے جو سنی ساتھی تھے وہ آرہے تھے ۔ جیسے ہی وہ پہنچے حضرت شاہ صاحب ان کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ تو اس نواب صاحب نے پوچھا کہ آپ میرے لئے کیوں کھڑے ہوئے ، شاہ صاحب نے جواب دیا کہ چونکہ آپ سید ہیں اس لئے ۔ نواب صاحب نے کہا کہ آپ کو یہ بھی پتہ ہوگا کہ میں شیعہ ہوں ۔ انہوں نے فرمایا کہ بالکل مجھے پتہ ہے ۔ نواب صاحب نے کہا کہ آپ تو شیعوں کو صحیح نہیں سمجھتے تو پھر آپ کیوں میرے لئے کھڑے ہو گئے ۔ انہو ں نے فرمایا کہ اگر قران پاک میں کچھ غلط آیتیں لکھ دی جائیں پھر بھی اس قران پاک کی بے ادبی نہیں کی جاسکتی ۔ کیونکہ اس میں صحیح آیتیں تو ہیں تو اس کی بے ادبی نہیں ہوسکتی لیکن ان غلط آیتوں کو ہم مانیں گے نہیں ۔ تو آپ کا جو غلط عقیدہ ہے وہ تو ہم نہیں مانتے اس کے تو ہم سخت مخالف ہیں لیکن چونکہ آپ کا نسب آپ ﷺؓ کے ساتھ ہے یہ چیز ہم مانتے ہیں لہذا ہم اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔ تو آپ ﷺ کے ساتھ منسوب کوئی چیز یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسوب کوئی چیز شعائر اللہ کی صورت میں اس کا اگر خیال ذہن میں ہو تو اصل میں یہ ادب اللہ کا یاآپ ﷺ کا ہوتا ہے ۔لیکن ظاہراً وہ کسی اور چیز کے لئے نظر آتا ہے تو اگر کوئی اس کو کرتا ہے تو جس وقت انسان جس کا خیال رکھتا ہے اس وقت ان کے اچھے good books میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہر آدمی کو دیکھتا ہے کہ یہ میری وجہ سے یہ کررہا ہے۔اس طرح اگر قران کا کوئی ادب کررہا ہے ، نماز ، خانہ کعبہ یا اچھے لوگوں کا ادب کررہا ہے کہ یہ اولیاء اللہ ہیں تو اس صورت میں اب ظاہر ہے وہ اللہ کے ہاں مسلسل مرتبہ پا رہا ہے ۔ تو اس کو یہ مقام ملے گا ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ با ادب بانصیب بے ادب بے نصیب ۔ جو باادب ہے وہ بانصیب ہے کہ اس کو ہر وقت کچھ نہ کچھ مل رہا ہوتا ہے ۔ اور جو بے ادب ہوتا ہے وہ بیچارہ خراب ہوجاتا ہے ۔

سوال: چاروں سلسلوں کے جو سلاسل ہیں کیا اس کے علاوہ اور بھی سلاسل ہیں یا نہیں ؟اور ان کے جو روٹس ہیں وہ کیا ہیں یہ کہاں سے شروع ہوئے ہیں ۔

جواب: چار سلاسل جن میں ہم بیعت کرتے کراتے ہیں یا ہندوستان اور پاکستان میں زیادہ مشہو رہیں وہ چشتیہ ، نقشبندیہ ، قادریہ اور سہروردیہ ہیں ۔ یہ ہندوستان،پاکستان میں زیادہ مشہور سلسلے ہیں ۔ لیکن صرف یہ چاروں سلسلے دنیا میں نہیں ہیں بلکہ اور بھی سلاسل ہیں ۔ جیسے رفاعیہ ہے ،عبدیہ ہے اس طرح کبرویہ ہے ، شازلیہ ہے اس کے علاوہ اور بھی سلسلے ہیں ۔ بعض سلسلے یہاں معروف نہیں ہیں ۔ہاں عربوں ، ترکوں اور افریقہ میں وہ مشہور ہیں ۔ سلسلہ اصل میں شروع ہوتا ہے کسی مشہور بزرگ کے reference سے ، اصل میں تصوف کا طریقہ تو آپ ﷺ کے وقت سے چلا آرہا ہے یعنی تربیت کا نظام ۔ تربیت تو ؑآپﷺ کے دور میں بھی تھی اور صحابہ کے دور میں بھی تھی اور اس کے بعد بھی تھی ۔ یہ چیز تو مسلسل چلی آرہی تھی لیکن ان میں جو بڑے بزرگ گزرے ہیں جیسے شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ انہوں نے اپنا طریقہ کار ایسا مدون فرمایا کہ آگے والے لوگوں کے لئے اس میں کچھ رہنما اصول آگئے ۔ تو ایسے سلسلے کو قادریہ سلسلہ کہا گیا ۔ اس طرح خواجہ معین الدین جشتی اجمیری ؒ نے جو رہنما اصول بتا دیے او رسمجھا دیے وہ چشتیہ بن گیا ۔اور خواجہ بہاؤالدین نقشبند ؒ نے اپنے جو اصول و رہنما اصول بتا دیے تو وہ نقشبندیہ قرار پایا ۔ خواجہ شہاب الدین سہروردی ؒ انہوں نے جو اپنے طریقے کے رہنما اصول بتا دیے تو سہروردیہ سلسلہ بن گیا اور تقریباً یہ چاروں سلسلے ایک ہی دور میں ہیں ۔ یعنی شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے فوراً بعد خواجہ شہاب الدین سہروردی ؒ بھی ہیں بلکہ ان کا کچھ وقت ملاجلا بھی ہے یعنی کسی عرصے میں ہمعصر بھی تھے لیکن چونکہ عمر میں کم تھے تو بعد میںزندہ رہے ، شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ پہلے فوت ہوئے ۔ اس طرح خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی ایک اجازت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی طرف منسوب ہوتی ہے ۔ اور ایک خواجہ شہاب الدین سہروردیؒ کی اجازت بھی شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی طرف منسوب ہے ۔اور خواجہ نقشبند ؒ بھی تقریباً اسی دور میں رہے ہیں ، ہاں بعد میں یہ سلسلے چلتے رہے اور محتلف شاخوں میں تقسیم ہوتے رہے ۔جیسے چشتیہ دو شاخوں میں تقسیم ہوگئے ، ایک صابریہ اور نظامیہ ۔ یعنی حضرت بابا فرید الدین شکر گنجؒ کے جو دو خلفاء تھے ۔ ایک صابر کلیری ؒ اور ایک خواجہ نظام الدین اولیائؒ ۔ تو خواجہ نظام الدین اولیائؒ کا سلسلہ نظامیہ کہلایا اور حضرت صابر کلیری ؒ کا سلسلہ صابریہ کہلایا ۔ اس طرح نقشبندی مختلف طریقوں سے تقسیم ہوگئے ۔ مجددیہ ہے اور دوسرے طریقے بھی ہیں ۔ تو اصل میں یہ سلسلے شاخ در شاخ تقسیم ہوتے گئے ، ہاں البتہ یہ ہے کہ بڑے سلاسل جو ہندوستان و پاکستان میں ہیں وہ یہی چار ہیں ۔ اور ان سب کا روٹ آپ ﷺ سے ملتا ہے ۔ یعنی سب سلسلے آپ ﷺ تک پہنچتے ہیں ۔

سوال: کیا مجذوبوں کے درجات ہوتے ہیں ؟ اگر ہیں تو پھر ان کے پاس جانے سے کیوں روکا جاتا ہے ۔

جواب: اصل میں اس کو میں درجات تو نہیں کہہ سکتالیکن سوال یہ ہے کہ وہ کتنا مجذوب ہے ؟ اگر وہ اتنا مجذوب ہے کہ بالکل ہوش میں نہیں رہتا اور وہ شریعت کا مکلف نہیں ہے تو اس کے پاس تو جانے سے روکا جائے گا کیونکہ وہ خود ہی شریعت کا مکلف نہیں ہے اور آپ اس کو بزرگ بھی سمجھیں گے تو عین ممکن ہے کہ آپ ایسا کام کرلیں جو اس کے لئے تو جائز ہو لیکن آپ کے لئے جائز نہ ہو ۔ دوسری بات یہ کہ ممکن ہے آپ کو کوئی چیز کھانے کیلئے دے دے جس سے آپout of control ہوجائیں اور پھر آپ کو اپنے آپ پر کنٹرول نہ رہے ۔ اگر اس قسم کی چیزیں ہونگی تو پھر ان کے پاس جانے سے روکا جائے گا ۔ لیکن بعض مجذوب ایسے ہوتے ہیں جو طبعاً مجذوب ہوتے ہیں لیکن ہوش و حواس میں ہوتے ہیں ۔ جیسے خواجہ عزیز الحسن مجذوب ؒ ، وہ حضرت تھانوی ؒ کے خلیفہ تھے ۔جذب کامعاملہ ان میں تھا لیکن وہ کبھی کبھی ہوتا تھا ہر وقت نہیں ہوتا تھا ۔ اور اپنے آپ کو کنٹرول کرنا جانتے تھے ۔ لہذا ان میں جذب والی کیفیت تھی اس وجہ سے مجذوب کہلائے لیکن اس درجے کے مجذوب نہیں تھے کہ ان کو شریعت کا احترام نہیں تھا یا شریعت پر چل نہیں رہے تھے ۔ تو جو حضرات بالکل شریعت پر نہیں چل پاتے اور ان کے sensesبالکل ختم ہوچکے ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں کے پاس جانا ٹھیک نہیں ، کیونکہ یہ لوگ out of controlہوتے ہیں اور جو ان کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں وہ بھی out of control ہوسکتے ہیں ، لہذا اپنے آپ کو ہوش میں رکھنا لازم ہے ، اللہ جل شانہ نے جو ہوش وحواس دیے ہیں یہ آپ کے پاس امانت ہے اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔

سوال: balanced prersonalityسے کیا مراد ہے ۔

جواب: اصل میں اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کے اندر چار چیزیں بڑی متوازن ہوں ۔ ایک ہے شہوت ، شہوت چاہت کو کہتے ہیں ۔ شہوت کا خاص مفہوم ہے وہ اس سے مراد نہیں ہے ،اس کی ایک خاص صورت ہے لیکن یہاں اس سے مراد چاہت ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں اشتہا، اس کا مطلب بھوک ہے ۔ اسی سے لفظ شہوت نکلا ہے ۔تو اس کا مطلب ہے کہ جب کسی چیز کی چاہت ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کو اس کی شہوت ہے ۔ شہوت جائز چیز کی بھی ہوسکتی ہے ناجائز چیز کی بھی ہوسکتی ہے ۔ جائز کے لئے حلال ہے اور ناجائز کے لئے حرام ہے ۔ اگرجائز ناجائز کی تمیز نہ رہے تو یہ افراط ہے اور بالکل ختم ہوجانا یہ تفریط ہے جس کو depression کہتے ہیں ۔ جیسے کھانے کو جی نہ چاہے تو بیچارا بیمار ہے ۔ جو جائز چیزیں ہیں اور ان کے حقوق بنتے ہیں اس کو بھی پورا نہ کرنا یہ depressionہے اور بیماری ہے ۔ معتدل یہ ہے کہ جتنا جائز ہے اتنا کرنا اور جو ناجائز ہے اس سے بچنا ، یہ شہوت کا بیلنس ہے ۔ افراط والا درجہ وہ ہے جس وقت حلال و حرام کی تمیز نہ رہے۔ اور درمیان والا حصہ عفت ہے ۔ یعنی انسان وہاں چاہے جہاں پر جائز ہو ۔دوسری چیز غضب ہے ۔ غضب قوت دفع کو کہتے ہیں ۔ یعنی کسی چیز کو آپ اپنے آپ سے دفع کرنا چاہتے ہیں ۔ اس پر بھی اگر کنٹرول نہ ہو اور out of control تو یہ بھیڑیا پن ہے ۔اور اگر بالکل نہ ہو تو پھر جہاد بھی ختم ، یہ بھی ٹھیک نہیں ہے بزدلی ہے ۔ اور اس کا جو درمیا ن ہے یعنی جو بیلنس ہے وہ ہے شجاعت جو صحیح ہے ۔ اس طرح علم ہے ۔ علم کی افراط یعنی انسان ہر چیز کو جاننے لگے اور اس میں جائز ناجائز کی تمیز نہ رکھے اور صرف علم ہی کو مطلوب رکھے اور عمل کی طرف دھیان نہ ہو تو یہ اس کی افراط ہے اور تفریط یہ ہے کہ جہل ہو ۔ اور درمیان ہے اس کا علم نافع ۔ یعنی جس چیز کا فائدہ ہے اس کو حاصل کرے ۔ اور چوتھی چیز عقل ہے ۔ ہر چیز کے لئے عقل استعمال کرنا ، جیسے وحی کی تعلیم موجود ہو اور اس میں عقل استعمال کرنا یہ افراط ہے اور ان چیزوں میں عقل استعمال نہ کرنا جہاں استعمال کرنے کا حکم ہے یہ تفریط ہے اور درمیان میں اس کی ہے حکمت ۔ تو ان چار چیزوں میں اگر بیلنس آجائے تو ہم کہیں گے کہ یہ بیلنس پرسنلٹی ہے ۔

سوال: معرفت کسے کہتے ہیں؟

جواب: اصل میں معرفت دونوں میں شامل ہے کیونکہ علم بھی ایک نور ہے ، جو صحیح علم ہوتا ہے ۔ یوں سمجھ لیں کہ اس میں دونوں روشنیاں جمع ہوجاتی ہیں ۔ ایک خارجی روشنی ، یعنی قران و سنت کی ۔اور ایک داخلی روشنی، کہ ذکر سے انسان کا دل صاف ہوجائے مصفحیٰ ہوجائے ۔ اور اس کو جو چیز صحیح ہے وہ صحیح نظر آنے لگے اور جو غلط ہے وہ غلط نظر آنے لگے ، جس کو ہم ہدایت کہتے ہیں ۔ تو یہ چیز دل میں بھی آجائے یعنی بصیریت ۔ تو یہ دونوں چیزیں جب جمع ہوجاتی ہیں تو اس کو کہتے ہیں معرفت ۔ اور اپنی معرفت کی بدولت وہ پھر اللہ کو بھی پہچان لے گا ۔ بہت سارے علماء ہونگے جو عارف نہیں ہونگے ، اور بہت سارے ذکرکرنے والے ہونگے جن کا دل بڑا صاف ہوگا لیکن ان کے پاس اس درجے کا علم نہیں ہوگا ۔تو دونوں روشنیوں کی ضرورت ہے ۔

سوال: کیا محبت اختیاری ہے؟

جواب: بڑا اچھا سوال ہے ۔ ایک شعر ہے عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے ۔ اس کو میں نے تبدیل کیا ہوا ہے ۔ عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب کہ لگائے تو لگے اور بجائے نہ بجھے مطلب یہ ہے کہ اس کو شروع تو کیا جاسکتا ہے اور پھر اگر ہوجائے تو پھر روک نہیں سکتے ۔ یہ پھر چلتا رہتا ہے ۔ جیسے آگ آپ لگا تو سکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو آگ لگا دی وہ بجابھی لیں ۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں ۔ انجنئیرنگ فائنل ایئر میں ہمارے سات سبجیکٹس تھے تو میں نے یہ طریقہ کیا تھا کہ preparation days میں میں ایک week رکھ لیتا تھا ہر سبجیکٹ کیلئے کہ میں اس سبجیکٹ کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں اور میرا favourite subject ہے ۔ میں اپنے آپ کو self suggestionدیتا ۔ تو میں اس کو پڑھتا رہتا اور لوگوں کے ساتھ بھی ڈسکس کرتا تو end of the week پر وہ آکر میرا favourite subject بن جاتا یعنی اس کو چھوڑنا میرے لئے مشکل ہوتا ۔ پھر دوسرے ہفتے میں دوسرے سبجیکٹ کے ساتھ ایسا کرتا ، پھر اس کے ساتھ ایسا ہوجاتا ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کیا تو جاسکتا ہے البتہ یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ سچی مچی محبت ہوجائے تو پھر اس کو چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ اللہ پاک نے ہمیں جو اختیاری صفات دی ہیں اور اختیار پر ہی سب فیصلے ہیں تو پھر اس چیز کو بے اختیار نہیں رکھا ہوگا کیونکہ مطلوب بھی ہے ۔ اللہ کے ساتھ محبت مطلوب ہے ہاں البتہ اس کو مانگنا بھی چاہیے اللهم إني أسألك حبك ، وحب من يحبك وحب العمل الذي يبلغني حبك اور اس کے لئے وہ اسباب بھی جمع کرنے چاہیے جن اسباب کے ذریعے سے محبت حاصل ہوتی ہے جیسے حضرت تھانوی ؒ نے فرمایا کہ میں آپ کو آسان نسخہ نہ بتاؤں؟ تو لوگوں نے کہا کہ ضرور بتائیں ، فرمایا محبت کی پڑیا کھا لو ، لوگوں نے پوچھا حضرت محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی ؟ فرمایا محبت کی دکانوں سے ۔ تو اس لئے جن کو اللہ پاک کے ساتھ محبت ہوتی ہے ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے اللہ کی محبت حاصل ہوجاتی ہے ۔ ان کی دیکھا دیکھی محبت ہوجاتی ہے اس لئے کہتے ہیں کہ لگے رہو لگے رہو لگ جائے گی ، مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ لگے رہو لگے رہو ایک دن آپ کو بھی لگ جائے گی تو یہ اس لحاظ سے اختیاری ہے یعنی اس کے اسباب اختیاری ہیں ۔

سوال: بزرگوں کی قبروں سے کیسے فیض حاصل کیا جاسکتا ہے ؟

جواب: انگریزی کا ایک لفظ ہے وہ اس کے لئے میرے خیال میں بہتر طریقے سے استعمال ہوسکتا ہے وہ ہے resonanceیعنی اپنی resonating frequency پر اگر کوئی vibrate کرتا ہے تو پھر وہ چیز سنائی دیتی ہے ورنہ پھر نہیں ہوتی ۔ تو اسی طریقے سے جب frequency مل جائے گی کسی کے ساتھ تو پھر استفادہ ہوسکتا ہے ۔ تو انسان کے بس میں تو یہ نہیں ہے ۔ جب تک انسان صاحب نسبت نہیں ہوجاتا تو یہ کیفیت حاصل نہیں ہوتی تو یہ ساری چیزیں انسان کے بس سے باہر ہیں ۔ مطلب جو نارمل طریقے ہیں استفادہ کے یعنی ان کی تعلیمات سے فائدہ اٹھانا اس طرح ان کے لئے ایصال ثواب کرلے تو اس کا فائدہ ہوجائے گا جیسے ہم لوگ بھی کرتے ہیں سورۃ فاتحہ اورتین دفعہ سورۃ اخلاص پڑھ کر سارے بزرگوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں تو اس سے فائدہ ہوجاتا ہے لیکن جو معروف طریقہ ہے استفادے کا وہ تو ہر ایک کو نہیںہوسکتا،لیکن جو اہل ہیں وہ کرسکتے ہیں ۔ حضرت تھانوی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب ؒ جو بہت بڑے بزرگ تھے وہ ایک قبر پر مراقب ہوگئے ۔ ان کے ساتھ دو طالبعلم اور بھی تھے تو وہ بھی مراقب ہوگئے ۔ کہتے ہیں کہ میں ساتھ تھا تو میں نے ان کو ایک دھپہ مارا اور کہا کہ وہ آنکھ تو تمہاری بند ہے یہ آنکھیںکیوں بندکرلیں ۔ یعنی تمہیں نظر توکچھ نہیں آتا خوامخواہ آنکھیں بند کرلیں ۔ اب ظاہر ہے خوامخواہ ڈرامہ بازی تو نہیں کرنا ۔ اگر واقعی کسی کی وہ آنکھیں کھلی ہو ںتو پھر ٹھیک ہے ان کو نظر آئے گا ۔ اس طرح بعض دفعہ مناسبت بھی ہوتی ہے ، بعض لوگوں کو ارواح کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے تو اس وجہ سے ان کو نظر آنے لگتا ہے ، اس طرح بعض کو نہیں ہوتی تو اس بارے میں متفکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ پاک نے دین کو اس پر منحصر نہیں کیا ۔ اگر کسی کو یہ طریقہ میسر نہیں تو ہزار ہا اور طریقے ہیں ۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کہ فقیر تہ یو در بند سل درہ کھولاو۔ یعنی فقیر کیلئے اگر ایک در بند ہو تو سو در کھلے ہوتے ہیں۔ لہذا پریشانی کی کوئی ضرورت نہیں ۔

سوال: کیا غیر متشرع شخص شیخ ہوسکتا ہے؟

جواب: اصل میں یہ بڑی جسارت ہے میں تو سمجھتا ہوں کہ جو اہل ہوتے ہیں وہ بھی اس کا دعویٰ نہیں کرتے ۔ جو دعویٰ کرتے ہیں وہ بیچارے تو مارے گئے۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں کرتا ہوں تو وہ تو گیا ۔ بس اپنی بے وقوفی کی وجہ سے ایسا کررہا ہوگا ۔ کیونکہ اس مسئلے میں دعویٰ تو چلتا نہیں ۔ اس کی میں آپ کو ایک وجہ بتا دوں ۔ہماری جو میڈیکل لائن ہے اور اس میں ہمارے پاس بہت سارے وسائل ہوتے ہیں مثلاً بلڈ ٹیسٹ ہے ۔ ٹمپریچر ، بلڈ پریشر ، ایکسرے ، الٹراساؤنڈ اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں موجود ہیں ۔ماہر ڈاکٹر اس کے ذریعے سے چیک کرکے اور آپس میں ڈسکس کرکے کوئی conclusion draw کرلیتے ہیں کہ فلاں بیماری ہے ۔ پھر بھی کچھ پتہ چلتا ہے کچھ نہیں چلتا ، پریشانی ہوتی ہے ۔ اب جو تصوف والی لائن ہے اس کا توسارے کا سارا اللہ ہی پر انحصار ہے ۔ اس میں کونسا ٹیسٹ ہے ؟ کونسی ایکسرے رپورٹ ہے ۔ اور اس کی جو بیماری ہے وہ زیادہ hidden ہے ۔ یعنی وہphysical بیماری سے زیادہ گہری ہے ۔ اب گہری بیماری کیلئے تو زیادہ ٹیسٹ چاہیے۔ تو اس کا علاج کس کے پاس ہے ؟ بس اللہ تعالیٰ جس کو قبول فرمالے اور جس سے اللہ تعالیٰ کام لینا چاہے تو اس پر اللہ پاک کھولتے رہتے ہیں ۔ چیزیں بھی کھولتے ہیں اور اس کا طریقہ بھی کھولتے ہیں اور اللہ پاک راستے بناتے رہتے ہیں ، تو کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں کرتا ہوں ۔ اس میں جو کرنے والے ہیں وہ بھی دعویٰ نہیں کرتے ۔مولانا انور شاہ کشمیری ؒ ایک دفعہ کوئی چیز پڑھ لیتے تو یاد ہوجاتی ۔ اللہ پاک نے ان کو بڑا تیز حافظہ دیا تھا ۔ ان سے اگر کوئی سوال پوچھتے تو فوراً پڑھ لیتے ، حسبنا الله و نعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر ۔۔۔۔۔ پھر بیٹھ جاتے ۔اللہ پاک جواب بھیج دیتے اور وہ دے دیتے۔ تو بات یہ ہے کہ ہمارا تو سارے کا سارا بھروسہ اللہ پاک پر ہونا چاہیے ۔ کون کہتا ہے کہ میں کرسکتا ہوں ، اور پھر اس قسم کی جسارت ۔ جو حضور ﷺ کے طریقے پر نہ ہو اورپھراس لائن میں قدم رکھے تو یہ بے وقوفی نہیں ہے توکیاہے ۔ اس کو تو خود رہنمائی کی ضرورت ہے ۔

سوال: لیکن ایسے لوگ موجود تو ہیں۔

جواب: اس کا پوچھنے والا اس وقت نہیں پوچھے گا وہ ادھر پوچھے گا اور ادھر تو پھر کوئی راستہ نہیں ہوگا ۔ اب لوگ اس gapeمیں ہیں جو کچھ کرنا چاہیں تو کریں۔ اس وقت میں جو کچھ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے لیکن ادھر پتہ چلے گا پھر ۔کہتے ہیں گرد کو بیٹھنے دو پھر پتہ چلے گا کہ گھوڑے پر سوار تھے یا گدھے پر ۔

سوال: کیفیت احسان کیا ہے؟

جواب: احسان اصل میں لفظ ہے حسن سے ۔ یہ عربی کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے اچھا ۔ کوئی چیز اچھی ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ حسن ہے ۔ کسی چیز کو اچھا کہتے ہیں تو اس کو کہتے ہیں تحسین ۔یعنی اس کی تحسین کرنا ، احسان کسی چیز کو اچھا کرنا ۔ اس میں آپ یوں سمجھ لیجئے کہ جو کسی کا حق ہے اس سے زیادہ اس کو دے اس کو احسان کہتے ہیں ، اگر آپ حق کے برابر دیں تو یہ تو اس کا حق تھا ، وہ تو اسے ویسے بھی ملنا چاہیے تھا ۔ اگر نہیں دینگے تو گناہگار ہوجائیں گے ۔تو احسان کا مطلب ہے کہ اس سے بھی زیادہ دو ۔ اس کیلئے قران پاک میں هل جزاء الإحسان إلا الإحسان کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے ۔ یعنی اگر آپ کے ساتھ کسی نے احسان کیا اور آپ کے حق سے زیادہ آپ کو دیا تو اب آپ بھی اس کو اس کے حق سے زیادہ دیں ۔ آپ بھی اس کے ساتھ احسان کریں تو احسان کا مطلب ہے اس کے حق سے اس کو زیادہ دینا ۔

سوال: دین کیلئے کوئی نیک کام کیا جائے کیا اس پر ثواب ملے گا؟

جواب: یہ اس مقصد پر منحصر ہے اگر مقصد نیک ہے تو ثواب ملے گا ۔ مثال کے طور پر آپ نے سردی میں نماز پڑھنے کیلئے گرم پانی کا بندوبست کرنا ہے تو اب مقصد نماز پڑھنا ہے اور اس کے لئے ذریعہ وضو ہے اور اب اس وضو کو آپ ذریعہ بنا رہے ہیں کہ لوگ سردی میں آسانی کے ساتھ وضو کریں تو اس کا ثواب ملے گا یا نہیں ۔ اور اگر کوئی برائی کے لئے راستہ بنائے گا تو اس کو گناہ ہوگا ۔

سوال: کونسا کام نفسانی خواہش کی وجہ سے ہے۔ اور کونسا کام شیطانی لغزش یا شیطانی اغواء کی وجہ سے ہے؟

جواب: جس کے بارے میں پتہ چل جائے کہ ایک ہی چیز طلب ہو رہی ہو۔ یعنی ایک ہی چیز مسلسل طلب ہو رہی ہے کسی ایک گناہ کی طرف مسلسل دھیان جا رہاہے، تو سمجھو کہ یہ نفس کی طرف سے ہے۔ کیونکہ نفس اپنا مطلب چاہتا ہے۔ اسکو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ گناہ اس سے ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اسکو اپنا غرض پورا کرناہے چاہے وہ جائز طریقے پورا ہو یا ناجائزطریقے سے پورا ہو۔ وہ ناسمجھ بچے کی طرح ہے اسکو اسکا پتہ نہیں ہوتا کہ اس سے نقصان ہوگا۔ اسکو بس صرف وہ فوری خواہش پوری کرنی ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی ایسی بات ہو تو یہ پھر نفس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور اگر ایک بُرائی کی خواہش آرہی ہو اور اسکو آپ روک دیں اور اسکے ساتھ فوراًدوسری بُرائی کی خواہش آجائے تو سمجھو کہ یہ پھر شیطان کی طرف سے ہے۔ کیونکہ شیطان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ فلاں بُرائی کرائی جائے۔ اسکو اس سے غرض ہے کہ آدمی گناہ کرلے، آدمی اللہ تعالیٰ سے دور ہو جائے۔ ا س وجہ سے اس طرف ہوتاہے۔ ایک تو یہ علامت ہے۔ دوسری علامت یہ ہے کہ کفّار سے جو گناہ ہوتے ہیں وہ نفس کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں سے بھی وہ گناہ نفس کی وجہ سے صادر ہونگی۔ کیونکہ نفس مسلمان کیساتھ بھی ہے کافر کے ساتھ بھی ہے۔ اور جو گناہ مسلمان سے توہوتے ہیں، لیکن کافر سے نہیں ہوتے ۔ تو وہ شیطانی گناہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ شیطان کافروں سے وہ گناہ نہیں کرواتے اسکو پتہ ہوتا ہے کہ یہ تو ہمارے ہیں ۔ انہوں نے تو جہنّم میں جانا ہی جانا ہے۔ لہٰذا انکو کسی ایسی گناہ میں نہیں مبتلا کرنا چاہتا۔ وہ کہتا ہے کہ اچّھے رہے تاکہ دوسرے لوگوں کے لئے مثالی بن جائے اور دوسرے لوگ بھی ان کی وجہ سے کافر بن جائے۔ مثال کے طور پر قادیانی ۔ جب کوئی قادیانی بن جاتا ہے تو بڑے تحمل مزاج ہوجاتے ہیں اور خرچ بھی کرنے لگتے ہیں۔ برداشت بھی اُن میں آجاتی ہے، سلیقہ بھی اُن میں آجاتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اب شیطان نے اُن سے وہ اثر ہٹا دیا۔ باقی مسلمانوں کے اوپر وہ چیز موجود ہوتی ہیں۔ تو شیطان کافروں سے وہ گناہ نہیں کرواتے بلکہ صرف مسلمان سے کرواتے ہیں۔ کیونکہ مسلمان کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر ایک دفعہ سبحان اللہ بھی کہے گا تو اس پر بھی اس کا مرتبہ بلند ہوگا۔ اگر کسی راستے سے کوئی تکلیف دہ پتھر بھی ہٹائے گا۔ تو اس پر بھی اس کواجر ملے گا۔ لہٰذا وہ اس کی ہر ہر چیز کے پیچھے ہوتا ہے کہ کہیں کوئی نیکی نہ کرلے۔ تو یہ علامت ہے۔

سوال: اشراف نفس کیا ہے؟

جواب: کسی سے سوال کرنا اپنے کسی دنیاوی مقصد کیلئے، یہ سوال ہے۔ مثال کے طور پر آپکو پیسے چاہیئے یا آپ کو کوئی سروس چاہیئے تو یہ سوال ہے۔ سوال کرنا بلا وجہ حرام ہے۔ مطلب جب تک جائز نہ ہو۔ اور جواز کی شرطیں پھر بڑی تفصیلی ہیں۔ لہٰذا اس موقع پر وہ بیان نہیں کی جا سکتیں۔ لیکن جب تک شریعت نے اسکی اجازت نہ دی ہو تو اسوقت تک سوال حرام ہے۔ اور اشراف نفس زبان سے سوال نہیں کیا جاتا، دل میں خیال ہوتا ہے کہ یہ مجھے دے دے۔ مثال کے طور پر بھوکا آدمی ہے آکردیکھا کہ کوئی کھانا کھا رہا ہے اب دل میں اسکی خواہش ہے کہ مجھے بھی کہہ دے کہ آپ میرے ساتھ کھا لیں تو یہ اشراف نفس ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ شادی بیاہ کے جو چکر ہوتے ہیں کوئی آدمی کہے کہ مجھے بھی کارڈ دے دے۔ مجھے بھی شادی پربلائے تو یہ اشراف نفس ہے۔ اشراف نفس بہت عام ہوتا ہے لیکن اسکا پتا نہیں چلتا۔ عام لوگوں کو پتہ نہیں چلتا۔ ظاہر ہے وہ چھپا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے ، دل کی بات ہے۔ اور سوال کا پتہ چلتا ہے۔ تو اشراف نفس بھی حرام ہے۔ اس وجہ سے ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ اسکو فاقہ تھا۔ تو ان کے ایک شاگرد ان کے لئے کھانے کا بھرا ہواخوانچہ لائے ۔ حضرت کوسلام کرکے بیٹھ گئے اور وہ خوانچہ ان کے سامنے رکھ دیا ، بزرگ نے فرمایا بیٹا آپ نے بہت اچھا کیاآپ اس کو لے آئے آپکو اسکا ثواب مل گیا لیکن یہ میرے لئے حرام ہے۔اس نے کہا حضرت میرا کھانا آپ کو کیسے حرام ہوگیا۔ فرمایا کہ جب آپ جا رہے تھے تو میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اب یہ میرے لئے کوئی کھانے کی چیز لا رہا ہے۔ لہٰذا میرا اشراف نفس تھاتو یہ ٹھیک نہیں ہے،میں نہیں کھا سکتا۔ تو وہ صاحب بھی بڑے ہوشیار تھے ، اس نے کہا حضرت میں آپ کو حرام کیوں کھلاؤں گا۔ بالکل نہیں کھلاتا میں واپس لے جاتا ہوں۔اور کھانا اٹھا کر چلا گیا لیکن باہر نکل کر فوراً واپس آگیا اور کہا حضرت اب تو آپکا خیال نہیں تھا۔ حضرت نے کہا بالکل نہیں تھا۔ اس نے کہا بس آپ کھا لیجیے۔ تو شکر خوروں کو خدا شکر دیتا ہے۔ دیکھو اللہ پاک نے حلال کھلا دیا جب حرام سے نظر ہٹا دیاتو حلال فوراً کھلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے کسی کو محروم نہیں فرماتا لیکن یہ ہے کہ انسان اللہ سے مانگے۔ میں آپکو اس کی ایک اور مثال دیتا ہوں۔ میں کراچی گیا تھا کسی سرکاری کام سے اور ایک اعلیٰ ہوٹل میں میرے ٹھہرنے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ آپ کو پتہ ہے کہ اس قسم کے جو ہوٹل ہوتے ہیں اس میں یا کاروباری لوگ ٹھہرتے ہیں یا سرکاری آفیسر ٹھہرتے ہیں کیونکہ عام لوگوں کیrangeسے باہر ہوتے ہیں ۔وہاں کے ملازمین کو پتہ چل جاتا ہے آدمی کا کہ کسی سرکاری جگہ سے آیا ہوا ہے۔ تو وہاں کے ایک بیرے کا خیال تھاکہ میں اس کا کوئی کام کرلوں۔ مطلب کوئی سرکاری نوکری وغیرہ دلوا دوں گا ۔تو میں صبح کی نماز کیلئے جارہا تھاتو وہ جائے نماز پہ بیٹھا ہوا تھا corridor میں اور زور زور سے دعا مانگ رہا تھا کہ یا اللہ میں بے روزگار ہوں مجھے روزگار عطا فرما دے۔ میرا یہ مسئلہ ہے یہ مسئلہ ہے۔ حقیقت میں وہ مجھے سنا رہا تھا۔ تو مجھے بڑی حیرت بھی ہوئی اور غصّہ بھی آگیا کہ اگر مجھے صاف کہہ دیتاتو چلو ا گر کوئی جائز کام ہوتا تو میں کردیتانہ ہوسکتا تو معذرت کردیتا۔ لیکن یہ ناٹک رچانے کی کیا ضرورت تھی کہ خواہ مخواہ اس طریقے سے کہنا تو بہت سارے لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں

سوال: بیعت کب ہوتا ہے؟ نابالغ بچے بیعت ہوسکتے ہیں؟

جواب: بیعت ارادے کو کہتے ہیں۔ ارادہ نابالغ بچہ بھی کرسکتا لیکن سمجھدار ہو۔ ایسا نہ ہو کہ آپ دودھ پینے والے بچے کا ہاتھ مرشد کے ہاتھ میں دے دیں تو وہ تو بیعت نہیں ہے ہاںآ پ برکت کیلئے ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیں۔ لیکن یہ ہے کہ اگر سمجھدار بچہ ہے اور اپنے ارادے سے کر رہا ہے تو اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ ارادہ تو نابالغ بھی کرسکتا ہے۔

سوال: جذب اور فنا میں کیا فرق ہے؟

جواب: یہ اچھا سوال ہے ماشاء اللہ۔ علمی سوال ہے۔ اصل میں محبت کی وجہ سے انسان پہ ایک کیفیت طاری ہوجاتی ہے جس سے انسان کی روحانی ترقی کی رفتار بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ مثلاًکوئی سائیکل کے ذریعے کراچی جائے گاتو کتنا عرصے میں جائے گا؟ کافی عرصہ لگے گا۔ اوراگر گاڑی میں بیٹھ کر جائے گا تو ممکن ہے کہ اٹھارہ یا بیس گھنٹے لگیں،اور اگر جہاز میں جائے گا تو ڈیڑھ گھنٹہ لگے گا۔ تو آپ یوں سمجھ لیں کہ جذب کا مطلب ہے بہت تیز رفتاری کیساتھ ایک مقام کو حاصل کرنا۔ چونکہ اس میں تیز رفتاری ہوتی ہے لہٰذا آدمی کی اسکے ساتھ adjustment نہیں ہوتی۔ تو نتیجتاً کچھ کمی بیشی رہ جاتی ہے۔ البتہ ایک جذب وہ ہوتا ہے کہ انسان مجاہدات اور ریاضتیں کرکے اس حد تک چلا جاتا ہے کہ اس کی عقل ختم ہوجاتی ہے اسکو مجذوب کہتے ہیں۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کرنٹ کی طرح ہی ہے۔ کرنٹ اگر کمزور چیز میں سے گزر جائے تو اسکو جلا دیتی ہے اور اگر طاقتور چیز میں سے گزر جائے تو کرنٹ کی طاقت استعمال ہوجاتی ہے۔تو یوں سمجھ لیں کہ جس شخص کو جذب ہوگیا اور وہ اس معنی میں مجذوب نہیں ہوا، یعنی وہ مضبوط تھا کمزور نہیں تھا، surviveکر گیاتو اسکو وہ سب کچھ حاصل ہوگیااور ہوش بھی باقی ہے اس وجہ سے شریعت پر عمل کرنے میں اس میں بہت زبردست طاقت ہوگی اور یہ صاحب بہت اونچے مقام پر چلا جائے گا۔تو اس معنی میں مجذوب ہونا بہت بڑی با ت ہے۔ ہمارے حاجی امدا اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں ابتداء بذریعہ سلوک ہوتی ہے اور تکمیل بذریعہ جذب ہوتی ہے۔ یہ دو قسم کے جذب ہوگئے۔ ایک جذب حتمی کہ جس میں عقل فیل ہوجاتا ہے ، وہ تو یوں سمجھ لیں کہ کمزوری ہے۔اب چونکہ اللہ کی محبت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے لہٰذا اللہ اس کاخیال رکھتا ہے۔ اس وجہ سے اگر ان کو کوئی نقصان یا تکلیف پہنچاتا ہے تو اللہ پاک اس کابدلہ لیتا ہے۔ توایسے لوگوں کو تکلیف دینے سے بہت نقصان ہوجا تا ہے ۔ کیونکہ وہ اللہ کیلئے ایسا ہو ا ہے ۔یہ لوگ کچھ بھی نہیں کرتے، نماز بھی نہیں پڑھتے، روزے بھی نہیں رکھتے کیونکہ عقل جو نہیں ہوتی ان میں ، لیکن اللہ کے ہاں وہ مقام اس لحاظ سے ہے کہ یہ اللہ کیلئے ایسا ہو ا ہے لہٰذااسکو اگر کوئی نقصان پہنچائے گا تو اسکو نقصان پہنچے گا۔لیکن اس سے فیض نہیں ہوگا۔ فیض ہوتا ہے ہوش والے بزرگوں سے۔ جیسے مردوں سے جو فیض ہوتا ہے وہ زندوں کی وساطت ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے جو ایسا مجذوب ہوجائے کہ بالکل عقل ختم ہوجائے اس سے فیض ختم ہوجاتا ہے کیونکہ اب اس سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔ استفادہ صاحب ہوش لوگو ں سے کیا جائیگا۔ اسی وجہ سے مجذوبوں کے پیچھے پھرنے کی ممانعت ہے کہ یہ انسان کو نقصان پہنچاتی ہے۔ عین ممکن ہے کوئی ایسی چیز کھلا دے جس سے آپ کا بھی سارا کچھ ختم ہوجائے۔تو اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے بچا کہ رکھنا ہے۔ ہاں اگر خدمت کا موقع مل جائے تو خدمت کرلو۔ کوئی چیز ان کو کھلا دو آخر انسان ہے، ان کوکپڑے پہنا دوایسی کوئی اور چیز ، مطلب ان کیلئے کچھ خیر کا سوچو ۔ تو پھر ٹھیک ہے ممکن ہے اللہ پاک اس پر آپ کو اجر بھی دے اور ممکن ہے کہ اللہ تعٰالٰی آپ کو فائدہ بھی پہنچائے۔ فنا ایک اختیاری چیز ہے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ا س میں انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت کو اپنے اوپر اتنا طاری کرتا ہے، طاری کرتا ہے، طاری کرتا ہے کہ اس کی اپنی حیثیت مٹتی جاتی ہے، مٹتی جاتی ہے،مٹتی جاتی ہے تو جس وقت اللہ تعالیٰ کی عظمت کسی کے قلب و ذہن میں peak پہ پہنچ جائے اس وقت انسان کی اپنی زیرہ ہوجائیگی۔ اس کو فنا کہتے ہیں اور یہ فنایت مطلوب ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا ادراک تو ضروری ہے۔ توا للہ تعالیٰ کی عظمت کے ادراک کیلئے یہ طریقہ بھی اختیار کرنا ضروری ہے۔ ہاں البتہ یہ بات ہے کہ طریقے سے جانا ہوتا ہے۔ مطلب آپ کو کوئی جسمانی نقصان نہ ہو جائے ، کوئی شرعی مسئلہ نہ ہو جائے۔ شیخ کامل کی نگرانی میں یہ سارا کچھ ہوسکتا ہے تاکہ آپکو یہ ساری چیزیں محتاط طریقے سے حاصل ہو جائیں۔ فنا دو قسم کے ہیں ۔ ایک ہوتا ہے فناء نفس۔ مطلب انسان اپنے نفس کے تقاضوں کو بھول جاتا ہے یعنی اپنے آپ کو بھول جاتا ہے کہ میری بھی کوئی خواہش ہے۔ وہ پھر صرف اللہ کو یاد رکھتا ہے کہ اللہ کی کیا خواہش ہے۔ جیسے کسی کے ساتھ کوئی محبت کرتا ہے تو جب وہ موجود ہوتا ہے توانسان اپنے آپ کو بھول جاتا ہے کہ میری بھی کچھ کھانے پینے کی خواہش ہے۔ ہوتا ہے اس طرح۔ آدمی ہر وقت چاہتا ہے کہ میں انکی خدمت کروں اپنے آپ کو بالکل بھول جاتا ہے۔ اور یہ بالکل فطری بات ہے ۔ ہمارے طریقے میں بھی ہے
۔۔۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔۔۔
مطلب سردی سے انکو بھی تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی ہوتی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور میرا خیال رکھتا ہے ۔ اب خود بارش میں بھیگ رہا ہوگا اور چھتری میرے اوپر پکڑے گا۔ آخر یہ کیا چیز ہے اس کو آپ کیا کہیں گے؟ محبت ہے نا اور توکچھ نہیں ہے ۔تو انسان اپنے آپ کو بھول جاتا ہے ۔اسی چیز کو فنایت کہتے ہے۔ اسلئے کہتے ہیں فنا فی الشیخ پھر فنا فی الرسول پھر فنا فی اللہ۔دوسرا ٓخر میں آتا ہے فناء الفنا۔ یعنی انسان کو یہ بھی پتہ نہ چلے کہ میں فانی ہو چکا ہوں۔ کیونکہ جب اس کو یہ پتہ ہے کہ میں فانی ہوں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی پورا فانی نہیں ہوا ۔ اسکی مثال ایسی ہے کہ جہاں سے شعلہ نظر آتا ہے وہاں maximum heat نہیں ہے۔ وہاں کچھ آدھ جلی چیزیں موجود ہیں تب ہی ان کی وجہ سے روشنی نظر آرہی ہے۔ اصل heatوہاں ہے جہاں بالکل شعلہ نظر نہیں آرہا یعنی تھوڑا سا اوپر۔اگر آپ کوئی تھرمامیٹر لگادیں، میٹالک تھرمامیٹر ہوجو آپ senseکر سکیں تو سب سے زیادہ حرارت ادھر ہوگی لیکن آپ کو ادھر کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔جبکہ جہاں پر شعلہ پورا نظر آرہا ہے وہاں پر ممکن ہے کہ اسکے مقابلے میں سب سے کم ہو۔ تو فنا ء الفنا وہ pointحاصل کرنا ہے۔ کہ جب انسان کو اپنی فنا بھی نظر نہ آئے کہ میں فانی ہوگیا ہوں۔

سوال: ذکر کی جو تعداد بتائی جائے کیااتنا ہی پڑھنا ضروری ہے؟ اگراس سے تھوڑا بہت آگے پیچھے ہوجائے تو کیا اس کا کوئی حرج تو نہیں ہے ؟

جواب: اصولی جواب دیتا ہوں کیونکہ تفصیلات تو ظاہر ہے کہ ہر فرد اپنے طور پر معلوم کرسکتا ہے ۔ دو قسم کے ذکر ہوتے ہیں ، ایک وہ جن کے فضائل ہم نے قران و حدیث سے معلوم کیے ہوتے ہیں ، اس کو کرنا فضیلت کے لحاظ سے اجر کے لئے ہے ۔ اس کوہم غذائی ذکر کہتے ہیں ۔ اس کی مثال غذا جیسی ہے ۔ لوگ اسی کے ذریعے سے زندہ رہتے ہیں ، ذکر کے ساتھ بھی لوگ زندہ رہتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے زندہ اور مردہ ۔ تو یہ عذائی ذکر پورا کرنا اپنی حیات روحانی کیلئے بہت ضروری ہے ، لیکن اس میں اگر حدیث میں کوئی تعداد معین نہ ہو تو پھر کوئی پابندی نہیں ہوتی ۔ مثلاً درود شریف ہے ، یہ جتنا بھی پڑھا جائے ، ایک حدیث شریف میں ہے کہ ایک صاحب آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے دعاؤں کے لئے کچھ وقت مقرر کررکھا ہے تو میں اس میں کتنا حصہ درود شریف کیلئے رکھوں ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جتنا مرضی ہو ، اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر تہائی ، فریا بالکل ٹھیک ہے لیکن اگر اس سے زیادہ ہو تو اور بھی اچھا ہے ، انہوں نے پھر آدھے وقت کا کہا ، پھر دو تہائی کا کہا آخر میں کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اب تو میں سارے کا سارا وقت اس کو دوں گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر آپ کے سارے مسائل کی کفایت ہوجائے گی ۔ اب آپ دیکھیں کہ اس کے بارے میں آپ ﷺ نے خود ہی ارشاد فرمایا ہے تو اس میں وقت کا کوئی خاص حصہ مقرر نہیں ہے بلکہ سارے کا سارا وقت اس میں دیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح گلدستہ بھی بنایا جاسکتا ہے جیسے بعض حضرات بناتے ہیں، مختلف اذکار کا ۔ تو جو غذائی ذکر ہے اس کی تعداد معین نہیں ہے ۔ حسب توفیق اور حسب فرصت ذکر کیا جاسکتا ہے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ الا کہ کوئی تعداد پہلے سے موجود ہو ، مسنون ۔ مثلاً ہم لوگ ِ۳۳ دفعہ سبحان اللہ ، ۳۳ دفعہ الحمد اللہ اور ۳۴ دفعہ اللہ اکبر کا جو ذکر کرتے ہیں تو یہ چونکہ اسی طرح بتایا گیا ہے تو اب اگر اس کو کوئی آگے پیچھے کرے گا تو وہ ذکر غذائی ذکر ہوگا اور اس کا اجر بھی ہوگا لیکن وہ اجر جو ذکر فاطمی والا اجر ہے وہ نہیں ہوگا ۔ اس کا کوئی اور اجر ہوگا ۔ کیونکہ اس کے ساتھ اب وہ نسبت شامل نہیں ہے ۔ وہ نسبت اس کی تعداد کے ساتھ شامل ہے تو اگر کوئی اس کو اس تعداد میں کرے گا تو اس کو وہ چیزملے گی۔ اور اس تعداد میں نہیں کرے گا تو نہیں ملے گی ۔ اس سلسلے میں ایک خواب کا واقعہ بھی ہے کہ ایک صاحب اس میں کچھ گڑ بڑ کرتے تھے کبھی زیادہ کبھی کم ، تو اس نے خواب میں دیکھا کہ قیامت کا دن ہے اور آواز آئی کہ جس کا معمول تسبیحات فاطمی کا تھا وہ آجائے اور اپنا اجر لے جائے ۔ تو یہ صاحب بھی لائن میں کھڑے ہوگئے ، جب ان کا نمبر آگیا تو اس فرشے نے کہا کہ بھئی آپ کا نام اس لسٹ میں شامل نہیں ہے ۔ اس نے کہا کہ میں تو کرتا رہا ہوں ، فرشتے نے جواب دیا کہ آپ یہ تو نہیں کرتے رہے ہیں آپ تو اپنی طرف سے کچھ کرتے رہے ہیں ، آپ کا نام ان اجرلینے والوں میں نہیں ہے ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا اجر اس مخصوص تعداد کے ساتھ ہی تھا تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے ساتھ کچھ خصوصی فوائد ہیں جس کا ہمیں علم نہیں ہے اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے ۔ بہر حال اگر اس تعداد کے مطابق کریں گے تو پھر یہ چیز ملے گی اور اگر یہ تعداد پوری نہیں کریں گے تو پھر وہ چیز نہیں ہوگی ۔ اس کے اپنے کچھ فوائد تو ہونگے ۔ سبحان اللہ کا اپنا فائدہ ہے ، الحمد اللہ کا اپنا ہے ، اللہ اکبر کا اپنا ہے ۔ لیکن اس تعداد کے ساتھ جو فوائد ہیں وہ چیز نہیں ملے گی ۔ اس طرح ہمارے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ سو دفعہ تیسرا کلمہ ، سو دفعہ درود شریف ، سو دفعہ استغفار روزانہ صبح و شام یا دن میں ایک دفعہ اگر کوئی کرے گا تو یہ بھی مسنون اذکار میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کے بھی بڑے فضائل ہیں اب اگر یہ فضائل کسی نے لینے ہوں تو ظاہر ہے اسی کے مطابق کریں گے ۔ ہاں بلا تعداد اپنے لئے کچھ اور مقرر کرلے ، اس کے بارے میں میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ جو ہمارے ساتھی ہیں ان کو میں ایک جرنیلی وظیفہ بتاتا ہوں ۔ عام لوگ بھی اس کو کرسکتے ہیں ۔ صبح سے لیکر دوپہر تک جتنا وقت ان کے پاس ہو اس میں پڑھے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، اور دوپہر سے مغرب تک جتنا وقت ان کے پاس ہو اس میں پڑھے درود شریف ۔ مغرب کے بعد جتنا وقت ہو اس میں استغفار پڑھے ۔ یہ گویا ایک چھوٹا سا خاکہ ہے ہماری زندگی کا ،کہ ہماری زندگی کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے اسی پر ہم قائم ہیں ۔ سنت رسول ﷺ ہماری زندگی کی بنیادی اساس ہے اور درود شریف اس کی نمائندہ ہے اور جب کوئی کمی بیشی ہوتی ہے تو اس کیلئے استغفار ہے ۔ اگر یہ ہم کرتے رہیں تو انشاء اللہ اس کا بڑا فائدہ ہوگا ، یہ بے تعداد ذکر ہے ۔ باقی جو دوسرے قسم کا ذکر ہے اس کو اصلاحی ذکر کہتے ہیں ۔ اس کی مثال دوائی کی سی ہوتی ہے ۔ اب دوائی جیسے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنی ہوتی ہے اس کو بھی ایسے کرنا ہے ۔ اگر ڈاکٹر بتائے کہ صبح ، دوپہر ، شام ایک ایک پیراسیٹامول کی گولی کھانی ہے اور آپ اپنا اجتہاد کرلیں کہ چلو جی ڈاکٹر صاحب نے دن میں تین گولیاں کہی ہیں تو میں تین گولیاں صبح اکٹھی ہی کھا لوں ، تو کیا خیال ہے کیا ہوجائے گا ؟ مسئلہ ہوجائے گا ۔ اس طرح پیٹ کے کیڑوں کی ایک دوائی ہوتی ہے جو کہ ساری بوتل ایک ساتھ پینی پڑتی ہے ، لیکن اگر آپ کہیں کہ چلو جی پوری بوتل ہی پینی ہے تو چوبیس گھنٹوں میں تھوڑا تھوڑا پی لوں گا ، تو کیا خیال ہے فائدہ ہوگا؟ تو اس میں دونوں طرح کی مثالیں آگئیں کہ نہ تو آپ نے کم کرنا ہے اور نہ ہی زیادہ کرنا ہے ۔تِعداد جس طرح بتائی گئی ہے اسی طرح کرنا ہے ، روحانی اذکار کابھی یہی حال ہے ۔ حتیٰ کہ اس کی ترتیب سے بھی فرق پڑ سکتا ہے ۔ مثلاً لا الہ الا اللہ کا ذکر ہم پہلے کرتے ہیں اس کے بعد الا اللہ پھر اللہ ہو اللہ اور پھر اللہ اللہ کا کرتے ہیں اگر کوئی پہلے اللہ اللہ کا ذکر کرے گا پھر لا الہ الا اللہ کا کرئے گا تو ترتیب بدل گئی اب اس کا وہ اثر نہیں ہوگا جو ترتیب سے پڑھنے کا ہے ۔ ایک دفعہ مولانا اشرف صاحب  سے میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو حضرت  کی تو مرنجا ن مرنج طبیعت تھی ، غصہ تو ہوتا نہیں تھا ۔ فرمایا شبیر صاحب اس میں آپ کا اجتہاد نہیں چلے گا ، یہ برسوں سے بزرگوں کا تجربہ ہے اس کو اسی طرح کرنا پڑے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم لوگوں کو اسی طرح کرنا چاہیے جس طرح سے بتایا جاتا ہے ۔ ایک دفعہ آسٹریلیا سے آئے ایک صاحب نے مجھ سے ذکر خفی کے بارے میں بات کی کہ پہلے میرا دل چلتا تھا اب یہاں پاکستان میں آکر چھوٹ گیا تو آپ ذرا مجھے طریقہ بتائیں ۔ میں نے اس سے کہا کہ ہمارے ہاں تو تین سٹیج ہیں ، پہلے لسانی ہوتا ہے ، پھر جہری ہوتا ہے پھر قلبی ہوتا ہے ۔اگر آپ اس کے لئے تیار ہیں تو میں آپ کو بتا دیتا ہوں ۔ اس پر وہ تیار ہوگئے ، میں نے ان کو ذکر دے دیا ۔ بعد میں ان کا ای میل آیا اس نے پوچھا تھا can I split it یعنی کیا اس کو میں دو حصوں میں تقسیم کرسکتا ہوں ،یعنی مختلف اوقات میں تھوڑا تھوڑا کرلیا کروں ۔ تو میں نے اس کو اسی انداز میں جواب دیا ، میں نے کہا yes you can split it but if you want to do it for Ajar. You cannot split it if you want to do it for treatment ۔ ظاہر ہے وہ سمجھدار آدمی تھے انہوں نے جواب دیا I understand ۔ پھر اس نے وہ کرلیا ۔ تو جو علاج والا ذکر ہے اس میں تو گڑ بڑ نہیں ہوگی ، وہ جیسے بتایا جائے گا اسی طریقے سے کرنا پڑے گا ۔ بعض لوگ جو درمیان میں ناغہ کرتے ہیں ، اس ناغے کے اثرات ہوتے ہیں ، اور حیرت کی بات ہے کہ جب مجھے فون کرتے ہیں اپنے ناغے کے بارے میں ، تو اس میں معذرت کرتے ہیں کہ حضرت معاف کیجئے گا میرے ذکر میں ناغے ہورہے ہیں ۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ مجھ سے معذرت کیوں کرتے ہیں ۔ کیا کبھی دوائی نہ کھا کر کسی ڈاکٹر سے معذرت کی ہے ؟ اگر آپ کو ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آپ نے ایک ایک کیپسول کھانی ہے اور آپ پہلے دن تو کھا لیں اور تین دن نہ کھائیں اور پانچویں دن سے پھر کھانا شروع کردیں اور ڈاکٹر صاحب کے پاس جاکر کہیں کہ ڈاکٹر صاحب معاف کیجئے گا درمیان میں تین دن تو مجھ سے رہ گئے تھے ، تو ڈاکٹر صاحب کیا جواب دے گا؟ وہ کہے گا کہ بھئی اگر میں آپ کو ایک کروڑ مرتبہ بھی معاف کردوں تو آپ کو فائدہ نہیں ہوگا ، جو نقصان آپ کرچکے ہیں اب وہ نقصان معافی سے واپس نہیں ہوسکتا ۔ تو یہ چیز دوائی سے متعلق ہے معافی سے متعلق نہیں ہے ۔ معافی سے وہ چیز متعلق ہے جب آپ نے کسی کی گستاخی کی ہو ، آپ نے کسی کا حق مارا ہو ، آپ نے کسی کو نقصان پہنچایا ہو ، تو اس سے معافی مانگنا ضروری ہے ۔ مثلاً ڈاکٹر صاحب کے کلینک سے کوئی چیز چرائی ہے تو اس کی معافی ضرور مانگیں لیکن اس کی معافی کیا مانگنا کہ میں نے دوائی نہیں کھائی ۔ اس پر تو صرف اپنے اوپر افسوس کرلے اور آئندہ کے لئے توبہ کرے کہ پھر میں ایسا نہیں کروں گا ۔ مجھ سے اگر کوئی معافی کیلئے کہتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں آپ کو سو دفعہ معاف کرچکا ہوں لیکن اپنا انتظام خود کرلیں اس کے بارے میں میں کچھ نہیں کرسکتا ۔ باقی تھوڑے بہت کی گنجائش ضرورہے ، مثلاً ڈاکٹر نے کہا تھا کہ گولی آٹھ بجے کھانی ہے اور آپ نے دس بجے کھالی تو ڈاکٹر کہے گا کوئی بات نہیں ایک دو گھنٹے کا کوئی مسئلہ نہیں ۔ لیکن ideal situation اسی وقت پر ہونی چاہیے ۔ اگر 80 نمبروں پر A گریڈ ملتا ہے اور کسی کے 79 نمبر ہوں اور آپ سوچیں کہ ایک نمبر پر اس کا A گریڈ رہ جاتا ہے چلو ان کو انہیں نمبروں پر A گریڈ دے دو ، اورآپ نے ایسا کردیا تو 78 نمبر والا بھی کہہ سکتا ہے کہ جی ایک نمبر کی بات ہے اور اگر اس کو دے دیا تو پھر 77 بھی کہہ سکتا ہے کہ جی ایک نمبر کی تو بات ہے تو بات کہاں جاکر ٹھہرے گی ؟ کہیں تو رکیں گے ، رکنا تو پڑے گا ۔ اس وجہ سے اپنے لئے اصول و ضابطے اس طرح بنانا چاہیے کہ بھئی اس کو میں نے جس وقت شروع کیا اسی وقت کروں گا ، اتنی تعداد میں کروں گا ، سو کا ایک سو ایک ہوجائے تو میرے خیال میں وہ مسئلہ تو نہیں ہوگا جیسے ناغے کا ہوتاہے لیکن تھوڑا بہت فرق ضرور آئے گا ، یقینا آئے گا لیکن کم ہوگا ۔ تو کیا خیال ہے کوئی کم نقصان برداشت کرنے کیلئے تیارہے ؟ فرق توکچھ نہ کچھ پڑے گا ۔ اس لئے خیال رکھنا چاہیے کہ اس کو وقت پر کیا جائے اور اتنی مقدار میں کرے جتنی مقدار میں کہا گیا ہے ۔

سوال: انوارات کیا ہیں ؟

جواب: نور کا لفظ بہت ساری چیزوں کے لئے آتا ہے ۔ ظاہری طور پر نور یہی روشنی ہے جس کو ہم روشنی کہتے ہیں ۔ آنکھوں کی بینائی کو بھی نور کہا گیا ہے ۔جیسے ہم کہتے ہیں اس کی آنکھیں بے نور ہوگئیں یعنی وہ اندھا ہوگیا ۔ بصارت یعنی آنکھوں کی دیکھنے کی طاقت کو نور کہا جاسکتا ہے اس طرح بصیرت جو دل کی آنکھیں ہیں وہ بھی نور ہیں ۔ اس نور میں اور اس نور میں یہ فرق ہے کہ اس نور میں ہمیں وہ چیزیں نظر آتی ہیں جو اس کی domainمیں ہیں اور اس نور میں ہمیں وہ چیزیں نظر آتی ہیں جو اس کی domain میں ہیں جیسے ہدایت ملنا ، گناہوں کا اثر محسوس ہوجانا ، نیکیوں کا اثر محسوس ہونا ، نیک لوگوں کی پہچان ، نیک لوگوں کے قرب کا احساس ، دعاؤں کے اندر توجہ۔ یہ ساری چیزیں اس کے ساتھ ہیں ۔ انوارات کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل منور ہوجائے اور اس کو یہ چیزیں ملیں ۔ یہ اس کی output ہے اور ایک نور وہ ہے جو کہ shape ہے ، صورت ہے ، مثلاً یہ روشنی مجھے نظر آرہی ہے تو کسی کو نظر آنا یہ کشف کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ۔ لیکن اس کے outputکا اس کے ہونے سے تعلق ہے ۔توoutput تو عام لوگ بھی محسوس کرلیتے ہیں لیکن جو اہل کشف ہوتے ہیں ان کو نظر آتا ہے کہ فلاں قبر سے نور نکل رہا ہے ۔ قران پاک کا نورنظر آتاہے ، احادیث شریف کا نور نظر آتا ہے ۔ حضرت عبدالعزیم دبار  ایک ان پڑھ بزرگ تھے ، اللہ والے تھے ۔ ان کو گزرے ہوئے دو ڈھائی سو سال ہوئے ہیں ۔ ان سے ایک محدث بیعت ہونا چاہتے تھے تو انہوں نے ان کا امتحان لیا ۔انہوں نے عربی کا ایک جملہ بنایا جس میں کچھ الفاظ قران سے لیے گئے تھے ، کچھ الفاظ احادیث شریف سے لیے گئے تھے ، کچھ الفاظ حدیث قدسی سے لیے گئے تھے اور کچھ الفاظ ویسے عربی کے تھے ، اور عربی کا ایک رواں فقرہ بنایا، یعنی اس میں انقطاع نہیں تھا۔ بالکل ایک فقرہ نظر آرہا تھا ۔ وہ اس بزرگ کے پاس لے گئے اور ان سے پوچھا کہ یہ کیاہے؟ تو اس بزرگ نے فرمایا کہ اس کا یہ حصہ قران ہے ، یہ حصہ حدیث ہے اور یہ حصہ مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہے قران بھی نہیں ہے حدیث بھی نہیں ہے اس کے درمیان درمیان کوئی چیز ہے اور باقی حصے کے بارے میں کہہ دیا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ اب وہ محدث حیران ہوگئے کہ جواب تو بالکل صحیح دیا لیکن کس طریقے سے دیا کیونکہ حضرت توعالم نہیں ہیں ۔ تو انہوں نے ان سے پوچھا حضرت آپ نے یہ کیسے معلوم کرلیا ، فرمایا بھئی مجھے تو علم نہیں ہے البتہ میں جانتا ہوں کہ قران کا نور الگ ہے ، حدیث کا نور الگ ہے ، یہ جو تیسرا حصہ ہے اس کا نور نہ قران کا تھا نہ حدیث کا تھا ایک دوسری قسم کا نور تھا اور جو باقی حصہ ہے اس میں کوئی نور نہیں تھا ۔ وہ محدث بڑے حیران ہوئے اور اس کے بعد انہوں نے حضرت کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔ یہی پر ایک بزرگ تشریف لائے تھے ہمارا یہ گھر بن رہا تھا ، میں یہاں گلی میں کھڑا تھا ، ادھر سے وہ بزرگ آرہے تھے اور ادھر سے میرے ایک شاگرد جو کہ حافظ قران تھے وہ آرہے تھے ، تو ان دونوں سے ملاقات ہوگئی تو اس بزرگ نے مجھ سے پوچھا کہ یہ لڑکا کون ہے ، میں نے کہا میرا شاگرد ہے اور حافظ قران ہے ۔ فرمایا ہاں اس پر قران کا نور ہے ۔ اور اس لڑکے نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں ، ان کو دیکھ کر میرا ذکر جاری ہوگیا ۔ اب دیکھیں دونوں کا اپنا اپنا اثر تھا ۔ اس کا ذکر والا نور تھا ان کا قران والا نور تھا ۔ اور دونوں نے اپنا اپنا اثر کردکھایا ۔ تو یہ outputوالی بات تھی یہ کشف والی بات نہیں تھی ۔ اگر دیکھا جائے تو ہر چیز کا اپنا نور ہوتا ہے ۔ حضرت صوفی اقبال صاحب  کے ساتھ ہم مدینہ منور میں ایک دعوت میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت نے مجھ سے پوچھا تمہارا تعلق پروفیسر اشرف صاحب کے ساتھ تو نہیں ہے ؟ میں نے سنا کہ شاید ارشد کہہ رہے ہیں ۔ میں نے کہا نہیں ۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر پوچھا تمہارا تعلق پروفیسر اشرف صاحب  کے ساتھ تو نہیں ہے ۔ اس مرتبہ میں نے صحیح سنا، میں نے کہا جی ہاں ہے ۔ فرمایا یہ تو میں نے پہلے بھی پوچھاتھا ۔ میں نے عرض کیا حضرت وہ میں نے صحیح نہیں سنا تھا ۔ فرمایا یہ کشف نہیں ہے ۔ جیساکہ ایک پیشے کا کسی پر اثر ہوتا ہے ، اس سے وہ پہچانا جاتا ہے کہ اس کا فلاں پیشہ ہے اس طرح شیخ کا بھی آدمی پر اثر ہوتاہے ۔ اور آپ کے اوپر چونکہ الحمد اللہ ہے تو آپ اس کو بڑھائیں ۔ اب یہ کیا چیز ہے ؟ پہچاننے والے نے پہچان لیا ، جاننے والے نے جان لیا ۔ ہم ایک بہت بڑے بزرگ کے پاس گئے تھے ، بہت اللہ والے تھے ایک سو چالیس کی عمر تھی ،ہمارے شجرے میں بھی ان کا نام ہے حضرت سید محب اللہ شاہ بخاری  ، میخ بند بابا جی کے نام سے مشہور تھے۔ بٹ خیلہ توتکان میں ایک پہاڑ میں رہتے تھے ۔ ان کی خانقاہ پر ہم گئے تھے ۔وہ چونکہ ہمارے حضرت تسنیم الحق صاحب  کے شیخ تھے ، تو میں اور ڈاکٹر ارشد صاحب ان کے ساتھ گئے تھے ۔ وہاں ہمارے سامنے حضرت تسنیم الحق صاحب کو اجازت یعنی خلافت دے دی ۔ حضرت اپنے آپ کو بہت چھپاتے تھے ، انہوں نے عرض کیا کہ حضرت ان شیطانوں کے سامنے نہ دیں ورنہ یہ مجھے تنگ کریں گے ۔ تو حضرت میخ بند بابا جی نے فرمایا نہیں یہ شیطان نہیں ہیں ۔ پھر فرمایا کہ لاکھوں میں کھڑا کردو پھر بھی پہچان لیے جائیں گے ۔ مقصد یہ ہے کہ جو ذکر کا اثر ہے وہ انسان پر نظر آتا ہے ۔ یہ سارے انوارات ہیں جس کے ذریعے سے پہچان ہوتی ہے لیکن ان کا نظر آنا یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ ہمارے جو لطائف ستہ ہیں ان کے اپنے اپنے انوارات ہیں ، اور جو صاحب کشف ہوتے ہیں ان کو باقاعدہ یہ انوارات نظر آتے ہیں ، محسوس ہوتے ہیں ۔ لیکن ان انوارات کانظر آنا ہمارے سلوک کا حصہ نہیں ، لیکن یہ ایک محمود چیز ضرور ہے ۔ اگر کسی کو ملے تو اس پر شکر کرے اور نہ ملے تو اصل تو اللہ کی طرف سے سب کچھ ملتا ہے ، مربی حقیقی وہی ہے اس کے پاس دوسرے متبادل ذرائع ہیں جس کے ذریعے سے اس چیز کو پورا کیا جاتا ہے ۔ تو اس چیز سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اس طرح قبروں کے بھی انوارات ہوتے ہیں ۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے اس میں حضرت کاکا صاحب  کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے مزار پر وہی انوارات ہیں جو حضرت جلال الدین سرخ بخاری  جو اوچھ شریف میں دفن ہیں کے مزار پر ہیں ۔ اس سے پتہ چلا کہ یہ بھی سہروردی سلسلے کے ہیں ۔ یعنی اس سے باقاعدہ سلسلہ پہچاناجاتا ہے کہ یہ بھی سہروردی سلسلے سے ہیں ۔ تو اس قسم کے انوارات ہوتے ہیں لیکن ہر ایک کو نظر نہیں آتے ۔

سوال: شیخ کا رنگ چڑھنے سے کیا مراد ہے ۔ صبغت اللہ سے اس کا کیا تعلق بڑھتا ہے ؟

جواب: شیخ کا رنگ چڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اقوال و افعال اور کیفیات سے اس کے شیخ کے ساتھ تعلق کا اظہار ہو ۔ مولانا ذکریا صاحب  کے ساتھ جن حضرات کا تعلق ہے ان کی مجلس میں وہ رنگ محسوس ہوتا ہے ۔ اور حضرت تھانوی  کے ساتھ جن کا تعلق رہا ہے تو ان کا رنگ بھی محسوس ہوجاتا ہے ، تھانوی  رنگ بھی بالکل واضح ہے ۔ اس طرح مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ جن کا رابطہ رہا ہو ، تعلق رہا ہو تو ان کا رنگ بھی محسوس ہوجاتا ہے ۔ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ تو مدنی رنگ ہے ۔ اصل میں اگرزیادہ دیر تک تعلق رہا ہو تو چونکہ صحبت کی یہ خاصیت ہے کہ دھیرے دھیرے انسان کے اندر سرائیت کرتی جاتی ہے ۔ مثلاً کس بات پر خوش ہونا ، کس بات پر ناراض ہونا ، کس بات پر سنجیدہ ہونا اور کس چیز کا اثر زیادہ لینا ، یہ سارے رنگ ہیں ۔ رنگ کا لفظ اس کے لئے کہا گیا ہے ورنہ اصل میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ شیخ کے قلب کے احوال کے ساتھ یکسانیت کا نام ہے ، ایک ہوتی ہے directionاور ایک ہوتی ہے magnitude ۔ تو بعض دفعہ direction کا پتہ چل جاتا ہے magnitude کا فرق ہوتا ہے ، مثال کے طور پر جتنی بھی گاڑیاں لاہور کی طرف جارہی ہونگی تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ لاہور کی طرف جارہی ہیں ۔ اب کچھ لوگ گوجرانوالہ رک جائیں گے کچھ گجرات رکھ جائیں گے لیکن بہر حال کہیں گے کہ لاہور کی طرف جانے والی گاڑی ہے تو اسی طریقے سے شیخ کا رنگ جس کو ہم کہتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ شیخ کی طرح چیزیں اس سے ظاہر ہونے لگتی ہے لیکن مقدار میں کمی بیشی ہوتی ہے ۔ کسی میں کم کسی میں زیادہ ، تو اس سے پتہ چلتا ہے ۔ اب صبغت اللہ سے اس کا کیا تعلق ہے تو اصل میں قران پاک میں ہے
صِبْغَةَ اللہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہ صِبْغَةً
اللہ کا رنگ اور اللہ کے رنگ سے کونسا رنگ اچھا ہوتا ہے ۔ تو اصل میں کہتے ہیں کہ
تخلقوا بأخلاق الله
اللہ کے اخلاق کو اپناؤ ۔ اب اللہ کریم ہے تم بھی کریم بن جاؤ ، اللہ رحیم ہے تو بھی رحیم بن جاؤ ، اللہ غفور ہے تم بھی معاف کرنا شروع کردو ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات جو انسان میں بھی ہوسکتی ہیں ان میں اللہ پاک کا رنگ اپناؤ ، تو شیخ بھی اپنی اپنی حیثیت میں اللہ کے رنگ میں رنگا ہوتا ہے ۔ اب تمہیں اللہ پاک کا رنگ تو نظر نہیں آئے گا کیونکہ اللہ کی ذات وراء الاوراء ہے لیکن شیخ تو نظر آرہا ہے اور وہ آپ کیلئے محسوسات میں سے ہے لہذا جب آپ شیخ کے رنگ کو اپنائیں گے تو آہستہ آہستہ اللہ پاک کارنگ آپ میں بھی آتا جائے گا ۔ اسی کو ہم کہتے ہیں فنا فی الشیخ ، یعنی ابتداء ہوتی ہے فنا فی الشیخ سے ۔ انسان شیخ کے تمام کامو ں کو اپنے اوپر طاری کرتا ہے اور اس کو ہر چیز میں اپنے لئے آئیڈیل سمجھتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک آدمی دوسرے آدمی سے اتنا متاثر ہوتا ہے کہ ہر بات میں اس کی بات ، اس نے یہ کہا اور اس نے یہ کہا ۔ اس پر میں آپ کو ایک لطیفہ سنا تا ہوں ، ہے تو لطیفہ لیکن بہر حال مقصد سمجھانا ہے ۔ ایک صاحب کو رحمن بابا کے اشعار بہت زیادہ یاد تھے اور ہر موقع پر کہتے کہ رحمن بابا نے اس موقع پر یہ کہا ہے ،رحمن بابا نے اس موقع پر یہ کہا ہے ۔ ایک دفعہ تانگے میں جارہے تھے تو تانگہ الٹ گیا ۔ اب یہ نیچے اور تانگہ اوپر ، کسی منچلے نے ان سے پوچھا رحمن بابا نے اس موقع پر کیا کہا تھا ۔ اس نے کراہ کر جواب دیا اس موقع پر رحمن بابا خاموش تھے ۔تو اگر شیخ کا رنگ کسی پرچڑھ جائے تو یہ انتہائی کامیابی کی ضمانت ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دینے کا دروازہ ہوتا ہے ۔ دیکھیں ایک قران ہے وہ آپ کے لئے پیغام ہے آپ اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ آپ ﷺ کی سنت مبارکہ آپ کے لئے پیغام ہے آپ اس کو سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کریں ، لیکن ان دونوں باتوں میں جو تقویت آئے گی وہ یہی سے آئے گی۔ چونکہ اتنے سارے مختلف لوگ ہیں ، اب اس اختلاف کی صورت میں ہر ایک کے لئے کیا کیا فیصلہ ہونا چاہیے ۔ مثلاً میرے لئے کیا کرناچاہیے ، دوسرے کے لئے کیا کرنا چاہیے ، تیسرے کے لئے کیا کرنا چاہیے تو شیخ کے ساتھ اس کا تعلق جتنا گہرا ہوگا ۔ اللہ جل شانہ اس کے لئے شیخ میں وہ چیز لائیں گے یا اس کی زبان پر لے آئیں گے جو اس کے لئے مفیداور مناسب ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ گویا شیخ کی زبان میں اللہ جل شانہ اس سے بات کررہا ہوتا ہے ۔ اس لئے مولانا روم  نے فرمایا کہ
مطلق آن آواز خود از شه بود
گر چه از حلقوم عبد الله بود
اس کا کہنا اللہ کا کہنا ہوتا ہے اگر چہ وہ عبداللہ کی زبان سے نکلتا ہے یعنی اللہ کے بندے کے حلق سے نکلتا ہے ۔ لیکن اصل میں یہ کہنا اللہ پاک کا کہنا ہوتاہے ۔ شیخ کی اپنی چیز نہیں ہے کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو فنا کرچکا ہے ۔ اب جو اللہ کی ذات میں فنا ہے تو اللہ پاک اس کودوسروں کیلئے استعمال کرتا ہے ۔ اب جو دوسروں کیلئے استعمال کررہا ہے تو جس کے لئے استعمال کررہا ہے تو اس کے اندر اس کے لئے وہ چیز ڈال لیتا ہے ۔ اس وجہ سے یہ بھی فرق ہوتا ہے کہ ہر ایک کو اپنا شیخ اپنے اپنے مطلوبہ رنگ میں نظر آتا ہے ۔ کیونکہ اس کے لئے اللہ پاک نے یہ سب کچھ کرنا ہوتا ہے ۔ اور اس سے اس کو فائدہ ہوتا ہے ۔ تو پہلے فنا فی الشیخ ، پھر فنا فی الرسول اور اس کے بعد فنا فی اللہ ۔ یہ عملی صورتیں ہیں اصل تو صبغت اللہ ہی ہے ۔ لیکن اس تک پہنچے کیلئے یہ باقی سیڑھیاں ہیں ۔

سوال: احوال میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں اور شیخ کو کیا کیا بتانا چاہیے ۔

جواب: احوال ، حال کی جمع ہے اور حال کا لفظ دو چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے ، اس وجہ سے اس کی تشریح ضروری ہے بغیر اس کے شاید سمجھ نہ آئے ۔ ایک حال بولاجاتا ہے کیفیت کیلئے ، مثلاً ایک شخص رو رہا ہے اس کا رونا رک ہی نہیں رہا ، یہ اس کا حال ہے ۔ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب  کا یہ حال تھا کہ وہ روتے رہتے تھے ۔ اس وجہ سے حضرت تھانوی  ان کو ابولبقاء کہا کرتے تھے یعنی رونے کا باپ ۔بالکل اسی طرح حضرت تھانوی  کے ایک اور خلیفہ تھے وہ ہنستے رہتے تھے ان کا حال یہی تھا ، وہ تبسم والے تھے ۔اب ظاہر ہے وہ بھی حضرت تھانوی  کے خلیفہ تھے ۔اور میرا تو اپنا خیال ہے کہ ہمارے شیخ حضرت مولانا اشرف صاحب  کا بھی یہی رنگ تھا ۔ وہ بھی ہنستے رہتے تھے ۔ تو جب حال مقام بن جاتا ہے تو پھر وہ مستقل ہوجاتا ہے۔ لیکن حال جب تک مقام نہیں بنا وہ بدلتا رہتا ہے ۔ اس لئے اس کو تلوین کہا جاتا ہے ۔یعنی رنگ بدلنا ، اب کبھی کس حال میں کبھی کس حال میں ،تو یہ حالات کا بدلنا یہ بھی سلوک کے طے ہونے کے ساتھ ہے ۔ مثال کے طور پر ہم یہاں سے لاہور جارہے ہیں تو ہم کبھی سڑک پر جارہے ہونگے کبھی کسی دریا کے اوپرسے جارہے ہونگے ، کبھی صحرا میں جارہے ہونگے ،اب اگر کوئی مجھ سے فون پر پوچھے اور میں کسی سرسبز علاقے سے گزررہاہوں تو میں کہوں گا کہ بڑا پیارا علاقہ ہے اور عین ممکن ہے کہ کچھ ہی دیر بعد ایک ایسی جگہ آجائے جہاں کچھ بھی نہ ہو ہر طرف خشک صحرا ہو ، اسی طرح سلوک میں یہ چیزیں چلتی ہیں ۔ سلوک میں کبھی ایک حال ہوتا ہے کبھی دوسرا حال لیکن یہ احوال کا بدلنا اصل میں راستے کے طے کرنے کی علامت ہے ۔ ایک دفعہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری  کے پاس ایک صاحب آئے ، وہ صاحب ابھی زندہ ہیں مولانا احمد عبدالرحمن صدیقی صاحب ، تووہ حضرت کے پاس آئے اور کہا کہ حضرت مجھے ہر چیز سے خوشبو آتی ہے ۔ حضرت نے فرمایا انشاء اللہ اب نہیں آئے گی ۔ اس کے بعد صورتحال یہ ہوگئی کہ ان کو بالکل خوشبو نہیں آتی تھی ۔ وہ بڑے گھبرا گئے کہ یہ توایک اچھا حال تھا یہ مجھ سے چھن گیا ۔ جب حضرت سے عرض کیا تو حضرت نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں میں نے تمہیں اس سے اگلے سٹیج میں ترقی دی ہے جس میں خوشبو محسوس نہیں ہوتی ۔ اگر آپ ایک باغ سے گزر رہے ہیں اور لاہور کی طرف جارہے ہیں تو خوشبو تو آئے گی ۔ لیکن جیسے ہی آپ اس سے آگے چلے جائیں اور آگے صحرا ہو تو صحرا میں تو خوشبو نہیں آئے گی ،لیکن آپ آگے گئے ہیں یا پیچھے آگئے ؟ آپ تو آگے چلے گئے ہیں آپ کا راستہ طے ہورہا ہے ۔ اب جو جاننے والا ہے وہ تو آپ کو مبارکباد دے گا اور آپ اپنے اوپر حیران ہونگے کہ یہ کیا ہوگیا ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ شیخ پر اعتماد سے ہی سب کچھ ہوتا ہے ۔ شیخ پر اعتماد نہ ہو تو ہر جگہ فیل اور شیخ پر اعتماد ہو تو ہر جگہ پاس ۔ اور ا سی سے ہی شیخ کو پتہ چلے گا کہ تم کہاں ہو ۔ جب شیخ کہے کہ یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں چھوڑ و اسے تواس پر یقین کرو ،پھر ان چیزو ں کے ساتھ دل نہ لگاؤ ۔ میں نے اپنے شیخ سے ایک دفعہ اس قسم کی بات کی تو حضرت نے فرمایا دور کرو دور کرو یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں ۔ بس ٹھیک ہے پتہ چل گیا کہ یہ تو مطلوب کیفیات نہیں ہیں ۔ یہ side effects کے طور پر ہوسکتی ہیں اوریہ اپنے شیخ کو بتانا چاہیے لیکن ان چیزوں کے ساتھ دل نہیں لگانا چاہیے ۔ دوسرے حال کے معنی ہیں کسی چیز میں جان کا ہونا ، مثلاً نماز ہے ۔ ایک نماز بے جان ہے تو وہ حال والی نماز نہیں ہے ۔اور ایک نماز جاندار ہے یعنی اس میں مکمل اللہ کی طرف توجہ ہے تو وہ حال والی نماز ہے ۔ جب تک آپ صرف قال کے ساتھ ہیں یعنی جتنا آپ کو بتایا گیا ہے اور آپ اس کے مطابق کررہے ہیں تو اس میں جان ہی نہیں ہے ۔ وہ جو عملی چیز اس میں ہونی چاہیے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ نہیں ہے تو وہ بے جان ہے ۔اس حال کو مولانا روم  نے اس طرح فرمایا ہے کہ
قال را بگزار مرد حال شو
پیش مرد کامل پامال شو
اپنے قال کو ایک طرف کرلو ، اپنے علم کی جو باتیں ہیں جو تم جانتے ہو اس کو ایک طرف کرلو ، تم صاحب حال بن جاؤ ۔ یعنی جو کہتے ہو وہ اپنے اندر لے آؤ ۔ اپنے اندر وہ جان والے اعمال پیدا کرو ۔تو اس کیلئے کیا کرو گے یہ چیز باتوں سے نہیں آئے گی اس کے لئے کسی مرد کامل کے سامنے اپنے آپ کو پامال کردو پھر آپ کے اندر یہ چیزیں آئیں گی ۔

سوال: قلب و دماغ میں کیا فرق ہے ۔

جواب: اگر یہ anotomy کے لحاظ سے ہے تو پھر میرے سامنے دو ڈاکٹر حضرات بیٹھے ہوئے ہیں میں ان کو مائیک دیتا ہوں وہ آپ کو بتا دیں گے کہ قلب و دماغ میں کیا فرق ہے ۔ قلب کا مطلب heart اور دماغ کا مطلب brain ۔ میرے خیال میں یہ تو ایک بچے کو بھی معلوم ہے کہ قلب قلب ہوتا ہے اور دماغ دماغ ہوتا ہے ۔ ہاں اگر اس سے مراد تاثر کا جاننا ہے ۔ یعنی ایک شخص صاحب قلب ہوتا ہے اور ایک شخص صاحب دماغ ہوتا ہے ۔ صاحب قلب سے مراد وہ ہے جو دل کی طرف زیادہ متوجہ ہو ، یعنی دل سے اثر لیتا ہو ۔ دل کی چیزوں کو زیادہ دیکھتا ہو تو یہ صاحب قلب ہے ۔ اور ایک دماغ پر زیادہ زور دیتا ہو ، دماغی سوچ تیز ہو اور چیزوں کی دماغی analysisکرتا ہو ، اپنے عقل کو استعمال کرتا ہو تو وہ صاحب دماغ ہے صاحب عقل ہے ۔ عقل کا اپنا مصرف ہے ۔ یہ کوئی فضول چیز نہیں ہے ۔ لیکن اس مصرف کے علاوہ اگر آپ اس کو استعمال کرو گے تو پھر تو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان ہوگا ۔کوئی بھی چیز اگر آپ اس کے مصرف کے خلاف استعمال کریں گے تو اس کا نقصان ہوگا ۔ ناک سے سانس لینے کی بجائے اگر میں اس سے کھانا شروع کردوں تو کیاہوگا؟ اگر کوئی یہ کہے کہ ناک کیا فضول چیز ہے میں نے اس کے اندر کھانا ڈالا تو میرا برا حال ہوگیا تو ڈاکٹر ا سے کیا کہے گا ؟تو دماغ یا عقل بہت اہم چیز ہے لیکن اس کا اپنا domainہے ۔ اس domainسے زیادہ اگر آپ اس کو لیں گے تو پھر یہ فائدے کی جگہ نقصان کرے گا ۔ وزیر اگر بادشاہ بننے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ اس کو پھانسی ہوسکتی ہے ۔ حالانکہ وزیر بہت اہم عہدہ ہے لیکن بادشاہ بادشاہ ہے ۔ تو قلب کیا ہے یہ بادشاہ ہے۔قلب کی بات مانیں اور پھر اس کو implement کریں اور اس کو implement عقل ہی کرے گا ۔ مجھے امام ابو حنیفہ  کی مثال یاد آگئی ۔ وہ ماشاء اللہ عقل کے پہاڑ تھے ۔ اتنے عقل کے پہاڑ تھے کہ حجام کی دکان پر گئے ہیں ، حجام سے کہا کہ میرے سر سے سفید بال چن لینا ۔ حجام نے کہا کہ حضرت اگر چنیں گے تو سفید بال بڑھ جائیں گے ۔ فرمایا پھر کالے بال چن لینا ۔ حجام مبہوت ہوگیا کہ اب کیا کہوں ۔ کسی نے یہ واقعہ اس وقت کے کسی بڑے عالم بتایا، فرمایا کہ امام صاحب نے حجام کو بھی نہیں چھوڑا ۔ تو وہ عقل کے پہاڑ تھے لیکن ان کے دل میں جو حب رسولﷺ تھا اس کے مطابق فرماتے کہ اگر مجھے ضعیف حدیث بھی ملتی ہے میں اپنی قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں ۔ قیاس کیا ہے عقلی چیز ہے اور حدیث کیا چیز ہے نقلی چیز ہے ، تو نقل کا شائبہ ذرا بھی آجائے تو پھر عقل چھوڑ دیتا ہوں ۔ تواس سے پتہ چلا کہ حضرت تو عقل کے پہاڑ تھے لیکن چونکہ حب رسولﷺ انتہائی درجے پر تھا ، لہذا تمام عقل کو آپ ﷺ کی محبت میں نیچے کردیا ۔ اب عقل استعمال ہورہا ہے اور پورا استعمال ہورہا ہے لیکن محبت کا تابع ہے ۔ تومحبت سر میں ہوتی ہے یا دل میں ہوتی ہے ؟محبت دل میں ہوتی ہے ۔کیونکہ دل بادشاہ ہے ۔ لہذا پہلے راستہ صاف کردو کہ اس بادشاہ تک صحیح بات پہنچے ۔یعنی راستے کی صفائی کرلو ، جب اس دل تک احکم الحاکمین کی بات پہنچ جائے ، پھر اس کے مقابلے میں کسی اور بات کو نہ لو ۔آپ کا سارے کا سارا عقل اس کے لئے وقف ہو، اس کے بعد جب وہ استعمال ہوگا تو صحیح استعمال ہوگا ۔ اسی کو کہتے ہیں فقاہت ۔ عقل کے اس استعمال کو جو شریعت کا تابع ہو فقاہت کہتے ہیں ۔ شریعت انسان کی اپنی چیز نہیں ہے وہ آفاقی ہے ، وہ اللہ کی طرف سے آئی ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی ۔ لیکن شریعت کو پورا سمجھنے کے لئے عقل کی ضرورت ہے ۔ تو فقہا وہ لوگ ہیں جو شریعت کی بات کو سمجھ لیتے ہیں ۔ اس کے لئے آپﷺ کی ایک پیشن گوئی تھی حضرت امام ابو حنیفہ  کیلئے ۔ فرمایا اگر دین ثریا میں بھی ہوگا توحضرت سلمان فارسی  کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ، ان کے علاقے والوں میں سے ایک صاحب اس تک پہنچ جائے گا ۔ اور ہمارے اکثر علماء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت امام ابو حنیفہ  ہیں ۔ تو عقل کی بڑی اہمیت ہے اور امام صاحب کی اہمیت عقل کی وجہ سے ہی ہے ۔ لیکن اس عقل کی وجہ سے جو شریعت کے تابع ہے ۔ اگر ہم اپنے دماغ کو دل کے تابع کردیں اور دل کو شریعت کا تابع بنا دیں ، یعنی دل کو اللہ کے لئے وقف کردیں تو پھر سب ٹھیک ہوجائے گا ۔

سوال: اگر کسی صاحب کا عقیدہ ٹھیک نہیں ہے تو کیا اس کو اپنے شیخ کی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے ؟

جواب: شیخ کی طرف متوجہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو شیخ کے پاس اس نیت سے لایا جائے کہ ا اس کا عقیدہ ٹھیک ہوجائے ۔ اور اگر شیخ کو بتا بھی دیا جائے تو اس کے لئے آسانی ہوجائے گی ۔ اس طرح اس شخص کا اثر نہ لیا جائے کہ وہ کون ہے یہ دیکھا جائے کہ چیز کتنی ضروری ہے ۔ لہذا کوئی بھی اس کو اپنے شیخ کے پاس اس نیت سے لائے کہ اگر اس کا عقیدہ ٹھیک نہیں ہے تو اس کا عقیدہ صحیح ہوجائے اور اگر عمل ٹھیک نہیں ہے تو عمل صحیح ہوجائے ۔ باقی دینے والی ذات تو اللہ کی ہے ۔ ہدایت اللہ کے پاس ہے انسان کے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ سے بھی فرمایا گیا کہ
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ
بے شک جس کو تو چاہتا ہے ضروری نہیں ہے کہ اس کو ہدایت مل جائے ۔ تو یہ بات شیخ کے ساتھ بھی ہے ، اگر اللہ جل شانہ نہیں دینا چاہتا تو شیخ بھی نہیں دے سکتا۔ لیکن اگر اللہ پاک نے اس کا حصہ یہاں لکھا ہوا ہے تو اس کے آنے سے اس کوفائدہ ہوجائے گا ۔

سوال: ظاہری بیماریوں پر تو کنٹرول کیا جاسکتا ہے مثلاً جھوٹ ، غیبت وغیرہ ۔ مگر حسد، شک یا کینہ وغیرہ جیسی بیماریوں پر کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔

جواب: اصل میں ظاہری بیماریوں پر بھی کنٹرول کرنا آسان نہیں ہے ۔ اگر ہم کسی سے کہیں کہ جھوٹ نہ بو لو،غیبت نہ کرو لیکن اس کے دل کے اندر وہ مرض ہوگا تو جب تک وہ مرض دور نہیں ہوگا تو آپ کی بات کا اثر بہت تھوڑی دیر تک رہے گا ۔ بعض دفعہ آدمی سمجھتا ہے کہ میں ٹھیک ہوگیا ہوں ۔بعد میں موقع پر پتہ چل جاتا ہے کہ یہ تو معاملہ گڑ بڑ ہے ۔ ظاہر ہے جب تک علاج نہ ہو تو اس وقت تک وہ ظاہری بیماری بھی ٹھیک نہیں ہوتی ۔ نماز ایک ظاہری چیز ہے لیکن بہت سارے لوگوں کے سجدے میں پیر اٹھ جاتے ہیں ۔ ان کو اگر بتا دیا جائے کہ آپ کے پیر سجدے میں اٹھ جاتے ہیں تو وہ نہیں مانتے ،کہتے ہیں تم کون ہو ، اپنی فکر کرو ۔تو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور یہ دل کی بیماری کی علامت ہے ۔ اگر یہ دل کی بیماری دور ہوجائے تو وہ خود چاہے گا کہ مجھے کوئی بتائے ، بلکہ خود پوچھے گا ۔ تو ظاہری بیماریوں پر بھی کنٹرول تب کیا جاسکتا ہے کہ دل کی اصلاح ہوجائے اور نفس کی اصلاح ہوجائے ۔ اصل میں تمام روحانی بیماریوں کا علاج اپنے نفس اوراپنے قلب کا علاج ہے ۔ ان دنوں علاجوں کے بغیر ان میں سے کسی چیز کی بھی اصلاح نہیں ہوسکتی ۔ البتہ یہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کسی کی اتنی اصلاح ہوئی ہے کہ اس تک اگر صحیح بات پہنچ جائے ،اس کو ماننے کیلئے وہ تیار ہے

سوال: ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ذکر میں کافی حد تک کمزوری ہے کوئی طریقہ بتائیں کہ ریگولر ہوجاؤں ۔

جواب: پہلے سوال کا جواب یہ ہے ۔ کہ اگر کمزوری سے مراد صحت ٹھیک نہیں ہے تو اس کا علاج کرنا چاہیے اور بتا بھی دینا چاہیے کہ کونسی بیماری ہے تاکہ اس کے مطابق ذکر بتایا جائے ۔ لیکن اگر سستی ہے تو حضرت تھانوی فرماتے ہیں کہ سستی کا علاج چستی ہے اور اس کے لئے میں عرض کرتا ہوں کہ کوئی دوائی ایسی نہیں ہے جو دوائی کھانے کے لئے کھائی جائے ۔ ابھی تک ایسی کوئی دوائی نہیں آئی ۔ تو اس کا علاج یہی ہے کہ انسان خود اس کی اہمیت کو سمجھے ۔ جتنی اہمیت کسی کے ذہن میں کسی چیز کی ہوتی ہے تو اس کے لئے اتنی کوشش انسان کرسکتا ہے ۔ اب ظاہر ہے اگر کسی کو ذکر کی اہمیت کا پتہ ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا تعلق حاصل ہوجاتا ہے اور سب سے بڑی بات کہ اللہ پاک اس شخص کو یاد فرماتے ہیں تو جب یہ چیز سامنے ہو تو پھر کس چیز کی دیر ہے ؟ لہذا اس میں سستی کو چستی سے بدلنا چاہیے اور وقت پر ذکر کرنا چاہیے ، شیخ سے رابطہ رکھنا چاہیے ۔ رابطہ رکھنے سے معمولات کو پورا کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ رابطہ میں کمزوری بعض دفعہ معمولات کی کمزوری کا باعث بن جاتی ہے ۔دوسرے ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ملے جو زیادہ ذاکر ہوں ان کے ساتھ ملنے جلنے سے نفسیاتی طور پر یہ کمزور ی دور ہوجاتی ہے ۔

سوال: بیوی کو بیعت کرانا چاہتا ہوں لیکن کچھ معذوری ہے ،تو کیا وہ بیعت ہوسکتی ہے ؟

جواب: دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر بیوی کو بیعت کرانا ہو اور کوئی اور مسئلہ نہ ہو تو ان دو مسائل کی وجہ سے بیعت میں تاخیر کی ضرورت نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بیعت تو ارادے کو کہتے ہیں اور انسان جب ارادہ کرلے تو عمل تو اتنا ہی کرنا ہوتا ہے جتنا کہ کیا جاسکتا ہے ۔
لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا
لہذا ان کو اتنا ہی بتایا جائے گا جتنا وہ کرسکتی ہے ۔لیکن اس وجہ سے تاخیر مناسب نہیں ہے کیونکہ بیعت اس لئے کی جاتی ہے کہ اصلاح ہوجائے اور اصلاح فرض عین ہے ۔ بیعت اس کے لئے سنت مستحبہ ہے ۔ لہذا سنت مستحبہ کے ذریعے اگرفرض عین حاصل ہوجائے تو اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔

سوال: اور اس حالت میں ذکر و تسبیحات کرسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب: دوسری بات یہ کہ ایسی حالت میں ذکرو تسبیحات پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ ذکر و تسبیحات پر حالت حیض ونفاس میں پابندی نہیں ہوتی ۔ اس میں نماز اور قران پاک پڑھنے پر پابندی ہوتی ہے ۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں نماز کے اوقات میں اگر کسی ذکر وغیرہ کا معمول کرلیا کرے تو بہتر ہےاس سے نماز پڑھنے کی جو عادت ہے وہ متاثر نہیں ہوگی ۔

سوال: اگر کمر درد یا کوئی اور تکلیف ہو تو مراقبہ یا ذکر ٹیک لگا کر کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب: جی بالکل کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ مراقبہ یکسوئی پیدا کرنے کےلئے ہوتا ہے اور یکسوئی تب پیدا ہوگی جب انسان اس حالت میں بیٹھا ہو جس حالت میں اس کو تکلیف نہ ہو ورنہ پھر تکلیف کی طرف ہی خیال ہوگا ۔ تو اس وجہ سے اگر کسی کو کمر میں درد ہو تو باقاعدہ ٹیک لگا کر بلکہ لیٹ کر بھی مراقبہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ تو اپنی توجہ کو جمع کرنے کا طریقہ ہے ،تو اگر کسی کو عذر ہو تو ایسے بھی کیا جاسکتا ہے ۔

سوال: اگر ذکر پہلے کرلے اور مراقبہ وقفے کے بعد کرلے تو کیسا ہے ؟

جواب: اس سلسلے میں ایک بات عرض کرنی ہے کہ اگر یہ مردوں کا معاملہ ہے تو اس کا جواب الگ ہے اور اگر عورتوں کا معاملہ ہے تو اس کا جواب الگ ہے ۔ مردوں کا معاملہ یہ ہے کہ ہم جو ذکر کرتے ہیں جیسے بارہ تسبیح کا ذکر ،اس کے بعد جو مراقبہ ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ attach اس لئے ہوتا ہے کہ اس ذکر کا جو اثر ہے اس کو مراقبہ میں لانا ہوتا ہے ۔ لہذا درمیان میں اگر فصل ڈال دیا جائے تو پھر وہ چیز حاصل نہیں ہوگی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج کل کے حالات میں تشویشات بہت زیادہ ہیں ، اس وجہ سے وساوس بہت آتے ہیں اور لوگ براہ راست مراقبہ نہیں کرپاتے ۔ نقشبندی حضرات بھی اس وجہ سے کافی پریشان ہیں ۔ ان کے مراقبات بھی آسانی سے نہیں چلتے ۔ وہ توجہ ڈالتے ہیں ، مراقبے کے حلقے کرتے ہیں اور اس میں شعرو شاعری بھی کرتے ہیں تاکہ توجہ حاصل ہوجائے ، تو وہ تو یہ ذرائع استعمال کرتے ہیں ۔ ہمارے حضرات جو بارہ تسبیح کا ذکر دیتے ہیں تو ماشاء اللہ اس میں یہ خاصیت ہے کہ اس سے وساوس ختم ہوجاتے ہیں ۔یہ وساوس کو دور کرنے کے لئے ہے۔ جب وساوس بند ہوجاتے ہیں تو ذکر بھی صحیح ہوجاتا ہے اور مراقبہ بھی ٹھیک ہوجاتا ہے اگر درمیان میں وقفہ ڈالیں گے تو پھر تو وہ چیز ختم ہوجائے گی لہذا فائدہ نہیں ہوگا ۔ مردوں کے لئے تو یہ جواب ہے ۔ عورتوں کے لئے یہ ہے کہ عورتوں کا ذکر تسبیحات ہوتی ہیں ، سو دفعہ کلمہ سوئم ، سو دفعہ درود شریف اور سو دفعہ استغفار ۔ تو اس کا ہم مردوں کو بھی بتا تے ہیں کہ وہ علیحدہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کا تعلق علاجی ذکر سے نہیں ہے ۔ وہ غذائی ذکر ہے ۔ وہ تو چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت کرلیا کرے ، اور جو علاجی ذکر ہے اس کو اپنے وقت پر کرے اور عورتوں کو چونکہ صرف مراقبہ ہی دیا جاتا ہے لہذا وہ مراقبہ اس سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

سوال: لیٹ کر ، کھڑےہوکر یا سواری میں یا ڈرائیونگ کے دوران ذکر یا مراقبہ کرنا کیسا ہے ؟

جواب: یہ کافی ٹیکنیکل سوال ہے ۔ لیٹ کر یا کھڑے ہوکر کیا جاسکتا ہے اور سواری میں اگر کوئی اور گاڑی چلا رہا ہو تو بھی کیا جاسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن اگر پہلے سے یکسوئی کو حاصل کرنے کی ٹریننگ حاصل کرچکے ہوں کیونکہ پہلی دفعہ جب انسان کرتا ہے تواتنی آسانی سے یہ چیز حاصل نہیں ہوتی ۔ ابتداء میں انسان کو ایسے پوز میں بیٹھنا ہوتا ہے جس میں انسان کو زیادہ سے زیادہ یکسوئی آسانی سے حاصل ہوسکتی ہو ۔ لہذا اگر پہلے سے یکسوئی حاصل کرچکے ہوں تو پھر لیٹ کر بھی کیا جاسکتا ہے ، کھڑے ہوکر بھی کیا جاسکتا ہے ، سواری پر بھی کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ گاڑی کے ساتھ لٹک کر بھی کیا جاسکتا ہے ۔ لوگ ایسی حالت میں بھی کرلیتے ہیں لیکن ڈرائیونگ کے دوران وہ ذکر تو کرے جو تصور والا نہ ہو ، مثال کے طور پر صرف زبانی ذکر کرے ، سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم ، یا درود شریف یا استعفار ، یا کلمہ طیبہ ایسے ذکر تو کرلیا کرے ، لیکن جو ضرب و جہر والا ذکر ہے وہ تو بالکل نہ کرے ،کیونکہ اگر کوئی نقصان ہوگیا تو ذمہ دار ہم نہیں ہونگے ۔ اس میں توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور انسان کی توجہ ایک وقت میں ایک ہی چیز کی طرف ہوسکتی ہے دو چیزوں کی طرف نہیں ہوسکتی ۔ لہذا اگر ذکر کی طرف خیال ہوا تو راستے کی طرف خیال نہیں ہوگا اور اس سے ایکسیڈنٹ ہوسکتا ہے تو اس کے ذمہ دار ہم نہیں ہوسکتے ۔ لہذا ایسا ذکر نہ کرے اور مراقبہ تو بالکل نہ کرے ورنہ یہ لمبا مراقبہ ہوجائے گا اس کے بعد اللہ معاف فرمائے پتہ نہیں کیا ہوجائے ۔

سوال: قران کی تلاوت نہ کرے اور باقی معمولات و عبادت کرے تو گناہگار ہوگا ؟

جواب: گناہگار تو میں نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ مستحبات میں سے ہے لیکن یہ ہے کہ بہت بڑی اور عظیم نعمت سے محرومی ہے ۔ حضرت امام محمد بن حنبل  کو خواب میں اللہ جل شانہ کی زیارت ہوئی تو پوچھا اے اللہ تجھ تک پہنچنے کا آٰسان ترین راستہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا قران پاک کی تلاوت ۔ پھر پوچھا سمجھ کر یا بغیر سمجھے ۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ ہمارے لئے ایسا ہوا ورنہ امام صاحب تو خود عرب تھے ان کو اس سوال کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ لیکن بہر حا ل اللہ پاک نے ان کی زبان سے ہمارے لئے کہلوا دیا ۔ تو اللہ پاک نے فرمایا چاہے سمجھ کر ہو یا بغیر سمجھے ہو ۔تو قران پاک کی تلاوت تو بہت بڑی دولت ہے ۔ ہمارے نانا کی ایک بہن تھی کافی عرصہ پہلے فوت ہوئی ہیں ، ان کو جب بھی کوئی خواب میں دیکھتا ہے تو اکثر قران پاک کی تلاوت کرتی نظر آتی ہیں ۔اور بتاتی ہیں کہ یہاں تو قران والوں ہی کے مزے ہیں۔ یعنی قران ہی سے سب کچھ ملتا ہے ۔ اس کو قران پاک سے واقعی بڑا شغف تھا ۔ تو وہ یہی کہتی ہیں کہ یہاں قران والوں ہی کے مزے ہیں ۔ بہر حال یہ ایک نعمت کی بات ہے لہذا اس سےمحرومی اچھی بات نہیں ہے ۔ بلکہ باقی معمولات اور عبادات اس میں معاون ہوجاتے ہیں تو وہ تو جاری رکھیں لیکن یہ بات ہے کہ قران پاک کی تلاوت سے محروم نہ ہوں ۔ ہمارے حضرات بتاتے ہیں کہ کم سے کم سپارے کا ایک پاؤ روزانہ تلاوت کرلیا کریں ۔ ہاں اس سے زیادہ ہوجائے تو اچھی بات ہے ۔ لیکن اگر اس پر بھی رہے تو چلو ٹھیک ہے گزارے کی بات ہے اور حفاظ کے لئے ہم سواپارہ تلاوت بتاتے ہیں، باقی کے لئے حسب استطاعت ۔

سوال: نماز یا قران پاک کی تلاوت کے دوران اگر قلبی ذکر شروع ہو جائے تو کیا کیا جائے ۔

جواب: اگر قلبی ذکر خود بخو د ہورہا ہے اور اس میں اپنا ارادہ شامل نہیں ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔ اس کو روکنے کی ضرورت بھی نہیں ہے اور اگر اس میں اپنا ارادہ شامل ہے تو اس وقت ارادے کو موقوف کردیا جائے کیونکہ نماز میں پوری توجہ نماز ہی کی طرف ہونی چاہیے ۔ قلبی ذکر اکثر خود بخود ہی ہوتا ہے اگر پکا ہو ، کیونکہ جب یہ لطیف ہوجاتا ہے تو پھر خود بخود ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے اگر کسی کا خود بخود چل رہا ہے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔ اس سے نماز میں زیادہ یکسوئی آئے گی اور نماز زیادہ اچھی نماز بنے گی انشاء اللہ ۔ اور قران پاک کی تلاوت میں تو کوئی حرج ہی نہیں ہے کیونکہ وہ تو آپ اپنے ارادے سے کریں گے بھی نہیں کیونکہ جب قران پاک کی طرف آپ کی توجہ ہوگی تو اس کی طرف آپ کی توجہ نہیں ہوگی ۔ تو آپ اپنی توجہ قران پاک کی طرف رکھیں اور یہ خود بخود ہوتا رہے تو ٹھیک ہے ۔

سوال: السلام علیکم ورحمةالله وبركاته۔ دسویں ذی الحجة هم نے فجر سی پہلے کنکریاں کو ماردیا۔ کیا هم پر دم لازمی هے ؟ جزاکم الله خیرا

جواب: اگر اس کا اعادہ نہیں یعنی دسویں ذی الحج کو فجر کے بعد اگر رمی دوبارہ نہیں کی تو دم ہے کیونکہ یہ واجب ہے اور اس کا وقت فجر کے بعد شروع ہوتا ہے.

سوال: ذکر بالجہر کے دوران جو مراقبہ بتایا گیا ہے اس طرف متوجہ رہیں تاکہ ذکر کی جو کیفیت ہے اس کو حاصل کیا جاسکے؟

جواب: سوال تو نفسیات کا ہے اور چونکہ خانقاہ میں کیا گیا ہے تو اس کو کھینچ تان کر اس طرف لایا جاسکتا ہے لہذا اس کا جواب دیا جاتا ہے ۔ ویسے عموماً ہم غیر متعلقہ سوالات کے جوابات نہیں دیا کرتے ۔ شعور وہ ہے جس میں انسان کو اپنے اوپر پورا کنٹرول ہو ، احساس ہو ، جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کے بس میں ہو ۔ اس وجہ سے وہ پورے کا پورا مکلف ہوتا ہے ۔اگروہ صحیح کام کررہا ہے تواس پر اجر مل رہا ہے اور اگر غلط کام کررہا ہے تو اس پر اس کو گناہ ہوگا ۔ تحت الشعور اس سے نیچے درجے کی بات ہے ۔ جو باتیں زیادہ دیر تک شعوری طورپر رہتی ہیں وہ پھر تحت الشعور میں چلی جاتی ہیں اکثر وہ خواب میں نظر آنے لگتی ہیں یا یوں سمجھ لیں کہ اس کے ساتھ کچھ حرکات و سکنات وابستہ ہوجاتے ہیں مثلاً کچھ خوف یا خوشی اس سے وابستہ ہوجاتی ہے ۔ اس کو خود پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کس وجہ سے ہے ۔ تو اگر اس کو کوئی نفسیاتی بیماری لاحق ہوجائے تو باقاعدہ اس کا علاج کیا جاتا ہے اور تحلیل نفسی کراکر معلوم کیا جاتا ہے کہ یہ کس وجہ سے ہے پھر ا سکا علاج کیا جاتا ہے ۔ لاشعور ایسی چیز ہے جس میں انسان کو بالکل پتہ نہیں ہوتا ۔اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا بلکہ یوں سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک ایسی عادت بن جاتی ہے جس سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن بہر حال اگر مسلسل علاج کیا جائے اور کوشش کی جائے تو اس سے بھی نکلا جاسکتا ہے ۔

سوال: کشف وغیرہ کے لئے دعا کی جاسکتی ہے اور اگر کی جاسکتی ہے تو کس حد تک ؟

جواب: ایک تو کشف کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ہے کیا چیز ۔ سوال جس نے کیا ہے اس کو تو شاید معلوم ہو لیکن میرا جواب تو دوسرے لوگ بھی سنیں گے تو اس وجہ سے ان کو بھی اس سوال کا سمجھانا ضروری ہے ۔ کشف اس چیز کو کہتے ہیں جیسے مثال کے طور پر کوئی دور کی چیز جو انسان عام آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا ،اور جو وسائل ہیں ان کو ہم استعمال نہ کریں ، مثلاً ٹیلی فون ، ٹی وی ، ریڈیو یا ای میل وغیرہ ہم استعمال نہ کریں اور خود بخود مجھے معلوم ہوجائے کہ اس وقت سعودی عرب کے فلاں مقام پر کیا ہورہا ہے یا امریکہ میں فلاں جگہ پر کیا ہورہا ہے تو یہ بھی کشف ہے اور اس کو کشف کونی کہتے ہیں ۔ اس طرح قبل از وقت مثلاً اگلے مہینے کیا ہونے والا ہے یہ مجھے معلوم ہوجائے تو یہ کشف زمانی ہے ۔اس طرح گذشتہ دور میں فلاں کے ساتھ کیا ہوا تھا یہ بھی کشف کی ایک قسم ہے ۔ دوسرا کشف یہ ہوتا ہے کہ کسی شرعی مسئلہ کی تحقیق وابستہ ہو یا کسی کی اچھی حالت کا پتہ چل جائے اور اس کو حاصل کرنے کا طریقہ حاصل ہوجائے تو یہ چیزیں یقیناً مفید ہیں ۔ اس کو شرح صدر بھی کہتے ہیں تو یہ جو شرح صدر ہے اس کے لئے دعا کی جاسکتی ہے ۔
بسم الله الرحمن الرحيم رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي۔ يَفْقَهُوا قَوْلِي
یہ قران پاک میں موجود ہے ۔ لہذا اس کے لئے دعا کی جاسکتی ہے ۔ یا علم میں برکت کے لئے دعا کی جاسکتی ہے کہ اللہ علم لدنی نصیب فرما ئے ۔ علم لدنی ایسی چیز ہے جس میں وسائل استعمال نہیں ہوتے ۔وسائل استعمال ہوتے ہیں دوسرے علم کو حاصل کرنے میں اور اللہ پاک اس کی برکت سے درمیان میں کچھ اور علوم بھی عطا فرما دیتے ہیں جس کے لئے اس نے کوشش نہیں کی ہوتی ۔ اسی وجہ سے بعض علماء کے علم میں بڑی برکت ہوجاتی ہے اور بعض علماء کے علم میں اتنی برکت نہیں ہوتی ۔ حضرت مولانا یعقوب نانوتوی  سے مولانا قاسم نانوتوی  کے بارے میں پوچھا گیا کہ انہوں نے کہاں سے پڑھا تھا ۔ کیونکہ مولانا قاسم نانوتوی کے ساتھ یہ معاملہ تھا کہ جب کبھی علمی گفتگو کرتے تھے تو زبان میں لکنت آجاتی تھی ۔ عام باتوں کے دوران لکنت نہیں ہوتی تھی ۔ لیکن جب کبھی علمی گفتگو کرتے تو لکنت شروع ہوجاتی ۔ لوگوں نے پوچھا کہ حضرت آپ کو لکنت کیوں ہوتی ہے فرمایا کیا کروں ایک ایک چیز کے بارے میں تیرہ تیرہ اور چودہ چودہ چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو اس میں سے کسی کو لینا ہوتا ہے کسی کو چھوڑنا ہوتا ہے اس وجہ سے وہ رکاوٹ بن جاتی ہے اور لکنت ہوجاتی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ حضرت کے پاس کافی علوم تھے ۔ ان کا لقب قاسم العلوم والخیرات تھا ۔ تو حضرت یعقوب نانوتوی سے پوچھا گیا کہ حضرت نے کہاں سے پڑھا ہے ؟ فرمایا کہ وہیں سے پڑھا ہے جہاں سے ہم نے پڑھا ہے ۔ لیکن اللہ پاک کی مرضی ہے کسی کے لئے سوئی کے ناکے کے برابر کھولتا ہے کسی کے لئے سمندر کے برابر کھولتا ہے ۔ تو یہ اللہ کی مرضی ہے جس کے علم میں بھی وہ برکت عطا فرمائے ۔ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا کہ ان کے علوم میں بھی اللہ پاک نے بڑی وسعت عطا فرمائی تھی ۔ جس کو کہتے ہیں نا کہ حیرت انگیز حد تک رسائی ، وہ ان کوہوجاتی تھی ۔حضرت سیاسی آدمی تھے ، اخبارات وغیرہ بھی پڑھتے تھے اور ساتھ لوگ بحث و مباحثہ بھی کرتے تھے لیکن جس وقت دین کے متعلق کوئی بات ہوتی تو ایسا کرتے کہ سب پر غالب آجاتے ،تو یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمت نصیب فرمائی تھی ۔ اس طرح جو علوم کے اندر برکت ہو تو یہ بھی کشف کی ایک قسم ہے لیکن مطلوب ہے ۔ اس کے لئے دعا کی جاسکتی ہے ۔ رب زدنی علما باقاعدہ اس کےلئے دعا ہے ۔ لیکن جو کشف کونی یا زمانی ہے اس کے لئے بالکل دعا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ امتحان ہے ۔ جن لوگوں کو ہوتا ہے اس کی وجہ سے ان کو بعض اوقات بڑے بڑے مسائل پیش آتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک آدمی ہے وہ سونا چاہتا ہے تو اس کےلئے رات ایک نعمت ہے ،
وجعلنا الليل لباسا
اس کے لئے رات ایک نعمت ہے ۔ اب اگر رات کو بھی اس کے کمرے میں روشنی کردی جائے تو کیا وہ خوش ہوگا ۔ ظاہر ہے وہ تکلیف میں ہوگا کہے گا کہ بھئی اس وقت تو کم از کم اندھیرا کردو ۔ اس طرح اگر کوئی نازک مزاج بندہ ہو ،آپ رات کو اس کے کمرے میں روشنی کرکے تو دیکھیں ، وہ بہت پریشان ہوجائے گا ۔ اسی طرح کشف ہے۔ وہ چیزیں جو آپ کو نظر نہیں آتیں اور جس کی وجہ سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے آرام دینا ہے وہ بھی اگر آپ کو نظر آنے لگیں تو مصیبت ہوگی یا نہیں ہوگی ۔وہ کسی نے شعر کہا ہے ۔
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
مقصد یہ ہے کہ بعض دفعہ ایسی باتیں ہوجاتی ہیں جن کو انسان بھول جانا چاہتا ہے ، لیکن وہ بھول نہیں سکتا ۔ اسی طرح کشف کو خود نہیں مانگنا چاہیے ۔ بالکل نہیں مانگنا چاہیے ، ہاں اللہ پاک اگر اپنی طرف سے دے تو پھر اس کی طاقت بھی دے دےگا ۔ لیکن خود سے کم از کم ایسی چیزیں نہیں مانگنی چاہیے ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو یہ ابتلاء الآزمائش ہے کہ انسان میں عجب پیدا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگتا ہے ،یہ بہت بڑی ابتلا ہے ۔ ہمارے حضرت حلیمی صاحب  انہوں نے مجھ سے خود ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ میں جب بھی کبھی قبرستان جاتا تو سارے مردے کوئی ادھر کھڑا ہوگیا کوئی ادھر کھڑا ہوگیا تو میں سوچتا یہ کیا بات ہے میرے تو چاروں طرف مردے کھڑے ہوگئے ہیں ۔ فرمایا میں نے کسی سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ شیطان کررہا ہے ۔ میں نے کہا یہ شیطان کیسے کررہا ہے ؟ اس نے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ جب کبھی قبرستان جائیں اور ایسا کوئی مردہ کھڑا ہوجائے تو آپ ان سے کہہ دیں کہ حضرت آپ تھوڑا سا قران پاک کی تلاوت کرلیں تاکہ میں آپ سے سنوں ۔ اگر اس نے قران پاک کی تلاوت کرلی تو وہ صحیح ہے ، پھر وہ صحیح کشف قبور ہے ۔ اور اگر نہیں کی اور غائب ہوگیا تو سمجھ لو کہ وہ شیطان ہے ۔ فرمایا کہ اس کے بعد جب میں جاتا تو کوئی ایک آدھ ہوتا جو کہ قران پاک کی تلاوت کرتا باقی غائب ہوجاتے ۔ فرمایا میں نے پھر ان صاحب سے پوچھاکہ شیطان کو کیا خوشی ہے کہ وہ کشف کراتا ہے ۔ فرمایا عجب لانا چاہتا ہے کہ تو بڑا بزرگ ہے دیکھو ہر جگہ تیری رسائی ہے ۔ اور ہر چیز تو دیکھ سکتا ہے ۔ تو کشف عجب کا ایک بہت بڑا source ہے ۔ اس وجہ سے انسان کو اپنے طور پر اس کو بالکل نہیں مانگنا چاہیے ۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ اپنے طور پر عطا فرما دے تو یہ پھر اللہ پاک کی نعمت ہے اور اس کی قدر کرنی چاہیے ۔ بعض دفعہ واردات قلبی ہوتے ہیں ۔ یہ منجانب اللہ خود بخود آتے ہیں ۔ اس کا خیال رکھنا چاہیے ،کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بات کرنے کا ایک ذریعہ ہے اس کو ہم الہام بھی کہہ سکتے ہیں ۔جو لوگ صاحب الہام اور صاحب واردات ہوتے ہیں ان کو اس چیز کا خیال رکھنا پڑتا ہے ورنہ بعض دفعہ دنیا میں نقصان ہوجاتا ہے ۔ ایک بزرگ کہیں جارہے تھے لیکن وہاں ان کا جانامناسب نہیں تھا تو الہام ہوگیا کہ نہ جاؤ ، اس نے اس بات کو ویسے ہی اپنے خیال پر محمول کیا کہ شاید یہ میرا خیال ہے اور چل پڑے ۔ پھر ان کو الہام ہوا کہ نہ جاؤ ، پھر اس نے سوچا کہ شاید یہ ویسے ہی میرا خیال ہے ۔ جب تیسری دفعہ بھی الہام ہوا اور اس نے اس کا خیال نہیں کیا تو گر پڑے اور پیر ٹوٹ گیا ۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو مقبول لوگ ہوتے ہیں ان کو ایک چیز سے بچانا ہوتا ہے ۔ تو ایسی صورت میں جب واردات آتے ہیں تو اس کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اس کے لئے اک جامع دعا یہ ہے کہ اے اللہ میرے ساتھ خیر کا معاملہ فرما ۔ اب اگر کشف میں آپ کے لئے خیر ہے تو وہ خود بخود ہوجائے گا اور اگر نہیں ہے تونہیں ہوگا ۔ لہذا اس کے لئے دعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت مولانا یعقوب نانوتوی  نے اس کی مثال دی تھی فرمایا کشف کی مثال ٹیلی گراف کی طرح ہے ۔ یعنی اشارے ہوتے ہیں اور وحی کی مثال جیسے انسان ادھر پہنچ کر اس چیز کو دیکھ لے ۔یعنی اس میں غلطی نہیں ہوتی ۔ کشف میں غلطی ہوسکتی ہے ۔ خود حضرت مولانا یعقوب نانوتوی بہت صاحب کشف بزرگ تھے ۔ ایک دفعہ مولانا قاسم نانوتوی بہت بیمار ہوگئے بعد میں اسی میں فوت بھی ہوگئے ۔ لوگ ان سے مولانا قاسم نانوتوی کی صحت کے بارے میں پوچھتے تو یہ جواب دیتے ، کچھ بھی نہیں انشاء اللہ ان کی دس سال زندگی ابھی اور ہے ۔ لیکن مولانا قاسم  اسی بیماری میں وفات پاگئے تو کسی نے ان سے کہا کہ حضرت یہ آپ کا کشف غلط ہوگیا ۔ فرمایا ہاں غلط ہوگیا کیونکہ اندازہ غلط ہوگیا ۔ میں نے جب ان کی طرف غور کیا تو مجھے مہدی کا لفظ مکشوف ہوگیا تو میں ان نے ان کے عادات پر غور کیا وہ 59 تھے تو میں سوچا کہ ان کی 59 سال عمر ہے ۔ وہ اصل میں مہدی علیہ السلام کی اپنی عمر تھی ، وہ اشارہ اس کی طرف تھا تو غلطی ہوگئی ۔ اگر آپ کو دور پہاڑ پر کوئی چیز نظر آجائے اور آپ اس کو درخت سمجھیں قریب جائیں تو کوئی کھمبا ہو ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ آپ کا اندازہ تھا اور اندازہ غلط بھی ہوسکتا ہے ۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر دفعہ غلط ہی ہو ۔ زیادہ تر جن کا کشف صحیح ہوتا ہے تو اکثر صحیح ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی غلط بھی ہوسکتا ہے ۔ لہذا کشف اور خواب کو شریعت میں غیر معتبر سمجھا گیا ہے ۔ یعنی شریعت میں ان چیزوں پر عمل نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے کتابی علم پر عمل کیا جاتا ہے ۔

سوال: جس طرح بزرگوں کو ایک شخص کی نورانیت کا پتہ چل جاتا ہے ۔ کیا اس طرح اس کی باطنی برائیوں کا بھی پتہ چلتا ہے ؟

جواب: نوارنیت کا پتہ چلنا حسن ظن ہے ۔ اور ظلمت کا پتہ چلنا سوئے ظن ہے ۔ تو بزرگ اکثر اپنے آپ کو سوئے ظن سے بچاتے ہیں ، وہ عموماً لوگوں کی اس حالت کو نہیں دیکھتے ۔ ہاں اگر اللہ پاک خود بخود کسی کا حال منکشف کردے تو پھر بتا بھی دیتے ہیں ۔ مثلاً کسی ذاکر کو ایران سے اہلسنت کے ساتھ مناظرے کے لئے بھیجا گیا ۔اس کا انتظام ملکہ نور جہاں نے کیا تھا ۔ ان سے کہا گیا تھا کہ پہلے آپ لاہور چلے جائیں اس کے بعد آگرہ آجانا ۔ وہ ذاکر پہلے لاہور آئے ۔ وہاں پر کسی سے پوچھا کہ یہاں پر بڑےبڑے لوگ کون ہیں ، لوگوں نے حضرت میاں میر کے متعلق بتا دیا اس نے سوچا کہ یہ تو صوفی ہے میں اس کو آسانی سے شکست دے دوں گا او رہے چونکہ مشہور آدمی تو میرا نام بھی ہوجائے گا کہ یہ تو بڑا ماہر ہے ۔ اس نے سوچا کہ چلو پہلے ان کے ساتھ مناظرہ کرلوں ۔ جب وہ میاں میر  کے پاس پہنچے تو حضرت اس وقت دھوپ تاپ رہے تھے ۔ وہ ذاکر سب سےآگے تھے اور پیچھے ان کے ساتھی تھے ، حضرت میاں میر  نے دور سے ان کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ جو ان سب کے آگےشخص آرہاہے اس کا دل کالا ہے ۔ جب وہ ذاکر قریب پہنچے تو حضرت نے ان سے پوچھا کہ تم کیا کام کرتے ہو ، اس نے جواب دیا میں اہل بیت کا مدح کرتا ہو ں۔ حضرت نے کہا ماشاء اللہ ماشاء اللہ ۔ کام کا بندہ آگیا چلو جی ہم بھی آپ سے کچھ اہل بیت کی مدح سنیں ۔ آپ سنائیں تاکہ ہم بھی مزے لیں ۔ تو اس ذاکر نے اہل بیت کی مدح شروع کی اور کرتے رہے کرتے رہے ، درمیان میں کہا کہ حضرت امام حسین  کا دھڑ جہاں دفن ہوا تو چاروں طرف چالیس میل تک وہاں جتنے بھی اہل قبور تھے وہ سب معاف ہوگئے ۔ تو حضرت نے فرمایا واہ جی واہ کیا بات ہے ، کیا بات ہے آپ نے تو دل خوش کردیا ۔ پھر فرمایا جب نواسے کا یہ حال ہے تو نانا کا کیا حال ہوگا ۔ اب ظاہر ہے آپ ﷺ کے ساتھ کون دفن ہیں ، حضرت ابو بکر صدیق  ، حضرت عمر  ۔ بس جیسے ہی اس ذاکر نے یہ سنا اس کا چہرہ زرد ہوگیا کہ یہ تو بات غلط ہوگئی ۔ اور اتنا پریشان ہوگیا کہ ایران واپس چلا گیا ،اس نے کہا کہ جب میں ایک صوفی سے نہیں جیت سکا تو علماء سے تو بالکل نہیں جیت سکتا ۔ یہ واقعہ میں اس لئے عرض کررہا ہوں کہ ظلمت کا پتہ چل جاتا ہے لیکن عموماً یہ حضرات اس چیز کا بتاتے نہیں ۔ پردہ پوش ہوتے ہیں ، جیسے اللہ تعالیٰ پردہ رکھتے ہیں وہ ستار العیوب ہیں اس طرح یہ حضرات بھی ستاری فرماتے ہیں ۔ اس لئے ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ علماء کے سامنے جاؤ تو زبان قابو رکھو ۔ کیونکہ زبان سے جہالت کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اور مشائخ کے سامنے جاؤ تو دل کوقابو رکھو کیونکہ دل کی حالت کھل جاتی ہے ۔ تویہ حضرات پردہ پوشی فرماتے ہیں لہذا کچھ کہتے نہیں ۔

سوال: موجودہ دور میں ہمیں کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے ، کمپیوٹر سے متعلق کن چیزوں سے بچنا ہےکیونکہ ہمارا زیادہ وقت کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے گزرتا ہے ۔

جواب: یہ سوال کسی ایسے صاحب یا صاحبہ نے کیا ہے جو کہ زیادہ تر کمپیوٹر پر کام کرتا یا کرتی ہیں ۔ اس کا جواب بہت آسان ہے لیکن اس کی تفصیل بہت زیادہ ہے اور اس کی تفصیل ہر ایک کے لئے اپنی اپنی ہے ۔ لہذا جو لوگ سمجھدار ہیں وہ سمجھ جائیں گے ، میں اصولی بات عرض کردیتا ہوں ۔ سب سے پہلے بات یہ ہے کہ ہمیں ہر دور میں گناہ سے بچنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رضا کی طلب ہر وقت ہونی چاہیے ۔ نیک کام کرنا چاہیے اور برے کام سے رکنا چاہیے ۔ جس کو ہم معروفات کہتے ہیں ، نیکیاں کہتے ہیں یا اچھے کام کہتے ہیں ان کا کرنا ہے اور جو منکرات ہیں ان سے بچنا اور اگر کچھ لوگ ان میں مبتلا ہوں تو پھر ان کو امر بالمعروف یعنی نیک کی دعوت دینا اور نہی عن المنکر کرنا یعنی برے کام سے روکنا یہ بھی اس میں شامل ہے ۔ اس وجہ سے ہمیں اس بات کا خیال رکھناہے ۔ قران کی صورت سورة العصر ، یہ چھوٹی سی صورت ہے لیکن اس کے اندر بڑی وضاحت سے بتایا گیاہے کہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَالْعَصْرِ ۔ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۔ إِلَّا الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
اس میں اللہ پاک زمانے کی قسم کھاکر فرماتے ہیں کہ بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ خسارے سے بچے ہوئے ہیں جو کہ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور حق بات کی تلقین کرتے رہے اور صبر کرتے رہے ۔ تو یہ بنیادی چیز ہے ۔ اب ہر ایک کی تفصیل الگ ہے ۔ مثلاً اب کمپیوٹر پر جو لوگ کام کرتے ہیں تو اس سے متعلقہ چیزیں ان کے سامنے ہونگی ۔ کمپیوٹر پر ہمارا assignment ہوتا ہے ،دنیا کا جائز کام ہوتا ہے جسے ہم مباحات کہتے ہیں تو وہ جائز کام ہم کرسکتے ہیں ۔ مثلاً ہم نے کوئی word کی فائل کھولی ہے یا excel کی فائل کھولی ہے یا اس پر کوئی calculation کررہے ہیں یا انجنیئرنگ یا میڈیکل کے بارے میں کوئی معلومات کرنی ہیں تو یہ تو ایک assignment ہوتا ہے ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے ۔ اور لوگ اس کو کرتے ہیں یہ مباح ہے ، اس کا نہ گناہ ہے نہ ثواب ہے ہاں اگر نیت اچھی ہو تو اس پر ثواب بھی مل سکتا ہے اور اگر نیت بری ہو تو اس پر گناہ بھی ہوسکتا ہے ۔ تو یہ تو assignment کی بنیادپر بات ہوگئی ۔ دوسری اس کے اندر کچھ مفید چیزیں ہوتی ہیں ان چیزوں کو حاصل کرنا ، مثلاً ہم لوگ کمپیوٹر کے ذریعے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں انٹرنیٹ سے ، سی ڈیز سے ، اور آج کل بہت ساری کتابیں بھی انٹرنیٹ پر پڑی ہوئی ہیں ، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ جن کے پاس بڑے بڑے کتب خانے ہیں ،مثال کے طور پر دارالعلوم کراچی کا کتب خانہ لےلیں وہ کتنا بڑا ہوگا لیکن ایک وقت ایسا آئے گا کہ سارا کتب خانہ ایک DVD پر آجائے گا ۔تو آج کل کے دور میں اگر کوئی علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو کمپیوٹر اس کا بہترین tool ہے اور اس کے ذریعے سے ہم آسانی سے علم حاصل کرسکتے ہیں چاہے کس رخ کا بھی ہو ۔ اسطرح کمپیوٹر پر بہت ساری اور بے تحاشا بری چیزیں بھی ہیں ۔ جس کے لئے باقاعدہ لوگوں نے sites launch کی ہوتی ہیں ۔ اور اس پر باقاعدہ پیسے لیتے ہیں اور بری چیزیں دکھاتے ہیں ، اس طرح کچھ ای میلز ہوتی ہیں جس کو آدمی جب کھولتا ہے تو اس سے وہ بری چیزیں برآمد ہوتی ہیں ۔ تو اس سے بھی انسان خراب ہوسکتا ہے ، وقت بھی برباد ہوتا ہے ، صحت بھی برباد ہوتی ہے ۔ اور بہت ساری خرابیاں پیدا ہوتی ہیں تو یہ ظاہر ہے اس کا برا رخ ہے ۔ باقی دوسری تفصیلات بھی ہیں لیکن یہاں ان کا بتانا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ ہر ایک کے بارے میں الگ الگ ہوسکتی ہیں ۔

سوال: قلندر کون ہوتے ہیں ، اور کیسے بنتے ہیں ؟

جواب: قلندر ایک لفظ ہے ایک اصطلاح ہے ۔ اصل میں اللہ تعالیٰ کو انسان کے دو اعمال مطلوب ہوتے ہیں ، ایک جوارح کے اعمال ہوتے ہیں مثلاً ہمارے ہاتھوں سے ، زبان سے ہاتھ پاؤں سے یا ذہن سے کیا کیا اعمال صادر ہوتے ہیں یعنی انسان کے جو اعضاء جسمانی ہیں ان سے جو احکامات متعلق ہوتے ہیں اور اس کے ذریعے سے جو اعمال کیے جاتے ہیں چاہے اچھے ہوں یا برے ہوں تو وہ اعمال جوارح کہلاتے ہیں ، ان کو عرف عام میں لوگ شریعت کے عنوان سے سمجھتے ہیں کہ شریعت نے ہمیں بتایا ہوتا ہے کہ ہمیں کون کونسے اعمال کرنے ہوتےہیں اور کونسے اعمال سے بچنا ہے ۔ شریعت نے اس بارے میں بتایا ہوتا ہے ۔ کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو اعمال قلب کہلاتے ہیں ، اعمال قلب وہ اعمال ہیں جس میں انسان کا دل ذریعہ بنتا ہے ۔ مثلاً صبر ، شکر ، تقویٰ ، اللہ کے رضا کی طلب ،تواضع اور لوگوں کے ساتھ اچھا گمان یہ سب دل کے اعمال ہیں ، اس کا پتہ صرف اللہ کو چلتا ہے کسی اور کو نہیں چل سکتا یا بذات خود اس شخص کو پتہ چلتا ہے اور بعض دفعہ کچھ چیزوں کا اس کو خود بھی پتہ نہیں چلتا ۔ مثلاً ایک متکبر شخص کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ میں متکبر ہوں ۔کوئی اور تو محسوس کرتا ہے کہ یہ متکبر ہے اور اگر اس کو کہہ بھی دیا جائے کہ آپ متکبر ہیں وہ مانے گا نہیں ۔تو اس کو پتہ نہیں چلے گا کہ میں متکبر ہوں ، اس طرح بعض اوقات انسان میں حسد ہوتا ہے لیکن اس کو اندازہ نہیں ہوتا کہ مجھ میں حسد ہے تو یہ جو اعمال قلب ہیں اس میں اچھے اعمال بھی ہوتے ہیں اور برے اعمال بھی ہوتے ہیں ۔ اب جو عام لوگ ہیں وہ اعمال ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اعمال جوارح ان کے زیادہ ہوتے ہیں اور اعمال قلب بھی ساتھ ساتھ بہ ضرورت چلتے ہیں ۔ یوں سمجھ لیں کہ فرض درجے کے جو اعمال قلب ہیں وہ تو عام نیک لوگوں کو بھی کرنے ہوتے ہیں اور باقی جو جوارح کے اعمال ہوتے ہیں اس میں ان کے فرض بھی ہوتے ہیں ، واجب بھی ہوتے ہیں ، سنن بھی ہوتے ہیں مستحبات بھی ہوتے ہیں ، تو عام لوگ ۔۔۔۔۔۔ ان کو نظر آرہے ہوتے ہیں ، مثلاً وہ نوافل پڑھ رہے ہوتے ہیں یا نفلی روزے رکھ رہے ہوتے ہیں یا خیرات کررہے ہوتے ہیں ، یا نفلی حج کرتے ہیں ، لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں ، اس طرح دوسرے نیک کاموں میں حصہ لیتے ہیں تو ایسے لوگوں کا پتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور عام لوگ بھی ان کو نیک سمجھتے ہیں یہ لوگ اعمال قالب والے ہوتے ہیں ۔ دوسرے اعمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اعمال قلب زیادہ کرتے ہیں اور یہ اعمال قالب ۔۔۔فرائض واجباب اور سنت موکدہ کی حد تک ہوتے ہیں باقی وہ اتنے زیادہ مستحبات کے درجے تک نہیں پہنچتے ۔ تو عام لوگ ان کو نیک نہیں سمجھتے کیونکہ عام طور پر لوگ نیک ان کو کہتے ہیں جو مستحبات کا خیال رکھتے ہیں ، جو نفلیں نہیں پڑھتا ، صرف فرض نماز پڑھتا ہے تو کوئی بھی اس کو بڑا آدمی نہیں سمجھتا اس کو کوئی بزرگ نہیں سمجھتا ۔ اس طرح اگر کوئی فرض زکواة دے تو اس کو کوئی بزرگ نہیں سمجھتا یا کوئی فرض حج کرلے تو اس کو کوئی بزرگ نہیں سمجھتا لیکن اگر نفلی حج کرے ، نفلی روزے رکھے ، نفلی صدقات و خیرات کرے اور اس طریقے سے نفلی نمازیں پڑھے تو پھر لوگ اس کو بزرگ سمجھتے ہیں ۔ اور وہ لوگ بھی بعض دفعہ اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگتے ہیں تو یہ جو قلندر ہوتے ہیں یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو مستحبات کے درجے تک جاتا ہے اعمال قلب میں ، لیکن اعمال قالب میں جوارح کے اعمال میں فرض و واجبات اور سنت موکدہ تک رہتا ہے ۔ تو عام لوگ ان کو بزرگ نہیں سمجھتے لیکن وہ تو بہت بڑے بزرگ ہوتے ہیں ، ان کا ایک ایک عمل اتنا اونچا ہوتا ہے کہ اس کے سامنے باقی لوگوں کے اعمال ہیچ دکھائی دیتے ہیں ۔ تو قلندر لوگوں کو عام لوگوں کو پتہ نہیں چلتا ۔ یہ صرف خاص اللہ والوں کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں شخص قلندر ہے ۔ چونکہ وہ تقلیل کرتے ہیں ظاہری اعمال میں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی نیک بندہ نہیں بلکہ بعض لوگوں نے مشہور کیا ہے کہ قلندر شریعت پر نہیں چلتے حالانکہ وہ شریعت پر چلتے ہیں لیکن صرف فرائض و واجبات اور سنت موکدہ تک چلتے ہیں اس سے زیادہ نہیں چلتے ، جبکہ اعمال قلب میں وہ بہت زیادہ اعلیٰ درجے تک پہنچے ہوتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے ایک شعر کہا ہے ۔
پانی پانی کرگئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جو غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من
تو قلندر کی تعریف علامہ اقبال کے نزدیک وہی قلب والی ہے کہ جب تو غیر کے آگے جھک گیا تو پھر تو تیرا کچھ بھی نہیں ۔ نہ تیرا دل کام کررہاہے نہ تیرا جسم کام کررہا ہے ۔ تو کیا کررہا ہے کچھ بھی نہیں کررہا ۔ اب کسی کے آگے نہ جھکنا یہ دل کی قوت کی علامت ہے ۔ انسان کی جب غیر اللہ پر نظر نہ ہو صرف اللہ پر نظر ہو تو وہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا ۔ حبیب جالب نے جو شعر کہا ہے کہ ہم نے اقبال کا کہا مانا اور فاقوں سے روز مرتے رہے
جھکنے والوں نے منزلیں پائیں ہم خودی کو بلند کرتے رہے
آپ نے دیکھا ہوگا عام طور پر دفتروں میں جو yes man ہوتے ہیں تو یہ جھکنے والے ہوتے ہیں ، یا محلوں میں چوہدری کے سامنے یا خان کے سامنے یا پولیس کے سامنے یا کچھ ایسے دوسرے لوگوں کے سامنے جو جھکتے ہیں تاکہ ان کے شر سے ہم بچ جائیں یا کوئی اور مقصد ہو تو ایسے لوگ ہوتے ہیں اور ان کو اس کی پرواہ بھی نہیں ہوتی ۔ لیکن قلندر ایسا کام نہیں کرسکتا کہ وہ کسی کے سامنے جھکے ۔ اس طرح قلندر حسد نہیں کرتا ۔ وہ ایثار کا حامل ہوتا ہے ۔ وہ اپنا حق وصول نہیں کرتا تو دوسرے کا حق کیا مارے گا ۔ اور تیسری بات یہ کہ وہ مہربانی کرتا ہے اور ان میں تواضع بہت ہوتی ہے ۔ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا ۔ جیسے ہمارے خواجہ عزیز الحسن مجذوب  ، ان کے ایک ساتھی نے ان کو نصیحت کی کہ آپ تھوڑا سا اپنا خیال رکھیں یہ آپ نے اپنے آپ سے کیا بنایا ہوا ہے ۔ آپ ایک شیخ وقت ہیں آپ کو تھوڑا سا اپناخیال رکھنا چاہیے تاکہ لوگ آپ کی قدر کریں اور آپ سے سلسلہ چلے ، تو اس قسم کی نصیحتیں کیں ۔ ظاہر ہے ان کی نصیحتیں اخلاص پر مبنی تھیں لیکن مجذوب  کا شعبہ قلندری کا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ تجھ کو مبارک اے صوفی صافی
مجذوب کو ایک دور کی نسبت بھی ہے کافی
یعنی یہ ایک معمولی سی نسبت بھی ہمارے لئے کافی ہے ، ٹھیک ہے آپ آگے بڑھتے رہیں لیکن ہمارے لئے بس صرف ندامت ہی سے گناہوں کی معافی ہوجائے تو ہمارے لئے کافی ہے ۔ اب آپ دیکھیں کہ وہ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے نہ اپنے آپ کو بزرگ سمجھتے ہے حالانکہ وہ بہت بڑے اللہ والے تھے ۔ حضرت تھانوی  نے فرمایا کہ جب اپنے بعد ان لوگوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے فکر نہیں ہوتی ۔ ان میں سے دو نام لیے تھے ، ایک مفتی محمد حسن صاحب کا نام لیا تھا ، جو جامعہ اشرفیہ کے بانی تھے ۔ اوردوسرے حضرت مجذوب  کا نام لیا تھا ۔ تو یہ اتنے بڑے آدمی تھے کہ حضرت تھانوی  جیسے بزرگ نے ان کے بارے میں ایسا ارشاد فرمایا تھا لیکن وہ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں کہ بس توبہ و ندامت سے میری گناہوں کی معافی ہوجائے تو میرے لئے کافی ہے ۔ تو اصل بات یہ ہے کہ قلندر ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ باقی قلندر کیسے بنتے ہیں تو یہ ایک سوال ہے اور واقعی عملی چیز ہے ۔ اس کے لئے انسان کو اپنے دل کی اصلاح کرنی ہوتی ہے ۔ اس میں دل کو اتنا مانجھنا ہوتا ہے دل کو اتنا صاف کرنا ہوتا ہے کہ اس میں ذرا بھر بھی دنیا کی محبت نہ رہے مطلب یہ ہے کہ پورا سلوک ہی طے کرنا ہے ۔ اور ایسے لوگوں کی بذریعہ جذب تکمیل ہوتی ہے ۔ یہ شروع سلوک سے کرتے ہیں لیکن چونکہ ان میں للہیت کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے تو پھر اللہ پاک ان کو اپنی کھنچتے ہیں ۔ اور ان کو ان تمام چیزوں سے گزار دیتے ہیں تو یہی طریقہ ہے اور عام طریقہ ہے کہ کسی شیخ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا جائے ،اور پھر اللہ تعالیٰ کا تعلق حاصل کرے اور وہ اس تعلق کو بڑھاتے رہیں یہاں تک کہ تمام چیزوں سے آگے چلا جائے بس پھر یہی قلندری ہے ۔ تو قلندر کوئی انوکھی چیز نہیں ہوتا یہی اللہ والے ہوتے ہیں لیکن ان کے اعمال قلب خاص الخاص ہوتے ہیں ۔ میرے خیال میں اتنا کافی ہے باقی تو تفصیلات ہیں ۔

سوال: اختیاری محبت اور طبعی محبت میں کیا فرق ہے اور آپ ﷺ سے کونسی محبت مطلوب ہے ۔

جواب: اصل میں اختیاری اور طبعی محبت کے بارے میں عرض کروں کہ اس میں کیا فرق ہے ۔ اختیاری محبت ہوتی ہے جس کو انسان خود اپنے ارادے سے حل کرسکتا ہے ۔ اپنے اختیار سے ۔ ظاہر ہے اس کے لئے جو ذریعہ ہے وہ عقل ہے ۔ لہذا اختیاری محبت کو عقلی محبت بھی کہتے ہیں ۔ یعنی انسان اپنی عقل سے کسی چیز کو اچھا سمجھتا ہے تواس کے ساتھ محبت ہوجاتی ہے ۔ کسی شخص کو اچھا سمجھے اس کو باکمال سمجھے یا وہ اس کا زیادہ ممنون ہوجائے تو ظاہر ہے اس کے ساتھ محبت ہوجاتی ہے ۔ اس کو عقلی محبت یا اختیاری محبت کہتے ہیں ۔ انسان اس چیز کا مکلف ہے جو وہ کرسکتا ہے اور چونکہ وہ ، وہ چیز کرسکتا ہے جو اختیاری ہو، لہذا اللہ پاک کا کسی سے طبعی محبت کا مطالبہ نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ اختیاری محبت کا ہوتا ہے ۔ عقلی محبت کا ہوتا ہے ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی کو جب عقلی محبت ہوجائے تو ۔۔۔۔ جگہ پر رہ جائے وہ بڑھتے بڑھتے طبعی محبت میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ ۔۔۔۔ پھر وہ طبعی رنگ اختیار کرلیتا ہے اور یہ پھر خوش قسمتی ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے کہ کسی کی اختیاری محبت طبعی محبت میں تبدیل ہوجائے ۔ اور یہ اچھی محبت ہے ۔ کیونکہ عقلی محبت میں یہ ہوتا ہے کہ اس میں انسان ۔۔۔۔۔ ہوتی رہتی ہے اور یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ کسی وقت وہ ختم بھی ہوجائے ۔ لیکن جو طبعی محبت ہوتی ہے وہ تو پھر انسان کو خود ہی کھنچتی ہے ۔ وہ پھر رکتی نہیں ۔ جیسے کہتے ہیں کہ عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے
مطلب یہ ہے کہ انسان کے بس میں نہیں ہے کہ کسی چیز کے ساتھ عشق کرے لیکن اگر ہوجائے تو پھر اس کو پھر کوئی بجھا بھی نہیں سکتا ۔ لیکن چونکہ اس کے ذرائع موجود ہیں لہذا ان کو اگر اختیار کیا جائے تو وہ ہوبھی سکتی ہے ۔ اور وہ طریقہ یہ ہےکہ آل محبت کےساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کردے ۔ جب انسان آل محبت کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے تو ان کے قلوب کا عکس اس کے اوپر پڑتا رہتاہے ، نتیجتاً کسی وقت یہ محبت کسی وقت ان کے دل میں آجاتی ہے اور ان کو بھی وہ چیزحاصل ہوجاتی ہے ۔ آپ ﷺ کے ساتھ ظاہر ہے طبعی محبت ہونی چاہیے لیکن چونکہ یہ بس میں نہیں ہے تو جب تک یہ حاصل نہ ہو تو کم از کم اختیاری محبت تو ہو جو ہمارے بس میں ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر علماء کرام اور مشائخ کے درمیان اس پر بات ہے کہ ان میں کونسا زیادہ افضل ہے ۔ اس سلسلے میں حضرت گنگوہی  کا ایک ملفوظ ہے کہ عقلی محبت ہی مطلوب ہے کیونکہ طبعی محبت چاہے کچھ بھی ہو لیکن اس میں ایک چیز ہوتی ہے کہ اس میں انتظام نہیں ہوتا ۔ تو بات تو بالکل صحیح ہے کہ طبعی محبت میں واقعی انتظام نہیں ہوتا ۔ کیونکہ وہ انسان کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اور یہ جو حضرات طبعی محبت کے حق میں ہیں وہ کہتےہیں کہ طبعی محبت ختم نہیں ہوتی ۔ تو چونکہ یہ چیز ختم نہیں ہوتی لہذا اگر انسان اس کو حاصل کرلے تو پھر کامیابی ہے تو بہر حال یہ علماء کرام اور مشائخ کرام کی باتیں ہیں ، ہم تو صرف اس حد تک مکلف ہیں کہ جو چیز ہم حاصل کرسکتے ہیں کم از کم اس کو نہ چھوڑیں ۔

سوال: فنا ء فی الشیخ ، فنا ء فی الرسول ، فناء فی اللہ

جواب: یہ بڑا اچھا سوال ہے اصل میں ۔۔۔۔۔۔کا مرتبہ جو ہے یہ جب انسان کے نفس کی اصلاح ہوتی ہے ، اور نفس کی اصلاح کا مطلب یہ ہےکہ دنیا کی محبت دل سے نکل جائے ، اب اگر یہ محبت نکل جائے تو پھر مجھے بتائیں پھر آپ ﷺ کے ساتھ کوئی محبت نہیں کرے گا تو کس کے ساتھ کرے گا ۔ تو اب یہ فنا فی الرسول جو ہیں ان کے دل سے چونکہ دنیا کی محبت نکل چکی ہوتی ہے تو پھر تو آپ ﷺ ہی سامنے ہوتے ہیں ،اور وہ آپ ﷺ کی محبت میں ایسے فنا ہوتے ہیں کہ اس میں کسی اور چیز کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ وہی فنا فی الرسول ہے ۔ صحابہ کرام سارے فنا فی الرسول تھے ۔ اصل تو فنا فی اللہ ہے لیکن درجہ بدرجہ والی بات ہے ۔ اللہ جل شانہ کی ذات ورال ورا ہے ۔ اس کی ذات کو آپ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ اللہ کی ذات کیسی ہے ۔ لہذا اس کی ذات کے ساتھ کیسے محبت کریں گے تو یہ تو indirectly ہوگا ، کسی کے ریفرنس سے ہوگا ۔ براہ راست نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ آپ اللہ جل شانہ کے بارے میں نہیں جانتے کہ اللہ کون ہیں اور کیسے ہیں ۔ اللہ ہی کو پتہ ہے کہ اللہ کیسے ہیں ۔ اب جب یہ والی بات ہے تواب اس کے لئے آپ کو آپ ﷺ کو ذریعہ بنانا پڑے گا ۔ آپ ﷺ کی ہر بات پر یقین ہوگا تو آپ کو اللہ نظر آئے گا ۔ کیونکہ آپ ﷺ ہی اللہ پاک کا تعارف کرنے والے ہیں ۔ جتنا جتنا آپ کو آپ ﷺ پر یقین ہوتا جائے گا ، جتنا جتنا آپ آپ ﷺ کی ذات میں فنا ہوتے جائيں گے تو آپ کو اللہ پاک نظر آنے شروع ہوجائیں گے یعنی اللہ جل شانہ کی پہچان ہوتی جائے گی ۔ کیونکہ آپ ﷺ انسان تھے ، بشر تھے اور بشر مبعوث ہوئے تھے لہذا آپ ﷺ اللہ جل شانہ کی ذات کے ۔۔۔۔۔ قابل تعارف ہیں یعنی تعریف کے لحاظ سے ، احادیث شریف کے لحاظ سے ،مشائخ کے قرب کے لحاظ سے آپ ﷺ کا تعارف زیادہ ممکن ہے نتیجتاً آپ ﷺ کا تعارف اب ضروری ہے اللہ کی پہچان کےلئے ، تو آپ ﷺ چونکہ پھر ہم سے زماناً دور ہیں تو آپ ﷺ کو ہم اتنا نہیں پہچان سکتے جتنے اپنی کسی قریبی کو پہچان سکتے ہیں ، تو قریب سامنے شیخ ہوتاہے اس کو آپ پہچان سکتےہیں ، جن کے آپ ہوسکتے ہیں ، جن سے آپ مل سکتے ہیں ، جن کے ساتھ آپ کا رابطہ ہوسکتا ہے تو جتنا جتنا آپ کو اپنے شیخ پر اعتقاد آتا جائے گا ، اس کی محبت بڑھتی جائے گی اور آپ اس کے اندر فنا ہوتے جائیں گے اتنا اتنا آپ کو رسول اللہ ﷺ کی پہچان ہوتی جائے گی ۔ بلکہ میں جو عرض کیا تھا اور اکثر عرض کرتا ہوں کہ جو پیری مریدی سے نہیں گزرتے ان کو صحابہ کرام کا وہ relationship جو آپ ﷺ کے ساتھ تھا وہ سمجھ ہی نہیں آسکتا ۔ یہی رشتہ ہے جس کے ذریعے سے آپ ﷺ کے ساتھ جو صحابہ کرام کا تعلق تھا سمجھ آسکتا ہے ۔ لگی ہو نہ جب تک کسی دل میں آگ
پرائی لگی دل لگی سوجتی ہے
تو جب وقت انسان کو محبت سے آشنائی نہیں ہوتی ، یعنی شیخ کی محبت ، اس وقت وہ کیسے جان سکتا ہے کہ صحابہ کرام کو آپ ﷺ کے ساتھ کیسی محبت تھی ۔ وہ کیسے جان سکتا ہے ؟ اب خود ذاتی طور پر شیخ کے ساتھ محبت کا تجربہ ہوجاتا ہے تو ان کو ساری باتیں ، ابوبکر صدیق  کی ، عمر  کی ، عثمان  کی علی  کی تمام صحابہ کرام کی باتیں سمجھ میں آنے لگتی ہے کہ ان کو کیسے محبت ہوتی ہوگی ۔ یہی ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ محبت ۔ تو شیخ کے ذریعے سے آپ ﷺ کا تعارف ہوجاتا ہے اور آپ ﷺ کے ذریعے سے اللہ جل شانہ کا تعارف ہوجاتا ہے تو اسی لئے کہتے ہیں کہ فنا ء فی الشیخ ، فنا ء فی الرسول ، فناء فی اللہ ۔

سوال: آزمائش اور پکڑ میں کیا فرق ہے ؟

جواب: بڑا اچھا سوال ہے ۔ اصل علم تو اللہ کو ہے ۔ لیکن جو بظاہر مشائخ نے بتایا ہوا ہے کہ آزمائش میں بے اطمینانی نہیں ہوتی ، بے چینی نہیں ہوتی ۔ پکڑ میں بے چینی ہوتی ہے ۔ اس میں طبیعت پریشان ہوتی ہے ،بلکہ جب سخت پکڑ ہوتی ہے تو ہدایت کی توفیق بھی سلب ہوجاتی ہے ۔ اس وجہ سے انسان کا پھر خیر کی طرف رخ ہی نہیں ہوتا ، جیسے شیطان کی پکڑ ہوگئی ۔ اب وہ سب کچھ جانتا ہے لیکن توفیق سلب ہے ۔ اس طرح جیسے یہود کی پکڑ ہوگئی ۔ اب وہ سب کچھ جانتے ہیں لیکن توفیق سلب ہے تو سب سے خطرنا ک پکڑ میں ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے ۔ آدمی راندہ درگاہ ہوجاتا ہے یعنی وہ اس برائی پر مطمئن ہوجاتا ہے ۔ اللہ جل شانہ ایسی حالت سے سب کو محفوظ رکھے ۔ اگر ایسا نہیں ہے کم ہے تو پھر اس کو بے چینی ہوتی ہے ۔ جو پھر توبہ کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔ اور جو آزمائش ہے اس میں صبر کی توفیق ہوجاتی ہے ۔

سوال: کیا پکڑ باعث رحمت یا باعث ہدایت ہوسکتی ہے ۔

جواب: جی ہاں بالکل یونس علیہ السلام کی قوم کے ساتھ یہی ہوا تھا ۔ ان کی قوم کی پکڑ ہوگئی تو انہوں نے توبہ کرلی اور اللہ پاک نے ان کو ہدایت دے دی ، بلکہ بہت سارے لوگوں کی جب پکڑ ہوتی ہے ، جیسے بیماری آجاتی ہے ، پریشانی آجاتی ہے اس کے بعد وہ توبہ کرلیتے ہیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں تو ایسا ہوتا ہے ۔ یہ اللہ جل شانہ کی جمالی پکڑ ہوتی ہے ، اس میں انسان کو دھتکارنا نہیں ہوتا بلکہ قریب کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ صورتاً پکڑ ہوتی ہے حقیقتاً عنایت ہوتی ہے ۔

سوال: دل میں گناہ کا تقاضا ہے

جواب: ایک ہوتا ہے تقاضا اور ایک ہوتا ہے تقاضے کا وسوسہ ۔ بعض لوگ اس میں فرق نہیں کرپاتے ۔ وسوسہ تو شیطان کی طرف سے ہر وقت ہوتا ہے ۔ آدمی کا گناہ کی طرف خیال جانا کہ یہ کروں اور وہ کروں یہ وساوس کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس پر اگر وہ عمل نہ کرے تو اس کی کوئی پکڑ نہیں ۔ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ ہے تو بری مثال لیکن بہر حال سمجھانے کے لئے عرض کرتا ہوں ۔ ہر نوجوان کے اندر زنا کا تقاضا ہوسکتا ہے ، کیونکہ ظاہر ہے اس عمر میں جذبات ایسے ہوسکتے ہیں لیکن وہ جب اللہ سے ڈرتا ہے اور اس طرف نہیں جاتا تو اس پر اس کو اجر ملتا ہے ۔ جیسے کوئی شخص ہے راستے میں غیر محرم عورتیں آرہی ہیں اور اس وقت وہ یہ تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اورپھر اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اس نے آنکھیں ہٹا دیں، تو فرماتے ہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ حلاوت ایمان نصیب فرمادیتے ہیں ۔ اب سر کی آنکھیں ہٹا کر اس کو یہ مقام مل سکتا ہے تو جو دل کی آنکھیں اگر ہٹا دیں تو کیا اس پر نہیں ملے ؟

سوال: کہتے ہیں کہ اچھے ناموں کے اثرات ہوتے ہیں تو کیا برے ناموں کے بھی اثرات ہوتے ہیں ۔

جواب: یقیناً برے ناموں کے اثرات ہوتے ہیں اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ جو اچھے نام رکھنے کا فائدہ ہوسکتا تھا اس سے محرومی توہو ہی گئی ۔ نقصان اس نام کا نہیں ہوتا ، نقصان اس سوچ کا ہوتا ہے جس سے نام رکھا گیا ہے ۔ سوچ غلط تھی اس نے برے لوگوں کو پسند کیا اور برے لوگوں کو پسند کرنا ایک عمل ہے تو اس کا نقصان تو ہوگا ۔ اور اچھے لوگوں کے ناموں کو پسند کرنا یہ بھی ایک عمل ہے ، اس لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ بچے کا جو سب سے پہلا حق ہے والدین پر اس میں ایک یہ بھی ہے کہ اس کا اچھا نام رکھا جائے ۔ اس کو نیک دائی سے دودھ پلایا جائے تو یہ ساری باتیں ہیں ۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو چاہیے کہ اچھے نام رکھیں بلکہ علماء سے پوچھ کر رکھیں کہ اس کا کوئی مفید مطلب بھی ہو ۔ بعض دفعہ والدین نام رکھ لیتے ہیں صرف اجنبی ہونے کی حیثیت سے کہ یہ نیا نام ہے ، ایک جدید نام ہے اور آج کل یہ فیشن ہے ۔ تو یہ بذات خود ایک فضول چیز ہے ۔ جدید پر نہیں جانا چاہیے بلکہ اچھائی کی طرف جانا چاہیے ۔ ہاں اگر جدید اچھا ہے تو لے لو لیکن صرف جدید ہونے کی وجہ سے نہ رکھو ، اچھا ہونے کی وجہ سے رکھو ۔ اور اچھا نام یہ ہے جو اللہ کے نام سے شروع ہو جیسے عبداللہ سب سے اچھا نام ہے ۔ اس طرح عبدالرحمٰن ، عبدالرحیم ، عبدالباسط وغیرہ ۔اس طرح آپ ﷺ کا نام ، محمد پھر اس کے ساتھ کوئی اور ملا کر جیسے محمد قاسم ، محمد صادق وغیرہ ، اس طرح صحابہ کرام کے نام پر ، بزرگوں کے نام پر ، تو اس نام کی مناسبت ہوتی ہے ۔ خود میرا نام شبیر احمد یہ مولانا شبیر احمد عثمانی  کے نام کی بنیاد پر رکھا گیا تھا ۔ میرے چچا ان کے شاگرد تھے اور ان کو اپنے استادسےبڑی محبت تھی اسی وجہ سے انہوں نے میرا یہ نام رکھا ۔ اور ان کی نیت کی برکت تھی کہ شبیر احمد اور لوگوں کے بھی نام ہوا کرتے تھے لیکن اکثر سکول میں جب استاد میری حاضری لگاتے تو میرا نام پکارتے شبیر احمد عثمانی ، تو اچھے ناموں کا فائدہ ہوتا ہے ۔

سوال: سلاسل میں نقشبندیہ ، سہروردیہ ، چشتیہ ، قادریہ میں باہم فرق کیا ہے ؟

جواب: پہلے میں آپ سے سوال کرتا ہوں ، ایلوپیتھی ، ہومیوپیتھی ، اکوپنکچر اور یونانی میں کیا فرق ہے ؟ ظاہر ہے طریقے کا ۔ مقصد تو صحت کا حاصل کرنا ہے اور وہ ان چاروں طریقوں سے حاصل ہوسکتا ہے ۔ ہاں اگر کسی کو ایلوپیتھی سے مناسبت ہے تو اس کووہاں سے فائدہ حاصل ہوگا ، کسی کو ہیومیو پیتھی سے مناسبت ہے اس کو وہاں سے حاصل ہوگا ۔ کسی کو یونانی سے ہے اس کو وہاں سےہوگا ۔ لیکن اگر کسی کو ایلوپیتھی سے فائدہ ہوا تو اس کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہومیو پیتھی کے خلاف باتیں شروع کردے یا یونانی طریقہ علاج کے خلاف بات کرے ۔ اسی طرح ، نقشبندیہ ، قادریہ ، چشتیہ اور سہروردیہ اصل میں روحانی صحت کے طریقے ہیں۔ نقشبندی میں سکون نسبتاً زیادہ ہے ۔اس میں اندر ہی اندر سب کچھ ہورہا ہوتا ہے ،جن کو ان چیزوں سے مناسبت ہوتی ہے ان کو اس طریقہ سے فائدہ ہوتاہے ۔ چشتیہ میں ولولہ انگیزی ہے ۔ سوختن ،افروختن و جامہ دریدن
پروانہ زمن ،شمع زمن گل زمن آموخت
کہتے ہیں کہ جلنا ، پگھلنا ،اور کپڑے پھاڑنا یہ پروانے نے ہم سے سیکھا ہے ، شمع نے ہم سے سیکھا ہے اور پھول نے ہم سے سیکھا ہے ، تو یہ چشتیہ نسبت ہے ۔ اس میں ولولہ انگیزی ہوتی ہے ۔ قادریہ سلسلے میں گہرائی زیادہ ہے ، اس میں عمل بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے ۔ کافی اذکار کرنے پڑتے ہیں ، اس کی مثال میں نے ایک قادری بزرگ سے سنی ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ قادریہ سلسلے کی مثال ایسی ہے جیسے دیگ ۔ دیگ آسانی سے گرم نہیں ہوتا ، آپ اس کے نیچے کافی لکڑی جلائيں گے تو گرم ہوگا ۔لیکن جب ایک دفعہ گرم ہوگیا تو پھر جلدی سر د بھی نہیں ہوگا ۔ پھر اس میں پانی ڈالتے جائیں ، تو قادریہ کی مثال دیگ کی طرح ہے ۔ اس طرح سہروردی بھی قادری کے قریب قریب ہے ۔ اس میں بھی اذکار بہت ہوتے ہیں اور گہرائی ہوتی ہے۔ بہر حال مقصد ان سب کا اللہ پاک کا تعلق حاصل کرنا ہے ۔ کسی بھی طریقے سے آؤ،مقصود حاصل ہونا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ پاک کا تعلق حاصل ہوجائے ۔ چشتیہ سلسلے میں جہری اذکار ہوتے ہیں ، اور اس میں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں وسوسے نہیں آتے ۔ انسان ذکر کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتا ہے ۔ نقشبندی میں قلبی ذکر ہوتاہے ۔مختلف لطائف پر وہ ذکر کررہے ہوتے ہیں ، جو مزاج مشوش ہوں یعنی جو تشویشات میں زیادہ مبتلا ہوتے ہوں تو ان کے لئے چشتیہ طریقہ زیادہ مفید ہے کیونکہ وہ آن کی آن میں ان کی تمام چیزیں اڑا دیں گے اور ان کو جلدی فائدہ ہوگا ۔ جو پہلے سے یکسوئی والی طبیعت کے مالک ہوں تو ایسے لوگوں کے لئے پھر نقشبندی طریقہ مناسب ہے ۔چاروں سلسلے آپ ﷺ سے چلے ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ نے کچھ حضرات کی تربیت اس طرح فرمائی تھی کہ ان پر یہ چیزیں کھل جائیں جن میں چاروں خلفائے راشدین تو تھے ہی ان کے ساتھ حضرت بلال  ، حضرت انس  اور دو چار صحابہ اور ہیں ، تو ان سے یہ چیزیں چلی ہیں ، یہ طریقے چلے ہیں ۔ اصل میں جو تصوف ہے یہ پہلے اس طرح نہیں تھا جس طرح اب ہے ۔ یہ چیز پریکٹیکل ہے ، بضرورت ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو مسنو ن اذکار سے فائدہ ہونا شروع ہوجائے ، تو آپ کو دوسرے ذکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ ہاں اگر درمیان میں تشویشات شامل ہوجائیں تو ان کو دور کرنے کےلئے آپ تھوڑا سا علاجی ذکر بھی شامل کرلیں ۔ جب آپ کو یکسوئی حاصل ہوجائے تو پھر مسنون اذکار کریں تو اس وقت آپ کی ضرورت کی وجہ سے تھوڑی اور چیزیں شامل ہوگئی ہیں مثلاً مراقبہ شامل ہوگیا ، اس طرح شغل اذکار شامل ہوگئے ، کیونکہ جتنی جتنی آپ ﷺ کے وقت سے دوری ہوتی گئی تو تشویشات بڑھتی گئیں اور لوگ materialism میں زیادہ آتے گئےاور دوسری چیزوں سے متاثر ہوتے گئے، تو ان چیزوں کی ضرورت زیادہ بڑھتی گئی ۔ اب موجودہ جو آپ کو فرق نظر آرہا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اب یہ ہماری ضرورت ہے ، مجبوری ہے۔ اس کے بغیر ہو نہیں سکتا ۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں ، مجھے بتائیں جو تصوف کے اندر شامل نہیں ہوتے ، جو تصوف کے اندر نہیں آتے ، کیا ان کو مسنون اعمال کی توفیق ہوتی ہے ؟ ذرا غور کرلیں ، ذکر کرنا کتنا آسان کام ہے ، اللہ اللہ کہنا کتنا آسان کام ہے اس میں کوئی مشکل ہے ؟ مجھے بتائیں جن کو ان ذریعوں سے یہ عادت نصیب نہ ہو کیا وہ ذکر کرتے ہیں ؟ مثلاً میں لاہور جانا چاہتا ہوں یہاں پنڈی سے میں بیٹھ گیا مجھے تقریباً چار گھنٹے سفر کرنا ہے ،محتاط اندازے کے مطابق ایک گھنٹے میں تین ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھا جاسکتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ چار گھنٹوں میں بارہ ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ یا چھوٹا درود شریف پڑھا جاسکتا ہے ۔ اب مجھے بتائیں کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے آپ کو ٹیون نہیں کیا تو ہم لوگ ان تمام چیزوں سے محروم رہ جائیں گے۔ مثلاً لوہا ہے اس کے جو ذرات ہیں اگر آپ اس کی الائمنٹ نے کریں تو وہ تو مقناطیس نہیں بنے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں خاصیت تو رکھی ہے لیکن اس خاصیت کو آپ استعمال کریں گے تو وہ کام دے گا ۔ اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ دوسری مقنا طیس کے ساتھ اس کو رگڑیں ، رگڑتے جائیں رگڑتے جائیں ایک دن وہ بھی مقناطیس بن جائے گا ۔ اب یہ بات ہے کہ وہ سارے north polesاور south polesتو لوہے کے اندر تھے لیکن منتشر تھے ۔ ایک دوسرے کے سات گڈ مڈ ہوگئے تھے لہذا وہ مقناطیس نہیں تھے ۔ لیکن جیسے ہی کسی مقناطیس کے ساتھ آپ نے رگڑا تو آہستہ آہستہ الائمنٹ ہوتی گئی حتیٰ کہ وہ بھی مقناطیس بن گیا ۔ اس طرح بزرگوں کی مجلس میں انسان بیٹھتا ہے آہستہ آہستہ اس کی بھی الائمنٹ ہوجاتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس کا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رخ ہوجاتا ہے اور وہ چیزیں مل جاتی ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ ایک بزرگ نے اس کی مجھے ایک مثال دی تھی لیکن تھے وہ ماڈرن بزرگ۔ فرمایا یہاں پر بی بی سی کی wavesہیں ؟ میں نے کہا جی بالکل ہیں ۔ وائس آف امریکہ کی waves بھی ہیں ؟ میں نے کہا جی ہیں ۔ وائس آف جرمنی کی بھی ہیں ؟ میں نے کہا جی بالکل ہیں ۔ فرمایا آپ کیوں نہیں سنتے ؟ میں نے کہا میرے پاس ریڈیو نہیں ہے ۔ فرمایا اچھا اس کے لئے ریڈیو ہونا چاہیے ۔ پھر فرمایا اچھا اگر ریڈیو ہو لیکن اس کا سرکٹ خراب ہو ، میں نے کہا پھر بھی نہیں سن سکیں گے ۔ فرمایا اچھا اگر سرکٹ ٹھیک ہو لیکن بجلی کا کوئی انتظام نہ ہو پھر ، میں نے کہا جی پھر بھی نہیں سنیں گے ۔ فرمایا چلو بجلی بھی ہو ، سرکٹ بھی ٹھیک ہو لیکن ریڈیو کی سوئی صحیح جگہ پر نہ ہو پھر ، میں نے کہا پھر بھی نہیں سنیں گے ۔فرمایا اچھا اس کا مطلب ہے کہ ریڈیو سیٹ ہو ، اس کا سرکٹ بھی ٹھیک ہو ، اس کے لئے پاور کا بھی انتظام ہو اور سوئی صحیح جگہ پر ہونی چاہیے ، میں نے کہا جی ایسا ہی ہے ۔ فرمایا بالکل یہی مثال نقشبندی ، چشتی ، سہروردی اور قادری سلسلوں کی ہے ۔سب کے فیوض یہاں پر موجود ہیں کہیں اور جانا نہیں پڑے گا صرف آپ کے پاس receiver set یعنی دل چاہیے ، اس کے اندر محبت کی بجلی چاہیے ، ساتھ مناسب کی سوئی کی setting چاہیے یہ چیزیں آپ سیٹ کرلیں آپ کا دل catch کرنا شروع کردے گا ۔سب کچھ آپ کو ادھر ہی مل جائے گا ۔ آپ حیران ہونگے اس بات پر کہ جیسے ہی کوئی اس لائن پر آنا شروع کرتا ہے تو جو عالم ارواح کے اندر بہت ساری چیزیں موجود ہیں وہ متوجہ ہونا شروع ہوجاتی ہیں جوپہلے نہیں ہوتی تھیں ۔ ہمارے کاکا صاحب کا جو نصبی سلسلہ ہے وہ بھی الحمد اللہ بہت سارے بزرگوں سے جڑا ہے لیکن ہمیں کچھ بھی پتہ نہیں تھا ، قصے تو ان کے بہت سنے تھے لیکن حقیقی معنوں میں اپنے بزرگوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے ۔ بس واقعاتی طور پر جانتے تھے ۔ لیکن جیسے ہی ہم مولانا اشرف صاحب  سے بیعت ہوگئے تو بس پھر سلسلہ شروع ہوگیا ، ماشاء اللہ اپنے سلسلے کے بزرگ بھی آرہے ہیں اور بھی آرہے ہیں ، اور بھی آرہے ہیں کبھی خوابوں میں کبھی کہاں تو یہ ساری چیزیں ہور ہی ہیں ، تو یہ پہلے کیوں نہیں تھا ؟ اس کا مطلب ہے کہ الائمنٹ سٹارٹ ہوگئی اور اس کے سٹارٹ ہونے کے ساتھ وہاں سے چیزیں آنی شروع ہوگئیں ۔ تو انسان کو کوئی ایسا source چاہیے جس کے ساتھ مناسبت ہو ،اس کے ساتھ لگ کر جو کام کرنے کا ہے وہ کرتے رہیں انشاء اللہ کام بن جائے گا ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ لگے رہو لگے رہو ، لگ جائے گی ۔

سوال: ہم لوگ جو اصلاحی ذکر کرتے ہیں آیا اس میں ثواب کی نیت کرنی چاہیے یا نہیں ؟

جواب: یہ مسئلہ تھوڑا سا اختلافی ہے، زیادہ اختلافی نہیں ہے کیونکہ اہل حق میں بھی اس پر تھوڑا سا اختلاف ہے ۔ ہم لوگ جو اصلاحی ذکر کرتے ہیں آیا اس میں ثواب کی نیت کرنی چاہیے یا نہیں ۔کچھ حضرات فرماتے ہیں کہ اس میں ثواب کی نیت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ منصوص طریقہ نہیں ہے اور بدعت ہونے کا احتمال ہے ۔ کچھ حضرات فرماتے ہیں نہیں ذکر تو اس میں منصوص ہے ضرب و جہر منصوص نہیں ہے ۔ جو اللہ اللہ ہم کرتے ہیں وہ تو منصوص ہے ، لا الہ الا اللہ جو کہتے ہیں یہ بھی منصوص ہے تو اس میں ثواب کی نیت کی جاسکتی ہے لیکن ضرب و جہر میں نہیں ۔ میرا جو ذوق ہے وہ میں بتا دیتا ہوں ، میں اس میں ثواب کی نیت نہیں کرتا ۔ میں نیت اصلاح کی کرتا ہوں جو فرض عین ہے اورفرض عین پر اجر ملتا ہے ۔ آپ ذکر کررہے ہیں تو ذکر کی جو خاصیت ہے وہ خود بخود واقع ہوجائے گی ،اس کے لئے علیحدہ طو پر نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

سوال: کیاغفلت سے کیے گئے ذکر یا مراقبہ کا اثرہوتا ہے ؟

جواب: اصل میں ایک محض ذکر ہے وہ اصلاحی ذکر نہ ہو ، مثلاً سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ، لا الہ الا اللہ محمد رسو ل اللہ ، درود شریف ، استغفار ، یہ جو مخصوص اذکار ہیں اس کو اگر آپ غفلت سے بھی پڑھ لیں تو بھی اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہوگا ۔ یعنی نہ ہونے سے بہتر ہوگا ۔ کیونکہ اس میں ذکر کی صورت تو موجود ہے ۔لیکن اصلاحی ذکر میں اگر توجہ نہیں ہے تو اصلاحی ذکر تو ثواب کے لئے نہیں کیا جاتا ، وہ تو اصلاح کے لئے کیا جارہا ہے اگر اس سے اصلاح نہیں ہورہی ہو تو آپ کس لئے کررہے ہیں ۔ اس لئے ہم جو اصلاحی ذکر بتاتے ہیں اس میں ہم ان کو تمام شرائط بتاتے ہیں ، باقی کلمہ سوم ، درود شریف اور استغفار کےلئے شرائط نہیں بتاتے ۔شرائط اس لئے بتاتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر گزارہ نہیں کیونکہ یہ تو ہم ایک خاص مقصد کےلئے کررہے ہیں اور وہ مقصد تب حاصل ہوگا جب ہم اس کو توجہ کے ساتھ ، صحیح ارادے کے ساتھ اور یکسوئی کے ساتھ بیٹھ کر کریں گے پھر فائدہ ہوگا ۔ بعض لوگ ذکر جلدی جلدی کرتے ہیں تاکہ پورا ہوجائے اس سے بھی مسئلہ ہوجاتا ہے ۔ اس طر ح نہیں کرنا چاہیے ۔ سمجھنا چاہیے کہ اگر کسی کا دل نہیں چاہتا اور پھر بھی ذکر کرتا ہے تو وہ اس کو مجاہدہ سمجھ لے ، وہ مجاہدہ بن جائے گا ۔ اگر آپ صحیح وقت پر ذکر کرتے ہیں اور پورا وقت دے رہے ہیں تو طبیعت پر بوجھ تو بنے گا ۔ وہی بوجھ پھر آپ کے لئے فائدہ ہوگا کیونکہ وہ مجاہدہ بن جائے گا ۔ تو مجاہدے سے نفس کا علاج ہوتاہے اور ذکر سے دل کا علاج ہوتا ہے ۔ تو بہ یک وقت دونوں کا علاج ہوجائے گا ۔

سوال: اصلاحی ذکر کے لئے بہتر وقت کونسا ہوتا ہے ۔

جواب: ممکن ہے میری رائے سے آپ کو اختلاف ہو کیونکہ یہ man to man vary کرتا ہے لیکن میرے ذوق کے مطابق بہترین وقت تہجد کا وقت ہے ، اس کے بعد فجر کی نماز کے بعد ، اس کے بعد پھر عصر کی نماز کے بعد ، اس کے بعد پھر مغرب کی نماز کے بعد اور پھر سب سے آخری priority عشاء کی نماز کے بعد کی ہے کیونکہ اس میں خطرہ ہے کہ انسان کو نیند آجائے اور ذکر پورا نہ کرسکے ۔ تو عشاء کے بعد ذکر dangerous zone میں چلا جاتا ہے ۔

سوال: شجرہ پڑھنے کا کوئی فائدہ ہے ؟

جواب: بہت زیادہ فائدہ ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپ اپنی نسبت کا وسیلہ دے رہےہیں اللہ جل شانہ کو ،کہ میں تو کچھ نہیں ہوں ان کے طفیل میرا کام کردے ۔ اس میں عاجزی بھی ہے اور جب آپ ان کا وسیلہ دے رہے ہوتےہیں تو اللہ جل شانہ کی رحمت متوجہ ہوجاتی ہے ۔کیونکہ یہ بہت بڑا سلسلہ ہوتا ہے اس میں آپ ﷺ بھی شامل ہیں ۔ تو یہ معمولی بات نہیں ہوتی ۔ بہت ساری بلاؤں سے بھی حفاظت ہوجاتی ہے ۔ شیاطین اور بہت ساری دوسری چیزوں سے بھی حفاظت ہوجاتی ہے ۔ میں عامل نہیں ہوں لیکن عملیات کو غلط بھی نہیں سمجھتا ۔ یہ ایک علاج ہے ۔لیکن اصلاح کا کام چونکہ اونچا کام ہے تو اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف لگایا ہوا ہے ۔ ہمارے سلسلے کے کچھ لوگ سحر اور جادو سے بڑے پریشان تھے ، عاملوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردیے کہ یہاں ہمارا بس نہیں چلتا ۔حالات ایسے ہوجاتے ہیں کہ کچھ لوگ شدید دشمن ہوجاتے ہیں پیچھے بھیجتے رہتے ہیں بھیجتے رہتے ہیں ، تو اس پر عاملوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردیے تھے ۔ جس عامل سے وہ علاج کررہے تھے وہ عمرے پر چلے گئے ، میں چونکہ عامل نہیں ہوں تو میں ان چیزوں میں نہیں آتا ۔ تو وہ لوگ بڑے پریشان تھے ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ان کو کہا کہ شجرہ پڑھو ۔ بس شجرہ پڑھنے سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات دے دی ۔ الحمد اللہ ، اللہ پاک نے ان کے لئے اتنے راستے کھول دیے کہ پھر وہ مجھے بتاتے رہے کہ یہ ہوگیا اور وہ گیا ، بس اللہ پاک نے رحم فرمادیا ۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ بہت بڑا source ہے ۔ حصار ہے ۔

سوال: اگر دوران ذکر کوئی مخل ہوجائے تو کیا ذکر نئے سرے سے شروع کرنا پڑے گا ۔

جواب: اگر وہ مخل عارضی ہے ، وقتی ہے ، بار بار نہیں ہوتا تو پھر ذکر دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہی سے شروع کرلیں البتہ یہ بات ہے کہ وقت ایسا منتخب کرنا چاہیے جس میں disturbance کم سے کم ہو ۔

سوال: ہر کوئی شجرہ پڑھ سکتا ہے ۔

جواب: جی ہاں سلسلے میں آنے کے بعد ۔ کیونکہ سلسلے کا اپنا شجرہ ہوتا ہے ۔ تو جس کا جو سلسلہ ہوتا ہے وہ اپنے سلسلے کا شجرہ پڑھ سکتا ہے ۔

سوال: یہ جو غلط قسم کے عامل لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں تو کیایہ آپ لوگوں کا فرض نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو اس سے خبر دار کریں ۔

جواب: کوشش تو ہم سب لوگ کرتے ہیں اس کو روکنے کی لیکن اللہ پاک نے ایک نظام بنایا ہواہے حکمتاً ۔ مجھے آپ بتائیں کہ یہ جتنے کافر ہیں جو مسلمانوں کو پریشان کررہے ہیں کیا اللہ تعالیٰ ان کو ختم نہیں کرسکتا ؟ کرسکتا ہے لیکن حکمت ہے کیونکہ اس میں ہمیں بھی کچھ کرنا ہوتا ہے ۔ یعنی ہمارے ذمہ کچھ کام لگایا ہوا ہے کہ ان کا مقابلہ کرو ، مقابلے کے tools بھی دیے ہیں ۔ تو اسی طریقے سے یہ جو برے لوگ ہیں ان کو ختم کرنے کےلئے اچھے طریقے ہیں ۔ میں اکثر یہ کہتا ہوں کہ لوگ خود بدلتے نہیں لیکن چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بدل جائیں ، حالا نکہ فائدہ اپنے آپ کو بدلنے میں ہوتا ہے ۔ انسان اپنے اوپر محنت کرکے اللہ تعالیٰ سے اتنا تعلق بنا لے کہ وہ اس کی ساری چیزوں کا ذمہ لے لے ۔ تو پھر یہ جنات کیا چیز ہیں اور یہ سحر کیا چیز ہے ۔ کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہمارا مسئلہ کیا ہوتا ہے کہ ہم نے توذرا بھر بھی ہلنا نہیں ہے ۔ ہم نے نہ اپنے اعمال میں تبدیلی لانی ہے ،نہ اپنے اخلاق میں تبدیلی لانی ہے ، نہ اپنے کمانے کے ذرائع میں تبدیلی لانی ہے اور چاہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے ۔ دنیا میں آج کل اس قسم کی صورتحال ہے کہ لوگ حرام دنیا کو نہیں چھوڑنا چاہتے ،اور چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ معاملہ وہ جائے جو شیخ عبدالقادر جیلانی  کے ساتھ ہوا ہے ۔ تو اللہ پاک کا یہ طریقہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ پاک کسی سے مجبور نہیں ہیں ۔ اللہ پاک دینا چاہتے ہیں لیکن اس کے بھی کچھ قوانین ہیں ، کوئی طریقہ ہے ۔ کوئی بڑا آدمی کسی کو کچھ دے رہا ہو اپنے اصول کے مطابق تو آپ اس سے زبردستی نہیں لے سکتے اس کو مجبور نہیں کرسکتے ۔وہ کہے گا جاؤ اپنا کام کرو تمہارا میں نے کوئی ٹھیکہ لیا ہوا ہے ۔ اگر آپ میری بات نہیں سنتے تو میں تمہاری بات کیوں سنوں ۔وہ یہ کہہ سکتا ہے ۔ تو اللہ جل شانہ کے بارے میں ہم نے یہ کیسے assume کرلیا کہ اللہ پاک کا کوئی قانون نہیں ہے اور کوئی طریقہ نہیں ہے ۔ بس ہم اپنی مرضی کریں گے اور اللہ تعالیٰ کرم فرما دیں گے ۔ مجھ سے کسی نے کہا کہ معوذتین کی موجودگی میں کیا کسی تعویذیا دھاگے یا عملیات کی ضرورت ہے ؟ میں نے کہا بالکل نہیں ۔ پوچھا پھر اثر کیوں نہیں کرتا ۔ میں نے کہا کہ کیا قران میں صرف یہی دو سورتیں ہیں ، باقی قران کہاں چلا گیا ؟ باقی پر آپ عمل کرنے کےلئےنہیں اور سمجھتے ہو کہ بس انہی دو سورتوں سے میرا کام ہوجائے گا ۔ میں نے کہا کہ اللہ پاک اس طرح نہیں کرتے ، وہ کسی سے مجبور نہیں ہے ۔ تو ہمارا کام حفاظتی نظام درست کرنا ہے ۔ باقی جو صحیح عملیات ہیں اس کو ہم صحیح سمجھتے ہیں ، صحیح اور دیندار عامل کے ہم حق میں ہیں ۔ ہم ان کے ساتھ ہیں ان کے خلاف نہیں ہیں ۔ یہاں ایک عامل صاحب ہیں میں اکثران کے پاس لوگوں کو بھیجتا ہوں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کو آپ بھیجتے ہیں اس سے یہ چیزیں بالکل اڑنے کے لئے تیار ہوتی ہیں ۔ میں نے کہا کہ بھئی میں ان کو بھیجتا ہوں جن کے بارے میں مجھے خیال ہوتا ہے کہ یہ دوسری چیزیں بھی کرتے ہیں ۔ تو اللہ پاک ان کی مدد فرما دیتے ہیں آپ کے tools ان پر صحیح استعمال ہوجاتے ہیں ۔ اب اگر ایک آدمی کو پہلے وہی چیزیں ہی ٹھیک کرنی ہوں تو عامل بیچارہ کیا کرلے گا ؟ یہ جو دنیاوی اور کرپٹ قسم کے عامل بیٹھے ہوتے ہیں یہ تو بدمعاش اور ڈاکو ہیں ۔ یہ تو اس حد تک ڈاکو ہیں کہ اگر کوئی ان کے پاس جائے تو یہ اس کو مستقل گاہک بنا دیتے ہیں ۔ خود ان پر جنات لاتے ہیں اور خود ہی اتارتے ہیں ۔ ایک خاتون کو بڑا مسئلہ تھا ، اس کو میں نے کسی عامل کی طرف متوجہ کرنا چاہا تو اس نے کہا کہ نہیں ہمارا عامل صرف ٹیلی فون پر کام کرلیتا ہے ۔ جب کبھی مجھے مسئلہ ہوتا ہے تو میں اس کو ٹیلی فون کرلیتی ہوں وہ پانی دم کرلیتا ہے اور میرا مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔میں نے اس سے کہا خدا کی بندی تمہیں پتہ ہے یہ کیسے ہوتا ہے ۔ بھئی جس نے بھیجا ہوتا ہے وہ اس کو اتار بھی سکتا ہے ۔ اگر اس نے بھیجے ہیں اور آپ نے اس کی خدمت کرلی اس کو ہزار دو ہزار روپے دے دیے ،اس نے دو دن کےلئے اتار دیا ، آپ کو فائدہ ہوگیا ۔ اب دوبارہ وہ بھیج دے گا پھر آپ نے اس کو پیسے دینے ہونگے ۔ یہ تو کاروبارہے ۔ بس اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے ۔

سوال: قران پاک کے حوالے سے صحابہ کرام کا جنتی ہونا یقینی ہے، تو پھر حضرت عمر  نے حضرت حذیفہ  سے کیوں یہ سوال کیا تھا کہ کیا میرا نام منافقوں میں تو نہیں ہے ۔

جواب: اصل میں مربی حقیقی اللہ جل شانہ کی ذات ہے ۔ اللہ جل شانہ جن کو بچانا چاہتے ہیں تو ان کے دل میں ایسی چیزیں ڈال دیتے ہیں جس سے وہ بچتے رہتے ہیں ۔ طریقت میں ایک چیز ہے جس کو رذائل میں گردانا جاتا ہے، عجب کہلاتا ہے ۔ انسان اپنے آپ کو اچھا سمجھے اس کو عجب کہتے ہیں ۔ عجب ،تکبر کے بعد دوسرا بڑا رذیلہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ  سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت انسان اپنے آپ کو کسی وجہ سے اچھا سمجھ رہا ہوتا ہے اس وقت اسی چیز کی وجہ سے وہ اللہ کی نظروں میں گر جاتا ہے ۔ ظاہر ہے یہ کتنی خطرناک چیز ہے کہ جن چیزوں کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو اچھا سمجھتے ہوں اسی کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کی نظروں میں گر جائیں ۔ یہ چیز عادتاً بہت مشکل ہےکہ ایک انسان اچھا کام کرے اور پھر بھی اپنے آپ کو اچھا نہ سمجھے ، یہ واقعتاً بہت مشکل ہے ۔ یہ اسی طرح مشکل ہے جیسے کسی کے برے کام کو دیکھ کر اس کو برا نہ سمجھنا اور برائی کو برا سمجھنا ۔ لیکن جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہتے ہیں تو اس کے قلب میں کچھ ایسے حالات پیدا فرمادیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ڈر رہا ہو تا ہے ۔ قران پاک میں ہے ۔
ولمن خاف مقام ربہ جنتان
جو اس بات سے ڈرا کہ اس کو ایک دن اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر جواب دینا ہے تواس کو دو جنتیں ملیں گی ۔ تو کسی کے دل میں ایسا خوف طاری ہونا اس کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیتا ہے ۔ الا کہ وہ معطل ہوجائے ، خوف اتنا بڑھ جائے کہ کیفیت ناامیدی تک چلی جائے لیکن نا امیدی تو منع ہے ۔ حضرت عمر  عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔ یقینی طور پر جنتی تھے ۔یہ آپ ﷺکی طرف سے ارشاد ہوا تھا ۔ تو اس چیز کے ہوتے ہوئے یہ گمان کرنا کہ انسان اپنے آپ کو ایسا بھی سمجھے واقعتاً یہ عجوبہ ہے ۔ لیکن یہ عجوبہ صحابہ کرام کی اولوالعزمی کے سامنے عجوبہ نہیں رہتا ۔ کیونکہ صحابہ کرام کی تربیت آپﷺ نے خود کی تھی اور آپ ﷺ کے ارشادات مبارک کی وجہ سے وہ اتنے ڈرے ہوئے ہوتے تھے کہ وہ جو ان کی اچھی صفات ہوتی تھیں وہ ان کی اپنی نظروں سے غائب ہوجاتی تھیں ۔ جیسا کہ حضرت عمر سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو تو آپ ﷺ کیطرف سے بشارتیں دی گئی ہیں پھر آپ کو اتنا خوف کیوں ہے ؟ اس پر حضرت عمر  نے فرمایا کہ یقیناً اللہ کے نبی نے ہمیں بشارتیں دی ہیں لیکن وہ جو آپﷺ کے سامنے ہمارے اعمال ہوئے اس کے بارے میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ انشاء اللہ ٹھیک ہیں ، کیونکہ آپ ﷺ کے ہاں قبول ہوگئے ، لیکن اس کے بعد جو ہم نے اعمال کیے اس کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں اس پر ہم ڈرتے ہیں ۔ واقعی یہ بات بالکل صحیح تھی ۔ توصرف حضرت عمر نہیں بلکہ سارے صحابہ کرام ڈرتے تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق  اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے تھے ۔ تنکے کو اٹھا کر فرماتے کہ کاش میں ایک تنکا ہوتا ۔جانور کو آرام دیکھ کر فرماتے دیکھو کیسا خوش نصیب ہے اس سے پوچھا نہیں جائے گا ۔ تو یہ چیزیں واقعتاً انسان کے بس میں نہیں ہے ۔ اتنی اوللعزمی کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ ہمارے ہاں تو کوئی اچھا خواب بھی دیکھ لے تو مست ہوجاتاہے او رکوئی جاہل سے جاہل آدمی بھی کسی کی تعریف کردے تو بس آدمی سمجھتا ہے کہ میں تو بہت بڑا ہوگیا ہوں ، اس لحاظ سے واقعتاً یہ بات ہمارے لئے بہت عجیب ہے لیکن صحابہ کرام کی اوللعزمی کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں ہے ۔سوال کرنے والے نے یہ تو سوچا کہ صحابہ کرام جنتی ہیں ان کو ایسی کیا بات لاحق ہوگئی لیکن قران پاک کی آیت اس کی نظر سے شاید نہیں گزری ولمن خاف مقام ربہ جنتان ۔۔۔۔ جو اس بات سے ڈر گیا کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر جواب دینا پڑے گا اس کو دو جنتیں ملیں گی۔ آپ تو ایک جنت کی بات کررہے ہیں وہ تو دو جنتوں کے حقدار بن رہے ہیں ، لہذا ہم میں سے بھی اگر کوئی اللہ پاک سے ڈرنے والا ہو ، اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہو تو ہمیں بھی انشاء اللہ دو جنتیں ملیں گی ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی یہ نعمت نصیب فرمائے ۔

سوال: نماز کے دوران وساوس بہت پیدا ہوتے ہیں ، کوشش ہوتی ہے کہ نہ ہوں لیکن پھر بھی وساوس آتے ہیں۔

جواب: اس کا بہت آسان جواب ہے اوروہ یہ ہے کہ وہ وساوس یا تو آپ خود لا رہے ہونگے یا وہ وساوس خود آرہے ہونگے ۔ان دو باتوں میں سے ایک بات توضرور ہوگی ۔ اگر آپ خود لا رہے ہیں تو نہ لائیں ، اور اگر آپ خود نہیں لارہے تو آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ۔ اس کی پرواہ نہ کریں بس نماز کی طرف توجہ رکھیں ۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کتے بھونک رہے ہوں اور آدمی اپنے راستے پر چل رہا ہو ۔ بس یہی اس کا علاج ہے کہ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے ۔

سوال: عاجزی اور احساس کمتری میں کیا فرق ہے ؟

جواب: بہت اچھا سوال ہے ۔ اس میں بہت بڑا فرق ہے لیکن نظر نہ آنے والا فرق ہے ۔ احساس کمتری ہوتی ہے دنیا کے محبت کی وجہ سے ۔ اور عاجزی اور تواضع ہوتی ہے اللہ کے محبت کی وجہ سے ۔ اب بتائیں کتنا فرق ہے ۔ ظاہری طور پر دونوں میں انسان اپنے آپ کو کم سمجھتا ہے ۔ لوگ تو صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں ۔ ظاہر میں تو دونوں اپنے آپ کو کم سمجھ رہے ہیں ، لیکن ایک اس وجہ سے کم سمجھ رہا ہے کہ وہ دنیا سے مرعوب ہے ۔ مثلاً کوئی اپنے آپ کو ڈپٹی کمشنر کے مقابلے میں کم سمجھے ، کوئی اپنے آپ کو وزیر اعظم کے مقابلے کم سمجھے ، کوئی اپنے آپ کو بہت طاقتور آدمی کے سامنے کم سمجھے تو یہ سب احساس کمتری کی علامتیں ہیں ۔کیونکہ اس نے دنیا کو اہم سمجھا ہوا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے پاس وہ دنیا نہیں جو اس کے پاس ہے لہذا اس کو حسد بھی ہوگا ، اسے کینہ بھی ہوگا ، اس کو اور رذائل بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ دنیا کی وجہ سے ہے ۔میں نے اپنے شیخ کے سامنے جب کچھ تواضع اور عاجزی کے متعلق عرض کیا تو حضرت نے فرمایا بیٹا یہ بڑی اچھی چیزیں ہیں لیکن یاد رکھنا کہیں احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوجانا ، یہ تو انسان کی شخصیت کو مسخ کرکے رکھ دیتی ہے ۔ تو یہ ایسی چیز ہے۔ تواضع یا عاجزی اللہ پاک کی محبت کی وجہ سے ہوتی ہے انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کم سمجھتا ہے ۔ مثلاً ایک آدمی بہت بڑا عالم ہے وہ اگر اللہ پاک کے سامنے آپ کو عاجز سمجھے گاتو وہ اس بات سے ڈر رہا ہوگا کہ یہ علم چونکہ اللہ نے مجھے دیا ہے تو وہ تو کسی وقت بھی اس کو سلب کرسکتا ہے اور جس کو میں جاہل سمجھتا ہوں اس کو علم دے سکتا ہے ۔ علم لدنی کے ذرائع تو نہیں ہوتے وہ تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی وقت بھی دے سکتا ہے ۔ تو ایسی صورت میں انسان پھر ڈرتا رہتا ہے ۔ بہت بڑا عالم بھی ہو وہ اپنے آپ کو جاہل سمجھتا ہے کہ یہ تو اللہ ہی نے دیا ہے میرے پاس حقیقت میں کچھ بھی نہیں ۔ لہذا اگر وہ اپنے آپ کو جاہل سمجھ رہا ہے تو اس لئے کہ اس میں وہ اپنا کوئی حصہ نہیں سمجھتا۔ باقی ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو علم دیا ہے تو وہ تو نظر آتا ہے جیسے مولانا اشرف علی تھانوی  سے ایک انگریز جج نے پوچھا کہ کیا آپ عالم ہیں ؟ ایسے لوگوں کے لئے یہ بڑا مشکل سوال ہوتا ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو عالم نہیں سمجھتے ۔ دوسری طرف یہ بات تھی کہ اگر ان کو کہہ دیا کہ میں عالم نہیں ہوں تو وہ پھر کہے گا کہ آپ کیوں آئے ۔ یہ ایک مشکل بات تھی لیکن حضرت سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو حضرت نے جواب دیا مسلمان مجھے عالم سمجھتے ہیں ۔ تو حضرت نے اپنی طرف سے بات ہٹا دی ۔ اسی طریقے سے جو اللہ والے ہوتے ہیں ان کی نظر چونکہ اللہ پر ہوتی ہے لہذا وہ کبھی بھی اپنی طرف کسی چیز کا انتساب نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ اللہ نے دیاہے ۔ تصوف کے اندر اللہ پاک نے ایک خاصیت رکھی ہے کہ اس میں انسان کو جو کچھ بھی خیر ملتا ہے وہ اس کی نسبت شیخ کی طرف کرتا ہے اور شیخ کی طرف نسبت کرنا آسان ہے ، اس وجہ سے آدمی بچا رہتا ہے ۔ ہر آدمی پر چونکہ اپنے شیخ کا ایک رعب ہوتا ہے ، تو جب بھی ان کو کوئی چیز ملتی ہے وہ کہتا ہے کہ یہ تو شیخ کی برکت ہے ۔ اور حقیقت میں ہوتی بھی ہے ۔ یہ سلسلے کی برکت ہوتی ہے ۔ تو اس وجہ سے انسان اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھ رہا ہوتا ہے ۔ تواضع چونکہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ہوتا ہے لہذا انسان اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا اس کے اندر پھر رذائل نہیں آتے۔ حسد اس لئے آرہی ہوتی ہے کہ دنیا کی چیز محبوب ہے ۔ اب جو اللہ والے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو اللہ نے دیا ہے میں نے تو نہیں دیا ۔ مجھ سے لے کر بھی نہیں دیا ، اللہ پاک نے خود دیا ہے تو میں اس سے حسد کیوں کروں ۔ تو چونکہ اللہ پاک یاد ہوتا ہے لہذا یہ چیزیں اس کے دل میں نہیں آتیں اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی اپنا تزکیہ کروائے تو یہ ساری چیزیں خود بخود رفع دفع ہوجاتی ہیں ۔ قران پاک وہ آیت ہے مرجع البحرین ۔۔۔۔۔۔ دو دریا آپس میں ملتے ہیں ، اور ان کے درمیان جو برزخ ہے وہ آپس میں ان کو ملنے نہیں دیتا ، لیکن وہ دونوں بالکل قریب ہوتے ہیں ، اس میں کوئی فصل بھی نہیں ہوتا ۔ یہاں اٹک کے پاس آپ دیکھیں دریائے کابل اور دریائے سندھ کا پانی آپس میں ملتا ہے اور کافی دور تک یہ دونوں قسم کا پانی ساتھ ساتھ چلتا ہے ایک دوسرے میں مکس نہیں ہوتا ۔ اسی طرح یہ تواضع اور احساس کمتری ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہیں لیکن فرق ان میں بالکل واضح ہوتا ہے ۔ ان کی سرحدیں آپس میں ملی ہوتی ہیں ۔فرق یہ ہوتا ہے کہ ایک کا source ایک ہے دوسرے کا دوسرا ہے ۔

سوال: ایک سوال کے جواب میں فرمایا

جواب: شیخ کی مجلس کے بارے میں جو بزرگوں سے سنا ہے اور کتابوں میں بھی پڑھا ہے کہ شیخ کی مجلس میں شیخ کے قلب کی طرف متوجہ رہیں ۔ اور یہ تصور کریں کہ شیخ کے قلب پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیض آرہا ہے وہ ان کے دل سے میرے دل میں آرہا ہے ۔ اس لئے فرماتے ہیں کہ اس وقت ذکر لسانی چھوڑ دیں ،کیونکہ ذکر لسانی سے اونچی چیز مل رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی یاد کا براہ راست کنکشن ملا ہوا ہے کیونکہ ذکر لسانی وہ خود کررہا ہے ، اس کا باعث وہ خود ہے اور شیخ کے قلب پر فیض اللہ کی طرف سے آرہا ہے ۔تو آپ خود فیصلہ کریں کونسی چیز اہم ہوگئی ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ اس وقت آدمی ذکر لسانی چھوڑ دے تاکہ ان کو وہ فیض ملے ۔ دوسری بات یہ کہ شیخ کے سامنے بیٹھ کر شیخ کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ شیخ کی مزاج شناسی فقاہت کے اعلیٰ مدارج میں سے ہے ۔شیخ کے مزاج کو سمجھنا چاہیے کہ وہ کس بات سے خوش ہوتے ہیں ،کس بات سے ناراض ہوتے ہیں ، کس بات سے ان کو تکدر ہوتا ہے ، اس کو سیکھنا چاہیے ۔ کیونکہ اس کا سارا کچھ شیخ کے ساتھ ہے ۔اللہ پاک نے شیخ کو اس کےلئے دروازہ بنایا ہوا ہے ۔ لہذا وہ اس بات کو سیکھے ، جتنا جلدی سیکھے گا اتنی جلدی فائدہ ہوگا ۔ حضرت تھانوی  فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے پرنالہ ۔ پرنالے میں بارش کا پانی آتا ہے بالکل صاف ستھرا لیکن اگر پرنالے کے اندر خود کوئی گند پڑا ہو تو وہ پانی جب اس سے گزر کر نیچے آئے گا تو وہ گندہ ہوگا ۔ اب بارش کا پانی تو آپ کو ملے گا لیکن گندہ ۔ اسی طرح شیخ کے قلب پر جو فیضان آرہا ہے اور اس کے ساتھ شیخ کی کدورت شامل ہوجائے تو وہ آپ کو میلا ملے گا ۔ صاف چیز آپ کو نہیں ملے گی ۔ لہذا شیخ کے قلب کی کدورت سے بچنے کی کوشش کریں ۔ مزاج شناسی میں سارے آداب شامل ہوجاتے ہیں ۔ہم اپنے شیخ مولانا اشرف صاحب  کے سامنے بڑے بے تکلف بیٹھتے تھے کیونکہ حضرت کا حکم یہی تھا اور حضرت کا مزاج بھی یہی تھا ۔ بلکہ ایک دفعہ میں بظاہر بڑا باادب سا بیٹھا ہوا تھا تو حضرت نے مجھے فرمایا ادب سے بیٹھتے ہو ۔ حضرت کا مطلب یہ تھاکہ یہ میرےساتھ کھل جائیں کیونکہ حضرت کا رعب بہت زیادہ تھا ۔ اگر حضرت ایسا نہ فرماتے تو مجھے یقین ہے کہ ہم حضرت سے استفادہ ہی نہیں کرسکتے ۔ تو حضرت اس رعب کو کم کروانے کی کوشش کرتے ۔ حضرت کبھی کبھی اپنی مجالس میں کسی کا نام لے لیتے اور نام لینے کا مقصد یہ ہوتا کہ اس کے ساتھ ذرا دل مل جائے وہ کھل جائے اور اپنی بات اچھی طرح کرسکے ۔ حضرت  کبھی کبھی فرماتے ، کمال کی بات ہے اللہ کے اچھے خاصے بندے ہوتے ہیں جب میرے پاس آتے ہیں توفرشتے بن جاتے ہیں ۔ حضرت سادہ آدمی کو فرشتہ کہتے تھے ۔ تو فرماتے جب میرے پاس آتے ہیں تو فرشتے بن جاتے ہیں ۔ تو حضرت کا جیسا حکم ہوتا ہم ویسا ہی ان کے سامنے بیٹھتے ۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ حضرت صوفی اقبال صاحب  ٹیکسلا تشریف لائے تھے تو میں نے سوچا کہ یہ تو پنجاب ہے اور پنجاب میں ہمارے علاقوں کی طرح کے طریقے نہیں ہیں یہاں تو ذرا باادب بیٹھنا چاہیے وہ جیسا کہتے ہیں Do in Rome as Roman do. تو اس وجہ سے میں مودب ہونا چاہتا تھا ، دو زانوں بیٹھنا چاہتا تھا ، جیسے اکثر حضرات بیٹھتے ہیں ۔ جیسے ہی میں نے دو زانو بیٹھنے کا ارادہ کیا تو حضرت مجھ سے کافی دوربیٹھے تھے ، پتہ نہیں حضرت کے دل میں کیا آیا کہ اپنے سامنے والے آدمی سےکہا یہ تم کیسے بیٹھے ہو، اپنے باپ کے سامنے ایسے بیٹھا جاتا ہے ۔ آرام سے بیٹھو ، ادب دل میں ہوتا ہے ایسے ظاہری نہیں ہوتا ۔ تو میں نے سوچا ،اللہ پاک نے ہمارے لیے یہی طریقہ رکھا ہے اس کو ہم تبدیل نہیں کرسکتے ۔تو ایسا ہوتاہے اور یہی مزاج شناسی ہے ۔ حضرت شیخ الہند  کے خادم خاص حضرت مولانا عزیر گل صاحب بہت آزاد مزاج تھے ۔ کبھی کبھی ایسی باتیں کر لیتے جو عام لوگ برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔ حضرت نے کسی سے سناتھا کہ اگر شیخ کسی سے ناراض ہوجائے تو عاقبت خراب ہوجاتی ہے ۔ تو حضرت نےاپنے شیخ کے ہاں آنا چھوڑ دیا کہ میں تو بے ادب ہوں اور اگر کہیں بے ادبی کرلی تو عاقبت خراب ہوجائے گی ۔ شیخ کو جب پتہ چلا تو ان کو بلایا اور پوچھا کہ بھئی کہاں ہوتے ہو ؟ عرض کیا حضرت گھر میں ہوتا ہوں ۔ پوچھا آتے کیوں نہیں ہو ؟ عرض کیا حضرت میں بے ادب آدمی ہوں اور آپ کی مجلس میں مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری عاقبت خراب نہ ہوجائے کیونکہ میں نے یہی سنا ہے ۔ شیخ نے فرمایا تو نے ٹھیک سنا ہے لیکن یہ بھی بتاؤ کہ اگر شیخ یہی چاہے جو تم کرتے ہو تو پھر کیا کرو گے ۔ عرض کیا کہ پھر تو میں کروں گا ۔ فرمایا پھر آجایا کرو ۔ اب ظاہر ہے حضرت  نے ان کو اجازت دے دی ۔ مطلب یہ ہے کہ مزاج شناسی شیخ کی مجلس کے آداب ہی ہیں ۔ مزاج کو دیکھو کہ کیسا مزاج ہے اس کے مطابق رہو ۔ ہاں عام مجالس میں بات اور ہے ۔ وہاں بلاوجہ جگہ گھیرنے کی کوشش نہ کریں ۔قران پاک میں ہے کہ جب کوئی آجائے تو اس کےلئے مجلس کو کھول دو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان دل میں وسعت رکھے تاکہ سب لوگ accommodate ہوجائیں ۔ اگر کوئی بات کررہا ہے تو اس کی بات کو اچھی طرح سنا جائے اور اگر کوئی سوال پوچھا جائے تو قولو قولاً سدیدا کے حکم کے مطا بق ٹھیک ٹھیک بتائے ۔ گول مول بات نہ کرے ۔ اور بڑے کا اکرام اور چھوٹوں پر شفقت ۔ یہ دونوں چیزیں بھی مجلس کے آداب میں ہیں ، انسان جہاں بھی رہے ایک تو اپنے پاس بیٹھے لوگوں کا خیال رکھے اور اپنے استفادہ کی فکر کرے اور جس چیز کا موقع ہو تو اس کے مطابق بات کرے ۔

سوال: ایک سوال کے جواب میں فرمایا

جواب: انسان کی تبدیلی آناً فاناً نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر اگر میں اپنے بارے میں سوچوں کہ مجھے تبدیل ہونے میں کتنا وقت لگا ۔ اس سے پہلے ہمیں اگر کوئی کہتا کہ تم اس طرح کرو تو ہم لوگ کیا response دیتے ۔ ممکن ہے ہم لوگ اس طرح response نہ دیتے ۔ ہم نے بھی وقت لیا ہے ۔ ڈاکٹر فدا صاحب مدظلہم ہمارے پیچھے کتنا دوڑے تھے ۔ تو ظاہر ہے وقت تو لگتا ہے ۔ اگر ہم اس کو ذرا حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھیں تو ہمیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور اس کو قدرتی انداز کے مطابق لینا چاہیے ۔ باقی جو لوگ نزدیک ہوتے ہیں ان کی تربیت کا طریقہ الگ ہے ۔ جو لوگ دور ہوتے ہیں ان کی تربیت کا طریقہ الگ ہے ۔پاس والوں کو آپ بار بار کہیں گے تو وہ آپ سے ملنا ہی چھوڑ دیں گے ۔ وہ آپ کو avoid کرناشروع کردیں گے ۔ اور ظاہرہے پھر ان کے رہبر یا رہنما کوئی اور ہوجائیں گے ۔ بلکہ میں ایک بات کو الحمد اللہ generally بہت زیادہ مناسب سمجھتا ہوں ، اور اللہ کا شکر ہے کہ میرا اس پر عمل بھی ہے الحمد اللہ ۔ اللہ تعالیٰ اس کے برکات نصیب فرمائے ۔ وہ یہ ہے کہ میں کسی کو ڈائریکٹ بہت کم کہتا ہوں کہ آپ یہ کام کریں ۔ میں اکثر تذکرہ کے انداز میں بات کرتا ہوں کہ فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے یہ کیا ۔ مثلاً آپ نے یہاں سن لیا جاکر آپ نے دوسری جگہ بیان کرلیا ۔ کتاب میں کوئی چیز دیکھ لی وہ آپ نے بیان کردی، تذکرہ کے انداز میں بیان کی ، تو آدمی چونکہ مسلسل وہ باتیں سنتا جاتا ہے بلکہ اس کو شک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ میرے لیے کی جارہی ہیں ، اس طریقے سے آہستہ آہستہ اس کا ذہن بن رہا ہے ۔ اور ایک وقت آجاتا ہے کہ وہ فیصلہ کرلیتاہے کہ میرے لیے یہ راستہ ٹھیک ہے ۔ تو یہی ایک طریقہ ہے کہ تذکرہ کے انداز میں ہو ،یہ بالخصوص قریب والوں کے لئے اہم ہے ۔ دور والوں کے لئے تو براہ راست بھی بات کی جاسکتی ہے ۔ جس کے بارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ براہ راست بات ان کے لئے مناسب نہیں ہے تو ان سے تذکرہ کے انداز میں بات کرتے ہیں ، آج کل دور ایسا ہے کہ دوسرے قسم کےماحول بھی بہت زیادہ ہیں اگر کوئی اس طرف چل پڑا تو پھر ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہوجائے گا ۔ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کو اپنے قریب ہی رکھیں ، جتنی نرمی کے ساتھ بھی قریب رکھا جاسکتا ہو اور دعائیں جاری رکھیں ۔ کیونکہ والد کی دعا اولاد کے لئے بہت بڑی چیز ہے ۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے دعائیں قبول کی ہوتی ہیں لیکن اس کا ظہور نہیں ہورہا ہوتا ۔ایسا اس شخص کی تربیت کےلئے ہورہا ہوتا ہے جو دعائیں کررہا ہے ۔ جیسے ہی وہ شخص دنیا سے چلا جاتا ہے وہ دعائیں فوراً نافذ ہوجاتی ہیں ۔ یہ ہم نے بہت دیکھا ہے ۔ ہمارے مولانا صاحب  کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا ۔ ان کے جو رشتے دار تھےانہوں نے ان سے ان کی زندگی میں کچھ نہیں لیا ، جیسے ہی حضرت دنیا سے چلے گئے ، یک دم ان کی کایا پلٹ گئی ۔ بلکہ ہمارے والد صاحب بھی ایسے تھے ۔ میرے دادا اس ارمان کو ساتھ لیکر دنیا سےچلے گئے کہ ان کا بیٹا راہ راست پر آجائے ۔ کیونکہ وہ بڑے آزاد خیال تھے اور مختلف جگہوں پر پھرا کرتے تھے ۔ لیکن وفات کے آٹھویں دن بدل گئے ۔ درمیان میں کوئی بڑی بات بھی نہیں ہوئی نہ کسی نے ان کو دعوت دی نہ کسی نے سمجھایا ۔ہوا یوں کہ مجھ سے چھوٹے بھائی کو جب وہ چھوٹا سا تھا اس کواپنے کندھے پر بٹھایا ہوا تھا کہ اس نے پیشاب کردیا ،اس کی وجہ سے ان کو نہانا پڑا اور کپڑے بدلنے پڑے ۔ کپڑے بدلے تو دل میں آیا کہ چلو نماز پڑھ لوں ۔ بس وہ جو نمازپڑھی تو نمازی ہوگئے ۔ حتیٰ کہ بعد میں تہجد بھی نصیب ہوگیا ۔ مقصد یہ ہے کہ سب کچھ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ہاں دعائیں تو ہمارے دادا کی تھیں ، نافذ ان کی وفات کے بعد ہوگئیں ۔تو بعض دفعہ انسان کی تربیت کے لئے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بیٹا یا بیٹی ایک مسئلہ بن جاتا ہے اس پر انسان کڑھتارہتا ہے ، اللہ کی طرف متوجہ ہوتا رہتا ہے ، روتا رہتا ہے ، گڑگڑاتا رہتا ہے ، یہی تو اللہ چاہتا ہے کہ وہ میری طرف لگا رہے ۔ اور پھر جس وقت انسان دنیا سے چلا جاتا ہے تو بس ۔ ہا ں اس میں ایک خوبی اور بھی ہے ۔ سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے، خیر ہوتا ہے ۔ اس میں ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ اگر وہ دنیا میں اس کی نظروں کے سامنے ٹھیک بھی ہوجائے تو چلو اس کو تو فائدہ ہوگیا اس کی خدمت کرلے گا ۔ اس کی دنیا زیادہ اچھی ہوجائے گی کیونکہ اس کا پھل پا لے گا ۔ لیکن جب بعد میں ٹھیک ہوتا ہے تو وہ اتنا کڑھتا ہےکہ وہ پھر اپنے والد کےلئے مسلسل ایصال ثواب بھی کرتا ہے اور روتا بھی ہے اور اس کے لئے مانگتا بھی ہے ، اور یہ سب کچھ چونکہ آخرت سے متعلق چیزیں ہوتی ہیں لہذا اس کے والد کےلئے بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں ۔تو اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے ۔

سوال: اولاد کی تربیت صرف حکیمانہ طور پر کرنی چاہیے یا سختی بھی کرنی چاہیے ۔

جواب: اولاد کی تربیت حکیمانہ اور حاکمانہ دونوں طریقے سے کرنا چاہیے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں طریقے قران میں بتائے ہیں ۔ قران پاک میں ہے
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۔ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۔ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
یہ حاکمانہ جواب ہے ۔ بس تم نہیں جانتے میں جانتا ہوں ، مان لو ۔ یہ حاکمانہ جواب ہے ۔ اب حکیمانہ کیا ہے ۔
ووَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِين
یہ حکیمانہ جواب ہے کہ چلو میں کچھ نام بتاتا ہوں ، فرشتوں سے اس کےمتعلق پوچھا اور آدم علیہ السلام سے بھی پوچھا ۔ آدم علیہ السلام نے جواب دے دیا فرشتے جواب نہیں دے سکے ۔ فرمایا میں نہیں کہتا تھا ۔ پھر فرشتوں نے کہا
قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۔ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
تو اللہ پاک نے حکیمانہ اور حاکمانہ دونوں طریقے استعمال کیے ہیں اور یہ حکم ہے تخلق باخلاق اللہ ، اللہ تعالی کے اخلاق کو اپناؤ ، لہذا تربیت میں حکیمانہ انداز بھی استعمال کرنا چاہیے اور حاکمانہ بھی ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کس وقت حاکمانہ اور کس وقت حکیمانہ ۔ اس کے لئے میں ایک بہت زریں اصول ، اپنی بات کو زریں کہنا تو بہت مشکل ہے لیکن میں ایک زریں اصول بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اولاد کی تربیت کےلئے والدین کو اپنی تربیت کروانی چاہیے ، جب تک والدین کی تربیت نہ ہوچکی ہو اولاد کی تربیت کیسے کریں گے ؟ ظاہر ہے یہ بھی تربیت پر ہی موقوف ہے کہ کس وقت سختی کرنی چاہیےاور کس وقت نرمی کرنی چاہیے ۔ تو یہ سب چیزیں تربیت پر موقوف ہیں ۔لہذا والدین کی تربیت ہو تو پھر اولاد کی تربیت ہوجاتی ہے ۔ اس میں ماں کی تربیت کا رول بہت بڑا ہوتاہے ۔ ماں کے لئے یہ ایک پراجیکٹ ہوتا ہے کیونکہ بچہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور بچے کا اولین مدرسہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے ۔ ماں کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات بچے کے ذہن پر نقش ہورہی ہوتی ہے ۔ لہذا جب ماں کی تربیت ہوچکی ہوتی ہے تو اولاد indirectly اثرلے رہی ہوتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو بھی بڑا آدمی ہوتا ہے اس کے پیچھے کوئی بڑی عورت ہی ہوگی ۔ جس کی وجہ سے وہ بڑا آدمی بن چکا ہوگا ۔ تو ماں کی تربیت بہت بڑی چیز ہے ۔ ماؤں پر محنت کرنی چاہیے ۔ ہمارے ہاں جو یہ خواتین کی تربیت کے نظام چل رہے ہیں اس میں حکمت یہی ہے کہ ماں کی گود چونکہ بچوں کے لئے پہلی درسگاہ ہے تو ایک تو خود ماؤں کو فائدہ ہوجاتا ہے اور دوسرا آنے والی نسل کو فائدہ ہوجاتا ہے اور جو مرد ہیں وہ بھی سکھ کا سانس لے لیتے ہیں کیونکہ مرد کتنا ہی دیندار ہوجائے ، لیکن اگر اس کی بیوی کی تربیت نہیں ہوئی تو اس کی دینداری صرف دروازے تک ہوتی ہے ۔ دروازے کے اندر داخل ہوکر پھر وہ دیندار نہیں بن سکتا ۔ بیوی اس کے لئے اتنے مسائل کھڑے کردے گی کہ وہ پریشان ہوتا رہے گا ۔ تو اگر بیوی بھی دیندار ہو تو ماشاءاللہ ہر چیز پوری کی پوری دین کے مطابق ہوگی اور دل میں اس کا اثر ہوگا ۔

سوال: بیعت کے بارے میں ایک سوال پر فرمایا

جواب: اس میں بنیادی بات یہ ہےکہ بیعت سنت مستحبہ ہے ۔ کوئی فرض و واجب نہیں ہے لیکن تجربہ یہ کہتاہے کہ بیعت کے بغیر وہ تعلق قائم ہی نہیں ہوسکتا جس کو تعلق کہا جاسکتا ہے ۔ مثلاً سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس راستے میں صرف ایک کے ساتھ تعلق رکھنا ہوتا ہے تربیت کےلئے ۔ اور جب تک بیعت نہ ہو تو ایک کے ساتھ تعلق رکھنا بذات خود ایک بہت بڑا سوال ہےکہ کیسے رکھیں گے ۔ اس کو جہاں کہیں بھی اچھا آدمی ملے گا تو اس کا ہوجائے گا ۔ اور یہ کوئی خلاف معمول بات نہیں ہے ۔ جہاں بھی اچھا آدمی ملے گا کہے گا میں اس سے ملوں میں اس سے ملوں ، تو اس میں وہ پھر کبھی بھی سیٹ نہیں ہوسکے گا ۔ ایک رنگ اس پر نہیں آسکے گا۔ نتیجتاً وہ درمیان میں floating condition میں رہے گا ۔ وہ یکسوئی والی بات ان کو نہیں ملے گی ۔ جیسے حضرت تھانوی  نے فرمایا کہ یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو ، تو یہ یکسوئی ان کو نہیں مل سکتی ۔ ہاں البتہ ایک علمی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیعت کیا ہے ۔تو اس کا علمی جواب یہ ہے کہ بیعت سنت مستحبہ ہے لیکن اگر عملی جواب چاہیے تو بغیر اس کے یہ کام کرنا بہت مشکل ہے ۔ ہم لوگ حضرت مولانا اشرف صاحب کے ساتھ رہے اور الحمد اللہ حضرت  ہی کے رہے ۔ اور ان کے سات کافی عرصہ بغیر بیعت بھی رہے کیونکہ ہمیں پتہ بھی نہیں تھا کہ حضرت بیعت کرتے ہیں ، لیکن میرے خیال میں وہ سپیشل کیس تھا کیونکہ ایسا ہوتا نہیں ہے ۔ ہم لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ مولانا صاحب پیر ہیں ۔ان کو مولانا صاحب ہی کہتے تھے لیکن یہ مولانا صاحب کی شان اور وجاہت تھی کہ ان کے مقابلے میں ہمیں کوئی اور نظر ہی نہیں آتاتھا ۔ جب تک مولانا صاحب تھے بس وہی تھے ۔ ہم تو ایسے تھے کہ جب کسی اور بزرگ کی مجلس میں بھی جاتے تھے تو مولانا صاحب ہی کی باتیں کرتے تھے ۔ اور وہ بزرگ بھی ہمارے ساتھ مولانا صاحب کی باتیں کرتے تھے ۔ تو میں بات کررہا تھا کہ general rule یہ نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تک انسان بیعت نہ ہو اس وقت تک یہ یکسوئی حاصل نہیں ہوتی ۔

سوال: ایک سوال کے جواب میں فرمایا

جواب: اگر اس میں کوئی بات سمجھنی ہو تو بے ادبی نہیں ہے ۔ مثلاً کوئی اشکال ہے ، کسی بزرگ نے بات کی ہے ،ظاہر ہے وہ بھی صوفی بزرگ ہوگا ، تو کوئی تصوف کی بات ہوگی ۔ تو اگر اشکال نہیں ہے تو پوچھیں گے کیوں ؟ اور اگر اشکال ہے تو پھر حرج کیا ہے۔ اپنے شیخ سے اس لئے پوچھنا کہ وہ اشکال رفع ہوجائیں تو شیخ ہوتا بھی اس لئے ہے ۔ اس وجہ سے اگر اشکال رفع کرنے کےلئے ہو تو یہ بالکل ٹھیک ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ یہ ہےکہ بلاوجہ ایسی چیزوں میں پڑنا نہیں چاہیے کہ شیخ کا قلب کسی اور طرف متوجہ کیا جائے ۔ اس لئے بعض حضرات نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اپنے شیخ کے سامنے اور لوگوں کی تربیت کا بھی ذکر نہ کیا جائے ، آپ خوامخواہ ان کو دوسری طرف کیوں متوجہ کررہے ہیں ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میرا مقام تو آگیا اب مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔تو اس طرح تو میرے خیال میں کبھی بھی کوئی سیر نہیں ہوتا ۔ وہ تو سمجھتا ہے کہ مجھے ہی زیادہ توجہ ملنی چاہیے ۔ تو یہ تو اس کے خلاف ہے اس لئے کہتے ہیں کہ شیخ کی مجلس میں کسی اور کا ذکر نہ کریں ، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کوئی علمی اشکال ہو تو اس کا بھی ذکر نہ کیا جائے ، کرنا چاہیے تاکہ خلش دور ہوجائے ۔ تصوف کی ساری باتیں چونکہ سراسر عملی ہیں لہذا بعض دفعہ اگر اس کو علمی رنگ میں دیکھا جائے تو پریشانیاں شروع ہوجاتی ہیں ،علمی رنگ میں variation بہت زیادہ ہوتی ہے وہ man to an variation بہت زیادہ ہوتی ہے ،condition to condition variation بہت ہوتی ہے ۔اب یہ ساری چیزیں چونکہ کتابوں میں لکھی نہیں جاسکتی لہذا اشکال شروع ہوجاتے ہیں ، تو اگر اس کو عملی لیا جائے تو پھر اشکال نہیں ہوتا ۔ کیا ہاؤس جاب کو کوئی کتابوں میں دیکھتاہے ؟

سوال: استخارہ کے بارے میں ایک سوال پر فرمایا

جواب: یہ بڑا اچھا سوال ہے ۔ استخارہ اصل میں اللہ جل شانہ سےمشورہ ہے ۔ اللہ پاک سے خیر طلب کرنا ہے اور یہی استخارہ کا مفہوم ہے ۔ اب اگر بالکل صحیح کام ہے ، قرا ن و سنت کے مطابق ہے اور انسان پر وہ لازم بھی ہے ، تو اس میں استخارہ نہیں ہوتا ۔ مثلاً اگر کوئی حج کرنے جارہا ہے اور وہ پوچھے کہ میں حج کو جاؤں یا نہ جاؤں اور اس پر حج فرض بھی ہو تو اس میں استخارہ نہیں ہوتا ۔البتہ اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ میں کونسی فلائٹ سے جاؤں ، شپ سے جاؤں یا جہاز سے جاؤں ، تو اس قسم کی صورتوں میں استخارہ کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ حج کروں یا نہ کروں ۔ اس طرح کسی نے منت مانی اور کام ہونے کے بعد پوچھے کہ ادا کروں یا نہ کروں تو اس میں استخارہ نہیں چلتا کیونکہ یہ ادا کرنا واجب ہے ، البتہ یہ ہے کہ جن چیزوں میں تردد ہو ، اس میں استخارہ کرنا یقینی طور پر ہونا چاہیے تاکہ تردد دور ہوجائے ، اور اگر تردد نہیں اور آدمی کو پتہ ہے کہ یہ بالکل ٹھیک ہے البتہ وہ چیز لازم نہ ہو ، صرف اس میں اختیار ہو تو اس میں بھی بہتر ہے کہ آدمی استخارہ کرلے ۔ کیونکہ اگر آپ استخارے کے دعا کے ترجمے پر غور کرلیں تو اس میں یہی ہے کہ اگر یہ چیز خیر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرما لے اور اگر اس میں شر ہے تومجھے اس سے بچا لے ۔ تو اس لحاظ سے ظاہر ہے دعا ہے ۔ اور دعا تو ہر کام کے بارے میں کی جاسکتی ہے ۔

سوال: توکل کے بارے میں ایک سوال پر فرمایا

جواب: توکل کے معنی ہیں کسی چیز کا سہارا لینا ، یعنی انسان اس بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے یا بیٹھا ہوتا ہے ۔ یہ بھروسہ کرنے کے عنوان میں آتا ہے ، اللہ پر بھروسہ ۔ اپنے وسائل پر اتنا بھروسہ نہ ہو جتنا اللہ تعالیٰ کے فضل اور مدد پر بھروسہ ہو ، یہ توکل کہلاتا ہے ۔ اس میں دو قسم کے توکل ہیں ایک ہے توکل واجب اور ایک توکل مستحب ۔ جو مستحب توکل ہے اس میں انسان جو موہوم وسائل ہیں اس سے مستغنی ہوجاتا ہے اور اللہ پر بھروسہ کرلیتا ہے ۔ مثال کے طور پرایک شخص عالم ہے اور وہ اپنے علم کے شعبے میں شب و روز لگا ہوا ہے یا کسی بھی دینی کام میں لگا ہواہے ،تو اس کو یہ فکر نہ ہو کہ کون مجھے کھلائے گا ۔ بس اللہ پر بھروسہ ہو تو یہ مستحب توکل ہے یہ ہر ایک نہیں کرسکتا ، نہ ہر ایک کےلئے اس کا حکم ہے ۔ کہ وہ جو کمانے کے اسباب ہیں وہ اختیار نہ کرے صرف اپنے فائدے کے اسباب اختیار کرے اور پھر اللہ پاک ان کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اس کی باقاعدہ مدد فرماتے ہیں ، جیسا کہ فرماتے ہیں چڑیا اور پرندے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور بھرے ہوئے پیٹ آتے ہیں ، اسی طرح سے انسان کے پیچھے بھی رزق لگا رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ بھیج دیتے ہیں ، اس کے اسباب بنادیتے ہیں تو یہ چیز مستحب ہے ۔ اس کا ایک واقعہ ہے ۔ حضرت تھانوی  نے اس کو بیان کیا ہے ۔ فرمایا کہ میرا قانون ہے کہ میں مدرسے میں داخلے کی دو طرح شرط لگاتا ہوں ایک تو ٹیسٹ پاس کرلے اور دوسرا اس کی کفالت کی ذمہ داری کوئی قبول کرلے ۔ حضرت  اپنے سر کچھ نہیں لیتے تھے خانقاہ میں بھی اور مدرسے میں بھی ۔ ان کا نظام ہی کچھ ایسا تھا ۔ کہ جو لوگ بھی آئیں اپنا انتطام خود کرکے آئیں ۔ تو فرماتے ہیں کہ ایک طالبعلم آیا ، بچہ تھا ۔ اس نے ٹیسٹ تو پاس کرلیا ، اس کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کا sponsor کون ہے ۔ تو اس نے کہا کہ کوئی بھی نہیں، تو میں نے کہا کہ بیٹا بات یہ ہے کہ آپ نے ٹیسٹ تو پاس کرلیا لیکن آپ کو میری شرائط کا پتہ ہے ۔ تو اس وجہ سے میں مجبور ہوں اگر آپ کے پاس کوئی انتظام نہیں ہے تو میں آپ کو داخلہ نہیں دے سکوں گا ۔ اس بچے نے بڑی معصومیت سے کہا کہ حضرت میں نے آپ سے یہ تو نہیں کہا کہ آپ میری کفالت کریں ، وہ تو اللہ ہے ، ہاں اگر اللہ پاک مجھ سے کام لینا چاہتےہوں تو اسباب پیدا فرمالیں گے اور اگر میری جان کی ضرورت ہو تو ٹھیک ہے چھوٹی سی جان ہے دنیا پر اس سے کیا فرق پڑے گا ۔ حضرت فرماتےہیں کہ یہ بات سن کر میں ہل گیا کہ اس بچے کا کیا توکل ہے ۔ پھر حضرت نے فرمایا ، ماشاء اللہ آپ کا بڑا اچھا جذبہ ہے لیکن میں اصولی آدمی ہوں اصول پر چلتا ہوں تو میں آپ کے لئے اپنا اصول توڑوں گا نہیں ہاں جیسے آپ کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے تو پھر اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ٹھیک ہے میں آپ کو داخل کرتا ہوں لیکن صاف بتاتا ہوں کہ میری طرف سے آپ کی کوئی خدمت نہیں کی جائے گی ۔ اس نے کاٹھیک ہے ۔ حضرت نے اس کو داخل کردیا ۔ کہتے ہیں کہ ابھی ہم بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اس نے کہا کہ حضرت ہمارے ہاں کوئی آدمی فوت ہواہے اور ہمارا طریقہ یہ ہے کہ چالیس دن تک ہم کسی غریب کو کھانا بھیجتے ہیں تو اگر آپ کو کوئی معلوم ہو تو ہم ان کے ہاں کھانا بھیجا کریں ، حضرت نے فرمایا کہ بھئی یہ طالبعلم ہے اس کا کوئی انتظام نہیں ہے تو آپ ان ہی کے پاس بھیجا کریں ۔ اس طرح چالیس دن کاکھانا اس کا مقرر ہوگیا ، کہتے ہیں کہ ابھی چالیس دن مکمل نہیں ہوئے تھے کہ ایک دوسرا فرد فوت ہوگیا ، اب اس کا چالیس دن کا کھانا شروع ہوگیا ۔ اب وہ چالیس دن ختم نہیں ہوئے تھے کہ تیسرا بندہ فوت ہوگیا ۔ کہتے ہیں کہ جب پے درپے پانچ چھ ہوگئے تو فرماتے ہیں کہ میں نے گاؤں والوں کو بلا لیا ، میں نے کہا کہ صاف سن لو یہ بچہ متوکل ہے اس کو اللہ کھلائے گا ۔ اب چاہے تم خود ان کو کھلاؤ اپنی مرضی سے چاہے تمہیں اس طرح کھائے ، تمہارے لوگوں کو بھی کھائے تمہارے مال کو بھی کھائے اب یہ آپ خود فیصلہ کرلیں ۔ تو کہتے ہیں کہ وہ سارے لوگ ڈر گئے اور کہا کہ حضرت ہم ان کا وظیفہ مقرر کرتے ہیں آپ فکر نہ کریں تو کہتے ہیں کہ اس طرح اس کا وظیفہ مقرر ہوگیا اور اس طرح سے اللہ پاک نے اس کا انتظام کرلیا ۔ تو اب یہ مستحب توکل ہے اور جس کا ہو تو اس کا ہوگا اور جس کا نہ ہو تو اس کو کہا جائے گا کہ نہ کرو ۔ اس کی ترغیب نہیں دی جاتی ۔ یہ اللہ جل شانہ اگر خود کسی کا جذبہ بنا دے اور وہ اس مقام پر آجائے تو پھر یہ بغیر پوچھے کیا جاتا ہے ۔ یہ پوچھ کر نہیں کیا جاتا ۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی  نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی  کو خط لکھا کہ حضرت میری دس روپے تنخواہ ہے ، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کو چھوڑدوں اور اللہ پر بھروسہ کرلوں ۔ حضرت نے جواب دیا بھئی جو آپ کے کمانے کا سبب ہے اس کو چھوڑو نہیں اس میں فائدہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ بعد حضرت کا خط آیا کہ حضرت میں نے تو وہ چھوڑ دیا ، تو حضرت نے مبارکباد دی ، ماشاء اللہ مبارک ہو ، تو کہتے ہیں کہ پاس بیٹھنے والوں نے جنہوں نے دونوں صورتیں دیکھی تھیں کہا کہ حضرت پہلے تو آپ نے منع کیا جب انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اب آپ اس پر ان کو مبارکباد دے رہے ہیں ۔ فرمایا اس کا پوچھنا توکل کے کچا ہونے کی علامت تھی ۔ اس صورت میں ان کو اجازت نہیں دی جاسکتی تھی ، جب توکل پکا ہوگیا اب اس کے بعد پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی ۔ تو میں نے مبارکباد دی کہ الحمد اللہ توکل پکا ہوگیا ۔ اب یہ پکے توکل کا معاملہ ایسا ہوتا ہے ۔ اور پھر اللہ پاک کا ان کے ساتھ معاملہ بھی ایسے ہوتا ہے ۔ ورنہ کچے توکل کی یہاں تک بات ہے کہ مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی ملازمت کررہا ہوں جو کہ حلال نہیں ہے تو وہ اگر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا ہم اس ملازمت کو چھوڑ دیں تو مفتیان کرام ان کو ا ن کی حالت کے مطابق بتا دیتے ہیں کہ نہیں اس کو جاری رکھیں اور صحیح نوکری تلاش کریں اور جب تک وہ نہ ملے اس نوکری پر استغفار کرتے رہیں اور اس کو گناہ سمجھتے رہیں ، یہ ہے کچے توکل والوں کے لئے مشورہ ۔ اور جن کا پکا توکل ہوتا ہے تو ان کی بات ہی اور ہے ۔ آپ ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا ، آپ ﷺ نے ابوبکر صدیق  کا سارا مال قبول کرلیا ، اور ساتھ میں حضرت ابی وقاص  سے فرمایا کہ ثلث کافی ہے ۔ تو ہر شخص کا اپنا اپنا مقام ہے اس لحاظ سے بات ہونی چاہیے ۔ حضرت امام احمد بن حنبل صوفی بھی تھے اور مفتی بھی تھے ۔ایک دفعہ ایک فقیہہ آئے تھے حضرت کے پاس اور ایک صوفی آئے تھے ۔ وہ فقیہہ صوفیا ء کے ناقد تھے تووہ اس صوفی کو سوال و جواب میں چھیڑنے لگے ، تو امام صاحب نے ان کو کہا کہ ان کو نہ چھیڑو ، پھنس جاؤ گے ۔ تو وہ منع نہیں ہوئے ۔ اور اس صوفی سے پوچھنے لگے کہ تم زکواة کے بارے میں کیا جانتے ہو ،صوفی نے پوچھا کونسی زکواة مالداروں کی یا فقیروں کی ۔ اس نے کہا کہ ہم نے تو صرف مالداروں کی زکواة کا سنا ہے فقیروں کی زکواة کا تو سنا ہی نہیں ، چلو آپ دونوں بتادیں ۔ انہوں نے کہا کہ مالداروں کا تو یہ ہےکہ نصاب پورا ہوجائے تو سال گزرنے کے بعد ڈھائی فیصد ، اور فقیروں کا یہ ہےکہ سارا خیرات کردے اور اس پر استغفار کرے کہ میں نے جمع کیوں کیا تھا ۔ انہوں نے پوچھا ا س کی دلیل ؟ کہا ابوبکر صدیق  کا عمل ۔ امام صاحب نے اس فقیہہ سے کہا اب جواب دو ، میں نے نہیں کہا تھا کہ پھنس جاؤ گے ۔ تو یہ مقام کی بات ہوتی ہے ۔ ہر شخص کا اپنا اپنا مقام ہوتا ہے ۔ اور مزاج شناسی، محل شناسی ،موقع شناسی یہ تین چیزیں بہت ضروری ہوتی ہیں کسی بھی فیصلے کےلئے ۔ اگر کسی کا یہ مقام ہو تو ان کو یہ کہا جائے گا ، ورنہ پھر یہ ہے کہ فرض درجے کا ، واجب درجے کا توکل یہ ہے کہ شریعت پر قائم رہے چاہے اس کو دنیاوی طور پر نقصان ہو ، اتنا واجب ہے ۔ مثلاً سود نہ کھائے ، رشوت نہ لے ، ناجائز کاروبار نہ کرے یہ واجب ہے کیونکہ یہ چیز اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ حرام سے بچنا فرض ہے ۔ مکروہ تحریمی سے بچنا واجب ہوتا ہے ۔ جب یہ فارمولا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جو فرض درجے کا توکل ہے وہ یہی ہوگا کہ آدمی حرام سے بچے ۔ تو اگر اس قسم کی بات ہے تو پھر ٹھیک ہے ایک عام آدمی سے اتنی توکل کا مطالبہ ہے لیکن جو لوگ مقام توکل پر ہونگے تو پھر ان سے مستحب درجے کا بھی مطالبہ ہوسکتا ہے ۔ یہ اللہ جل شانہ جانتے ہیں ۔

سوال: حظ نفس کیا چیز ہے ۔

جواب: اصل میں حظ نفس ، نفس کے اندر جو لذات کی طلب ہوتی ہے اس سے اس کو مزہ آتا ہے ۔ تو اگر وہ کوئی کام مزے کے لئے کررہا ہے تو وہ تو دنیا ہے اور اگر کسی کو مزہ آتا ہے لیکن اس کے لئے کر نہیں رہا ، gifted مزہ ہے تو اس پر شکر کرے ۔ کیونکہ اس کا ٹیسٹ یہ ہے کہ اگر وہ مزہ نہ ہو پھر بھی اگر وہ کرے تو اس کا مطلب ہے کہ مزے کےلئے نہیں کررہا ، اس وجہ سے جو صوفیاء ہیں ان پر قبض و بسط مسلسل آتی رہتی ہیں ، کبھی قبض ہوتا ہے کبھی بسط ہوتا ہے ۔ تو وہ جو قبض آتا ہے وہ اصل میں ٹیسٹ ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ اب یہ کرے گا یا نہیں ۔ مثلاً ا س سے سارے مزے چھین لیتے ہیں ، نماز میں مزہ نہیں آئے گا ، ذکر میں مزہ نہیں آئے گا ، تلاوت میں مزہ نہیں آئے گا ۔ اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے سے مزہ نہیں آئے گا ، حالانکہ یہ مزیدار چیزیں ہیں ، لیکن اس کو مزہ نہیں آئے گا کیونکہ قبض کی کیفیت ہوگی ، ایسی صورت میں اگر وہ پھر بھی کرتا ہے عقلی طور پر اس چیز پر قائم رہتا ہے کہ میرا فائدہ ہے اس میں ، میں نے تو کرنا ہے چاہے مجھے مزہ آئے یا نہ آئے ۔ ہر حالت میں مجھے کرنا ہے ۔ ایسی صورت میں وہ پاس ہوجاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد اگر مزہ آتا بھی ہے تو وہ منجانب اللہ ایک نعمت ہے اور اس پر اس کو شکر ادا کرنا چاہیے ۔ ورنہ یہ بات ہے کہ اس کی پہچان ہوجاتی ہے کہ یہ مزے کےلئے نہیں کررہا تھا اور اگر اس وقت بیٹھ جائے اور چھوڑ دے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ وہ مزے کےلئے کررہا تھا ۔ وہ اللہ کےلئے نہیں کررہا تھا ۔ اس لئے حضرت تھانوی  سے کسی نے کہا کہ حضرت مجھے بالکل نماز میں مزہ نہیں آتا ، ذکر میں مزہ نہیں آتا ساری چیزیں بے مزہ ہیں ، یہ ہے و ہے اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ اس کی وجہ سے کچھ چیزیں رہ جاتی ہے ۔ تو حضرت نے فرمایا ،خدا کے بندے جب سو فیصد نمبر لینے کا وقت آیا تو اس وقت چھوڑدیا ، کہتے ہیں کہ جب مزہ آتا ہوں تو اس کے کچھ نمبر کٹ جاتے ہیں کہ وہ تو آپ کے نفس کے لئے ہے ،وہ تو آپ کا نفس کھا گیا ، اور اگر مزہ نہیں آئے گا تو وہ صرف اللہ کےلئے ہوگا وہ تو اور کسی کےلئے ہونہیں سکتا تو جب سو فیصد نمبر لینے کا وقت آگیا تو آپ نے چھوڑ دیا ۔ ہمارے پاس بھی جب لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی مزہ نہیں آتا اور یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا ، ہم کہتے ہیں کہ خدا کے بندے اب جم جاؤ ، اب لینے کا وقت ہے ۔ ایک تو امتحان میں پاس ہوجاؤ گے اور دوسرا ماشاء اللہ اس وقت سو فیصد نمبر آپ کو مل رہے ہیں ۔

سوال: توکل اپنی ذات کے لئے کرنا چاہیے یا اپنے اہل و عیال کے لئے بھی کرسکتے ہیں ۔

جواب: بڑا اچھا سوال ہے ۔ توکل اپنی ذات کے بار ے میں تو آپ فیصلہ کرسکتے ہیں ، لیکن اپنے خاندان والوں کی حالت کو دیکھنا پڑے گا آیا وہ اس مستحب توکل کے قابل ہیں یا نہیں ۔ اگر وہ قابل نہ ہوں تو پھر نہیں ، ان کو آپ اسی حالت پر رکھیں ۔ ہماری ایک مجاہد ساتھی سے ملاقات ہوئی تھی ، وہ روس کے خلاف افغان جنگ میں شریک تھے ۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا تھا کہ ایک دفعہ ہم بہت مشکل میں گھر گئے اور ان کے جو ساتھی تھے وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ بہت زیادہ بھوک لگی ہے ۔ تو امیر صاحب نے ان کو بہت ترغیب دی کہ صبر کرو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا ۔ لیکن جب بے بس ہوگئے تو ان سے فرمایا کہ جاؤ اس چٹان کے پیچھے جو کچھ ملے وہ کھا لینا ، جب وہ وہاں گئے ہیں تو دیکھا کہ پورا خوان تیار پڑا ہوا تھا ، یہ کرامت تھی ۔ تویہ حضرات کرامت کو بھی روک لیتے ہیں ۔ یہاں تک ان کا توکل ہوتاہے ، لیکن جس کو دیکھتے ہیں کہ اب یہ تو بے بس ہوگئے تو ان کے لئے پھر کرلیتے ہیں مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو حالت اپنی ہوتی ہے وہ ضروری نہیں کہ دوسروں کی بھی ہو ۔ مجھے ایک بہت بڑے عالم نے ایک بات بتائی کہ ہماری طرف سے عورتوں پر ظلم ہوجاتا ہے ، ان عورتوں کی تربیت اتنی نہیں ہوچکی ہوتی جتنا ہمارا ان سے مطالبہ ہوتا ہے ۔ اگر آپ کی تربیت ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی بیوی کی بھی اتنی تربیت ہوئی ہے ۔ تو ان کو اس حالت پر رکھو ۔ میں نے سوچا حضرت کی نگاہ کتنی گہری ہے جو یہاں تک سوچ رہے ہیں کہ ہم سے ظلم ہوجاتا ہے ، اور واقعتاً ایسی بات ہے ۔ بہت سارے دینداروں سے اپنی بیویوں پر اس قبیل کا ظلم ہوجاتا ہے کیونکہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ برداشت ہی نہیں کرسکتی ۔ آپ ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کرو وہ کرو ۔ تو اصل بات یہ ہےکہ اپنے لئے الگ ہے دوسروں کے لئے الگ ہے ۔ جن کا سینہ اللہ کھول دیتے ہیں وہ اپنے لئے تو مشکل چیز لیتے ہیں دوسروں کو آسان بتاتے ہیں ، اور جب اللہ نے سینہ نہیں کھولا ہوتا تو اپنے ليے آسانیاں ڈھونڈتے ہیں دوسروں کو مشکل بتاتے ہیں ۔

سوال: چار سلاسل میں بیعت سے متعلق سوال پر فرمایا

جواب: آدمی چاروں سلاسل میں بیعت کرسکتا ہے اس میں فائدہ بھی ہے ۔ حاجی امدا اللہ مہاجر مکی  ایسے ہی تھے ۔ چاروں سلسلوں کے امین تھے ، چاروں سلسلوں میں بیعت فرماتے تھے اور اس کی وجہ حضرت نے یہ فرمائی کہ میں اس لئے چاروں سلسلوں میں بیعت کرتا ہوں کہ اس سے آپس میں جو تفضیل کا ایک سلسلہ چلتا ہے کہ ہر آدمی کو جس سلسلے سے فائدہ ہوتاہے اس کو فضیلت دیتا ہے اور باقیوں کی تحقیر کرتا ہے تو اس کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ چونکہ چاروں کے ساتھ اپنے آپ کو منسوب پاتا ہے تو بے شک نسبت اس کی ایک ہی ہو ، لیکن وہ اپنے آپ کو چاروں سلسلوں سے منسوب سمجھتا ہے لہذا یہ تفضیلی سوچ نہیں ہوتی ان کی کہ کونسا سلسلہ افضل ہے کونسا سلسلہ افضل نہیں ہے ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ ہر ایک کی اپنی اپنی خاصیتیں ہیں ، ان خاصیتیوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ اس طرح اگر کوئی نقشبندی مزاج والا ہے اور اس کو چاروں سلسلوں میں بیعت کردیا جائے تو تربیت تو اس کی نقشبندی میں ہی ہوجائے گی لیکن وہ چاروں کی سطح پر اپنے آپ کو وابستہ سمجھے گا ۔ اسی وجہ سے ہمارے بعد کے جو اکابر ہیں خصوصاً دیوبند والے اکابر ، ان کی تربیت کا رنگ زیادہ تر چشتیہ صابریہ کا ہے ۔ لیکن چاروں میں بیعت کرتے ہیں اور چاروں میں اجازت بھی دیتے ہیں ، ہمارے مولانا ذکریا صاحب  کا بھی ایسا ہی تھا ، حضرت تھانوی  کا بھی ایسا ہی تھا ۔ حضرت گنگوہی  کا بھی ایسا تھا ، تو چاروں سلسلے میں اس لئے بیعت کرتے ہیں ، ہاں تربیت کسی ایک ہی میں ہوتی ہے ۔

سوال: حضرت آپ کی تربیت قادریہ راشدیہ کی ہے ؟

جواب: نہیں قادریہ راشدیہ نہیں ہے ۔یہ ہر شخص کی اپنی اپنی ہوتی ہے ۔ مزاجوں کا فرق ہوتا ہے ۔ چاروں میں یہ بھی ایک فائدہ ہوتا ہے کہ چاروں میں بیعت کرلے پھر مرید کو دیکھے کہ وہ کونسی نسبت والا ہے ۔ اس کی تربیت اسی میں کی جاتی ہے ۔البتہ قادریہ راشدیہ کی ہم نے صرف یہ چیز لی ہوئی ہے کہ جو عمومی ذکر ہم کراتے ہیں وہ قادریہ راشدیہ کا ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جیسے مثال کے طور پر میں مراقبہ کراؤں تو مراقبہ ہر ایک نہیں کرسکتا ۔ جن کو مراقبہ کے ساتھ ابھی مناسبت نہیں ہوئی اس کا مراقبہ ابھی شروع نہیں ہوا ، تو ان کو اگر میں بٹھا بھی دوں تو ممکن ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے مراقبہ کو خراب کردے ، یعنی ان کے قلب کا اثر دوسروں پر پڑے ۔ کیونکہ اس میں یہ ہوتا ہے کہ اگر کچے مراقبے والا ہے تو پکے مراقبے والے پر وہ اثر انداز ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ کچے مراقبے والوں کو فائدہ ہوجاتا ہے پکے مراقبے والوں سے اور پکے مراقبے والوں کو کچے والوں سے مسئلہ ہوجاتا ہے ۔ جبکہ یہ قادریہ راشدیہ والا ذکر جو ہم کراتے ہیں یہ کچے پکے سب کےلئے ٹھیک ہے ۔ کیونکہ ذکر بالجہر میں ایک خوبی ہے کہ اس سے وساوس دور ہوتے ہیں ، تشویشات دور ہوتی ہیں ۔ حضرت تھانوی  فرماتے ہیں کہ یکسوئی ہو چاہے پاس ایک سوئی بھی نہ ہو ، تو یکسوئی لازم ہے ۔ آج کل لوگوں میں چونکہ یکسوئی بہت کم ہے تو اس وجہ سے یہ ذکر ان کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔ اجتماعی ذکر بالجہر سے خود بخود یکسوئی ہوجاتی ہے ۔ اس میں یکسوئی required نہیں بلکہ granted ہے ۔ یعنی ان کو یکسوئی ہوجائے گی ۔ جب ان کو یکسوئی ہوجائے پھر ان کو مراقبہ بھی کرادو ۔ مراقبہ بھی آسان ہوجائے گا ۔ اس وجہ سے ہمارا طریقہ ہے کہ ہم عموماً چشتیہ سے شروع کراتے ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ جن کی مناسبت نقشبندیہ کے ساتھ ہے ان کو پھر جلد ہی نقشبندیہ میں شفٹ کرلیتے ہیں ، یعنی ان کو اس طرح چلا دیتے ہیں ، اور پھر بعد میں کبھی کبھی کسی کا قادریہ نسبت محسوس ہوجائے تو اس کو اس طرف کرلیتے ہیں ،کبھی کبھی الحمد اللہ سہروردیہ کی بھی کوشش ہوتی ہے ۔ تو یہ مستقل ایک فیلڈ ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کس کےلئے کیامناسب ہے ۔

سوال: ایک شخص چار مختلف نسبتوں کے شیوخ سے بیعت ہوتا ہے کیا اس کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔

جواب: اس کو بالکل نقصان ہوگا ۔ چار اشخاص سے بیعت ہونا ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس سے نقصان ہوگا کیونکہ ان حضرات کی اپنی اپنی ذاتی مناسبت اس بیچارے کو کچل دے گی ۔ بے شک وہ سارے حق پر کیوں نہ ہوں ۔ اس وجہ سے ہمارے جو مشائخ ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ کسی کا پہلے سے کوئی تعلق ہے اور اس کا ان سے رابطہ ممکن ہو تو ان کو بیعت نہیں کرتے ، ان کو ان کی طرف ہی متوجہ کردیتے ہیں ، کیونکہ مقصود بھیڑ لگانا یا جمگھٹا لگانا نہیں ہے ۔ مقصود تو تربیت کرنی ہے ۔ اگر اس کی تربیت وہاں سے اچھی ہوسکتی ہے تو خوامخواہ اس کو خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ لیکن اگر کوئی معذور ہے ، مجبور ہے ، گذشتہ شیخ کے ساتھ مناسبت ہی نہیں ہے ۔ ویسے ہی کسی کی دیکھا دیکھی بیعت ہوگیا ،بعض لوگ ایسا کرتےہیں کہ دیکھا دیکھی بیعت ہوجاتے ہیں ، ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ مناسبت کیا چیز ہوتی ہے ۔ ان کے اوپر اگر کھل جائے کہ میری مناسبت ان کے ساتھ نہیں ہے اور بالکل ان کو فائدہ نہ ہو ، یا ان کے ساتھ رابطہ ہی نہ ہوسکتا ہو ، تو ایسی صورت میں اگر کسی صحیح شیخ کے ساتھ رابطہ کرلیں تو اس میں پھر دو طریقے چلتے ہیں ۔ اور دنوں ٹھیک ہیں لیکن ہر شخص کا اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے اس میں ۔ بعض حضرات ان کو بیعت نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہاری پہلی بیعت ، کیونکہ ظاہر ہے اس کا پہلا شیخ تو صحیح ہوتاہے ۔ تو اسے کہا جاتا ہے کہ تمہاری پہلی بیعت موجود ہے ہاں تربیت میں آپ کی کردوں گا ۔ اسے ہم شیخ تعلیم کہتے ہیں ، زیادہ تر یہی طریقہ چلتا ہے ۔ لیکن بعض دفعہ بعض لوگ شیخ تعلیم پر قانع نہیں ہوسکتے ۔ ان کو فائدہ نہیں ہورہا ہوتا جب تک کہ وہ بیعت نہ ہوجائیں ، تو ان کو پھر مجبوراً بیعت کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس کو فائدہ نہیں ہورہا ہوتا ۔ تو مقصود تو فائدہ کرانا ہوتا ہے ، کیونکہ یہ عملی چیز ہے ۔ تو ایسی صورت میں وہ بیعت کراتے ہیں لیکن یہ سختی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ اپنےپہلے شیخ کی کوئی ناقدری نہیں کرنی ، نہ ان کے خلاف کوئی بات کرنی ہے ۔ بس اس کے بارے میں آپ خاموش ۔تو ایسا ہوتا ہے ۔

سوال: خانقاہیں ویران ہوگئی ہیں اور تربیت کا عمل مفقود ہوگیا ہے اس کے کیا اسباب ہیں ۔

جواب: اس کا بنیادی سبب ایک ہی ہے لیکن اس کے اثرات مختلف ہیں ، اس کا سبب یہ ہےکہ شیطان اس بات کو جانتا ہے کہ اصل فائدہ اس سے ہوتا ہے ،کیونکہ جب تک انسان سلوک طے نہ کرے اس وقت تک ساری باتیں سرسری رہتی ہیں ، معلو مات ہوتی ہیں لیکن وہ تعلیم صحیح طور پر نافذ نہیں ہوتا تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ، تو شیطان کو چونکہ اس کا پتہ ہے تو وہ دو طرح کے کام کرتا ہے ۔ جو سلسلے ہیں ان کے اندر گھس کر سجادہ نشین اور اس طرح کی چیزوں سے اس کے اصل نور کو ختم کرادیتا ہے ۔ جیسا کہ میں ابھی تھوڑی دیر پہلے ذکر کرچکا ہوں ۔ تو وہ نور ختم ہوجاتا ہے اب چونکہ دنیا داری کا سلسلہ شروع ہوگیا تو یہ سلسلہ جو مخلص لوگ ہوتے ہیں ان کو بدظن کردیتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اب یہ ساری چیزیں ختم ہوگئ ہیں ، حالانکہ شیطان ان کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہےکہ کہیں اور جب گیا ہے تو ادھر کیوں نہیں جاتا ۔ تلاش کرلیں ۔ ضروری تو نہیں ہے کہ ادھر ختم ہوگیا تو ساری جگہ پر ختم ہوگیا ہے ۔ آخر ڈاکٹروں میں بھی تو اچھے ڈاکٹر ہوتے ہیں ، برے ڈاکٹر بھی ہوتے ہیں ، علماء میں بھی اچھے اور برے ہوتے ہیں ، اس طرح ہر شعبے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں ، تو برے لوگوں کی وجہ سے کس نے اچھے شعبے کو چھوڑا ہے دنیا میں ۔برے انجنیئرز کی وجہ سے کسی نے اچھے انجنیئرز نہیں چھوڑے ۔ برے وکیلوں کی وجہ سے لوگوں نے اچھے وکیل نہیں چھوڑے ، برے ڈاکٹروں کی وجہ سے لوگوں نے اچھے ڈاکٹر نہیں چھوڑے ، برے دکانداروں کی وجہ سے لوگوں نے اچھے دکاندار نہیں چھوڑے ، تو صرف دین کے اندر یہ بات کیوں ہے ۔ تو یہ شیطان کا دھوکہ ہے کہ شیطان ان کو دھوکہ دیتا ہے کہ دیکھیں ان میں تو یہ ہے ان میں تو یہ ہے ، میرا اپنا واقع ہے ، ہم خیابان میں تھے وہی پر ہماری خانقاہ تھی ، وہاں پر کوئی ایک ڈرائیور کو لے آيا ، تو مجھے بتایا بھی نہیں کہ کس لئے لایا ہوں ، وہ تصوف کا سخت مخالف تھا ۔ تو وہ بیٹھ گیا ، میں تصوف ہی کی تعلیم کررہا تھا ، تو درمیان درمیان میں وہ بولنے لگا کہ یہ تو اس طرح نہیں ہے ، یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ مطلب اس قسم کی باتیں کرنے لگا ، مجھے فوراً پتہ چل گیاکہ یہ تصوف کے بارے میں کیسے خیالات رکھتا ہے ، خدا کی شان کہ میرے دل میں اللہ پاک نے عجیب بات ڈالی کہ میں نے ان کے لئے ایک عجیب ترکیب اختیار کرلی ، میں نے اس کے ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیا ، میں نے کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں ،اس نے کہا فلاں لوگ فلاں کام کرتے ہیں ، میں نے کہا بالکل ٹھیک ۔ اب بیچارہ پریشان ہوگیا کہ ابھی تو یہ تصوف پر بات کررہا ہے اور ابھی تصوف کے خلاف بات کررہا ہے یہ کس قسم کا چکر ہے میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔ جب اچھی طرح پریشان ہوگیا تو میں نے کہا کہ کیا آپ پریشان ہوگئے ، کہا ہا ں ۔ میں نے کہا پریشانی کی بات یہ ہے کہ آپ جس چیز کو تصوف کہتے ہیں اس میں تو یہ ساری چیزیں ہیں ، اس لئے میں آپ کے ہاں میں ہاں ملا رہا ہوں ، چونکہ آپ تصوف اس چیز کو سمجھتے ہیں تو اس میں تو یہ ساری چیزیں ہیں ، تو آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہیں ، بلکہ اس کے علاوہ بھی میں آپ کو بتاسکتا ہوں اور ہم لوگوں کو تو اس کا زیادہ پتہ ہے کیونکہ ہم لوگ اس فیلڈ میں ہیں ، لہذا ہمیں ان کی ساری چیزیں معلوم ہیں کہ یہ کیا کیا کرتے ہیں ، تو آپ کا میں اس لئے ساتھ دے رہا ہوں ۔ لیکن جس تصوف کو ہم تصوف کہتے ہیں اس میں یہ ساری چیزیں نہیں ہیں ، اس نے پوچھا آپ کس چیز کو تصوف کہتے ہیں ، میں نے پانچ منٹ میں ان کو اپنے تصوف کے بارے میں بتا دیا کہ ہم تو اس کو تصوف کہتے ہیں ، کہا یہ تو میں بھی مانتا ہوں ، میں نے کہا بس بات ختم ، آپ بھی مانتے ہیں ہم بھی مانتے ہیں ۔ ماشاء اللہ آدمی بدل گیا ، تھوڑی دیر باتیں ہوتی رہیں اس کے بعد کہا کہ مجھے بیعت کرلیں ۔ میں نے کہا کہ بھئی آپ تو بڑے کچے آدمی نکلے ابھی آپ کونسی باتیں کررہے تھے اور ابھی کیا کررہے ہو ، ممکن ہے میں آپ کے ساتھ فراڈ کررہا ہوں ، یہ جتنے میرے ساتھ ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ سارے میرے فراڈ میں میرا ساتھ دے رہے ہوں ، آپ کے پاس کونسی کسوٹی ہے کہ میں صحیح باتیں کررہا ہوں ، کیا آپ نے مجھے پرکھا ہے ؟ ایک مجلس میں کوئی کسی کو پرکھ سکتا ہے یہ تو آپ عجیب کام کررہے ہیں ۔ اس نے کہا کہ بس میرے دل نے گواہی دی کہ یہ جگہ ٹھیک ہے میں اس لئے یہاں سے بیعت ہونا چاہتا ہوں ۔ ا سکے بعد بیعت ہوگئے ۔ تو وہ مخلص آدمی تھے ۔ ان کو صرف اجتباع تھا ۔ تو ایسے بہت سارے لوگ ہیں ، کچھ اس طرح کہتے ہیں کچھ دل میں رکھتے ہیں ، تو وہ چونکہ زبان سے کہنے والا تھا تو اصلاح ہوگئی ، تو جو دل میں رکھتے ہیں تو بس ان کے دل میں ہی رہ جاتا ہے ۔ تو عموماً یہ مسئلہ ہے ۔ یہ جو میں نے کتاب لکھی ہے ، یہ ابھی چھپی نہیں ہے ، فہم التصوف ۔ اس کتاب کی بالکل ابتدائی چیز ہے اس میں یہ بات میں درج کرچکا ہوں کہ تصوف کے بارے میں چار گروہ ہیں ، ان سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے ۔ جن لوگوں کو شیطان اور نفس نے گمراہ کردیا اور انہوں نے غلط تصوف پیش کیا دنیا کےلئے ، وہ بھی غلط ہے ۔ پھر شیطان نے ان کی وجہ سے جو مخلص لوگوں کو گمراہ کیا ، ان کو تصوف کے خلاف کردیا تو وہ تصوف کے فوائد سے محروم ہوگئے ۔تو یہ دونوں غلط ہیں ۔ ان میں سے ایک بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ اصل تو وہی ہے جو اسلامی تصوف ہے ۔ اس کو مان لے اس کو پہچان لے اور جہاں پر ہے وہاں جاکر اپنی تربیت کروالے ۔ گذشتہ بزرگوں کا یہی طریقہ تھا ، وہ یہی کرتے تھے ۔ تو اس وجہ سے اپنے علم پر عمل ہوجاتاتھا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر صرف علم ہی رہے گا عمل تو نہیں ہوگا ۔ عمل تو کوئی کرے گا ۔ تو اس پر الحمد اللہ کافی لکھا جاچکا ہے ۔

سوال: نسبت کیا چیز ہے ۔

جواب: نسبت اصل میں ایک کیفیت ہے اور اللہ کے ہاں ایک تعلق ہے ۔ جو صاحب نسبت ہوتا ہے اللہ جل شانہ اس کے قلب کو اتنا بدل دیتے ہیں کہ وہ ہمہ وقت خیر کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ اور خیر چاہتا ہے ۔ معاصی سے بچتا ہے اور نیک اعمال کرتا ہے۔ اللہ کی طرف سے ا س کی قبولیت ہوجاتی ہے ، اس کو اعمال خیر کی توفیق ملتی رہتی ہے ۔برائی سے بچاتا رہتا ہے ۔ حضرت تھانوی  نے عجیب واقعہ لکھا ہے کہ کسی نے خواب دیکھا اس میں اسے حضرت نے بتایا کہ جو فرض نماز ہے وہ نہ پڑھو لیکن اس نے پڑھ لیا ، حضرت نے فرمایا میں یہی چاہتا تھا کہ میں دیکھوں کہ آیا تمہاری اللہ کی طرف سے حفاظت ہے یا نہیں ، یعنی تم نہ چاہو پھر بھی تمہیں اس طرف لایا جارہا ہے یا نہیں جارہا ۔ تو خود اپنی طرف سے اللہ کے ہر حکم کو پورا کرنے کا جذبہ ہو ، اور اللہ کی طرف سے قبولیت کا ہو ، تو اس کیفیت کو اصول بھی کہتے ہیں ، نسبت بھی کہتے ہیں ۔پھر اس کی کئی قسمیں بھی ہیں انعکاسی ، القائی ، اصلاحی اور۔۔۔۔۔ اس کی علیحدہ تفصیل ہے ۔

سوال: نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ سے متعلق سوال پر فرمایا

جواب: اصل میں بات یہ ہے کہ جب قلب کی صفائی ہونے لگتی ہے تو وہ ہدایت کے راستے پر چلنا شروع کردیتا ہے ۔ جو رکاوٹ انسان کے قلب میں دنیا کی محبت کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتا ہے وہ حالت قلب جب بدلنے لگتی ہے اور اب حق سے اعراض نہیں کرتا ، حق کو جان لیتا ہے اور اس پر چلنا بھی چاہتا ہے لیکن نفس تو زور آور ہے وہ تو مسلسل مطالبے کرتا رہتا ہے ۔ اب اس کے کسی مطالبے پر اس سے عمل ہوگیا ، چاہتا تو نہیں تھا لیکن بس ہوگیا ، اب وہ جانتا تو ہے کہ میں نے غلط کیا ، قلب صاف ہے اس لئے معلوم ہوا کہ غلط ہے تو اب رونے لگتا ہے اور توبہ کرنے لگتا ہے یہ نفس لوامہ ہے ۔ اور جس وقت نفس کا اتنا مجاہدہ ہوجائے کہ وہ سر رکھ لے ،کہ جی بس ٹھیک ہے اب جو کچھ کہا جارہا ہے وہ ٹھیک ہے وہ انکار نہیں کرتا تو اب یہ نفس مطمئنہ ہے ۔ ایسے نفس کے لئے پھر بشارت ہے ۔
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي

سوال: علاجی ذکر سے متعلق سوال پر فرمایا

جواب: ایک چیز ہے دوائی کا کھانا ، ایک ہے صحت حاصل ہوجانا ، صحت حاصل ہونا اختیاری نہیں ہے ، دوائی کھانا اختیاری ہے ۔ آپ سے مطالبہ اختیاری کا ہوگا غیر اختیاری کا نہیں ہوگا ، صحت آپ کو ہو نہ ہو یہ آپ کا کام نہیں ہے ۔ لیکن جو دوائی آپ کو دی جارہی ہے آپ اس کو کھا رہے ہیں یا نہیں کھا رہے ۔ اب اگر شیخ آپ کو کہہ دے کہ آپ نے فلاں کام کرنا ہےا ور آپ اس کے لئے بھی بہانے ڈھونڈنا شروع کردیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صحت ہی نہیں چاہتے ، اس چیز کی میں الحمد اللہ مسلسل اصلاح کرتا رہتا ہوں ، آج کل کے لوگوں کو جو زیادہ نقصان ہورہا ہے ، وہ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بس کوئی تصرف کرلے مجھ پر اور میری ساری چیزیں خود بخود ٹھیک ہوجائیں ۔ عموماً ذہن یہ بن گیا ہے ۔ الفاظ بھی لوگوں نے ایسے بنائے ہیں ، جی آپ نظر کرلیں ، نظر میں رکھیں ، بلکہ حضرت تھانوی  اس بارے میں بڑی واضح رائے رکھتے تھے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ حضرت آپ مجھے اپنے سینے سے کچھ دیں ، حضرت نے فرمایا میرے سینے میں تو بلغم ہے کیا بلغم دے دوں ۔ اصل بات یہ ہےکہ جو آپ کو بتایا جارہا ہے آپ اس کو کر رہے ہیں یانہیں ۔شیخ کی ذمہ داری اتنی ہے کہ آپ کو اس طریقے سے لے چلے کہ آپ پر unnecessary بوجھ نہ پڑے۔آپ کو طریق کا راستہ آسانی سے معلوم ہوجائے اور steps بھی بتا دیے جائیں کہ آپ ایسا کریں گے تو ایسا ہوجائے گا ۔ مثلاً کوئی رکاوٹ آگئی تو اس کو کیسے ہٹایا جائے یہ چیزیں بتانا شیخ کا کام ہے لیکن اب آپ کہیں کہ یہ رکاوٹ بھی شیخ ہی ہٹا دے تو وہ تو نہیں ہوسکتا ، وہ آپ کو خود ہی ہٹانا پڑے گی ۔تو یہ ساری چیزیں شیخ کی ذمہ داری ہے ۔ اب اپنی حالت نہ بتانا یہ بھی اس میں شامل ہے کہ انسان نہیں بتاتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ صحت نہیں چاہتا ۔ میں اکثر اس کو ڈاکٹری کے ساتھ مکس کرتا ہوں ۔ کہ ڈاکٹر کو اگر آپ نہیں بتائیں گے کہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے تو وہ کیسے آپ کا علاج کرے گا ۔ اگر آپ کو کوئی چیز ا س نے دی اور آپ پر اس کا اثر نہیں ہورہا یا ری ایکشن ہورہا ہے ۔ تو دونوں صورتوں میں آپ نے بتانا ہے ، اگر آپ نہیں بتائیں گے تو نقصان ہوجائے گا ۔ میرے پاس ایک شخص آئے اور کہا کہ جی مجھ سے بالکل ذکر نہیں ہورہا ۔ میں نے کہا نہ کرو ذکر ، پھر میں نے اسے مراقبہ بتادیا کہ تم دل ہی دل میں اللہ پاک سے مانگتے رہو ، بے شک دنیا مانگو لیکن دل ہی دل میں مانگو اور بیس منٹ تک مانگو گے ، زبان نہیں ہلنی چاہیے ۔ اب الحمد اللہ اس نے اس پر عمل کیا ، ایک ہفتے کے بعد کہا کہ جی اب تو میرا ذکر ایسا چل پڑا ہے کہ رک ہی نہیں رہا ۔ اب اس کو بات ماننی تو تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مدد بھی فرما دی ۔ تو شیخ کا کام ہوتا ہے کام کو آسان کرکے پیش کرنا ، لیکن کام کرنا تو پڑے گا ۔ حضرت مجذوب  نے اس کے بارے میں ایک شعر میں کہا ہے
سمندر کے سفر کا شوق ہے ، کہا کرو ،کہا طوفا ن کا ڈر ہے، کہا طوفان تو ہوگا
کہا اونٹ کی سواری کا شوق ہے ، کہا کرو ، کہا کوہان کا ڈر ہے ، کہا کوہان تو ہوگا
تو جو بتایا جائے گا اس کو کرنا پڑے گا ہاں جو نہیں ہورہا وہ آپ بتا دیں ۔ اگر آپ نے دوائی کھائی ہی نہیں اور ڈاکٹر کو کہیں کہ جی میں ٹھیک نہیں ہوا ، وہ پوچھے کہ آپ نے وہ دوائی لی تھی ، آپ کہیں جی وہ دوائی تو نہیں لی ، تو وہ یہ ضرور پوچھے گا کہ اب کیا ارادہ ہے ؟ کس لئے اب میرے پاس آئے ہو ، اب بھی میں دوائی ہی دوں گا ، اب یہ دوائی بھی آپ نہیں کھائیں گے تو پھر میں کیا کروں ۔ دوائی کھانے کےلئے تو کوئی اور دوائی نہیں دی جاتی ۔ تو یہ طے شدہ بات ہے کہ جو شیخ کہے انسان اس پر عمل کرے اور اس کا نتیجہ کیا ہورہا ہے وہ شیخ کو بتائے ۔ صحت کا پانا اختیار میں نہیں ہے لیکن دوائی کھانا اختیار میں ہے ۔جو اختیار میں ہے وہ آپ کرلیں غیر اختیاری کو اللہ کے حوالے کردیں ۔



کام جاری ہے

سوالات تلاش

نیچے دیے گئے فارم میں اپنا سوال لکھیں اور [بھیجیں] کا بٹن دبا کر ارسال کیجئے۔ فارم کو بند کرنے کیلئے [x] کا بٹن دبائیں۔

تصوف اور اپنی اصلاح سے متعلق سوالات پوچھنے کیلئے نیچے دیے گئے بٹن پہ کلک کریں۔ جس سے سوال کا فارم کھل جائے گا۔ اس میں اپنا سوال ارسال کیجئے۔ فارم میں ایک سوال بھیجنے کی گنجائش ہے۔ ایک سے زیادہ سوال بھیجنے کیلئے فارم کو بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔